Home » ہمارا مذہبی نظامِ تعلیم (2)
تعلیم و تعلم مدارس اور تعلیم

ہمارا مذہبی نظامِ تعلیم (2)

4   :  جدید زبانوں کی تدریس

مدارس میں عربی اور فارسی کے علاوہ کسی زبان کی تدریس نہیں ہوتی۔ عربی واقعتاً بڑی سنجیدگی کے ساتھ پڑھائی جاتی ہے لیکن اس کو پڑھانے کا جو طریق کار اختیار کیا جاتا ہے وہ ایسا ہے کہ ان مدارس کا ایک فارغ التحصیل عصر حاضر کی عربی کے چند جملے بھی روانی سے نہیں بول سکتا جبکہ انگلش پبلک سکولوں کے تیسرے گریڈ کے طلباء انگلش روانی سے بول لیتے ہیں۔ مدارس کے عربی زبان کے نصاب میں زیادہ زور عربی قواعد (گرامر) حفظ کرنے پر دیا جاتا ہے۔

مزیدبرآں مدارس میں کوئی بھی جدید زبان نہیں پڑھائی جاتی۔ حتیٰ کہ اب فارسی بھی نہیں پڑھائی جاتی ماسوائے بنیادی سطح کی فارسی کے۔ انگلش، جرمن اور فرینچ پڑھانے کو ’گناہ‘ سمجھا جاتا ہے۔ میرے بچپن کے اساتذہ بھی انگلش سیکھنے کو کفر کہا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ زبان اپنے ساتھ مغرب کی انحطاط پذیر ثقافت بھی لاتی ہے۔ اس لیے اس سے بچنا ہی چاہیے۔ اس لیے میں بہت عرصہ تک انگریزی پڑھنے کے خلاف رہا۔ عہد حاضر میں ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم عہد حاضر کی زبانیں سیکھیں۔

5 :    آسان انداز تحریر

ہماری تمام روایتی اسلامی کتب بہت مشکل زبان میں لکھی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے مشکل زبان میں لکھنے کو عالمانہ شان کااظہار سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً ہماری نوجوان نسل قدیم ادب سے مشکل زبان کی وجہ سے کٹ (لا تعلق ہو) چکی ہے۔ ہم آج افلاطون، ارسطو اور شیکسپیئر کو محض اس لیے پڑھ سکتے ہیں کہ ان کے دور کی زبان کو جدید طرز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہمارے علماء اب بھی دقیق اور غیر معمولی اسلوب میں لکھتے لکھاتے ہیں اور اسے ادبی کمال اور علم کا اظہار سمجھتے ہیں۔ مثا ل کے طور پر دیکھیے قرآن مجید کی ایک آیت کی ایک نامور ہندوستانی عالم دین نے کس طرح تشریح کی ہے:

کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فی شَانٍ.

(وہ ہر آن نئی شان میں ہے)

یعنی ہر وقت اس کارگاہ عالم میں اس کی کارفرمائی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے اور وہ بے حد و حساب چیزیں نئی سے نئی وضع اور شکل اور اوصاف کے ساتھ پیدا کر رہا ہے۔ ا س کی دنیا کبھی ایک حال میں نہیں رہتی۔ ہر لمحہ اس کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور خالق ہر بار اسے ایک نئی صورت سے ترتیب دیتا ہے جو پچھلی تمام صورتوں سے مختلف ہوتی ہے۔

لیکن ایک عالم دین نے اس کا ترجمہ یوں کیا: ’صدورِ افعال لزوم بالذات ہے‘۔

(اجرائے احکام اس کی ذات کا ایک جزو لازم ہے)

ہم اس آیت کے معنی سمجھ سکتے ہیں لیکن یہ ترجمہ /تفسیرسمجھنا ناممکن ہے۔ اس لیے یہ لازم ہے کہ اسلام پر لکھی گئی قدیم کتابوں کو آسان زبان میں منتقل کیا جائے۔ عربی اور فارسی میں لکھی گئی کتابوں کا بھی مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا جانا چاہیے تا کہ عام قاری کو بھی ان تک رسائی حاصل ہو اور وہ ان سے فائدہ اٹھا سکے۔ عہد حاضر میں مغرب نے اپنے یونانی فلسفیوں کی تعلیمات کو بہت سادہ الفاظ میں بیان کر دیا ہے جن سے ان کی تفہیم ممکن ہوتی ہے۔

6    : تحقیق کی روش

دینی مدارس میں تحقیق کاکوئی تصور یا رواج نہیں۔ ان کے ہاں صدیوں سے بس یہی کام چلا آ رہا ہے کہ کسی قدیم قلمی نسخے یا تحریر کی شرح لکھ دی۔ کسی علمی موضوع پر جدید سائنس کی روشنی میں کوئی تخلیقی کام نہیں کیاگیا۔

ایک دفعہ میں نے اسلامی معاشیات پر خود آگہی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ میں نے اس موضوع پر کئی کتابیں اکٹھی کیں مگر ان میں ایسی کتابیں بہت ہی کم تھیں جنہیں بطورنصابی کتاب تجویز کیا جا سکتا یا انہیں پوسٹ گریجویٹ سطح پر پڑھایا جاسکتا۔

یہی صورت حال اسلامی قانون کے بارے میں ہے۔ گزشتہ پانچ سو برسوں کے دوران صرف چند ایک ہی اچھی کتابیں لکھی گئی ہیں جبکہ مغرب میں ہر سال قانون کے ہر شعبے سے متعلق کئی نئی کتابیں شائع ہوتی ہیں۔

ہم یہ بات کہہ کر خود کو مطمئن کرلیتے ہیں کہ فلاں فلاں کتاب بہت پرانی ہے مگر اہل مغرب فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ یہ کتاب اس سال چھپی ہے یا یہ اس کا تازہ ترین ایڈیشن ہے۔ یہ معاملہ خصوصاً قانون اور سائنسز کی کتابوں کے سلسلے میں دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مغربی سکالر ز قرآن مجید، حدیث شریف اور اسلامی قانون پر مسلسل ناقدانہ تبصرے مع تازہ حوالہ جات شائع کر رہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اسلامی لٹریچر پر تازہ ترین رائے مسلمانوں، بالخصوص روایتی مذہبی اہل علم تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔اگر یہ آراء مسلمانوں تک پہنچ ہی جائیں تو عموماً ایک رُبع صدی (چالیس سال) کے بعد یہ نوبت آتی ہے۔ وہ بھی اس صورت میں کہ کسی نے ان میں سے کسی کتاب کا ترجمہ کر دیا ہو۔ اس سیاق و سباق میں بھی مسلمان ان آرا پر تعلیمی یا علم و دانش کی بنیاد پر جواب نہیں دیتے۔ صرف یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ یہ اسلام کے منافی ہے۔ بعض اوقات مسلمان اہل مغرب کو لعن طعن کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اس کتاب کے اثرات جلدی ختم ہو جائیں گے۔

مسلمانوں کو مغرب کے تیار کردہ اس منفی لٹریچر سے ہماری نوجوان نسل کوپہنچنے والے بے پناہ نقصان کا ذرہ بھر بھی اندازہ نہیں۔ ہمیں نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد کی طرف سے روزانہ سنگین سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو وہ اسلام کے مختلف پہلوؤں اور ان تعبیرات کے حوالے سے پوچھتے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کو اسلام کے ساتھ بہت گہری محبت ہے مگر وہ اس نام نہاد مذہبی طبقے اور ان کی غیر معقول اور سطحی تعبیراتِ اسلام سے بیزار ہو چکے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مسلم نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ اس معاملے میں حق بجانب ہے۔ مسلمان اہل دانش نہ تو ان کی سوچ سے آگاہ ہیں اور نہ ہی ان کی تعلیم اور ان کی زبان سے واقف ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ ہمیں ان نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقے سے کوئی ہمدردی بھی نہیں۔ اگر ہمارے علماء کو تعلیم یافتہ لوگوں کے بارے میں ذرہ بھر بھی تشویش ہوتی تو وہ انہیں مذہب کی راہ پر لانے کی کوشش ضرور شروع کر چکے ہوتے یا انہیں مکمل طور پر دائرۂ اسلام کے اندر ہی رکھنے کا کوئی سنجیدہ لائحہ عمل مرتب کر لیتے۔ علماء ان کو ان کی وضع قطع اور لباس میں دیکھتے ہی گمراہ اور منحرف ازا سلام قرار دینے لگتے ہیں جبکہ ان میں خاصی تعداد ایسی ہے جو قلبی طور پر مذہب سے محبت رکھتی ہے اور نماز بھی پڑھتی ہے۔ علماء کے لیے لازم ہے کہ وہ خود کو اس نسل کی اصلاح کے لیے تیار کریں کیونکہ اب تک ہم یہ کام کرنے میں مکمل طور پر نا کام رہے ہیں۔

ایک روز ایک لڑکی میرے پاس انٹرویو کے لیے آئی اور وہ مختصر لباس پہنے ہوئے تھی۔ میں نے اس لباس کی وجہ سے اسے ایک آوارہ لڑکی سمجھا جس کا مذہب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں لگتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آج کل کیا پڑھ رہی ہو تو وہ بولی کہ وہ حضرت جلال الدین رومیؒ پڑھ رہی ہوں۔ اس جواب پر میں ٹھٹکا اورمزید سوال پر اس نے بتایا کہ وہ امریکہ میں رہتی تھی اور اس نے مولانا رومیؒ کی کتاب کا انگریز ی میں ترجمہ پڑھا جس سے وہ بہت متاثر ہوئی۔ کیونکہ مولانا رومیؒ خدا سے محبت کرتا ہے اور وہ بھی خدا سے محبت کرنا چاہتی ہے۔ اس کے بعد وہ چلی گئی۔ مجھے زبردست جھٹکا لگا کہ میں نے اسے غیر مذہبی اور بے حیا لڑکی سمجھنے کا گناہ کیا تھا۔ میں نے یہ تاثر اس کے ظاہری لباس سے لیا تھا جبکہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کی متلاشی تھی اور اس سے تعلق رکھتی تھی۔

ایک دفعہ کی بات ہے کہ ایک ذہین لڑکی میرے ساتھ کام کرتی تھی۔ وہ مسلمان تھی مگر پلی بڑھی مغربی ملکوں میں تھی۔ اس کا عام رویہ بھی مغربی ثقافت سے متاثر تھا لیکن وہ اکثر مجھ سے اسلام کے بارے میں سوالات پوچھتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اسلام کی صحیح سپرٹ کی تلاش میں تھی۔ وہ حضور نبی کریمﷺ کی ذاتی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔ میں نے اسے پر ابوبکر سراج الدین المعروف مارٹن لنگز کی لکھی حضور نبی کریمﷺ کی سیرت مبارک پر ایک کتاب دی۔ کتاب پڑھنے کے بعد جب وہ آئی تو اس موضوع پر اس کی اور میر ی طویل گفتگو ہوئی۔ اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ پر اپنے ایمان کی تجدید کی۔ میں اسے سیرت نبیﷺ پر انگریزی زبان میں کسی روایتی عالم کی لکھی ہوئی اچھی سی کتاب دینا چاہتا تھا مگر نہ مل سکی۔ چنانچہ مجھے مجبوراً ایک اور مغربی نو مسلم کی لکھی ہوئی کتاب دینا پڑی۔

اس نئی نسل میں ایمان کا بیج موجود ہے لیکن اس کے ماحول اور تعلیم نے اسے اسلام سے دور رکھا ہے۔ موجودہ دور کے اسلامی لٹریچر میں ان کے لیے کوئی اپیل موجود نہیں ہے۔ ان کے مسائل، ان کے سوالات، ان کی سوچیں مختلف ہیں۔ یہ روایتی اور قدامت پسند علماء کے طرز عمل سے بالکل بیزار ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس وحشت زدہ اور بوکھلائی ہوئی نسل کی رہنمائی کون کرے گا اور کون اس کی دیکھ بھال کرے گا؟

میں سید ابو الحسن ندویؒ کی اس رائے سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں کہ آج کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کا ذہنی انحطاط ہے۔ مثال کے طور پر شیخ ابن تیمیہؒ اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے درمیانی عرصے میں کوئی غیر معمولی ذہانت کی حامل شخصیت پیدا نہیں ہوئی جو اسلامی فکر کی ذہنی اور علمی سطح پر آبیاری کر سکتی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مغرب میں متعدد بلند مرتبہ سائنسدان، سکالرز، فلاسفرز اور ماہرین معیشت پیدا ہو ئے اور اپنی قوم کو ہر شعبے میں ارتقاء کی منزلوں سے ہمکنار کیا۔ ہمارے ہاں شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بعد ان کی سطح کا کوئی نابغہ پیدا نہیں ہو سکا۔

آج مسلمان ذہنی افلاس کا شکار ہیں۔ ان میں افکار اور واقعات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ ہم حقائق کا تجزیہ کرنے کی بجائے دوسروں کو اپنی غلطیوں اور حماقتوں کا قصور وار ٹھہرا رہے ہیں۔ ہم بے حد جذباتی احتجاج کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور اپنی ناکامیوں کے لیے دوسروں کو ذمہ دار قرار دینے لگے ہیں۔ لیکن ہمارا اصل مسئلہ ہمارا ذہنی بحران اور ذہانت کا فقدان ہے۔ ہم کام نہیں کرتے، محنت سے جی چراتے ہیں اور ذہنوں کو ترقی دینے میں کوتاہی کرتے ہیں۔

آئیے ایک مثال لیتے ہیں۔ بھارت میں دارالعلوم دیوبند دنیائے اسلام کانہایت مشہور و معروف مدرسہ ہے۔ لیکن اس کے پاس ایک بھی تحقیقی پروگرام نہیں ہے۔ ہارورڈ سکول آف ڈیونیٹی (Harvard          School          of           Divinity) جو ہارورڈ یونیورسٹی (امریکہ) کے بارہ سکولوں میں سے ایک ہے۔ اس میں تحقیق کی مندرجہ ذیل سہولتیں موجود ہیں:

(1)   ہارورڈ کے ریسرچ اینڈ رایٹنگ فیکلٹی ممبران کی تحقیق کے خصوصی شعبوں میں بین الکلیاتی تحقیق، ہمکارانہ تحقیق اور رفقائے کار کے ساتھ مکالمہ شامل ہے۔ حالیہ منصوبوں میں درج ذیل امور شامل ہیں:

(i)    عقیدۂ بشارت الانجیل (Nigerian        evangelicalism) کی تفتیش اور اس عقیدہ کے علمبرداروں نے اسرائیل، یورپ اور امریکہ کے بعض حصوں میں جو علاقائی، عالمی اور سیاسی کردار ادا کیا ہے اس کا مطالعہ؛

(ii)   اسلامی دنیا کے مختلف اداروں کے تصورات اور ان کے طبی، مذہبی اور ثقافتی نظریاتِ اصناف اور تذکیر و تانیث کے بارے میں ایک تحقیقی منصوبہ۔

(iii)  ’ہمزاد‘ (divine         double) سے متعلق نئی تحریریں جن میں زمانۂ قدیم سے مشہور روایت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ہر شخص کا ایک ’ہمزاد ہوتا ہے جو اس کے لیے عصر حاضر کے فلسفیانہ خیالات میں مشیرہوتا ہے اور دینیاتی یادداشتوں کو واپس لانے کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔

(iv)  رواں مذہبی ادبی منصوبہ، جومذہب اور تعلیم کے ماخذات کے بارے میں تحقیق میں مدد دیتا ہے۔ بالخصوص ایک عالمگیر دنیا میں مذہب، شہریت اور اخلاقی تعلیم کے مابین تعلق کی تحقیق۔

(v)   قبطی انجیل پیپرس، یسوع کی بیوی کی انجیل کے بارے میں تازہ ترین تحقیق۔

(2)   ہارورڈز کے مراکز اور پروگرام حسب ذیل ہیں:

(i)    مرکز برائے تحقیق عالمی مذاہب: جس نے مذاہب کے تاریخی اور عصر حاضر کے باہمی تعلقات پر غور و خوض کو فروغ دیا اورمذہبی گروہوں اورآج مذہب کا مطالعہ کرنے والوں کو درپیش دینیاتی فلسفیانہ، تقابلی، سیاسی اور اخلاقی چیلنجوں سے آگاہ کیا۔

(ii)   خواتین سے متعلقہ مذہبی مطالعہ و تحقیق کا پروگرام تا کہ پتہ چل سکے کہ مذہبی روایات نے خواتین اور مردوں کے کردار کے تعین میں بنیادی طور پر کیا کردار ادا کیا ہے۔

(iii)  منصوبۂ تکثیریت: (pluralism         project) یہ امریکہ کے تبدل پذیر مذہبی منظر کی موجدانہ تحقیق ہے تا کہ ہمارے کثیر المذاہب معاشرے کے خدو خال کو ضابطۂ تحریر میں لایاجا سکے۔ بین المذاہب مکالمے کی نئی شکلیں تیار کی جاسکیں۔ شہری زندگی پر مذہبی تنوع کے اثرات کامطالعہ کیا جائے اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج کو عالمی ڈھانچے کے سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھا جاسکے۔

(iv)  مذہبی خواندگی کا منصوبہ: یہ ویب سائیٹ تک کھلی رسائی کے ذریعے مذاہب کے عمومی مطالعے کے لیے مواد اکٹھا کرنے، تخلیق کرنے اور خصوصی روایات مرتب کرنے کا منصوبہ ہے جو بنیادی طور پر پبلک سکول ٹیچرز اور ان کے شاگردوں کے استفادے کے لیے ہے۔

(v)   سائنس، مذہب اور ثقافت پر مذاکرے، سیمینار ز اور ورکشاپس کاانعقاد جن کے ذریعے بین الکلیاتی مباحث ہوتے ہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی کے اندر اور باہر کے سکالرز اور طلبا میں روابط کوفروغ ملتا ہے۔

(vi)  مذاہب اور عمل امن اس کے متقاضی ہوتے ہیں کہ وہ اپنے پیغام میں نظم و ضبط کی تلقین کریں۔ اہل علم کے ساتھ رابطے بڑھائیں اور اس امر کی جستجو کریں کہ دنیا بھر کے افراد اور معاشرے مذہبی اور روحانی وسائل کے ذریعے کس طرح باہمی مفاہمت اور خوشگوار تعلقات، باہمی تعاون، بہبود عامہ کے کام کیے اور اپنے پیغام امن کے ذریعے کس طرح مذہبی، فرقہ وارانہ، قوم پرستانہ، نسلی اور ثقافتی اختلافات پر قابو پایااو ر کس طرح ایسی مساعی عصر حاضر میں قیام امن کے لیے نظریہ سازی اور عملی اقدامات کو فروغ دے سکتی ہیں۔

(3)   ہارورڈ کے پاس درج ذیل باقاعدہ تحقیقی مطبوعات ہیں:

(i)    ہارورڈ یونیورسٹی بلٹین: اس کا مقصد مذہب کے بارے میں غیر فرقہ وارانہ جائزہ پیش کرنا اور عہد حاضر کی حقیقتوں پر توجہ دینا ہے جس کی وجہ سے اکیڈمی کے اندر اور باہر، دونوں حلقوں میں اظہار پسندیدگی ہو رہاہے۔ یہ پرچہ دنیا بھر کے 20,000  افراد کے پاس پہنچتا ہے۔

(ii)   ہارورڈ تھیالوجیکل ریویو (Harvard         Theological         Review)، یہ امریکہ میں قدیم ترین علمی اور دینیاتی جرائد میں سے ہے۔ یہ تمام روایات اور ادوار کے بارے میں تاریخ اور مذہبی فکر پیش کرتا ہے جن میں عبرانی بائیبل، عہد نامہ جدید، مسیحیت، یہودیت، تھیالوجی، اخلاقیات، آثار قدیمہ اور مذاہب کا تقابلی مطالعہ شامل ہے۔

(iii)  ’جرنل آف فیمینسٹ سٹڈیز ان ریلیجن‘ (Journal        of         Feminist         Studies        in          Religion) یہ ایک ششماہی رسالہ ہے۔ یہ مذہبی تعلیمات کے حوالہ سے قدیم ترین غیر مذہبی نسوانی تعلیمی رسالہ ہے۔

نیدرلینڈ کے انٹر یونیورسٹی سکول آف اسلامک سٹڈیز میں ہر سال سینکڑوں تحقیقی مقالے شائع ہوتے ہیں۔ آئیے حالیہ برسوں کے شماروں میں شائع ہونے والے چند موضوعات پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں:

(i)    مسلم اہل دانش اور معاشرہ، سترویں صدی عیسوی کے وسطی سوڈانی افریقہ میں۔

(ii)   یورپ میں اسلامی طلاقیں: یورپی اور اسلامی قانونی نظاموں کے درمیان خلیج کیسے کم کی جائے۔

(iii)  پاکستانی شادیاں اور جرمنی اورانگلینڈ کے پرائیویٹ انٹرنیشنل قوانین۔

(iv)  ایک صحرا میں مچنے والا شور: ڈچ مسیحی مبلغ کا جاوا کے اسلام سے مناظرہ 1850ء – 1910ء۔

(v)   اسلامی جلد سازی کی روایتـ۔

(vi)  نیدر لینڈز اور بیلجئم میں اسلامی طریق تدفین: قانونی، مذہبی اور معاشرتی پہلو۔

(vii)  ’ہو سکتا ہے کہ میں اب بھی اس کی بیوی ہوں‘۔ ڈچ مراکشی اور ڈچ مصری خاندانوں میں ماورائے قومی سرحدات طلاق۔

(viii)  لبنان میں سلفی مسلک: مقامی اور ماورائے سرحدات و سائل۔

(ix)  مراکش میں نسوانی مذہبی ایجنٹس: قدیم روایتیں اور نئے مناظر۔

(x)   شام میں عائلی قوانین: تعددِ قوانین، طور طریقے اور قانونی روایات۔

(xi)  آموزش استناد: سلفی مسلک کے پیروکار جرمن اور ڈچ مسلمانوں کی مذہبی رسوم، مجالس میں اور گپ شپ کے کمروں میں۔

(xii)  انڈونیشیا کے جزیرہ میڈورا میں اسلام اور سیاست: علما اور دیگر مقامی رہنما، اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کوشاں۔

(xiii)  قدیم مسلم مصر میں آدابِ مسرت اور اظہارِغم، پودے سے بنے کاغذ پر لکھے ہوئے خطوط، متن اور مندرجات۔

(xiv) قانونی ادب کا طریق تدوین: سوڈان میں نمیری اور بشیر کے دورِ حکومت میں اسلامی فوجداری قانون سازی اور سپریم کورٹ کیس لاء۔

(xv)  بہتر مسلمان کیسے بنا جائے: آسیہہ (انڈونیشیا) میں اطاعت نافذ کرنے کا اختیار اور اصلاحِ اخلاق۔

(xvi) مابین تاریخ افسانہ: حضرت محمدﷺ کی سوانح حیات از قلم ابن شہاب الزہریؒ۔

(xvii)  شمالی نائیجریا میں اسلامی فوجداری قانون: سیاست مذہب اور عدالتی طریق کار۔

(xviii)  ایک تارک الدنیا جہادی سلفی: ابو محمد المقدسی کا نظریۂ حیات اور اس کے اثرات۔

(xix)  اسلامی اصلاح پسندی اور عیسائیت: محمد رشید رضا اور ان کے رفقاء کی تحریروں کا ایک تنقیدی جائزہ۔

(xx)  اسلام اور جسمانی معذوری: اسلامی تعلیمات اور فقہ کی روشنی میں۔

کیا ہمارے ہاں اسلامی تعلیمات کا کوئی ایسا ادارہ ہے جو اس درجے کی تحقیق کے لیے کوششیں کر رہا ہو؟ اس کا جواب ہے ’بالکل نہیں‘۔

7     : اختلافِ رائے کا احترام

اسلام مختلف عقائد، مذاہب، مسالک اور مکاتب فکر کو کھلے دل سے دیکھتا ہے۔  اس امر کا اعلان اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔ مذہبی تکثیریت سراسر منشائے الٰہی کانتیجہ ہے۔ وہ چاہتا تو بنی نوع انسان کو جبراً ایک ہی عقیدہ اختیار کروا سکتا تھا یا ایک طرزعمل پر مجبور کر سکتا تھا۔ جیسا کہ اس نے کائنات کو ایک لگے بندھے طریقے کی پابند کر رکھا ہے۔ تاہم اس نے ہم پر کوئی ایک طریقہ مسلط نہیں کیا۔ اس کے برعکس اس نے ہمیں پسند کی آزادی عطا کررکھی ہے۔ قرآن پاک میں ارشا باری تعالیٰ ہے:

وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ  ۭ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ.

(اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہِ راست دکھا دیتا ہے اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو کر رہے گی)

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے عہد حاضر کے ایک عالم دین لکھتے ہیں: ’اس کامطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا طرف دار سمجھ کر بُرے بھلے طریقے سے اپنے مذہب کو (جسے وہ خدائی مذہب سمجھ رہا ہے) فروغ دینے اور دوسرے مذاہب کو مٹا دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی یہ حرکت سراسر اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف ہے۔ اگر اللہ پاک کی منشا واقعی یہی ہوتی کہ انسان سے مذہبی اختیار چھین لیا جائے اور چارو ناچار سارے انسانوں کو ایک ہی مذہب کا پیروکار بنا کر چھوڑا جائے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کو اپنے نام نہاد ’طرف داروں‘ کی اور ان کے ذلیل ہتھکنڈوں سے مدد لینے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ یہ کام تو وہ خود اپنی تخلیقی طاقت سے کر سکتا تھا۔ وہ سب کو مومن و فرماں بردار پیدا کر دیتا اور کفر و معصیت کی طاقت چھین لیتا۔ پھر کس کی مجال تھی کہ ایمان و اطاعت کی راہ سے بال برابر بھی جنبش کر سکتا؟

اسی طرح قرآن پاک یہ بھی کہتا ہے:

وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ.

(اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں اس میں آزماتا ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔ پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تم سب کا لوٹ کر جانا ہے۔ پھر وہ تمہیں بتائے گا جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے)

وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ.

(اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور وہ ہمیشہ مختلف رہیں گے)

وہ اختلاف رائے پیدا کرنے کے لیے اپنے منصوبے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے انسانوں کو راہ کے انتخاب کا حق دیتا ہے۔ اس نے بنی نوع انسان کو ایک جبلی فطرت و دیعت کی ہے جس کے اندر غلط اور صحیح کے درمیان امتیاز کر سکنے کی صلاحیت موجود ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اعلان کیا گیا ہے:

لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ڐ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ  ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۤ لَا انْفِصَامَ لَهَا  ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ.

(دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے۔ اس لیے جو شخص باطل معبودوں کا انکار کر کے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے اور جاننے والا ہے)

نبیﷺ صرف حق بات واضح کرسکتا ہے لیکن لوگوں پر جبر کرکے ان سے اپنے نظریات منوا نہیں سکتا۔ چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

فَذَكِّرْ     اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ .

(اے نبی (ﷺ) نصیحت کرتے رہیں۔ آپ (ﷺ) نصیحت کرنے والے ہیں۔ آپ (ﷺ) ان کے ذمہ دار نہیں ہیں)

ان آیات کی وضاحت کرتے ہوئے سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کہتے ہیں: اگر معقول دلیل سے کوئی شخص بات نہیں مانتا تو نہ مانے۔ تمہارے سپرد یہ کام نہیں کیا گیا ہے کہ نہ ماننے والوں سے زبردستی منواؤ۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کو صحیح اور غلط کا فرق بتا دو اور غلط پر چلنے کے انجام سے خبردا ر کردو۔ سو یہ فرض تم انجام دیتے رہو۔

یہ آیات کافی حد تک واضح کر رہی ہیں کہ اختلافات کی موجودگی خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ کی ایک سوچی سمجھی سکیم کی وجہ سے ہے جو خود بھی نہیں چاہتا تھا کہ تمام انسان ایک ہی عقیدے اور سوچ کے حامل ہوں اس لیے اختلاف یا آرا کاالگ الگ ہونا خدائی دانش و حکمت سے گہری مطابقت رکھتا ہے۔ اس دینیاتی تناظر میں سے ایک قدرتی نتیجہ نکلتا ہے۔ وہ یہ کہ خدا نے خود اپنے بندوں کو مختلف آرا رکھنے کا حق دیا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس کو ایک الو ہی حقیقت کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔

حضور نبی اکرمﷺ نے اپنے پیروکاروں میں اختلافِ رائے کو ہمیشہ گوارا کیا ہے اور اپنے صحابہ کرام کو کسی خاص مسئلے پر مختلف آراء رکھنے سے منع نہیں کیا۔ اس کی ایک مثال غزوہ خندق میں پیش آئی۔ جنگ خندق سے فارغ ہو کر حضور نبی کریمﷺ نے ایک گروہ کو حکم دیا کہ وہ بنی قریظہ کی بستی میں جائیں اور وہاں جا کر عصر کی نماز پڑھیں۔ وہ لوگ روانہ ہو گئے۔ راستہ میں عصر کی نماز کا وقت آ گیا۔ صحابہ کرام کی وہ جماعت دو حصوں میں بٹ گئی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم راستے میں نماز نہیں پڑھیں گے بلکہ منزل پر پہنچ کر پڑھیں گے۔ اس لیے کہ حضور نبی اکرمﷺ کے الفاظ یہ تھے کہ بنی قریظہ میںجا کر نماز پڑھیں۔ اس کے برعکس کچھ دوسرے لوگوں کا خیال تھا کہ نماز میں تاخیر ہو رہی ہے۔ راستے میں نماز پڑھ لی جائے۔ آپﷺ نے جو حکم دیا تھا اس کا اصل مطلب یہ تھا کہ جلد از جلد منزل پر پہنچا جائے۔ آپﷺ نے دونوں گروہوں کی رائے کو منظور فرمایا۔

صحابہ کرام کے درمیان قرآن مجید کے احکامات اور حضور نبی کریمﷺ کے کئی فرمودات کی تعبیر کے بارے میں کئی سنجیدہ اختلافات تھے:

(i)    حضرت عمرفاروق کو مرتد عورتوں کے مسئلے پر حضرت ابوبکرصدیق سے اختلاف تھا۔ حضرت ابوبکرصدیق؄ کے نظرئیے سے اختلاف کرتے ہوئے حضرت عمرفاروق نے اپنی خلافت کے دوران ان سب عورتوں کو آزاد کر کے انہیں ان کے سر پرستوں کے حوالے کر دیا۔

(ii)   شام اور عراق کے مفتوحہ علاقوں کے بارے میں حضرت عمر فاروق   نے حضور نبی اکرمﷺ اور حضرت ابوبکرصدیق کے تعامل سے اختلاف کرتے ہوئے یہ علاقے فاتح سپاہیوں میں تقسیم نہیں کئے بلکہ انہیں اوقاف قرار دے دیا (اجتماعی مفاد کے لیے ریاستی تحویل میں لے لیا)۔

(iii)  حضرت عمرفاروق اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے مابین کئی قانونی مسئلوں پر اختلافات تھے (اعلام الموقعین عن رب العالمین) لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے کا بے حد احترام کرتے تھے۔

(iv)  ایک دفعہ حضرت علی سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ جمل میں ان کے مقابل مشرکین تھے تو انہوں نے جواب دیا:

.      وہ مشرک نہیں تھے بلکہ شرک سے تو بھاگ کر مسلمان ہوئے تھے۔

.      پھر پوچھا گیا کیا وہ منافقین تھے؟

.      آپ؄ نے جواب دیا کہ منافقین تواللہ تعالیٰ کو کم ہی یادکرتے ہیں۔

.      پھر پوچھا گیا کہ وہ کون تھے؟

.      آپ؄ نے جواب دیا: وہ ہمارے بھائی تھے جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کر دی تھی۔

(v)   امام حافظ ذہبیؒ کا بیان ہے کہ صحابہ کرام اور ان کے جانشینوں کے درمیان اختلاف تاقیامت ختم نہیں ہو سکتا، کیونکہ اسے دور کرنے کا صرف ایک طریقہ ہے۔ ایک گروہ کو حق پر قائم اور دوسرے کو نا حق پر قائم قرار دے دیا جائے اور یہ نا ممکن ہے۔

ابتدائی دورکے مسلم فقہا میں بھی اختلاف ہوتے رہتے تھے۔ پھر بھی وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ حضرت امام شافعیؒ نمازِ فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کو حضور نبی کریمﷺ کی سنتِ مؤکدہ سمجھتے تھے جب کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ اس نظرئیے کی تائید نہیں کرتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت امام شافعیؒ، حضرت امام ابو حنیفہؒ کے روضے پر گئے اور انہوں نے فجر کی نماز پڑھتے ہوئے دعائے قنوت نہ پڑھی۔ جب ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کے دربار میں ان سے کیسے اختلاف کر سکتا ہوں۔

مسلمانوں کو آرا کے ان اختلافات کو ایک قدرتی امر سمجھنا چاہیے اور انہیں ایک حقیقت گرداننا چاہیے۔ اہل اسلام کو ان اختلافات کو ختم کرنے کی کوششیں کرکے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک سعی لا حاصل ہوگی۔ اس کی بجائے انہیں ان اختلافات کو ایک رحمت سمجھ کر پُر امن بقائے باہمی کا فن سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے بالکل بجا کہا ہے: فہم فلسفہ کے میدان میں کسی چیز کو درجۂ کمال حاصل نہیں۔ ہمارے علم کی بنیاد میں وسعت پیدا ہونے اور فکر کے لیے در کھلنے سے بہت سے دیگر خیالات، غالباً ان لیکچرز میں پیش کردہ خیالات سے کہیں زیادہ بہتر، ظہور پذیر ہو جائیں گے۔ تاہم یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم انسانی علم میں ہونے والے اضافے پر نظر رکھیں۔ اس سلسلے میں ہمیں حقِ تنقید کو آزادی سے استعمال کرنا ہوگا۔

ان تعلیمات کے برعکس تقریباً ہر مدرسہ فرقے پر مبنی ہے۔ ان کا نصاب اور امتحانات فرقہ واریت پر استوار ہیں۔ مثال کے طور پر دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ اور جماعت اسلامی، سب کے اپنے اپنے تعلیمی بورڈزہیں۔ ان مدارس کے اساتذہ کی توانائیاں ایک دوسرے کے عقائد اور نظریات کا رد پڑھانے پرصرف ہو جاتی ہیں۔ ہندوستان کے عظیم شیخ الحدیث سید انور شاہ کشمیریؒ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ایک بار وہ بہت مغموم بیٹھے تھے۔ ان سے ان کی پریشانی کا سبب پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیاکہ میں نے اپنی ساری زندگی یہ ثابت کرتے کرتے ضائع کر دی ہے کہ فقہ حنفی باقی فقہ پر فوقیت رکھتی ہے۔

عمومی مدرسوں کا فارغ التحصیل ہر شخص اپنے آپ کو ’عالم‘ سمجھتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ صرف وہی (نہ کہ کوئی دوسرا) اسلام کی نمائندگی کا حق ادا کر رہا ہے۔ ہم دیگر لوگوں کو اسلام کا صحیح مبلغ نہیں سمجھتے۔ حضرت محمد اقبالؒ نے یورپی اہل ایمان میں مقبولیت حاصل کر لی تھی لیکن ہندوستان اور پاکستان کے علماء انہیں مذہبی سکالر تسلیم نہیں کرتے کیونکہ وہ کسی مدرسے کے فارغ التحصیل نہیں تھے۔ یہی حال علامہ محمد اسدؒ کا ہے۔

یہ کوئی راز نہیں کہ سر ولیم میور نے حضور نبی کریمﷺ کی جو سوانح حیات لکھی اس میں اس نے حضور نبی کریمﷺ کی شخصیت کو داغ دار کرنے کی ناپاک جسارت کی تھی۔ اس کے شائع ہونے کے بعد سرسید احمد خان اپنی ساری جائیداد فروخت کرکے انگلینڈ چلے گئے تا کہ آپﷺ کی سیرت پر ایک ایسی کتاب لکھی جائے جس میں ولیم میور کے اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا جائے۔ اس پر انہوں نے کئی سال کی محنت کے بعد ’خطبات احمدیہ‘ تیار کی۔ یہ اس موضوع پر ایک شاندار کتاب ہے۔ لیکن ہم نے اسلام اور امت مسلمہ کے لیے ان کی تمام خدمات کو مسترد اور نظر انداز کر دیا محض اس بنا پر کہ ان کے چند نظریات معروف علماء کے خیالات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ ہمیںاختلاف برداشت کرنا چاہیے اور کسی بھی اچھی چیز کو قبول کرنا چاہیے۔ یہی عالمانہ رویہ ہے اور ہمارے قدیم علما کا یہی رویہ رہا ہے۔

میں نے علامہ محمد اسد کا وہ خط پڑھا ہے جس میں انہوں نے مغموم دل کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہیں کہ پاکستان میں ایک خاص گروہ نے ان کے خلاف تکفیر کی مہم چلا دی ہے۔ جس پر انہوں نے شکستہ دل ہو کر پاکستان چھوڑ دیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مراکش میں آبادہو گئے۔ میری رائے میں ان کی تفسیر قرآن مجید انگریزی میں اب تک لکھی گئی مختصر تفاسیر میں سے بہترین تفسیر ہے۔ ان کی تفسیر صحیح بخاری اور دیگر کتابیں بھی اسلامی ادب میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ بعض لوگوں نے ان پر ارتکابِ کفر کا الزام لگا دیا کیونکہ وہ اسلام کے چند عقائد کے بارے میں بعض مروجہ نظریات سے اتفاق نہیں کرتے تھے لیکن ان کا کوئی نظریہ ایسا نہ تھا جو پہلے کچھ عظیم علما کا نہ ہو۔

ہم صاحبان ایمان لوگ رفتہ رفتہ برداشت اور رواداری ترک کر رہے ہیں۔ ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ ہم معمولی سا اختلاف رائے بھی برداشت کرنے سے معذور ہو گئے ہیں۔ متعدد اہل علم کو اختلاف رائے پر یا اس بنا پر قتل کر دیا گیا کہ کسی مخصوص فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ بہت سے علماء کو مسلم ممالک کو چھوڑ کر مغربی ممالک میں پناہ لینی پڑی۔ یہ بالکل غیر علمی اور غیر معقول رویہ ہے جس نے ہم میں علم سے مخاصمت پیدا کر دی ہے۔

8   :  تخصیص علوم

اب ماہرین خصوصی کا معاملہ لے لیجئے۔ مدارس کا ایک طالب علم آٹھ سے د س سال درسِ نظامی پڑھنے کے بعد ایک سند (ڈگری) لیتا ہے۔ مزید ایک یا دو سال صرف کرکے مفتی بن جاتا ہے۔ اس سے وہ اسلامی قانون سے متعلقہ کسی مسئلے پر رائے دینے کے قابل سمجھ لیا جاتا ہے۔ پھر وہ عائلی امور، مذہبی معاملات، شخصی قوانین، اقتصادی اور بینکنگ کے معاملات، تجارت اور بزنس سے متعلق فتوے جاری کر نا شروع کر دیتا ہے۔ مدرسے کے ایک فارغ التحصیل کے بارے میں یہ رائے قائم کر لی جاتی ہے کہ وہ قرآن مجید، حدیث شریف، منطق، اسلامی قانون، عربی ادب، فلکیات اور دیگر متعلقہ موضوعات کے بارے میں مہارت حاصل کر چکا ہے۔ لہٰذا وہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں حتمی فیصلہ صادر کرنے کا اہل ہے جو پوری امت مسلمہ پر قابلِ اطلاق ہوگا۔

جدید طریق تعلیم اس طریق تعلیم سے کلیتاً مختلف ہے۔ قانون کی مثال لے لیجئے۔ ایک طالب علم چودہ سال کی پڑھائی کے بعد مزید تین سال لگا کر قانون میں بیچلرز ڈگری یعنی ایل ایل بی کرتا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ مزید پڑھنا چاہتا ہے تو مزید تین سے پانچ برس میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرتاہے۔ اس کا ڈاکٹر کی سطح کا تفصیلی مقالہ (Doctoral        dissertation) قانون کے ایک شعبے کے کسی ایک خصوصی موضوع پرہوتا ہے جو کہ قانون کا صرف ایک پہلو ہوتا ہے۔ پھر وہ نوجوان کسی یونیورسٹی میں بطور لیکچرز تعینات ہو جاتا ہے۔ اس حیثیت سے پوسٹ گریجویشن کی سطح کی تدریس کے تقریباً 25 / 30سال بعد پروفیسر بنتا ہے۔ اگر آپ اس سے اس کے مخصوص دائرے سے باہر تعلق رکھنے والا کوئی سوال پوچھیں گے تو وہ صرف یہ کہے گا کہ مجھے معلوم نہیں۔ اس سلسلے میں آپ کسی متعلقہ شخص سے سوال کریں۔

یہ پروفیسر اس سوال کا جواب نہ دے سکنے اور کسی اور کا نام تجویز کرنے پر کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرے گا۔ دوسری طرف ایک مدرسے میں دس سال پڑھنے والا نوجوان بغیر کسی جھجک کے زندگی کے تمام مسائل کے بارے میں پورے اعتماد سے اپنا حتمی فیصلہ سنا دے گا اور حرام و حلال پر بھی فوراً رائے دے دے گا۔ یہ رویہ اور طریق عمل آج کے دور میں کام نہیں دیتا۔

ہماری سوچ بڑی عجیب ہے۔ اگر کوئی ہم سے نئی قانونی تحقیق کے بارے میں سوال کرتا ہے تو ہم فوراً جواب دیتے ہیں کہ تمام سوالوں کا جواب اور تمام مسائل کا حل ہمارے گزرے ہوئے فقہاءؒ نے پیش کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت امام مالکؒ، حضرت امام ابو حنیفہؒ، حضرت امام شافعیؒ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ اور حضرت امام جعفر صادقؒ بلند پایہ فقیہ تھے۔ جنہوں نے اسلامی فقہ کے اصول وضع کر دیئے تھے اور اسلامی فقہ میں ان کی خوب وضاحت کر دی گئی ہے۔ تاہم ان کے اصولوں کو اطلاق کی ضرورت ہے یا عہد حاضر میں ان کی نئے سرے سے تعبیر کی جانی چاہیے۔

آج کئی نئے مسئلے کھڑے ہوچکے ہیں جو اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ انہیں انہی اصولوں کی روشنی میں حل کیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر جہاز رانی، ہوا بازی اور بیمہ وغیرہ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ان فاضل فقہاءؒ نے ان مسائل پرکوئی بحث نہیں کی کیونکہ ان کے زمانے میں یہ مسائل موجود ہی نہیںتھے۔ مجھے ان موضوعات پر ایک کتاب بھی دیکھنے کو نہیں ملی جو اسلام اور اسلامی اصولوں کے حوالوں سے ان شعبوں میں بزنس کرنے پر روشنی ڈالتی ہو۔ آج اس پایہ کے اسلامی سکالرز کہاں ہیں جو اتنا علم رکھتے ہوں کہ ان مسائل پر روشنی ڈال سکیں؟

ہمیں اپنے اسلاف ہی کے کارہائے نمایاں پراظہار فخر و مباہات کرتے نہیں رہ جانا چاہیے۔ دنیا نے بے پناہ ترقی کی ہے۔ ہر شعبۂ زندگی ارتقاء کی کئی کئی منزلیں طے کر چکا ہے اور ہم دنیا کی دیگر قوموں سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ پتھر کا زمانہ نہیں بلکہ انٹرنیٹ کا دور ہے۔ یہ گھوڑوں، نیزوں اور تلواروں کا نہیں مزائلوں اور ایٹم بموں کا زمانہ ہے۔ یہ جذباتیت اور شعلہ بیانیوں کا زمانہ نہیں بلکہ عقل اور منطقی دلائل کا زمانہ ہے۔ لیکن ہم اس اذعانی راسخ الاعتقادی (dogmatic       intellectual        logjam) کے تعطل سے باہر نکلنے اور اپنی فکر وعمل میں تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ دنیائے اسلام کے اہم ترین مدارس میں سے ایک دارالعلوم دیو بند میں بھی اسلامی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں کی تخصیص کے لیے موزوں کورسز کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ اس میں صرف ایک سال کے تفسیر قرآن مجید، فقہ، دینیات اور ادب کے کورسز کرائے جاتے ہیں۔ ان تخصیصی کورسز کے نصاب، مدرسہ کی ویب سائیٹس پر دستیاب ہیں لیکن ان کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرانے اور متروک ہیں۔

دوسری طرف ہارورڈ الٰہیاتی سکول (Divinity        School        of         the        Harvard         University) میں درج ذیل چار ڈگری پروگرام ہیں جو دو سے پانچ سالہ عرصے کے ہیں:

(i)    ماسٹرآف تھیالوجیکل سٹڈیز (Master of Theological Studies)

(ii)   ماسٹر آف ڈیوینٹی (Master of Divinity)

(iii)  ماسٹر آف تھیالوجی (Master of Theology)

(iv)  ڈاکٹر آف فلاسفی (Doctor of Philosophy)

9:     کتابوں کی فراہمی

مسلمانوں نے اپنے آباؤ اجداد کی بھی کتابیں وراثت میں حاصل نہیں کیں۔ حتیٰ کہ ابن سینا،  الزہراوی، عمر خیام، الفارابی، ابن نفیس اور ابوالہیثم کی تصانیف مسلم دنیا میں نہ پرائیویٹ لائبریریوں میں پائی جاتی ہیں اور نہ ہی پبلک لائبریریوں میں۔ ان کے ترجمے بلکہ اصل مخطوطات مغرب کی لائبریریوں میں موجودہیں۔ قدیم کتابوںمیں سے صرف حضور نبی کریمﷺ (سیرت ابن اسحاق) ملی ہے۔ اس کی تدوین الفریڈ گیلیوم نے کی ہے۔ اگر کوئی مسلمان آج قدیم مسلم فلسفے یا ادب پر تحقیق کرنا چاہیے تو وہ جامعۃ الازہر، دارالعلوم دیوبند یا دارالعلوم بریلی نہیں جائے گا بلکہ یونیورسٹی آف لائیڈن ہالینڈ یا آکسفورڈ برطانیہ جائے گا جہاں سے اسے اپنی تحقیق کے لیے مطلوبہ مواد مل جائے گا۔

لائیڈن یونیورسٹی کی مشرق وسطیٰ سے متعلق جمع کردہ کتب 6000 قلمی نسخوں اور مخطوطات پر مشتمل ہے اور ان سے کہیں زیادہ نایاب مطبوعہ کتابیں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی زبانوں میں ہیں جو 1950ء تک کے مغربی مستشرقین کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ پہلے کے سکالرز میں سے ایک جوزف جسٹس سکالیگر نے اپنی عربی فارسی اور ترکی زبان کے قلمی نسخے اور مطبوعہ کتابیں بھی لائبریری کو ہدیہ کر دیں۔ لیوینس وارنر نے اپنے پرائیویٹ ذخیرے میں سے 1000 قلمی نسخے جو بیشتر عربی، فارسی اور ترکی زبان میں تھے لائیڈن یونیورسٹی کو دے دئیے۔ 1883ء میں یونیورسٹی لائبریری نے مدینہ منورہ کے عالم امین بن حسن المدنی سے 700 قلمی نسخوں کا مجموعہ

خرید لیا۔ سناوک ہرگرونج نے جو نیدر لینڈز کا غالباً سب سے بڑا مستشرق تھا اپنے آخری وقت میں اپنی ساری پرائیویٹ لائبریری اور تاریخی دستاویزات لائیڈن یونیورسٹی لائبریری کے لیے وقف کر دیں۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد 1960ء کے عشرے میں لائیڈن یونورسٹی کی لائبریری نے عثمانی ترکی کا عظیم ذخیرہ جو غالباً سلطان مراد پنجم اور اس کے ورثاء کی ملکیت تھا، بھی خرید لیا۔ 2009ء میں یونیورسٹی لائبریری نے پیپلز ری پبلک آف چائنا کے صوبہ سنکیانگ (Xinjiang) سے اسلامی قلمی نسخے حاصل کیے۔

آپ مسلم دنیا کے کسی مدرسے کا کتب خانہ دیکھ لیں۔ اس سے زیادہ کتابیں تو میں نے مغرب میں کئی پروفیسروں کے گھروں میں دیکھی ہیں۔ ہماری کوئی اچھی اسلامی لائبریری نہیں ہے۔ اسلامی قانون پر کتابیں ملتی ہی نہیں۔ لنکنز ان (لندن) میں، میں نے 1997ء میں ایک بار احسان (equity) کے قانون پر کتب تلاش کیں۔ جب میں نے کمپیوٹر میں احسان لکھا تو اس نے اپنی سکرین پر 241 کتابوں کی فہرست، ان کے مصنفین کے نام، چھاپے خانے کا نام اور صفحات کی تعداد وغیرہ پانچ سیکنڈ میں بتا دی۔ ہمارے بہترین مدارس میں نہ تو اتنی کتب ہیں اور نہ ہی ان کو ڈھونڈنے کا نظام (کیٹلاگ) ہے۔ علم کہاں سے آئے گا؟

اب تو تحقیق مزید آسان ہو گئی ہے۔ بازار میں ستر روپے میں کمپیوٹر کی ایک سی ڈی (CD) ملتی ہے، جس میں چار قاریوں کی آواز میں پورے قرآن کی تلاوت ہے، کئی تفاسیر ہیں، صحاح ستہ (حدیث کی چھ بڑی کتب ) ہیں، فقہ کی کئی کتابیں ہیں، سیرت پر کئی کتب ہیں۔ اب معاملہ اس سے بھی آگے چلا گیا ہے اور سب کچھ ویب سائٹ پر موجود ہے۔

تلاش اتنی آسان ہے کہ آپ کسی ڈیٹا بیس میں وضو کا لفظ تلاش کریں تو قرآن مجید کی تمام متعلقہ آیات، تمام کتب میں موجود متعلقہ احادیث، فقہ کی کتب سے آرا چند سیکنڈ میں آپ کے سامنے آ جائیں گی۔ اس کے بعد آپ سب کو پڑھ کر جو چاہیں رائے بنائیں۔ یہ تلاش اگر میں دارالعلوم کی لائبریری میں کرنا چاہوں تو مجھے ایک ماہ (26 لاکھ سیکنڈ) لگیں گے۔ یہی فرق ہمارا اور مغرب کا ہے۔ انٹرنیٹ نے تو معاملہ مزید آسان کر دیا ہے۔ بیشتر کتب اس پر موجود ہیں اور سیکنڈوں میں اس میں سے حسب منشا کوئی چیز تلاش بھی کی جا سکتی ہے۔

دوسری مثال لیں۔ امریکہ کی ایک یونیورسٹی، یونیورسٹی آف مینی سوٹا (University        of        Minnesota) کی انٹرنیٹ کی ایک ویب سائٹ پر حقوق انسانی سے متعلق چھ ہزار سے زائد دستاویزات ہیں۔ جو ہمیں مکمل مفت مل جاتی ہیں۔ دیکھیں قانون اور سیاست کے ایک پہلو یعنی حقوق انسانی پر ایک یونیورسٹی نے ہوا میں اتنی کتابیں ہم سب کے لیے مفت رکھی ہیں۔

میں جب علما سے اس مسئلے پر بات کرتا ہوں تو سادہ سا جواب ملتا ہے کہ ہمارے وسائل نہیں ہیں۔ مجھے اس دلیل سے بالکل اتفاق نہیں ہے۔ مسجد پر اگر ہم ایک چھوٹا سا مینار بنا لیں۔ چار بڑے مینار نہ بنائیں تو اسی مسجد میں ایک چھوٹی سی لائبریری قائم ہو سکتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ مسجد نبوی کے مینار نہ تھے۔ بیت اللہ شریف کے مینار نہ تھے۔ یہ بعد میں شناخت کے لیے بنے ہیں۔ کیا شناخت کے لیے ایک چھوٹا سا خوبصوت سا مینار کافی نہیں ہے؟ حج ایک فرض ہے۔ میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو ہر سال حج پر جاتے ہیں۔ فرض حج کے علاوہ ہر سال اربوں روپے ہم حج و عمرہ پر صرف کرتے ہیں کیا اس رقم کا استعمال لائبریری بنانے پر ہو سکتا ہے؟ حالانکہ تحصیل علم بہت اعلیٰ عبادت ہے۔ ہم عالم کی ایک رات عابد کی سو راتوں سے بہتر سمجھتے ہیں۔ اس کو بھی چھوڑ دیں۔ آپ ایک سال میں غیر ضروری مذہبی جلسے جلوسوں پر اٹھنے والے اخراجات کا جائزہ لیں تو وہ کروڑوں میں ہوں گے جو ایک شاندار لائبریری بنانے کے لیے کافی ہیں۔

ہمارے بڑوں نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی تحقیق کی ہے۔ کیا یہ تاریخی حقیقت نہیںکہ تیس جلدوں پر محیط کتاب المبسوط امام سرخسیؒنے جیل کے اندر ایک کنویں میں بیٹھ کر لکھی ہے۔ جہاں انہیں زندگی کی کوئی سہولت حاصل نہ تھی اور نہ کسی اچھی لائبریری تک رسائی حاصل تھی۔ ان کے پاس علم کی پیاس اور اپنے مقصد کی لگن تھی۔ حضرت اقبالؒ صحیح فرماتے ہیں:

نقش ہیں سب ناتمام خُون جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خُونِ جگر کے بغیر

 

(عظیم فن کسی آرام طلب فنکار کے اندر جنم نہیں لیتا۔

یہ آنسوؤں، اذیتوں اور ذہنی کاوشوں کا ثمر ہوتا ہے جو ہر اس سچے فنکار کی جھولی میں آ گرتا ہے جو انسانیت کے جذبے سے سرشار ہو)

 

اب وقت ہے کہ ہم گہری نیند سے اٹھیں۔ اپنے سلیبس اور طرز تدریس کا جائزہ لیں۔ کچھ مدارس نے پہلے ہی اس طرف توجہ کر لی ہے اور اپنے اندر بنیادی اور جوہری تبدیلیاں لائے ہیں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی علمی میراث کو چھوڑ دیں یا اس کی اہمیت کم کر دیں۔ ایسا کرنا ہماری تہذیبی اور علمی خودکشی ہو گی۔ تجویز صرف اتنی ہے کہ ہم اپنی قدیم کتب کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ غیر علما کی جدید کتب بھی پڑھیں۔ تدریس کے فن میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، ان کو بھی استعمال کریں۔ جدید سائنسی ذرائع کا بھی استعمال کریں۔ عہد حاضر میں ابھرنے والے نئے مضامین (معاشیات، سیاسیات، نفسیات، عمرانیات، بشریات، جرح و فقہ وغیرہ) پر بھی توجہ کریں۔ اگر ہم عہد کی روح کو نہیں سمجھیں گے تو عہد ہمیں قبول نہیں کرے گا۔ ہم انسانی سفر میں پیچھے رہ جائیں گے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے:

 

ڈرتے ڈرتے دم سحر سے

تارے کہنے لگے قمر سے

نظارے رہے وہی فلک پر

ہم تھک بھی گئے چمک چمک کر

کام اپنا ہے صبح و شام چلنا

چلنا، چلنا، مدام چلنا

بے تاب ہے اس جہاں کی ہر شے

کہتے ہیں جسے سکوں، نہیں ہے

رہتے ہیں ستم کشِ سفر سب

تارے، انساں، شجر، حجر سب

ہو گا کبھی ختم یہ سفر کیا

منزل کبھی آئے گی نظر کیا

کہنے لگا چاند، ہم نشینو

اے مزرعِ شب کے خوشہ چینو!

جنبش سے ہے زندگی جہاں کی

یہ رسم قدیم ہے یہاں کی

ہے دوڑتا اشہبِ زمانہ

کھا کھا کے طلب کا تازیانہ

اس رہ میں مقام بے محل ہے

پوشیدہ قرار میں اجل ہے

چلنے والے نکل گئے ہیں

جو ٹھہرے ذرا، کچل گئے ہیں

انجام ہے اس خرام کا حسن

آغاز ہے عشق، انتہا حسن

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان صاحب نے الشہادۃ العالمیہ کی تعلیم وفاق المدارس العربیہ سے حاصل کی ۔ بعد ازاں مقامی اور بین الاقوامی اداروں سے بین الاقوامی تعلقات اور قانون کی تعلیم حاصل کی ۔ آپ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی رہنے کے ساتھ ساتھ مختلف وزارتوں کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں ۔
آپ کئی کتب کے مصنف ہیں جن کے موضوعات اسلام ،قانون اور حقوقِ انسانی ہیں ۔

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں