Home » مال، ملکیت اور کرپٹو کرنسی
شخصیات وافکار فقہ وقانون

مال، ملکیت اور کرپٹو کرنسی

ڈاکٹر خضر یسین

مال اور مالیت کا سوال فقط اس وقت زیر بحث آتا ہے جب وہ کسی فرد، ادارے اور ریاست کی ملکیت ہو۔ مال مالیت اور ملکیت کے بغیر کوئی شے نہیں ہوتا۔ مال جب تک ملکیت کی صفت سے محروم رہتا ہے، اس کی مالیت کا عدم و وجود برابر ہوتا ہے۔ مالیت ایک مسلمہ اور مشترک عامہ “معاشی قدر” ہے۔ ایک مصلحت کے پیش نظر ان اشیاء میں بطور معاشی قدر محض کم یابی کی وجہ سے تسلیم کر لی جاتی ہے باوجود کہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ انسان کی خورد و نوش کی ضرورت پوری کرتی ہیں اور نہ لباس و چھت میں کام آتی ہے۔ وہ مال جس کی مالیت فقط تبادلہ اشیاء میں کام آئے اور انسانی زندگی کے تحفظ و بقا اس کا مثبت کردار کچھ نہ ہو، علم معاشیات میں زر یا کرنسی کہلاتی ہیں۔ اس مطلب یہ نہیں کہ صرف زر یا کرنسی ہی تبادلہ اشیاء واحد وسیلہ ہے۔ خورد و نوش اور لباس و چھت سے وابستہ احتیاج کو بلاوسطہ پورا کرنے والی اشیاء بھی تبادلے کا وسیلہ ہوتی ہیں۔ مثلآ سونا، چاندی، گیہوں، جو، کھجور، نمک اور ترکاریاں وغیرہ میں سے صرف معاشی اعتبار سے معاشی قدر کی حامل دھات سونا اور چاندی ہیں جو انسان کی حقیقی معاشی احتیاج پورا کرنے کی اہل نہیں ہیں۔ باقی تمام اشیاء معاشی قدر کی حامل تو ہیں مگر بلا واسطہ انسان کی معاش کے قیام و بقا ضامن ہیں۔ اگر کرنسی یا زر کو محض تبادلہ اشیاء کے تناظر میں رکھا جائے تو مذکورہ بالا تمام اشیاء زر یا کرنسی ہیں اور اگر زیادہ گہرائی سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا جن اشیاء کی معاشی قدر وسیلہ انتقال کی ہے اور کچھ نہیں ہے تو پھر صرف سونا و چاندی ہیں اور اسی نوع کی دیگر دھات ہیں۔
دھات والی کرنسی ہو یا کاغذی کرنسی، دونوں میں ایک اہم فرق ہے، جسے صرف معاشی مفکر سمجھ سکتا ہے، ماہر معاشیات اسے کبھی نہیں سمجھ سکتا اور نہ مفتی صاحبان کی سمجھ میں یہ بات آ سکتی ہے۔ “کاغذی کرنسی” صرف وسیلہ انتقال نہیں بلکہ ریاست کی ملکیت یا state        owned           enterprise ہے۔ کرنسی حامل ھذا کی ملکیت نہیں ہے جیسا کہ عام غلطی فہمی پیدا کر دی گئی ہے۔ اس کی قیمت کے تعین کا اختیار حامل ھذا کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ریاست کے ہاتھ میں ہے۔ سمجھنے بات یہ ہے کہ جس شے کی قیمت کا تعین میرے اختیار میں نہیں ہے۔ میں اس کا مالک کیونکر ہو سکتا ہوں یا وہ میری ملکیت کیسے ہو سکتی ہے۔ ہمارے ماہرین معاشیات ہوں یا مفتی صاحبان انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی “کاغذی کرنسی” جدید ریاست کا ایک جبری اقدام ہے جس کے ذریعے وہ پورے ملک کی واحد مالک بن جاتی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ریاست اپنے باشندوں سے حق ملکیت غصب کر لیتی ہے۔ “کاغذ کرنسی” پر مالکانہ حق صرف ریاست کا ہے۔
ان عقل مندوں کو کون سمجھائے کہ کسی کی ملکیت میں تصرف شرعاً جرم ہے۔ جدید ریاست اپنے باشندوں کی ملکیت میں کرنسی کے ذریعے صرف متصرف نہیں ہوتی، وہ ان اشیاء پر بھی اپنا قبضہ جما لیتی ہے جو کاغذی کرنسی نہیں ہوتیں۔
مفتی صاحبان کو پہلے “فتویٰ کا محل” کرنا ہے، اس کے بعد کے جواز و عدم جواز کا فتویٰ دینا ہے، جس کا مفتی کا محل نزاع ہی متعین ہی نہ ہو اس حل عقل مندی کیسے ہو گا,؟
دوسری طرف وہ جدید دینی دانشور ہیں جو جدید معاشیات کی پیدا کردہ پیچیدگیوں سے بالکل واقف نہیں ہیں، دل و دماغ کے بند کر کے جدید ریاست اور مقتدرہ قوتوں کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ نے ملکیتی اشیاء کے تبادلے میں کسے وسیلہ بنانا ہے؟ کہیں بیان نہیں فرمایا اور نہ ہی دین کا یہ موضوع ہے۔ لیکن دوسروں کی ملکیت میں متصرف نہ ہونے حکم تو دیا ہے۔ کاغذ کرنسی صرف تبادلہ اشیاء کا وسیلہ نہیں ہے، اس کے ذریعے لوگوں کی ملکیتیں بلاوجہ کم سے کم تر ہوتی جاتی ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ صرف تبادلے کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک شرعی اور دینی مسئلہ ہے۔ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ملکیت کیا ہے؟ ملکیت ایک قانونی حق legal         right ہے۔ جس کی پہلی شرط یہ ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف یا دست درازی جرم ہے۔ ملکیتی حق انسانی اعضاء کے مساوی مقدس ہے۔ لہذا مال جب ملکیت ہوتا ہے تو اس کا تقدس برقرار رکھنا واجب ہے۔ کاغذی کرنسی کے ذریعے ریاست ایک طرف تو اپنے باشندوں کو پابند بناتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی ملکیت کا تقدس پامال نہ کریں اور دوسری طرف وہ خود اپنے باشندوں کی ملکیتوں میں غیر محسوس طریقے سے پامالی کا حق اپنے پاس محفوظ رکھ لیتی ہے۔
جہاں تک کرپٹو کرنسی کا تعلق ہے تو یہ state          owned          enterprise نہیں ہے۔ نہیں صرف اتنا نہیں کہ یہ ریاستی ملکیت نہیں ہے، یہ جب تبادلہ اشیاء کے میڈیم کی شکل اختیار کرتی ہے تو اسے پہلے ریاستی ملکیت والی کرنسی میں بدلنا پڑتا ہے۔ کرپٹو کرنسی پہلے ڈالر، پونڈ، ین یا روپے میں covered ہوتی ہے اور پھر تبادلہ اشیاء کے قابل ہوتی ہے۔ اسے الگ سے موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ ایک مصنوعی کرنسی ہے، جسے جب تک اصل ریاستی کرنسی میں نہ بدلا جائے، یہ تبادلہ اشیاء کی اہل بھی نہیں ہے۔
ماہرین معاشیات ہوں یا مفتی صاحبان دونوں معاشیات میں خود ساختہ پیچیدگیوں کا درست شعور حاصل کرنے سے قبل سرمایہ داری کے تزویری نظم operational         strategies            of             capitalistic           economy پر فتویٰ بازی شروع کر لیتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ دینی اعتبار سے ایک بالکل ہی لایعنی ایکسرسائز ہے۔ ہاں البتہ اس سے سرمایہ داری اور اس کے اداروں کو نام نہاد دینی سپورٹ مل جاتی ہے۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں