تمہید 1:
مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی معرکۃ الآرا کتاب ”منصب امامت“ برصغیر میں وہابی خارجیت اور ہر طرح کی مذہبی سیاست کا اساسی منشور ہے۔ اس کتاب کے تفصیلی مطالعے سے قبل ایک دو گزارشات تمہیداً عرض کرنا ضروری ہے۔ دو قومی نظریے اور تحریک پاکستان کی صورت میں سامنے آنے والی مسلم سیاسی جدوجہد کے سوا، برصغیر پاک و ہند میں مذہبی سیاست کے زیر عنوان ہر طرح کی سیاسی سرگرمی اور جدوجہد کا بنیادی تصور اور عمل تحریک مجاہدین سے ماخوذ و مستعار ہے۔ وقتی ضرورت اور مسلم معاشرے پر شبخون لگانے کے لیے اس کی تفصیلات تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ اس میں جمیعت علمائے ہند، جماعت اسلامی، مجلس احرار، اور بظاہر ”مولوی مذہب“ کے خلاف اور جذری مذہبی تعبیر رکھنے والی خاکسار تحریک سب شامل ہیں، اور ان تحاریک سے تعلق رکھنے والے اساطین مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کو ہمیشہ خراج تحسین پیش کرتے آئے ہیں۔ میں یہاں ان کی کتاب کا بنیادی ترین نکتہ پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ مطالعۂ کتاب پر میری آئندہ کی گزراشات کا تناظر واضح ہو سکے۔
مولانا شاہ اسماعیل صفحہ ۱۱۶ پر ”خلیفۂ راشد کی تعریف۔ نکتۂ اول“ کے زیر عنوان تحریر فرماتے ہیں:
”خلیفۂ راشد وہ شخص ہے جو منصب امامت رکھتا ہو اور سیاست ایمانی کے معاملات اس سے ظاہر ہوں۔ جو اس منصب تک پہنچا وہی خلیفۂ راشد ہے خواہ زمانۂ سابق میں ظاہر ہوا، خواہ موجودہ زمانے میں ہو، خواہ اوائل امت میں ہو، خواہ اس کے آخر میں، خواہ فاطمی نسل سے ہو یا ہاشمی سے، خواہ نسل قصّی سے ہو خواہ نسل قریش سے۔ اس لفظ خلیفہ کو بمنزلہ لفظ خلیل اللہ، کلیم اللہ، روح اللہ، حبیب اللہ یا صدیق اکبر، فاروق اعظم، ذوالنورین، مرتضی، مجتبیٰ اور سید الشہدا یا ان کے مانند شمار کرنا چاہیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک لقب بزرگان دین میں سے ایک خاص بزرگ کی ذات سے خصوصیت رکھتا ہے۔ اس لقب کے اطلاق سے اسی بزرگ کی ذات تصور کی جاتی ہے، اور اسی طرح یہ بھی نہ سمجھ لینا چاہیے کہ لفظ ”خلفائے راشدین“ خلفائے اربعہ کی ذات سے خصوصیت رکھتا ہے کہ اس لفظ کے استعمال سے انھی بزرگوں کی ذات متصور ہوتی ہے۔حاشا و کلا۔ … …“
صفحہ نمبر ۱۲۲ پر نکتۂ سوم کے تحت مولانا فرماتے ہیں:
”خلیفۂ راشد نبی حکمی ہے گو وہ فی الحقیقت پایۂ رسالت کو نہیں پہنچا لیکن منصب خلافت احکام انبیاء اللہ کے ساتھ منسوب ہوا۔ “
”درجات امامت اردو ترجمہ منصب امامت“ کے پرانے اڈیشن کے صفحہ ۸۱ پر اس کا ترجمہ یوں ہے:
”خلیفۂ راشد نبی حکمی ہے، ہرچند فی الحقیقت پایۂ رسالت کو نہیں پہنچا ہے۔ منصب خلافت حضرات انبیاء علیہم السلام کے چند احکام کے ساتھ جناب ملک علام سے اس کو حاصل ہوا ہے۔“
عرض ہے کہ سید احمد بریلوی، مولانا شاہ اسماعیل کے خلیفۂ راشد ہیں کیونکہ انھوں نے صوبہ سرحد (موجودہ کے پی کے) میں پہنچ کر خود کو خلیفۃ المسلمین بنا لیا تھا۔ مولانا کے بقول اسے نبوت حکمی تو حاصل ہے لیکن رسول کے مرتبے پر وہ ابھی نہیں پہنچا۔ پہلے ترجمے میں ”گو وہ فی الحیققت“ اور دوسرے ترجمے میں ”ہرچند فی الحقیقت“ سے نبوت کی صراحت کے ساتھ رسالت کے استثنا کو موکد کیا گیا ہے۔ آج تک کی مذہبی سیاست بس اسی نکتے کی تفصیل ہے۔ آگے چل کر جو کذاب نبی ظلی یا نبی بروزی بن کر ظاہر ہوا، وہ انھی نبی حکمی والوں کے شجرے سے ہی تو ظاہر ہوا تھا۔
اصل میں برصغیر کے وہابی خوارج کی تمام تحریکات حریم نبوت میں نقب، مسلم معاشرے پر شبخون اور مسلم شعور کی بیخ کنی کا واضح ایجنڈا رکھتی ہیں۔
تمہید : 2
مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اپنی کتاب ”منصب امامت“ کے صفحہ ۱۲۵ پر تحریر فرماتے ہیں:
”ایک ان میں سے یہ امر ہے کہ امام کا حکم نصِ حکمی ہے، یعنی جس وقت مجتہدین کا اجتہاد اور قیاس آراؤں کا قیاس نص قطعی کے مقابل ہوتا ہے تو بے شک پایۂ اعتبار سے ساقط ہو جاتا ہے یعنی مذکورہ امور پر مخالفت نص کی صورت میں ہرگز قابل عمل نہیں رہتا۔ ایسے ہی جب مذکورہ امور امام یا اس کے نائب کے حکم کے متعارض ہوں تو پایۂ اعتبار سے ساقط ہو جاتے ہیں۔“
اسی طرح مولانا دہلوی صفحہ نمبر ۱۲۶ پر تحریر فرماتے ہیں:
”امام کے قوانین سنت نبی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک امر یہ ہے کہ قوانینِ ریاست اور آئین سیاست جو خلیفہ راشد سے ظاہر ہوتے ہیں سنت نبویہ کا حکم رکھتے ہیں۔“
اب تک مولانا دہلوی نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و سلم، نص قطعی اور سنت نبوی سے ساتھ جو معاملہ کر چکے ہیں وہ انھی کے متن سے ظاہر ہے۔ اب معجزات نبوی کے بارے میں بھی ان کی رائے جان لینے میں کوئی حرج نہیں۔ صفحہ نمبر ۳۴ پر فرماتے ہیں:
”تفصیل اس [=خرق عادت] کی یوں ہے کہ بعض چیزوں کا وجود قانون الہی کے موافق ان کے اسباب و آلات پر موقوف ہوتا ہے۔ پس جو کوئی ان چیزوں کے اسباب و آلات رکھتا ہے اس سے ان چیزوں کا ظہور خرق عادت سے نہیں ہے۔ اور جو کوئی ان کے اسباب و آلات نہیں رکھتا اگر اس سے اس کا ظہور ہو تو یہی خرق عادت ہے۔ مثلاً اگر کاتب لکھے تو یہ خرق عادت نہ ہو گا اور اگر امی لکھے تو یہ خرق عادت ہو گا۔“ اسی صفحے پر مزید فرماتے ہیں کہ ”
یہ ضروری نہیں کہ ہر خرق عادت طاقت بشری سے باہر ہے بلکہ اسی قدر لازم ہے کہ صاحب خارقہ سے اس چیز کا ظہور بوجہ فقدان آلات و اسباب ہو۔“
سیاسی نظریے کے طور پر ”منصب امامت“ گہرے مطالعے کا تقاضا کرتی ہے اور میں نے جو متون پیش خدمت کیے ہیں ابھی میں نے ان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ان کا تجزیہ کیا ہے۔ ”منصب امامت“ اور ”عبقات“ برصغیر میں وہابی خوارج کے اساسی وثیقہ جات ہیں اور اہل سنت و الجماعت کے روایتی تناظر میں یہ ایسی کتابیں ہیں جنھیں افتخار الشیاطین کہا جا سکتا ہے۔




کمنت کیجے