Home » مابعدالطبیعات کا مسئلہ
فلسفہ کلام

مابعدالطبیعات کا مسئلہ

مابعدالطبیعات کا بنیادی ترین مسئلہ یہ ہے کہ یہ عقلی ہو سکتی ہے اور نہ مکشوفاتی ہوتی ہے۔ یعنی مابعدالطبیعات کسی معلوم کا علم ہے اور نہ کسی مکشوف کا عرفان۔ یاد رہے کہ ”معلوم“ اور ”مکشوف“ دونوں ہی قوائے انسانیہ کے ذرائع سے وجود کے ادراکات ہیں، اور ”علم“ اور ”عرفان“ ان سے مابعد ہیں، اور ان دونوں کی نوعیت انسانی حاصلات کی ہے۔ معلوم، وجود شہودی ہے اور اس کا ادراک حسی اور علم توسیطی ہے، جبکہ کسی وجودِ غیبی کی ہونیت (isness) ایمانی ہے، اس کا ادراک مکشوفاتی ہے اور اس کا عرفان حضوری ہے۔ اس طرح معلوم و مکشوف قوائے انسانیہ کی استعدادات اور احوال سے براہِ راست جڑے ہوئے اور ان سے اثر پذیر رہتے ہیں۔ عقلِ انسانی بخوبی جانتی ہے کہ ”معلوم“ کا زمرۂ وجود ”نامعلوم“ کے زمرۂ وجود کے بغیر فرض ہی نہیں کیا جا سکتا اور نہ شعور اور علم کا موضوع ہی بن سکتا۔ عقلِ انسانی اپنے وسائل سے وجود کے دونوں زمروں پر ”علم“ کا دعویٰ قائم کرتی ہے۔ ”معلوم“ مدرک بھی ہے اور اس کے ادراک کو ریاضی اور منطق کے وسائل سے علم میں تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ انھیں وسائل سے عقل جب ”نامعلوم“ کا علم حاصل کرنے کی طرف پیشرفت کرتی ہے تو مابعدالطبیعات تشکیل پاتی ہے۔

مابعدالطبیعات میں ایک ایسا وجود فرض کرنا پڑتا ہے جو شہود سے ماورا ہو یا کم از کم شہود میں نہ ہو، اور عقلِ انسانی اس ”نامعلوم“ کا جو علم گھڑتی ہے اسے وہ حقیقت کا علم قرار دیتی ہے۔ مابعدالطبیعات علم کی تلاش سے پیدا نہیں ہوتی، حقیقت کی تلاش سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، علم پر صرف صحیح اور غلط کی ججمنٹ دی جا سکتی ہے۔ مابعدالطبیعات پر دو ججمنٹیں آتی ہیں: ایک یہ کہ بطور علم یہ غلط ہے یعنی تشکیل علم کے لیے عقل کے اپنے قائم کردہ معیارات پر غلط ہے اور اس کے علمی قضایا اپنے انتاجات میں demonstrable نہیں ہیں۔ دوسرے یہ مابعدالطبیعات خود کو حقیقت کا علم قرار دیتی ہے اور اس لحاظ سے یہ نہ صرف یہ کہ صحیح نہیں ہے بلکہ قطعی گمراہی ہے۔ بطور علمِ حقیقت مابعدالطبیعات جھوٹ نہیں ہے کیونکہ جھوٹ جزئی اور حکایتی ہوتا ہے، اور جھوٹ اور جھوٹی حکایت کی درستی ممکن ہوتی ہے۔ مابعدالطبیعات پورے انسانی شعور کی جھوٹ پر تشکیل مکمل ہونے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ کارل مارکس نے آئیڈیالوجی کو false        consciousness کہا ہے اور یہ بات مابعدالطبیعات کے بارے میں کہیں بڑھ کر درست ہے۔ یاد رہے کہ آئیڈیالوجی ”تاریخ“ کی حقیقت کا بیان ہوتی ہے، اور مابعدالطبیعات ”وجود“ کی حقیقت بیان کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ انسانی شعور میں باطل کے بنیادی ترین مظاہر آئیڈیالوجی اور مابعدالطبیعات ہیں۔

مابعدالطبیعات بناتے ہوئے عقل کے پاس ادراک اور تجربہ تو شہود کا ہوتا ہے لیکن جست وہ شہود سے اُدھر لگاتی ہے۔ ہم صرف اس کی ہمتِ جست، قوتِ جست اور بلندیِ جست کی داد دے سکتے ہیں۔ جتنے بڑے ذہن اور اتنی بڑی مابعدالطبیعاتیں! واقعی کیا کہنے! لیکن آخر میں ہر فلسفی زماں کے گڑھے میں گر جاتا ہے اور وہاں مکاں کے ٹھیکرے سے ٹکرا کا اس کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے۔ یہ پہلو یونانی المیہ ڈرامے کے حوالے سے زیادہ قابل فہم ہو جاتا ہے، کیونکہ وہاں ٹانگ نہیں ٹوٹتی جان ہی چلی جاتی ہے۔ یونانی المیے میں ”ہیرو“ کے پاس تجربہ تو صرف تاریخ کا ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے انھی وسائل کے بِرتے پر تقدیر سے بِھڑ جاتا ہے اور گردن تڑوا بیٹھتا ہے۔

جدید فلسفیانہ علوم میں مابعدالطبیعات سے وجودیات کی طرف حرکت (movement) ہوئی ہے تاکہ ماورائے شہود کوئی وجود ہی فرض نہ کرنا پڑے۔ لہٰذا، وجودیات میں ایک ایسا وجود فرض کرنا پڑتا ہے جو بھلے غیب میں بھی نہ ہو اور شہود میں بھی نہ ہو لیکن موجوداتِ شہودی میں مہتز ہو۔ مابعدالطبیعات میں فلسفی کی عقل فعال ہوتی ہے لیکن وجودیات میں فلسفی کی عقل موجودات میں اہتزازاتِ وجود کے سامنے صرف receptacle کا کام کرتی ہے۔ مابعدالطبیعات کے برعکس، وجودیات بنانے والی عقل اِدھر ہی گھوم پھر کے اپنا کام نکالنے کی کوشش کرتی ہے۔

محمد دین جوہر

محمد دین جوہر، ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم ہیں اور صادق آباد میں مدرسۃ البنات اسکول سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
mdjauhar.mdj@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں