
وحید مراد
منطق بذاتِ خود نہ فلسفہ ہے اور نہ مابعدالطبیعات؛ یہ محض ایک منظم آلہ (formal tool) ہے جو بتاتا ہے کہ اگر کوئی دعویٰ قبول کر لیا جائے تو اس سے منطقی طور پر کیا نتائج اخذ ہوں گے۔ یہ فیصلہ کرنا منطق کے دائرے میں نہیں کہ کون سا دعویٰ لازمی طور پر قبول کیا جائے۔ اسی لیے ایک ہی بنیادی استدلالی معیار یعنی صحتِ قیاس، استنباطی قواعد، عدم تناقض اور ہم آہنگی کا معیار فلسفے اور مابعد الطبیعات دونوں میں کارفرما رہتا ہے اگر چہ تاریخی طور پر منطقی صورتیں اور نظام بدلتے رہتے ہیں۔ فرق دراصل منطقی اصولوں میں نہیں بلکہ ان مقدمات،مفروضات اور موضوعات میں ہوتا ہے جن پر ان اصولوں کا اطلاق کیا جا رہا ہوتا ہے۔ منطق استدلال کی درستی کو پرکھتی ہے؛ نزاع اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم کن بنیادوں کو قبول کرتے ہیں اور کس نوع کے وجودی دعووں کو موضوع بحث بناتے ہیں۔
فکرِ انسانی میں منطق کوئی واحد قالب نہیں بلکہ مختلف سطحوں اور مقاصد کے ساتھ کام کرنے والے طریقِ استدلال کا مجموعہ ہے۔ قیاسی منطق (Deductive) دلیل کی ساخت کو اس طرح ترتیب دیتی ہے کہ اگر مقدمات درست ہوں تو نتیجہ لازماً درست ہو؛ اس میں یقین کی قوت زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ مواد کے بجائے شکل پر توجہ دیتی ہے۔ استقرائی منطق (Inductive) مشاہدے اور تجربے سے عمومی اصول اخذ کرتی ہے، اس کا نتیجہ قطعی نہیں بلکہ احتمالی ہوتا ہے اور یہی سائنسی طرزِ فکر کی بنیاد ہے۔ استنباطی منطق (Abductive) کسی مشاہدے کی بہترین ممکنہ توضیح تلاش کرتی ہے اور مفروضہ سازی میں مدد دیتی ہے۔ ریاضیاتی یا علامتی منطق (Formal) زبان کو علامتوں میں بدل کر ابہام کم کرتی ہے اور دلیل کی ساخت کو خالص صورت میں پرکھتی ہے۔ ، جدلیاتی منطق (Dialectical) تضاد کو فکری حرکت اور تبدیلی کا محرک سمجھتی ہے، امکانی منطق (Model) مابعدالطبیعات اور مذہبی فلسفے میں امکان، ضرورت اور ممکنات کا تجزیہ کرتی ہے، جبکہ ماورائی منطق (Transcendental) اس سوال تک پہنچتی ہے کہ ہم کسی شے کو جاننے کے قابل کیسے ہوتے ہیں اور عقل کی حدود کہاں تک پھیلی ہیں۔ ، غیر رسمی منطق (Informal) روزمرہ دلائل اور مغالطوں کو سیاق و سباق کے اندر جانچتی ہے اور تنقیدی اسلوب دلیل کے پس منظر میں کارفرما مفروضات اور طاقت کے عناصر کو آشکار کرتا ہے۔
منطق کی ان تمام اقسام میں ایک مشترک قدر یہ ہے کہ یہ فکر کو بے ترتیبی سے نکال کر معقول ترتیب دیتی ہیں اور مقدمات و نتائج کے تعلق کو واضح کرتی ہیں۔لیکن ان کا فرق یقین کی نوعیت، دائرۂ کار اور توجہ کے مرکز میں ہے: کہیں قطعیت، کہیں امکان؛ کہیں ساخت، کہیں تجربہ؛ کہیں تاریخی حرکت، کہیں شعور کی بنیادی شرطیں۔ ان میں سے بعض دلیل کی شکل کو دیکھتی ہیں، بعض اس کے مواد اور تجرباتی بنیاد کو اور بعض انسانی ادراک یا سماجی سیاق کو۔ یوں منطق کوئی جامد آلہ نہیں بلکہ عقل کے متنوع اندازِ کار کا نام ہے، جو علم، سائنس، فلسفہ، ایمان اور تنقیدسب میں اپنی اپنی صورت میں کام کرتا ہے۔
فلسفے میں منطق کا بنیادی کام یہ نہیں کہ وہ نئے حقائق پیدا کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ مفاہیم کو واضح کرے، دعووں کی حدود متعین کرے اور یہ واضح کرے کہ انسانی عقل کہاں تک دعویٰ کر سکتی ہے اور کہاں اس کے پاس علم کے لیے درکار شرائط موجود نہیں رہتیں۔ خصوصاً تنقیدی فلسفے میں منطق محض استدلال کی تکنیک نہیں رہتی، بلکہ عقل کے احتساب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں ہوتا کہ دلیل درست ہے یا غلط، بلکہ یہ کہ جس نوع کے وجودی دعوے کیے جا رہے ہیں، کیا ان کے لیے وہ شرائط مہیا ہیں جن کے بغیر علم ممکن ہی نہیں؟ اس مرحلے پر منطق عقل کو خود دکھا دیتی ہے کہ بعض مقامات پر وہ علم کا حکم تو لگا رہی ہے، لیکن علم پیدا کرنے کے وسائل اس کے اختیار میں نہیں۔ یوں استدلال کے اندر ہی عقل اپنی حد سے آشنا ہو جاتی ہے، اور منطق ایک طرح سے حد شناس (self-limiting)بن کر سامنے آتی ہے۔
مابعدالطبیعات میں بھی بظاہر وہی منطقی اصول کارفرما ہوتے ہیں، لیکن یہاں ایک باریک اور فیصلہ کن فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ منطق اب صرف وضاحت، ترتیب اور درستی کی جانچ کا آلہ نہیں رہتی، بلکہ بعض اوقات اسے اس طرح استعمال کیا جاتا ہے جیسے منطقی ضرورت خود وجودی حقیقت کو لازم کر دے۔ یعنی مفہومی تحلیل یا ضروری ربط سے وجود کا اثبات اخذ کر لیا جاتا ہے۔ یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ چونکہ قیاس درست ہے، اس لیے اس کا وجودی نتیجہ بھی لازماً درست ہوگا۔ یعنی ہم کسی تصور کو جتنا چاہیں کامل بنا دیں لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ خارج میں بھی موجود ہو۔ منطق مفاہیم کے باہمی ربط کی وضاحت تو کر دیتی ہے لیکن وجود کا اثبات اس کےدائرے سے باہر ہے۔ مثال کے طور پر یہ استدلال کہ ہر معلول کی علت ہوتی ہے، کائنات ایک معلول ہے، لہٰذا ایک علتِ اولیٰ موجود ہے۔ یہ استدلال اپنی منطقی ساخت میں معتبر ہو سکتا ہے، لیکن اصل سوال اس کی validity نہیں بلکہ ان مقدمات کا وجودی وزن ہے جن پر یہ کھڑا ہے۔ منطق نتیجے کو مقدمات سے جوڑتی ہے، وجود کو پیدا نہیں کرتی۔ اگر مقدمات میں وجودی دعویٰ شامل ہے تو نتیجہ بھی وجودی ہوگا، لیکن اس کا بوجھ منطق پر نہیں بلکہ خود مقدمات پر عائد ہوتا ہے۔
یہیں فلسفے اور مابعدالطبیعات کا امتیاز نمایاں ہو جاتا ہے۔ فلسفہ عقل کو سوال کی حالت میں رکھتا ہے، جبکہ مابعدالطبیعات اکثر اسے جواب کی حالت میں لے آتی ہے۔ فلسفہ حدود کو نمایاں کرتا ہے؛ مابعدالطبیعات کبھی کبھی انہی حدود کو عبور کر کے حتمی بیانات صادر کرنے لگتی ہے۔ فلسفے میں دعوے عموماً مشروط ہوتے ہیں یعنی مخصوص مقدمات اور شرائط کے ساتھ وابستہ جبکہ مابعدالطبیعات میں وہ مطلق صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ فلسفے میں منطق ایک تنقیدی وسیلہ ہے؛ مابعدالطبیعات میں وہ بعض اوقات وجودی التزام قائم کرنے کا ذریعہ (ontological weapon) بن جاتی ہے اور یہ طے کرنے لگتی ہے کہ کیا لازماً موجود ہے اور کیا نہیں۔ مسئلہ منطق کی ساخت میں نہیں، بلکہ اس توقع میں ہے کہ منطقی ضرورت بذاتِ خود وجودی حقیقت کی ضمانت دے دے۔ اس اعتبار سے فلسفہ فکری احتیاط اور خود آگہی کا نام ہے، جبکہ مابعدالطبیعات کبھی فکری عجلت کا شکار ہو جاتی ہے۔ منطق کے اطلاق کے باوجود اس کے کچھ مقدمات نا قابل توثیق ہوتے ہیں کیونکہ منطق validity کو جانچتی ہے، truth کو پیدا نہیں کرتی۔
مثال کے طور پر فلسفہ سوال اٹھاتا ہے کہ ماورائی تصور کس بنیاد پر قائم ہوتا ہے؟ انسانی شعور اسے کیوں وضع کرتا ہے؟ عقل خدا کے بارے میں کہاں تک بات کر سکتی ہے؟ فلسفہ اس مقام پر رک کر کہتا ہے کہ منطق کی روشنی میں ہم اتنی حد تک بات کر سکتے ہیں، اس سے آگے دعویٰ علم نہیں بلکہ قیاس ہوگا۔ اس کے برعکس مابعدالطبیعات آگے بڑھ کر صفات متعین کرتی ہے، افعال کی تفصیل بیان کرتی ہے اور وجودی فیصلے صادر کرتی ہے۔ یہاں خطرہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ عقل اپنی جائز تنقیدی حد سے آگے بڑھ کر ایسے دائرے میں قدم رکھ دے جہاں اس کے پاس توثیق کے وسائل موجود نہیں۔
لیکن واضح رہے کہ انسانی عقل اور ارادہ میں تجاوز کی صلاحیت فطری طور پر موجود ہے۔ انسان محض دیے گئے دائرے میں مقید نہیں رہتا؛ وہ سوال اٹھاتا ہے، حدود پار کرتا ہے اور امکانات کی طرف بڑھتا ہے۔ یہی تجاوز اسے مکلف اور جواب دہ بناتا ہے۔ وہ حد سے آگے جانے کی صلاحیت نہ رکھتا تو نہ ذمہ داری کا مفہوم بنتا اور نہ احتساب کا۔ اس لیے مسئلہ خود تجاوز نہیں، بلکہ اس کا غیر ذمہ دار اور مطلق صورت اختیار کر لینا ہے۔ اسی نکتے پر امام غزالی کہتے ہیں کہ منطق اپنی جگہ درست اور مفید ہے، لیکن الہیات میں اس کی بے مہار توسیع فکری الجھن اور التباس پیدا کر سکتی ہے۔
یہاں یہ سوال بجا طور پر اٹھتا ہے کہ اگر مابعدالطبیعات کو حتمی وجودی فیصلوں سے روکا جائے تو پھر اس کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے؟ اس کا اصل منصب یہ نہیں کہ وہ حقیقت کا مکمل نقشہ پیش کرے، بلکہ یہ واضح کرے کہ انسانی عقل کن بنیادی سوالات تک ناگزیر طور پر پہنچتی ہے اور کہاں اس کی زمین ختم ہو جاتی ہے۔ وجود کیا ہے؟ ہونے اور نہ ہونے کا امتیاز کس معنی میں ہے؟ علت، امکان اور وجوب کے مفاہیم کیا دلالت رکھتے ہیں؟ زمان و مکان خود مستقل حقائق ہیں یا فہم کے سانچے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو نہ محض تجربے سے حل ہوتے ہیں، نہ سائنس سے اور نہ صرف منطق سے۔ اس اعتبار سے مابعدالطبیعات جواب کا نظام نہیں بلکہ حدّی سوالات (boundary questions) کی نشاندہی ہے۔
جب عقل یہ پوچھتی ہے کہ کچھ بھی نہ ہونے کے بجائے کچھ کیوں ہے، یا قوانینِ فطرت کی بنیاد کیا ہے، تو سوالات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جسے عقل خود بخود روک نہیں پاتی۔ کانٹ کے نزدیک مابعدالطبیعات عقل کی ایک فطری ضرورت ہے: اسے ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عقل خود ان سوالات کو جنم دیتی ہے۔ لیکن یہی ضرورت اگر بے قاعدہ ہو جائے تو عقل اپنی حدود سے تجاوز کر کے وہم کو علم سمجھنے لگتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مابعدالطبیعات علم کی سرحد کی نگرانی کرنے والی ایک چوکی کی مانند ہے جسکا کام رہنمائی کرنا ہے لیکن یہ پولیس چوکی نہیں جو ہر چیز پر زبردستی قابو پائے۔
وحی بذاتِ خود مابعدالطبیعات نہیں، لیکن وحی کو محض منطقی نظام میں تحلیل ہونے سے بچانے کے لیے ایک مابعدالطبیعی شعور درکار ہے۔ ورنہ مذہب کو فلسفہ بنا دیا جاتا ہے، یا فلسفہ مذہب پر حاوی ہو جاتا ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مابعدالطبیعات یہ دعویٰ کرنے لگے کہ حقیقت لازماً ایسی ہی ہے جیسا وہ بیان کرتی ہے، خدا کو ایک منطقی ساخت میں مقید کر دے یا وجود کا مکمل اور بند نقشہ پیش کرنے لگے۔ اس مرحلے پر وہ تنقیدی جستجو نہیں رہتی بلکہ ایک نظریاتی عقیدہ بن جاتی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں امام غزالی کا موقف اہم ہو جاتا ہے ۔ ان کے نزدیک مابعدالطبیعات وحی کی ہمسر نہیں بلکہ عقل کو اس کی حد یاد دلانے کا ذریعہ ہے ۔ وہ مابعدالطبیعی سوالات کے منکر نہیں تھے؛ انکار اس دعوے کا تھا کہ فلسفیانہ استدلال ان سوالات کے قطعی اور لازم نتائج تک پہنچا دیتا ہے۔ ان کی تنقید عقل پر نہیں، عقل کے زائد دعوے پر ہے۔ اسی لیے وہ فلسفے کو باہر سے رد نہیں کرتے بلکہ اس کے اپنے مقدمات کے اندر رہ کر اس کی حد نمایاں کرتے ہیں۔
کانٹ اسی بات کو ایک اوراندازمیں دہراتے ہیں۔ ان کے نزدیک نظری عقل (theoretical reason) لازماً مابعدالطبیعی تصورات پیدا کرتی ہے، لیکن لازماً ان کے جوابات نہیں دے سکتی، کیونکہ عقل تجربے کے بغیر علم پیدا نہیں کرتی اور مابعدالطبیعات تجربے سے ماورا ہے۔ خدا، نفس اور کائنات کی کلیت ان کے ہاں علم کی اشیاء نہیں بلکہ عقل کے تنظیمی تصورات (ideas of reason) ہیں۔ایسے تصورات جو فکر کو سمت دیتے ہیں،لیکن تجربی صداقت کا درجہ نہیں رکھتے۔ مابعدالطبیعات کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا؛ اسے نظم میں لانا پڑتا ہے ، تاکہ عقل خود کو مطلق مقتدر نہ سمجھ بیٹھے۔
ہائیڈیگر ایک اور زاویہ پیش کرتے ہیں کہ مغربی روایت میں مابعدالطبیعات نے وجود کے سوال کو موجودات کے سوال میں بدل دیا اور خدا کو محض اعلیٰ ترین موجود (highest being) بنا کراصل مسئلے کو پس منظر میں ڈال دیا ۔اس کے نزدیک یہ مذہب پر حملہ نہیں بلکہ فلسفے کی خود احتسابی ہے، اسی لیے وہ مابعدالطبیعات کے بجائے بنیادی وجودیات (fundamental ontology) کی بات کرتاہے۔ یعنی وجود کے سوال کو اس کی اصل گہرائی میں واپس لانے کی کوشش۔
اسی تناظر میں بعض مقامی ناقدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلم اہلِ علم مابعدالطبیعات کی طرف اس لیے رجوع کرتے ہیں کہ وہ جدید علم، سائنس اور اقداری مباحث میں نظری عقل کے ساتھ مسابقت نہیں کر پاتے۔ چونکہ جدید علم خدا، غایت اور اخلاقی قدر کو معروضی مفروضات کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، اس لیے کہا جاتا ہے کہ مسلمان مفکرین اس میدان میں کمزور پڑ کر مابعدالطبیعاتی مباحث میں پناہ لیتے ہیں۔ گویا مابعدالطبیعات عقل کی ناکامی کی پناہ گاہ ہے۔یہ تعبیر مسئلے کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتی ہے۔
مسلم شعور عقل سے خالی نہیں، بلکہ اس کے سامنے اصل سوال عقل، وحی اور عرفان کے باہمی تعلق کی توضیح کا ہے۔ جدید سائنس اور سماجی علوم ایک خاص منہج پر قائم ہیں: تجرباتی تصدیق، تاریخی شرطیت، علت و معلول کی بندش اور قدر سے لاتعلقی۔ اس منہج کی اپنی قوت ہے، لیکن اس کی حدود بھی ہیں۔ یہ مقصدیت کو ontological حیثیت نہیں دیتا، اور اخلاق کو قائم بالذات حقیقت نہیں مانتا۔ اس کے برعکس مسلم فکری روایت اخلاق کو معروضی اور وحی کو معتبر ذریعۂ علم سمجھتی ہے۔ مسئلہ عقل کی عدم موجودگی کا نہیں بلکہ عقل کے دائرۂ کار کے تعیین کا ہے۔
یہ الزام کہ مسلمان مفکر “عقل سے فرار” اختیار کرتے ہیں، دراصل عقل کے ایک مخصوص تصور پر مبنی ہے۔ وہ تصور جو عقل کو صرف سائنسی منہج تک محدود کر دیتا ہے۔ عقل کا مطلب صرف وہی ہو جو تجربہ گاہ میں قابلِ تصدیق ہو، تو یقیناً مابعدالطبیعات غیر عقلی نظر آئے گی۔ لیکن فلسفے کی تاریخ اس محدود تعریف کی تائید نہیں کرتی۔
ارسطو سے لے کر کانٹ تک عقل کے متعدد مدارج اور وظائف بیان کیے گئے ہیں: توضیح، تنقید، تنظیمِ مفاہیم، اور ما بعد التجربہ سوالات کی تشکیل۔ عقل ہمیشہ صرف پیمائش کا آلہ نہیں رہی، بلکہ معنی کی جستجو کا وسیلہ بھی رہی ہے۔مسلم اہلِ علم کے سامنے تین راستے تھے:مذہب کو نجی ایمان تک محدود کر دینا، مذہب کو مکمل طور پر جدید فکری سانچے میں ڈھال دینا یا ایک میٹا سطح اختیار کرنا جہاں سوالات کی نوعیت بدلی جائے۔ مابعدالطبیعات اسی تیسرے امکان کا نام ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں رہتا کہ”کیا ماپا اور جانچا جا سکتا ہے؟ بلکہ یہ کہ “وجود کا مفہوم کیا ہے؟ حقیقت کا معیار کیا ہے؟ اخلاق کیوں لازم ہے؟” یہ سوالات تجرباتی دائرے سے باہر ہیں، لیکن غیر عقلی نہیں۔
مابعدالطبیعات فرار نہیں بلکہ تناظر (framework) فراہم کرتی ہے۔ یہ تجرباتی علم کی نفی نہیں کرتی، بلکہ اس کے مفروضات، حدود اور معنوی نتائج کا تجزیہ کرتی ہے۔ جب سائنس علت کی بات کرتی ہے تو مابعدالطبیعات پوچھتی ہے کہ علت کا مفہوم کیا ہے۔ جب سماجی علوم اخلاق کو تاریخی تشکیل کہتے ہیں تو وہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا “ہونا اور ہونا چاہیے” کے درمیان کوئی ontological نسبت ہے یا نہیں۔ یہ سوالات عقل کے دائرے سے باہر نہیں، بلکہ عقل کے گہرے استعمال کا تقاضا کرتے ہیں۔
اصل مسئلہ عقل کی کمی نہیں بلکہ عقل کے مقام کا تعین ہے۔ اسلامی روایت میں عقل واحد اور آخری حَکَم نہیں، لیکن وہ غیر متعلق بھی نہیں۔ وہ سوال اٹھاتی ہے، تحلیل کرتی ہے اور ممکنات کی حد متعین کرتی ہے۔ وحی سمت فراہم کرتی ہے اور عرفان وجودی تصدیق۔ یہ تینوں متوازی راستے نہیں بلکہ تکمیلی مدارج ہیں۔ عقل کی حد کو تسلیم کرنا اس کی شکست نہیں بلکہ اس کی خود آگاہی ہےاور فلسفہ کسی نہ کسی صورت میں اس خود آگاہی کو قبول کرتا ہے۔
خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں مابعدالطبیعات کو محض دفاع کا ہتھیار بنا دیا جائے یا اسے تجرباتی علم کا نعم البدل سمجھ لیا جائے۔ اس صورت میں وہ سطحی ہو جاتی ہے اور عقل واقعی مجروح ہوتی ہے۔ لیکن اپنے صحیح مقام پر مابعدالطبیعات ایک فکری پل ہے: وہ تجربے کو معنی سے، علت کو مقصد سے اور علم کو وجودی سوال سے جوڑتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مسلم اہلِ علم عقل سے فرار اختیار کر رہے ہیں، نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ فلسفیانہ طور پر منصفانہ۔ نزاع عقل کی موجودگی کا نہیں، بلکہ عقل کی تعریف اور اس کی حد بندی کا ہے۔ فکری دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ عقل کو اس کے پورے تناظر میں سمجھا جائےنہ اسے محض تجرباتی منہج تک محدود کیا جائے اور نہ اسے مطلق العنان بنایا جائے۔ مابعدالطبیعات کا اصل کام یہی ہے کہ وہ ہمیں یہ یاد دلائے کہ ہم حقیقت کے فیصلے کن بنیادوں پر کر رہے ہیں۔ یہی اس کی معنویت ہے اور یہی اس کا دفاع۔




کمنت کیجے