Home » ہمارا مذہبی نظام تعلیم (1)
تعلیم و تعلم مدارس اور تعلیم

ہمارا مذہبی نظام تعلیم (1)

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ   الی آخرہ (الآیۃ)

       (اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے۔ پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: اگر تمہارا خیال صحیح ہے تو ذرا ان چیزوں کے نام بتائو!)

ہماری مذہبی تعلیم کا نظام نہ صرف اصلاح کا متقاضی ہے بلکہ یہ زیادہ اضافے کر دیئے جانے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے نصابات اور تدریس کے طریقے فوری توجہ اور اصلاح کے محتاج ہیں لیکن ہم مسلمان اس مسئلے کے بارے میں بہت ہی حساس واقع ہوئے ہیں۔ میں شروع میں ہی یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں مدارس کا ایک وکیل اور ان کا حامی ہوں۔ ہمیں تمام مذہبی علوم انہی مدارس کے ذریعے منتقل ہوئے ہیں۔ یہ لاکھوں غریب ونادار طلبا کو مفت تعلیم دیتے ہیں جو ریاستی تعلیمی نظام سے باہر رہ گئے ہوئے ہیں۔ علماء، اسلام کے لیے ہمیشہ تقویت کا منبع رہے ہیں اور وہ مسلم دنیا کی شاندار روایات قائم کرنے کے لیے انتہائی نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب حالات و واقعات بہت بدل چکے ہیں۔ ہمیں وقت کا ساتھ دینے کے لیے اپنے اندر تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔ اس سیاق و سباق میں غور وفکر کے لیے ذیل میں چند تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔

1:     پرانے نصاب کی تبدیلی

مدارس نے ایک مفصل نصابِ تعلیم مقرر کر رکھا ہے مگر اس نصاب کی تقریباً ساری کتابیں صدیوں پہلے لکھی گئی تھیں۔ مثال کے طور پر مدارس ایک خاص قسم کی منطق کی کتاب پڑھاتے ہیں جو دو ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ وہ اب بھی ارسطو کی کاوشوں پر مبنی منطق پڑھا رہے ہیں۔ بلا شبہ وہ اپنے دور کی انتہائی ترقی یافتہ منطق تھی لیکن اب اس کی افادیت باقی نہیں رہی کیونکہ جدید فلسفے میں ڈیکارٹ کی تصانیف کی وجہ سے بہت کچھ ظہور پذیر ہو چکا ہے۔ پچھلے پانچ سو برسوں میں انسانی علوم نے بہت ترقی کی ہے لیکن ہم ذہنی تعطل کا شکار ہیں۔ افکار کے اس تعطل میں سے نکلنے کے لیے نئی علمی کاوشوں اور پیش رفتوں کی ضرورت ہے۔ ہمارے مدارس میں منطق کی جو کتب پڑھائی جا رہی ہیں وہ کئی صدیوں پہلے لکھی گئی تھیں جب کہ یہ مضمون بالکل تبدیل ہو چکا ہے۔

مدارس میں اقلیدس کی ریاضی پڑھائی جا رہی ہے۔ وہ واقعی ایک عظیم ریاضی دان تھا جو حضرت عیسیٰ؈ سے بھی پہلے گزرا ہے۔ اس کا جدید بیانیہ یا ایک جدید ریاضی اقلیدس کے اصولوں کی ارتقائی صورت ہے جو آج کل پاکستان میں انٹرمیڈیٹ کی سطح پر پڑھائی جاتی ہے۔ آج کے طلبا انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرکے انجینئرنگ کالجوں میں داخلے لے رہے ہیں لیکن مدارس کے طلبا جنہوں نے اقلیدس کی ریاضی پڑھی وہ ان داخلوں کے لیے مطلوبہ اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے رہ جاتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ انٹرمیڈیٹ کی سطح کی ریاضی میں اس شعبے میں ہونے والی جدید پیش رفتوں کو شامل کر لیا گیا ہے لیکن مدارس نے اس نصاب میںنہ کچھ شامل کیا ہے اور نہ کوئی تبدیلی متعارف کروائی ہے اور وہی ریاضی پڑھا رہے ہیں جوتئیس سو (2300) سال پہلے رائج تھی۔

ادب کے معاملہ میں بھی یہی صورت حال ہے۔ مدارس میں جو عربی ادب پڑھایا جاتا ہے، اس میں سے زیادہ تر زمانہ قبل از اسلام اور عباسی دور (750ء – 1258ء) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بعد کے زمانے کا جدید ادب نہیں پڑھایا جاتا۔ اس طرح ان کو یہاں اردو ادب میں

اقبال، غالب، میر اور فیض بلکہ چاسر، شیکسپیئر، ورڈزورتھ، جو ناتھن سوفٹ، جان کیٹس، چارلس ڈکنز، ٹی ایس ایلیٹ کو بھی پڑھانا چاہیے۔

اسی طرح مدارس کے نصاب میں یونانی عہد کے بطلیموس کی فلکیات پڑھائی جاتی ہے۔ کاپر نیکس، گیلیلیو اور نیوٹن کے انکشافات نے زمین اور کائنات کے بارے میں بنیادی تصورات ہی تبدیل کردیئے ہیں۔ ان کے انکشافات سے قبل سائنس دانوں کانظریہ تھا کہ زمین اس پوری کائنات کا مرکز ہے۔ جب کہ آج ہم جانتے ہیں کہ سورج نظام شمسی کے مرکز میں ہے۔ کائنات کے مرکز میں نہیں۔ مسلمان اب بھی دو ہزار سال پہلے والے زمانے میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے مسلمانوں میں سے بعض کو یہ یقین نہیں آتا کہ انسان نے چاند تک رسائی حاصل کر لی ہے کیونکہ پرانی نظریات کے مطابق یہ چوتھے آسمان میں ہے اور آسمانوں میں سے کوئی بھی نہیں گزرسکتا۔

دینی مدارس کا موجودہ نصاب، درس نظامی جو بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور دنیا کے دیگر حصوں مثلاً جنوبی افریقہ، کینیڈا، امریکہ، کریبین جزائر اور برطانیہ میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے مرتب ملا نظام الدینؒ تھے۔ جو لکھنؤ (بھارت) کے شہر سہالی کے رہنے والے تھے۔ ان کا شجرۂ نسب صحابی حضرت ایوب انصاری؄ سے ملتا تھا۔ ملا نظام الدینؒ 1748ء میں وفات پا گئے۔ وہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ہم عصر تھے۔ ان کا ’مدرسہ سہالی‘ بعد میں ترقی کرکے مدرسۂ فرنگی محل کے نام سے مشہور ہوا اور اس نے ہندوستان کی تعلیمی اور سیاسی تاریخ میں نہایت اہم کردار اداکیا۔

ملاّ نظام الدینؒ نے اس وقت مروج مذہبی تعلیم کی اعلیٰ کتب کو منتخب کیا اور در س نظامی میں تبدیل کر دیا۔ چنانچہ درسِ نظامی کے نصاب میں عقلی (استدلالی) اور نقلی (مروّج منقول نصابی) علوم کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے یہ دلیل دی کہ مختلف عوامل مثلاً نوآبادیاتی نظام کے ظہو ر اور لادینیت کے عروج کی وجہ سے قرآن و سنت کی طرف رجوع بے حد ضروری ہے۔ تاہم موجودہ درس نظامی میں خصوصی طور پر ’نقلی‘ (روایتی متنی) علوم پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ مثلاً ’تفسیر‘ (شرح، قرآن مجید)، حدیث، علوم القرآن، تجوید، عقیدہ، فقہ، عربی زبان و ادب۔ تاہم یہ دعویٰ پوری طرح درست نہیں ہے کیونکہ اس میں بہت سی منطق، فلسفہ اور کلام (Scholasticism) بھی شامل کر دیئے گئے ہیں۔ مختلف اوقات میں اس نصاب میں کچھ نئی کتابیں شامل کی گئی ہیں اور کچھ اس سے نکال لی گئی ہیں۔ مختلف مکاتب فکر نے اپنے خاص نقطہ نظر سے اس نصاب میں تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ ذیل میں ہم مختلف موضوعات پر کچھ اہم کتابوں کے نام جو معمولی سے رد و بدل کے ساتھ اس نظام کا حصہ بنائی گئی ہیں مختصراً بتا رہے ہیں۔ اس میں مصنفین کے نام اور ان کی وفات کی تاریخیں بھی شامل کر دی ہیں:

تفسیر قرآن مجید

حضرت ناصر الدین بیضاویؒ (1266ء) کی انوار التنزیل، حضرت عبداللہ بن احمد نسفیؒ (1310ء) کی مدارک التنزیل، حضرت جلال الدین سیوطیؒ (1459ء) کی تفسیر جلالین اور شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (1762ء) کی الفوز الکبیر وغیرہ۔

ہر تفسیر اپنے زمانے کے حساب سے تعبیر ہوتی ہے۔اب تفسیر جلالین کو چھ سو سال گزر گئے ہیں۔ عہد حاضر کے علما نے بہت شاندار تفاسیر لکھی ہیں۔ ہمیں ان کو بھی پڑھانا چاہیے۔ عہد حاضر میں ہم ان تفاسیر سےا ستفادہ کر سکتے ہیں:

مفتی محمد شفیعؒ (1976ء) کی معارف القرآن، سید ابواعلیٰ مودودیؒ (1979ء) کی تفہیم القرآن، سید صفدر حسین نجفیؒ (1989ء) کی تفسیر نمونہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ (1997ء) کی تدبر قرآن، پیر کرم شاہ الازہریؒ (1998ء) کی ضیاء القرآن اور مولانا وحید الدین خانؒ (2021ء) کی تذکیر القرآن وغیرہ

اس کے ساتھ انگریزی زبان میں یہ تفاسیر بہت اہم ہیں:

  1. The        Holy        Quran: Translation        and        Commentary         by          Abdullah        Yusuf        Ali (1953)
  2. The           Message         of         Quran        by         M. Asad (1992)
  3. The        Study           Quran         by         Seyyed          Hossein          Nasr

یہ تفسیر قدیم تفاسیر کا مرقع ہے جسے سید حسین نصر کی قیادت میں چار نو مسلم امریکی پروفیسر نے تیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ علوم القرآن پر درج ذیل کتب نہایت اہم ہیں:

امام جلال الدین سیوطیؒ (1505ء) کی الاتقان فی علوم القرآن اور ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی (2017ء) کی تاریخ تدوین القرآن الکریم۔ اسی طرح قرآن مجید پر مغربی مفکرین کے اعتراضات کے جوابات بھی پڑھانے چاہیے۔

حدیث شریف

حضرت امام مالکؒ (795ء) کی مؤطا امام مالک، حضرت امام محمد بن حسن الشیبانیؒ (804ء) کی مؤطا امام محمد، حضرت امام اسماعیل بخاریؒ (869ء) کی صحیح بخاری، حضرت امام مسلم قشیریؒ (874ء) کی صحیح مسلم، حضرت امام سلیمان ابو داؤد سجستانیؒ (886ء) کی سنن ابی داؤد، حضرت امام محمد قزوینیؒ (886ء) کی سنن ابن ماجہ، حضرت امام محمد عیسیٰ ترمذیؒ (892ء) کی جامع ترمذی،  حضرت امام محمد عیسیٰ ترمذیؒ (892ء) کی شمائل ترمذی، حضرت امام احمد بن نسائیؒ (915ء) کی سنن نسائی،  حضرت امام احمد بن شعیب نسائیؒ (915ء) کی سنن الصغریٰ، حضرت امام ابو جعفر احمد بن محمد طحاویؒ (933ء) کی شرح معانی الآثار، حضرت امام ولی الدین محمد بن عبداللہؒ (1341ء) کی مشکوٰۃ المصابیح، حضرت الحافظ ابن حجر عسقلانیؒ (1448ء) کی شرح تخبۃ الفکر اور حضرت شیخ عبدالحق دہلویؒ (1462ء) کا مقدمہ شیخ عبدالحق   وغیرہ۔

عہد حاضر میں حدیث شریف پر بہت علمی کام ہوا ہے۔ مغربی علما نے بہت علمی تنقید کی ہے۔ مسلمان علماء نے بھی کچھ تحقیق کی ہے۔ ہمیں یہ سب کچھ بھی پڑھانا چاہیے۔ خاص طور پر حدیث شریف پر مغربی مفکرین کے اعتراضات اور ان کے جوابات پڑھانا چاہیے۔ اس سلسلے میں درج ذیل کتب سے استفادہ کیا جا سکتا ہے:

ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی (2017ء) کی دراسات فی الحدیث النبوی و تاریخ تدوینہ، ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی (2017ء) کی منہج النقد عند المحدثین – نشاۃ – تاریخہ اور حاجی محمد شفیق کی علوم الحدیث وغیرہ۔

فلسفہ / منطق(Philosophy / Logic)

حضرت نجم الدین قزوینیؒ (1099ء) کی الشماسیہ، حضرت اثیر الدینؒ (1261ء) کی ہدایۃ الحکمت، حضرت قطب الدین رازیؒ (1364ء) کی قطبی، حضرت محمد فاروقیؒ (1409ء) کی شرح شمس البازعہ، حضرت میر سید شریف جرجانیؒ (1413ء) کی کبریٰ، حضرت تفتازانیؒ (1487ء) کی التہذیب، حضرت علامہ عبداللہ یزدیؒ (1606ء) کی شرح تہذیب، حضرت ملا حسن غلام مصطفیٰؒ (1794ء) کی شرح سلم العلوم لملاّحسن، حضرت مولانا فضل امام خیر آبادیؒ (1829ء) کی مرِقاۃ فی علم المنطق، حضرت فضل حق خیر آبادیؒ (1861ء) کی ھدیۃ السیدیۃ، حضرت حمد اللہ سندیلویؒ (19ویں صدی) کی حمداللہ (شرح سلم العلوم) اور حضرت عبداللہ گنگوہیؒ (1921ء) کی تیسیر المنطق۔

یہ پرانا فلسفہ ہے جو دنیا میں ختم ہو چکا ہے۔ اس کو صرف اور صرف پس منظر کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے اور عہد حاضر کے فلسفہ کو پڑھانا چاہے جس کے موضوعات اب وہ نہیں رہے جو پہلے تھے۔ مثال کے طور پر اب حادث، قدیم اور وجود کی بحثیں نہیں رہیں بلکہ لا یعنی ہو گئی ہیں مگر پس منظر کے طور پر درست ہیں۔ ہمیں جدید فلسفہ اور منطق پڑھانی چاہیے اور ان پرانی کتب میں کمی کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں ہمیں برٹرینڈ رسل کی مغربی فلسفہ کی تاریخ اور ول ڈورانٹ کی فلسفہ کی کہانی پڑھانی چاہیے۔ لطفی جمعہ کی فلسفہ اسلام، شاہ ولی اللہؒ کی حجۃ البالغہ اور خطبات اقبال بھی پڑھانے چاہییں۔ اس طرح سیاسی فلسفہ اور جدید معاشی افکار بھی پڑھانا چاہییں۔

فلکیات (Astronomy)

محمود خوارزمی (تیرہویں صدی عیسوی) کی الملخص فی الحیایہ، موسیٰ محمود روحی (1436ء) کی شرح قاضی ، بہاء الدین آمولی (1620ء) کی تصریح الافلاک  اور لطف اللہ مہندی (1732ء) کی شرح التصریح۔

یہ کتب اپنے زمانے کی عظم کتب تھیں مگر اب دوربین اور ریاضی کی ترقی کے بعد علم الفلکیات مکمل طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔ پہلے زمیں کو نظام شمسی کا مرکز مانا جاتا ہے اور اب سورج کو مرکز مانا جاتا ہے۔ ان میں کوئی ایک کتاب بھی مفید نہیں ہے۔ کسی بھی اچھی یونیورسٹی کے بی اے کے سلیبس کی کتاب پڑھا دینی چاہیے۔

فقہ

حضرت احمد نسفیؒ (710ء) کی کنز الدقائق، حضرت اما م ابو الحسن احمد بن محمدؒ (907ء) کی مختصر القدوری، حضرت علامہ نظام الدین شاشیؒ (936ء) کی اصول الشاشی، حضرت برہان الدین مرغینانیؒ (1196ء) کی ہدایہ،  حضرت شیخ سراج الدین محمد (1311ء) کی سراجی، حضرت عبید اللہ ابن مسود محبوبی حنفیؒ (1346ء) کی شرح وقایہ، حضرت شیخ حسن بن علیؒ (1688ء) کی نور الایضاح، حضرت محب اللہ بہاریؒ (1707ء) کی مسلم الثبوت، حضرت شیخ احمد المعروف ملا جیونؒ (1718ء) کی نور الانوار اور حضرت ملا حسن فرنگی محلیؒ (18 صدی) کی شرح بر مسلم الثبوت۔

ان کتب میں آخری کتاب بھی ساڑھے چار سو سال پہلے کی لکھی ہوئی ہے۔ اس طرح آپ عہد حاضر کے مسائل سے کیسےعہد ہ برآء ہو سکتے ہیں؟ نہ صرف سماجی فکر میں تبدیلی آئی ہے بلکہ بالکل نئے علوم آ گئے ہیں۔ مگر ہم وہیں کے وہیں ہیں۔ نئے عملی مسائل پیدا ہو گئے ہیں جن کے بارے میں ہم اپنے بچوں کو بالکل ہی نہیں پڑہا رہے۔ عہد حاضر میں ہمارے علما نے بہت فقیہانہ کام کیا ہے۔ بہت اعلیٰ اور عمدہ تحقیق کی ہے۔ اس کو بھی شامل نصاب ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں وھبہ زوہیلیؒ، ہاشم کمالیؒ، عبدالرحیم انصاریؒ، مفتی محمد عبدہؒ، محمد رشید رضاؒ، یوسف قرضاویؒ، سید ابواعلیٰ مودودیؒ، ڈاکٹر محمد خالد مسعود اور سید امیر علی کی تصنیفات کے ساتھ ساتھ موسوعہ فقہیہ کویت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ امام شاطبیؒ کی الموافقات ضرور پڑھانی چاہیے۔

ادب (Literature)

حماد الروایۃ (771ء) کی المعلقات السبع، حبیب بن اوس طائی (845ء) کی دیوانِ حماسہ، ابوالطیب احمد ابن حسین متنبّی کندی (965ء) کی دیوان متنبی، بدیع الزمان حمدانی (1007ء) کی مقامات البدیع، ابو محمد القاسم حریری (1122ء) کی مقاماتِ حریری، احمد شیروانی (1320ء) کی نفحۃ الیمان، مسعود بن عمر تفتازانی (1390ء) کی مختصر المعانی اور محمد اعزاز علی (1954ء) کی نفحۃ العرب۔

نثر و نظم ترقی کرتی رہتی ہے جبکہ ہم عمومی طور پر نو سو سال پہلے کا ادب پڑھا رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان قدیم کتب کے کچھ حصے پڑھالیں اور جدید عربی ادب لازمی طور پر نصاب میں شامل کریں۔ زبان زندہ ہوتی ہے۔ بدلتی رہتی ہے مگر ہم ماضی میں قید ہیں۔ ہمیں جدید عربی، فارسی اور اردو ادب بھی پڑھانا چاہیے۔ فارسی میں سعدی، حافظ، فردوسی، بیدل، رومی اور اقبال کو پڑھانا لازم ہے۔ اس طرح اردو میں غالب، اقبال، میر، فیض احمد فیض کو بھی پڑھانا چاہیے۔ عالمی ادب میں سے ٹالسٹائی، دوستویفسکی، وکٹر ہیوگو، شکسپئیر، چارلس ڈکنز اور ورڈ ورتھ کو بھی پڑھانا چاہیے۔

 ریاضی (Mathematics)

نصیر الدین طوسی (1273ء) کی تحریر اقلیدسی اور بہاء الدین آمولی (1620ء) کی خلاصہ فی الحساب۔

یہ کتابیں بھی عہد حاضر کی ریاضی کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں۔ علم ریاضی نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ اب کمپیوٹر نے معاملے کو بہت آگے پڑھا دیا ہے۔ ہمیں مدارس میں اب میٹرک یا ایف ایس سی کا سلیبس بڑھا دینا چاہیے۔

2   :  قرآن مجید کی اہمیت

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو علم و دانش کا عظیم ترین خزانہ ہے لیکن مدارس میں یہ مناسب طریقے سے نہیں پڑھا یا جاتا۔ تھوڑا سا ترجمہ، مختصر سی تفسیر (جلالین) کے ہمراہ پڑھایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں مدارس میں ’تفسیر بیضاوی‘ کا ایک حصہ پڑھایا جاتاہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید اس سے زیادہ پڑھائے جانے کا تقاضا نہیں کرتا؟ خاص طور پر اس طویل نصاب کے ہمراہ؟

تفسیر جلالین بلا شبہ ایک مختصر مگر شاندار تفسیر ہے لیکن یہ پندرہویں صدی عیسوی کے وسط میں لکھی گئی تھی۔ ہرکتاب اپنے زمانے کے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی سوچ کے اثرات کی حامل ہوتی ہے۔ تاریخی متون کے علاوہ ہمیں طلباء کے لیے چند عصر حاضر کی تفاسیر بھی تجویز کرنی چاہئیں۔

ہر مکتبہ فکر کے علما نے پچھلی ایک دو صدی میں اردو زبان میں عظیم الشان تفاسیر لکھی ہیں۔ اسی طریقے سے دیگر صاحبان علم نے بھی غیر مسلکی طرز پر بہت عالمانہ تفاسیر لکھی ہیں جن میں قرآن پاک کے حوالے سے عہد حاضر کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی طرح دیگر زبانوں (عربی، فارسی، انگریزی) میں بھی بہت گراں قدر تفسیری کام ہوا ہے۔ مگر عمومی طور پر اس سے استفادہ نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح مستشرقین نے قرآن مجید کی تاریخیت، تدوین، ترتیب اور متن پر بہت سے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ہمیں ان کے جوابات بھی پڑھانے چاہییں۔اس سلسلے میں ہم نے بہت کم علمی کام کیا ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس اہم مسئلے پر خاص طور پر توجہ کی جائے۔ اس لیے یہ مناسب لگتا ہے کہ آٹھ سالہ روایتی مذہبی تعلیم میں کم از کم چھ سال قرآن مجید شامل نصاب رہے۔ یہ بات بھی ہمارے پیش نظر رہے کہ کسی بھی اعلیٰ مغربی یونیورسٹی میں قرآن مجید پر تخصص (PhD)کرنے میں کم از کم بائیس سال لگتے ہیں۔ تب کہیں جا کر وہ طالب علم قرآن مجید کے کسی ایک پہلو پر تخصص کی ڈگری لیتا ہے اور ہم آٹھ سال میں قران مجید، حدیث شریف اور فقہ کے عالم بن جاتے ہیں۔

آج کے مدارس میں قرآن مجید کی بہ نسبت حدیث شریف اور فقہ (اسلامی قانون) پربہت زیادہ وقت اور توجہ صرف کی جاتی ہے۔ نصاب میں حدیث کی کم از کم سات کتابیں شامل ہیں اور فقہ بھی چار سال تک پڑھائی جاتی ہے۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید اور حدیث پڑھاتے ہوئے سارا وقت ایک فقہی مسلک کی دوسرے فقہی مسلک سے برتری ثابت کرنے پر صرف کر دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید اور حدیث شریف کی لازوال تعلیمات کے حسن پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ ہمیں پہلے قرآن مجید اور پھر حدیث شریف پڑھانی چاہیے۔ فقہ آخر میں پڑھانی چاہیے تا کہ ہم حدیث پاک کو قرآن مجید کی روشنی میں سیکھ سکیں اور فقہ کو قرآن مجید اور حدیث شریف دونوں کی روشنی میں سیکھ سکیں۔ لیکن ہم نے اس ترتیب کوالٹ پلٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ ہم فقہ پہلے پڑھاتے ہیں اور وہ بھی ایک خاص مکتب فکر کے نقطۂ نظر کی روشنی میں۔ پھر حدیث کو اس فقہ کی روشنی میں پڑھایا جاتا ہے جس میں اس کے سوا کچھ نہیں ملتا کہ اس خاص مکتبۂ فکر کی فقہ کی توثیق کی جاتی ہے۔ حدیث میں ہم صحیح اور مستند احادیث کے ساتھ ساتھ موضوع احادیث بھی پڑھائے چلے جاتے ہیں۔ آخر میں جا کر ہم قرآن مجید کو حدیث شریف کی روشنی میں پڑھانے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے۔ حضرت علامہ محمد اقبالؒ کا شکوہ صحیح لگتا ہے۔

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا، لا الہ الا للہ

3     : نیا طریق تدریس

پڑھانے کے تمام طریقے اپنے اندر نمایاں خصوصیات رکھتے ہیں۔ مدارس میں پڑھانے کا طریق کار پرانا ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں اعلیٰ درجے کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تدریس ’لیکچر پر مبنی‘ ہوتی ہے مگر مدارس میں تدریس متن (Text) پر مبنی ہوتی ہے۔ بہ الفاظ دیگر استاد نصابی کتاب میں سے ایک سطر یا چند سطریں بلند الفاظ میں پڑھنے کے بعد ان کی وضاحت کرتا ہے۔ اس طرح پوری کتاب کی وضاحت کر دی جاتی ہے۔ جدید تعلیمی اداروں میں سے کوئی ایک بھی علم سکھانے کے لیے یہ طریقہ استعمال نہیں کرتا۔ یہ ’چمچی سے کھلانے‘ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ہمارے مدارس میں حافظے پر زور دیا جاتا ہے۔ طالب علم کے ذہن کو مصروف کرنے اور اس کے اندر قوتِ استدلال پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلباء میں تخلیقی کام کے لیے ذہن کو استعمال کرنے کا رجحان پیدا نہیں ہوتا۔ جدید سکولوں میں دورانِ تدریس نفسِ مضمون سے متعلق سوال کرنے کی بہت حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن مدارس میں سوال کرنے کی نہ صرف حوصلہ شکنی کی جاتی ہے بلکہ اسے بدتمیزی اور گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ایسا تدریسی ماحول جدّت و اختراعِ تخلیق کا دم گھونٹ کررکھ دیتا ہے۔

ہم نے کچھ روایات کی غلط تعبیر اور ان کا بے جا اطلاق کرکے سوال پوچھنے کو بُرااور گستاخانہ رویہ قرار دے دیا ہے جب کہ پورا قرآن مجید اس امر کا گواہ ہے کہ اسرارِ کائنات کے بارے میں جاننے اور اپنی لا علمیوں کے دائرے سے باہر نکلنے کے لیے سوالات پوچھنے کی تربیت دی گئی ہے۔ ہمیں جدید طریق تدریس کے مطابق لیکچر سسٹم شروع کرنا چاہیے جہاں استاد ایک مضمون کے مختلف موضوعات پر درس دے اور طالب علم کتب خود پڑھیں۔

فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ.

(اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو)

اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ؀۪ وَاِلَى السَّمَاۗءِ كَيْفَ رُفِعَتْ ؀۪ وَاِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ؀۪ وَاِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ.

(تو کیا یہ لوگ اونٹوں کونہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ہیں؟ آسمانوں کو نہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے اٹھایا گیاہے؟ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے ہیں؟ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی ہے)

اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۝ۭ وَفِيْ خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَاۗبَّةٍ اٰيٰتٌ لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ ۝ۙ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَــصْرِيْفِ الرِّيٰحِ اٰيٰتٌ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ.

(حقیقت یہ ہے کہ ایمان لانے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں۔ تمہاری پیدائش میں اور ان حیوانات میں بھی بڑی نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ زمین میں پھیلا رہا ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین کرنے والے ہیں۔ رات اور دن کے اختلاف میں اور اس رزق میں جسے اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل کرتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اور ہواؤں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں)

سوالات پوچھنا ہر گز بے احترامی یاگستاخی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مستحسن امر ہے۔ علم کے اعلیٰ مدارج تک رسائی، اختراعات و ایجادات اور انکشافات، یہ سب سوا ل کرنے کے مزاج اور مروجہ معلومات کو چیلنج کرنے کی عادت کانتیجہ ہیں۔ آج کل سکولوں اور کالجوں میں باقدانہ سوچ کے باقاعدہ کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان صاحب نے الشہادۃ العالمیہ کی تعلیم وفاق المدارس العربیہ سے حاصل کی ۔ بعد ازاں مقامی اور بین الاقوامی اداروں سے بین الاقوامی تعلقات اور قانون کی تعلیم حاصل کی ۔ آپ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی رہنے کے ساتھ ساتھ مختلف وزارتوں کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں ۔
آپ کئی کتب کے مصنف ہیں جن کے موضوعات اسلام ،قانون اور حقوقِ انسانی ہیں ۔

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں