Home » ہیگل سے آگے
تاریخ / جغرافیہ فلسفہ

ہیگل سے آگے

جہانگیر حنیف

کانٹ نے بتایا کہ نامینا ممتنع العلم ہے۔ فی نامینا کا علم ممکن ہے، لیکن یہ محض محسوسات کی کار فرمائی نہیں۔ ذہن اپنے ماقبل تجربہ حقائق سے اس علم کی تشکیل کرتا ہے۔ لہذا ہیوم غلط ہے اور لائبنز بھی۔ شوپن ہاور نے کہا ماقبل تجربہ حقائق میں کلید سببیت کے اصول کو حاصل ہے۔ باقی سب کچھ لایعنی ہے۔ کانٹ نے محض فہرست سازی کی۔ نامینا خود کو علم کی تحویل میں دیتا ہے اور نامینا کے اثبات کے بغیر زندگی کے تجربہ کو سمجھنا ہی ممکن نہیں۔ شوپن ہاور زندگی کے ہمہ گیر مسئلہ کو دیکھنے اور سمجھنے کا حامی تھا۔ زندگی ایک المیہ ہے اور اس المیہ کا حاصل دکھ، درد اور تکلیف ہے۔ کانٹ جزویات میں پھنس گیا اور زندگی کی کلیت کو دیکھنے سے عاجز رہا۔ شوپن ہاور نے اس کلیت کو ’ارادہ‘ کا عنوان دیا۔ حقیقت ارادہ ہے اور اس کا اظہار زندگی کے مظاہر ہیں۔

نٹشے نے شوپن ہاور کے ارادہ کو بطور حقیقت قبول کیا۔ لیکن اسے قوت سے جوڑ دیا۔ شوپن ہاور ارادہ کو زندگی کی پیہم جدوجہد سے جوڑتا تھا۔ ارادہ وہ پہیہ ہے، جو زندگی کو آگے کی طرف دھکیلتا ہے۔ جس کی چولیں اکثر ہلی رہتی ہیں اور گِھی گِھی اور چرر چرر کی آوازیں پیدا کرتی ہیں۔ نٹشے نے ارادہ کو قوت کا مخزن و مصدر بتایا۔ قوت نے نٹشے کی تمثیلی دنیا میں جو تباہی مچائی، وہ پوری انسانی تاریخ میں فقید المثال ہے۔ نٹشے انسان کو اس کے وجود اور علم سمیت مٹانے کا داعی تھا۔ انسانیت کا مسئلہ دو چار انسانوں کی ہلاکت سے حل نہیں ہوسکتا تھا، جس کی طرف شوپن ہاور نے اشارہ کیا تھا۔ انسانیت کو کامل تطہیر کی ضرورت تھی، جو مکمل تباہی سے ہی ممکن تھی۔ المیہ زندگی کا ناقابلِ تغیر عنصر ہے۔ انسان کو اس المیہ کو جینے اور اس پر غلبہ پانے کا اہل ہونا چاہیے تھا۔ بدقسمتی سے انسان محض ایک ممولہ بن کر رہ گیا۔ جسے زندگی کا ہر پہلو دکھ دیتا ہے اور ہمیشہ سہارے کی تلاش میں رہتا ہے۔ انسان نے خارجی سہارے کے بل بوتے بہت زندگی گزار لی۔ اب مزید امکان ختم ہوچکا تھا۔ شوپن ہاور نے ضروریاتِ زندگی کو محدود کرنے کا حل تجویز کیا۔ جو ضروریات انسان کو انسان کی تعریف دیتی ہیں، شوپن ہاور نے ان سے راہِ فرار تجویز کی۔ نٹشے نے ٹکراؤ میں قرار دیکھا۔ زندگی کے سیاق کو بدلنے کا کوئی جواز نہیں۔ انسان ہی کو بدل ڈالو۔

انسانیت کو تطہیر کی ضرورت تھی۔ یہ تطہیر تخریب کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ نٹشے نے تیسا چلایا اور فلسفہ کی جڑوں کو کاٹ ڈالا۔ نٹشے کے دو دشمن تھے۔ ایک وہ جس نے مغرب میں عقلیت کی داغ بیل ڈالی: سقراط۔ دوسرا وہ جو ایمان و اخلاق کا ضامن بنا: کرائسٹ۔ نٹشے نے پہلا کلہاڑا I think پر چلایا۔ اس نے کہا کہ ’میں سوچتا ہوں‘ کا پورا کلیہ ہی لغو اور مہمل ہے۔ اس نے کہا آئی سوچتا نہیں، اظہار کرتا ہے۔ آئی کا وظیفہ محض ابلاغ ہے۔ سوچنے کا کام I کی بجائے it کا ہے۔ انسان جبلی داعیات کی رزم گاہ ہے۔ سوچ ان داعیات کے تقاضوں کو جواز فراہم کرتی ہے۔ سوچنے کا عمل اپنی حقیقت میں غیر شعوری ہے۔ جو کچھ شعور میں محسوس ہوتا ہے، وہ ان داعیات کی ترجمانی ہے۔ ادراک ہو یا اظہار اس کی حقیقت ترجمانی سے زیادہ کچھ نہیں۔ عقل جب ادعاء کے مقام پر کھڑے ہو کر اپنے اقتداء کی دعوت دینے لگے، تو سمجھ جاؤ کہ وجود کرپٹ ہوچکا ہے۔ لہذا ایسی ہر دعوت مردود اور ایسا ہر فلسفہ خرافات سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔

نٹشے نے کہا کہ وجود کی حقیقت ہیگل کے الفاظ میں روح یا ذہن نہیں، جو جدلیات کی بھٹی سے گزر خود شناسی کی منازل طے کرتی ہے۔ اس نے کہا کہ انسان کا مسئلہ ’علم‘ نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مسئلہ ہی ’علم‘ ہے۔ افلاطون نے علم کے جس رستہ پر انسان کو گامزن کیا، اس کا نتیجہ وجود کی بوسیدگی کی صورت میں نکلا۔ خود شناسی کا یہ فلسفہ شوپن ہاور کے الفاظ میں خیانت پر مبنی تھا۔ نٹشے مزید کہتا ہے کہ شوپن ہاور خود بھی دیانت کا بہتر نمونہ نہیں تھا۔ اس نے یاس پر مبنی فکر کو ترویج دی۔

وجود کی حقیقت متماثل کا قدمِ تواتر ہے۔ تاریخ کے دریچوں سے وجود کو دیکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وجود ایک دَور میں رہتا ہے۔ وجود میں کوئی تدریج نہیں۔ ترقی کا کوئی تصور نہیں۔ وجود وہی رہتا ہے۔ محض وقت کا پہیہ چلتا ہے۔ وہ بھی ایک دائرے کی صورت میں۔ تاریخ آگے کی طرف سفر کا نام نہیں۔ یہاں مستقبل ماضی اور ماضی مستقبل ہے۔ وجود اور علم میں دوئی کے کوئی معنی نہیں۔ تاریخ کی جدلیات سے وجود اور علم کی دوئی کو ختم کرنے کی کوئی سبیل نہیں۔ ایک یہ دوئی موجود نہیں۔ دوسرا تاریخ سرکلر ہے، لینیٔر نہیں۔

ہیگل علم کو بطور ہدف کے بیان کرتا ہے اور عقل کو علم کے حصول کا ذریعہ بتاتا ہے۔ علم کی تمنا عقل کی تمنا ہے۔ عقل کسی غیر کے لیے واسطہ کا کام نہیں کرتی۔ وہ جس پیاس کی حامل ہے، اس کی سیرابی کا سامان بھی خود کے پاس رکھتی یے۔ اسے خارج میں کنویں کی ضرورت نہیں۔ انسان کا مسئلہ جہل ہے۔ چونکہ اسے علم حاصل نہیں، لہذا وہ اس دنیا کو دیکھنے اور اس میں جینے کے درست تناظر سے محروم ہے۔ علم کے بغیر انسان کی حیثیت شطرنج کے مہرے سے زیادہ نہیں۔ اسے حالات کنڑول کرتے رہے ہیں۔ وہ چیزوں کا کنٹرول اس لیے نہیں سنبھال پایا، کیونکہ اسے خود کی معرفت نہیں۔ اگر وہ اپنی معرفت رکھتا، تو وہ حالات و واقعات کی رو میں بہہ جانے کے احساس کی بجائے، اس دنیا میں اپنا مقام و مرتبہ دیکھ لینے کے قابل ہوتا۔ وہ جان جاتا کہ تاریخ سازی میں اس کی شمولیت کلیدی ہے۔ چیزیں اس لیے اس پر حاوی ہوتی ہیں، کیونکہ ان چیزوں پر وہ اپنا اثر و رسوخ سمجھنے سے قاصر رہا۔ چیزوں نے اسے متاثر کیا اور وہ انھیں متاثر کرنے سے عاجز رہا۔

کل حقیقت مطلق شعور ہے۔ مطلق سے ہیگل کی مراد علم اور وجود کے دو ہونے کی نفی ہے۔ حقیقت کی اس سے زیادہ لائقِ تسلیم تعریف نہیں کی جا سکتی۔ وہ نکتہ جہاں علم اور وجود یکجان ہیں اور ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک ناقابلِ تجزیہ وحدت کو جنم دیتے ہیں۔ ہیگل وجود کو خود شناسی کی منازل تاریخ کی جدلیات سے طے کرواتا ہے۔ ہیگل کے نزدیک کل حقیقت ذہن / روح ہے۔ یہ جامد نہیں بلکہ ایک تسلسل اور تعامل ہے۔ تعامل کا مقصد ذہن کو اپنی ہی معرفت سے روشناس کروانا ہے۔ تاریخ کے دھارے میں اس تعامل کے نتیجہ میں ذہن اپنی معرفت کے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسے نکتہ کی نشان دہی ہے کہ جہاں وجودِ محض اور علمِ محض عینیت کے حامل ہیں۔ وجود کی خود شناسی وجود کو حریت کا سبق پڑھاتی ہے۔ وجود اس حریت کے بغیر کسی مہرے کی مانند ہے۔ جس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں اور اپنا کوئی ارادہ نہیں۔ علم کے حصول سے شعور اپنے آزاد اور خود مختار ہونے کا شعور حاصل کرتا ہے۔ وہ چیزوں کو محض انفعالیت کی پوزیشن سے نہیں دیکھتا۔ وہ خود کو آزاد اور خود مختار محسوس کرتا ہے اور اپنے گردوپیش میں ہونے والے واقعات کو محض حادثات کی بجائے، ایک ایسے اسلوب میں دیکھتا ہے جس سے اُسے چیزوں کی معنویت خود اُس پر منحصر دکھائی دیتی ہے۔

اس کے برعکس، نٹشے نے کہا کہ شعور اور اس کے معروض میں علم کا جوڑ نہیں۔ انسانی وجود سے جو سرانڈ ہم محسوس کررہے ہیں، اس کی وجہ یہی جوڑ ہے۔ اسے کاٹنا ضروری ہے۔ علم انسان کو آزادی فراہم نہیں کرتا۔ بلکہ یہ چیزوں سے منسلک بیڑیاں ہیں، جو شعور کو باندھ لیتی ہے۔ علم کا حاصل چیزوں کی غلامی ہے۔ چناچہ اس نے کہا کہ شعور حال ہے، خیال نہیں۔ شعور کی خود کیفیتی شعور کے تمام حاصلات پر مقدم ہے۔ اس میں غیر کی شمولیت شعور کو غیر کا پابند بنا دیتی ہے۔ شعور اپنا جو شعور رکھتا ہے، وہ غیر کا دیا ہوا نہیں ہے اور شعور جو غیر کا شعور رکھتا ہے، وہ بھی غیر پر منحصر نہیں۔ چناچہ نٹشے نے ہیگل کے otherness کو منہدم کردیا۔ اس otherness کا جو حاصل تھا، یعنی علم اس کا بھی صفایا کردیا۔ عقل کا وظیفہ کسی اوریجنل آئیڈیا تک رسائی نہیں۔ بلکہ تفھیمِ کلامِ نفس اور ابلاغِ کلامِ نفس ہے۔ سوچ وجدانی کیفیت ہے، جو حال سے مشابہ ہے، خیال سے کلی عدم مماثلت کے ساتھ۔ نٹشے نے کہا کہ عقل کی درست پوزیشن واضح رہنا ضروری ہے۔ لہذا جو حقیقی ہے وہ عقلی ہے اور جو عقلی ہے وہ حقیقی ہے۔ اس جیسے اقوال سے پرہیز ضروری ہے۔ ورنہ شدید مروڑ لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔ جتنا گند فلاسفہ روئے عرض پر پھیلا چکے ہیں، اب مزید بول و براز کی گنجائش نہیں۔ تعفن اس قدر ہے، کہ ہر ایک اپنے بارے میں عقلِ کُل کا مدعی ہے۔ یہ اس نے اس لیے کہا کیونکہ ہیگل اپنی شخصیت میں مطلق عقل کے خود شناسی کی آخری حدود کو پہنچنے کا قائل تھا۔ نٹشے will        to        know        and         will        to         rationalize کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔

نٹشے نے کہا کہ وجود کی کوئی آخری منزل نہیں۔ تاریخ عبرت کا محل نہیں۔ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ اس سے غیر متغیر علم کو اخذ کرنا سوءِ فہم ہے۔ وقت کی کوئی انتہاء نہیں، تو تاریخ منتہی کیسے ہوسکتی ہے۔ علم کے لیے ضروری ہے کہ عقل اپنے معروض کا احصاء کرے۔ وقت کی حرکت جو کبھی رکی نہیں، وہ اپنے احصاء سے علم کی یافت کو کیسے ممکن بنائے گی۔ زندگی مستقبل میں بڑھنے کا نام ہے۔ تاریخ مستقبل کا معمار نہیں ہو سکتی۔ نٹشے نے کہا کہ شعور کو خود کو خالص ہوکر دیکھنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ اس کے mode        of         consciousness کو خود منحصر ہونا ہوگا۔ اس نے سجیکٹ اور آبجیکٹ کی دوئی کا انکار کیا۔ اس نے کہا کہ عقل کو تحریکِ علم فراہم کرنے کی غرض سے یہ دوئی پیدا کی گئی تھی۔ جب عقل شعورِ شعور کا واحد وسیلہ نہیں اور علم اس شعور کا حاصل نہیں، تو اس دوئی کے کوئی معنی نہیں۔ یہ دوئی شعور کے بیمار ہونے کی علامت ہے۔ شعور اپنی درست ورکنگ میں چیزوں کو اپنے معروض کی صورت میں نہیں دیکھتا، وہ انھیں اپنی طغیانی کا موضوع بناتا ہے۔ شعور اپنا جو حال رکھتا ہے، وہ خود اس سے ہے اور وہ اس حال کو اپنی طغیانی سے وسعت دیتا ہے اور چیزوں کو اپنے ہم حال بنا لیتا ہے۔ چیزیں شعور کے حال کے تابع رہیں، تو وہ شعور پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اس کا معروض بن جائیں، تو اسے اپنا غلام بنا لیتی ہیں۔ شعور کا حال ہی چیزوں کا حال قرار پاتا ہے۔ یہ علم نہیں۔ یہ مطلق سبجیکٹویٹی نہیں اور یہ مائنڈ بھی نہیں۔

ہائیڈگر نے کہا کہ مابعدالطبیعیات کا پروجیکٹ افلاطون اور ارسطو سے شروع ہوا اور مغرب کی فلسفیانہ روایت سے گزرتا ہوا ہیگل پر اپنی تکمیل کو پہنچا۔ اس روایت کو دو لفظوں میں بیان کیا جائے، تو یہ وجود کو ’معلوم اور مغلوب‘ کرنے کی روایت تھی۔ وجود پر شعور کا کامل غلبہ اور وجود پر لامحدود تصرف کی روایت۔ علم اس کی telos تھا اور تصرف اس کا مفادِ عام۔ ہائیڈگر کہتا ہے کہ یہ علم بھی کوئی واقعی علم نہیں تھا۔ کیونکہ اگر یہ واقعی علم ہوتا، تو اس سے وجود سے غفلت کی بجائے وجود کا استحضار لازم ہوتا۔ یہ ابتذال کا شکار گٹھیا علم تھا، جو Sophia کی بجائے techne سے عبارت تھا۔ وجود کو اپنی گرفت میں لینا اور موجودات کا بھرپور استحصال اس کا مقصدِ وحید تھا۔

ہیگل کا پروجیکٹ مابعد الطبیعیات کی تکمیل ہے۔ مطلق روح کی کامل خود شناسی علمِ حقیقی کے خون سے لتھڑی ہے۔ وہ علم جو ہمیں موجودات کے مابین جگہ فراہم کرتا ہے اور خود کو ان سے ممتاز کرنے کی بجائے ان میں کا دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ فلسفہ شعور کے غلبہ کی جدو جہد کو منتہا تک پہنچاتا ہے۔ یہ اتنا ہی صحیح ہے جتنا کوئی بھی مابعد الطبیعیاتی فلسفہ اور اتنا ہی بے ہودہ ہے جتنا کوئی بھی مابعد الطبیعیاتی چربہ۔ مابعد الطبیعیات کیا یے؟ وجود کو موجود سے اور موجود کو وجود سے خلط ملط کرنے کا نسخۂ کیمیا۔ مابعد الطبیعیاتی فلسفہ کی پوری روایت اپنے آغاز سے انجام تک بس یہی ہے۔ ہیگل اس کا اختتام ہے۔ وجود کو جان لو۔ وجود کو کنگال لو۔ اس کا مکمل علم حاصل کر لو۔ اس کو اس کی تاریخ سے معلوم کرلو۔ اس کے گرد حصار کھینچ ڈالو۔ اس حصار میں وجود کر بند کر ڈالو۔ یہ ہے مابعدالطبیعیات۔ ہائیڈگر کہتا ہے کہ انھیں وجودِ اصلی کی ہوا تک نہیں لگی۔ انھوں نے جھک ماری ہے۔ وجودِ اصلی کا علم حاصل نہیں کیا جاتا، بلکہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ شعور کی حرکت کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے انفعال کا ثمر ہے۔ وجود اصلی کا علم وجود اصلی کی عطا ہے، جو شعور کو اس کے ہاتھ پھیلانے کے نتیجہ میں ملتا ہے۔ یہ وجود کو بھی شکار سمجھے بیٹھے ہیں۔ جس کے لیے گھات لگانا ضروری ہے اور جھپٹنا ضروری یے۔ یہ گھات لگائے اپنی ہی خرافات کو وجود اور علم کا عنوان دیتے جاتے ہیں۔ انھوں نے وجود کے بارے میں سوال ہی درست قائم نہیں کیا۔ یہ جواب تک کیسے پہنچیں گے۔ سوال کی خرابی نے ان کے پورے فکری منہج کو وجود کے استیلاء کا منصوبہ بنا دیا ہے۔ جس کا اظہار آج ہم دور جدید میں ٹیکنالوجی کی روزبروز پیش قدمی اور انسانیت کی آئے دن پسپائی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ فلاسفہ نے اپنے اور اشیاء کے مابین جو حدِ فاصل فرض کی اور خود کو ان سے ممتاز دیکھنے کی روش اختیار کی، جس میں امتیاز تحکم اور اذعان کی حد تک بڑھا ہوا تھا، یہی ساری خرابی کی جڑ تھی۔

ہائیڈگر نے کہا کہ وجود مستور اظہار ہے۔ اس کا ظاہر ہونا حسی امر ہے اور اس کا نظروں سے اوجھل ہونا بدیہی حقیقت ہے۔ وجود کے اظہار کا وسیلہ تواجد (Dasein) ہے اور یہی اس کے پوشیدہ ہونے کی وجہ ہے۔ تواجد وجود کی فطری معرفت کا حامل ہے اور اسی معرفت کے بل بوتے پر وہ وجود کا رکھوالا (shepherd) ہے۔ یہ معرفت جمادات کو حاصل نہیں اور حیوانات کو بھی حاصل نہیں۔ ہائیڈگر کہتا ہے کہ میٹا فزکس کے قائلین نے جو بہت سی فاش غلطیوں کا ارتکاب کیا، ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھوں نے وجود کو قابلِ احصاء تصور کیا۔ وہ وجود کے پراسرار پہلو کو سمجھنے اور ماننے سے قاصر رہے اور اس رائیگاں کوشش میں اپنی زندگیاں ضائع کردیں کہ وجود کو شعور کی گرفت میں لے لیں۔ دوسری غلطی انھوں نے یہ کہ انھوں نے الہیات اور وجودیات کو خلط کردیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ خدا کو سمجھ پائے اور نہ وجود کو۔ وجود تمدن ہے اور انھوں نے اس تفکر کا موضوع بنا ڈالا۔ ہستی (being) کو وجود (Being) کا کل مظہر سمجھا اور ہستیوں (beings) کے توسط سے ہستی (being) کے علم تک پہنچے اور اسے وجود (Being) کے علم سے خلط کردیا۔ وہ کہتا ہے کہ جو علم esse essentiae اور esse existentiae کی تفریق اور امتیاز پر قائم ہو، وہ وجود کی بُو تک نہیں سونگھ سکتا۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں