ایک صاحب نے سوال پوچھا ہے کہ بتائیے اگر کوئی صحابی پہلے نبی علیہ السلام پر ایمان لائیں اور پھر آپ علیہ السلام سے خدا کے بارے میں جانیں، تو کیا اس کا ایمان معتبر ہے؟ اگر ہاں تو متکلمین کا یہ مقدمہ جاتا رہا کہ خدا کے وجود کا علم نبوت کی تصدیق کی علمی شرط ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ یہ سوال ہی غلط بلکہ ناقابل فہم ہے۔ اس طرح کے سوال کرنے والے صاحب سے ہمارا سوال یہ ہے کہ ذرا آپ نبی کی تعریف بتائیں۔ جب آپ اس کی تعریف لکھنے بیٹھیں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ علمیاتی طور پر خدا کو پہلے فرض کئے بغیر کسی کو نبی ماننے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا صحیح الدماغ شخص دکھایا جائے جو یہ کہے کہ میں خدا کو تو نہیں مانتا لیکن یہ مانتا ہوں کہ فلاں شخص نبی یعنی خدا کے مبعوث کردہ ہیں۔ اس قسم کے فرضی سوالات اس غلط مفروضے و علمیاتی خلا پر قائم کئے جاتے ہیں کہ بغیر کسی خدا کی تصدیق کئے کسی شخص کے نبی ہونے کی تصدیق علمی طور پر ممکن و قابل فہم ہے۔ لوگ اس قسم کے لغو مفروضے نجانے کیسے صحابہ کرام کی جناب میں گھڑ لیتے ہیں کہ معاذ اللہ وہ ایسے کند ذھن لوگ تھے کہ پہلے یہ تصدیق کرتے تھے کہ “محمد (علیہ السلام) خدا کے بھیجے ہوئے ہیں” اور پھر ان کے کہنے سے یہ تصدیق کرتے تھے کہ “خدا ہے” اور اس ترتیب میں پنہاں تضاد کو بھی نہیں سمجھتے تھے۔ سوال میں پیش کردہ معین شخص سے متعلق بات کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ ایک بچہ تعلیم کی کئی منازل پہلے طے کرتا ہے یہاں تک کہ اسے بڑے ہونے پر سمجھایا جاتا ہے کہ دیکھو تمام علم کی بنیاد جمع بین النقیضین محال ہونے کے قضئے پر ہے۔ وہ بچہ اس سے پہلے بھی ہر قضئے میں اس کا لحاظ کررہا تھا مگر اسے ترتیب کا شعور نہ تھا۔ کیا بڑے ہونے پر جب اسے یہ شعور ہوا تو یہ کہا جائے گا کہ اس کا پہلے کا علم اس قانون سے ماورا تھا یا جمع بین النقیضین کا اصول اصل نہیں فرع ہے؟ الغرض کسی کے حق میں مقدمات کی زمانی و واقعاتی ترتیب ان مقدمات کی علمیاتی ترتیب کو مستلزم نہیں۔ پس اس شخص کا ایمان معتبر ہونے کا نتیجہ یہ نہیں کہ متکلمین کی بیان کردہ علمیاتی ترتیب غلط ثابت ہوگئی۔
اسی غلط منہج کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کو بھی یوں پیش کرتے ہیں جیسے اس کا علم سے کوئی لینا دینا نہیں تھا جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ نبی علیہ السلام کے ساتھ پرانی دوستی کے باعث جہاں متعدد انفرادی شواہد سے وہ یہ جانتے تھے کہ یہ انتہائی سچے شخص ہیں، وہاں ساتھ یہ کیوں نہیں کہا جانا چاہئے کہ قرآن کی جو آیات آپ علیہ السلام پر نازل ہوئیں ان کی سماعت کے ساتھ ہی وہ یہ جان گئے تھے کہ یہ کلام معجز ہے جو خدا نے ان کے دعوے کی تصدیق کے لئے بطور دلیل نازل کیا ہے؟ حضرت ابوبکر کی تصدیق کے بارے میں ہمارے یہاں مشہور کردیا گیا ہے کہ وہ بس یونہی ایمان لے آئے تھے، یعنی نبی علیہ السلام کے سب سے بڑے صحابی کے ایمان کا مرتبہ ہم نے یہ مقرر کیا ہے کہ وہ کسی علم کے بغیر ایسے ہی اندھا اعتقاد تھا العیاذ باللہ۔ ہم کہتے ہیں کہ اس مفروضے کے برعکس وہ اس امت کے نہایت زیرک ترین عالم و متکلم تھے جو نبی کی تصدیق سے متعلق استدلال کی نزاکتوں کو نہ صرف سب سے بڑھ کر جاننے والے تھے بلکہ ان کا استعمال کرکے درست نتیجے تک پہنچ بھی گئے اور اس کا اقرار بھی کیا۔




ایسے کونسے اصحاب علیہم الرضوان ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے قبل وجود خدا کے قائل ہی نہ تھے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں محلدیں /منکرین خدا کی تعداد کتنی تھی؟ پیغام نبوی سے وجود خدا کی قائل ہوئی؟