کئی دوستوں نے حامد میر صاحب کے پروگرام میں ہونے والی گفتگو پر راے مانگی ہے حالانکہ پاکستان کے نکاح و طلاق کے قانون پر میں برسہا برس سے لکھتا اور بولتا آیا ہوں۔ بہرحال تفصیل کا موقع نہیں ہے لیکن دوستوں کےلیے چند اصولی باتیں پیشِ خدمت ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان میں طلاق پر کوئی تفصیلی قانون سازی نہیں کی گئی ہے۔ بنیادی اصول ایک قانون میں طے کیا گیا ہے جس کا نام ہے: “مسلم شخصی قانون (شریعت) کی تنفیذ کا قانون 1962ء”۔ اس کی دفعہ 2 میں طے کیا گیا ہے کہ طلاق (اور بہت سے دیگر موضوعات پر) “شریعت” کو فیصلے کے قانون کی حیثیت حاصل ہے، لیکن “قانون کے تابع”۔
چنانچہ اگر “قانون” میں کوئی بات طے کی گئی ہے، تو اس میں “شریعت” کی طرف نہیں دیکھا جاتا، لیکن جہاں “قانون” خاموش ہے، وہاں “شریعت” پر فیصلہ ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ طلاق کے موضوع پر ہمارے ہاں صرف ایک دفعہ 7 ہے، “مسلم عائلی قانون آرڈی نینس 1961ء” کی۔ باقی ہمارے پاس کوئی قانون نہیں ہے، اس لیے باقی تمام امور میں “شریعت” پر فیصلہ ہوتا ہے۔
تاہم یہ دفعہ 7 بہت دوررس نتائج کی حامل ہے۔ اس میں قرار دیا گیا ہے کہ طلاق چاہے کسی بھی صورت میں دی گئی ہو، وہ اس وقت تک مؤثر نہیں ہوگی جب تک اس دفعہ میں مذکور تفصیلی طریقِ کار پر عمل نہ ہو، اور اس کے بعد 90 دن گزر نہ جائیں۔
1963ء میں سپریم کورٹ نے اس قانون کا یہ مفہوم طے کیا تھا کہ طلاق دے چکنے کے بعد اگر شوہر نے اس دفعہ میں مذکور طریقِ کار پر عمل نہیں کیا، تو یہ مانا جائے گا کہ اس نے طلاق واپس لے لی ہے اور قانون کی نظر میں وہ مرد و عورت بدستور میاں بیوی رہیں گے!
1993ء میں، یعنی 30 سال بعد، سپریم کورٹ نے مانا کہ یہ فیصلہ غلط تھا، اور اب یہ مفہوم متعین کیا کہ اگر طلاق دے چکنے کے بعد شوہر نے اس دفعہ میں مذکور طریقِ کار پر عمل نہیں کیا، تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے طلاق واپس لے لی ہے، لیکن یہ طلاق بہرحال رہے گی غیر مؤثر جب تک اس قانون میں مذکور طریقِ کار پر عمل درآمد نہ کیا جائے! اب اس کا کیا مطلب ہوا کہ طلاق واپس بھی نہیں ہوئی اور مؤثر بھی نہیں ہے؟ یہ ایک دلچسپ معمہ ہے، لیکن اس پر تبصرہ کسی اور وقت، ان شاء اللہ۔
ان دونوں فیصلوں پر میں بارہا تفصیلی تنقید کرچکا ہوں۔ دہرانے کا موقع نہیں ہے، لیکن ایک تیسرا فیصلہ بھی نوٹ کیجیے۔
تیسرا فیصلہ وفاقی شرعی عدالت کا ہے جو اس نے 1999ء میں دیا ہے اور اس میں طے کیا ہے کہ یہ قانون شریعت سے متصادم ہے اور اس وجہ سے اس نے اسے ختم کردینے کا حکم دیا تھا۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں جہاں وہ پچھلے 26 سالوں سے معلق ہیں اور اس وجہ سے یہ قانون اب بھی ملک میں نافذ ہے۔
اب آئیے تیسری بات کی طرف۔
تیسری بات یہ ہے کہ ہمارے آئین میں بھی یہ اصول طے کیا گیا ہے اور ایک خصوصی “قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء” کی دفعہ 4 میں پوری صراحت کے ساتھ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہر “قانون” کی ایسی تعبیر اختیار کی جائے گی جو “شریعت” سے ہم آہنگ ہو۔ اس اصول کو سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنچ آئینی دفعات کی تعبیر کےلیے بھی لازم قرار دے چکا ہے۔ اس لیے یہ قانون، جسے وفاقی شرعی عدالت اسلام سے متصادم قرار دے چکی ہے، اگرچہ اب بھی ملک میں محض اس وجہ سے نافذ ہے کہ سپریم کورٹ اس کے خلاف اپیلوں کی سماعت نہیں کررہی، لیکن اس کا ایسا مفہوم متعین کرنا لازم ہے کہ یہ شریعت سے ہم آہنگ ہوجائے۔
کیا ایسا ممکن ہے؟ اس پر آپ سوچیے اور میں فرصت ملنے پر اس پر لکھنے کی کوشش کروں گا، ان شاء اللہ۔
باقی رہی بات شریعت کے حکم کی، تو بعض لوگ ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں یہ ثابت کرنے کےلیے کہ غصے میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی، لیکن یہ بہت سطحی انداز ہے۔
مختصراً نوٹ کیجیے کہ
“لا طلاق فی اغلاق” کے الفاظ کی روایت سنن ابن ماجہ اور مسند احمد وغیرہ میں ہوئی ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ تاہم ایک سے زیادہ طرق کی وجہ سے اسے بعض محدثین نے حسن کہا ہے۔
اس حدیث میں “اغلاق” سے مراد کیا ہے؟ لغوی طور پر “اغلاق” بند کردینے کو کہتے ہیں۔ اب یہاں کیا مراد ہے؟ کیا یہ کہ غضب کی ایسی شدت ہو جو دماغ کو مختل کردے، یا اکراہ (زبردستی)، یا سکر (نشہ)، یا تین طلاق اکٹھے دے کر خود پر دروازہ بند کردینا؟ اس بارے میں علما کی مختلف آرا ہیں۔
اب اگر اس سے غضب ہی مراد لیا جائے، تو غضب کے بھی تین درجے ہیں:
ایک یہ کہ غصہ ہو لیکن ہوش و حواس برقرار رہیں؛ اس حالت میں دی گئی طلاق کے واقع ہونے پر کوئی اختلاف نہیں ہے اور تمام فقہاء کے نزدیک یہ طلاق واقع ہوجاتی ہے؛
دوسرا یہ کہ غصہ اتنا شدید ہو کہ دماغ ہی مختل ہوکر رہ جائے اور بندے کو معلوم ہی نہ ہو کہ اس نے کیا کہا اور کیا کیا؟ اس حالت پر جنون کا اطلاق ہوتا ہے اور ایسی حالت میں طلاق کے عدم وقوع پر اتفاق ہے، اگرچہ ظاہر ہے کہ اس کے ثابت کرنے کی ذمہ داری اسی فریق پر ہوگی جو یہ دعوی کررہا ہے کہ اس کی دماغی حالت اس طرح کی تھی؛
تیسرا یہ کہ غصہ ایسا شدید ہو کہ اس شدت میں بندہ طلاق دے گزرے اگرچہ بعد میں اس پر شدید نادم ہو؛ اس حالت میں طلاق کے وقوع پر اختلاف ہے۔ جمہور فقہاے کرام، بشمول حنفی فقہاے کرام، یہاں بھی طلاق کے وقوع کے قائل ہیں؛ امام ابن القیم اور بعض معاصر اہل حدیث علماء اس کے عدمِ وقوع کے قائل ہیں۔ میرے نزدیک جمہور فقہاے کرام کی راے ہی درست ہے۔
غصے کی حالت میں طلاق اور پاکستانی قانون



کمنت کیجے