علامہ ابن تیمیہ حدوث عالم کی رائے پر یہ شبہ وارد کرتے ہیں کہ اس سے خدا کی صفات میں تعطل لازم آتا ہے کہ جب تک عالم نہ تھا تب تک خدا گویا فارغ بیٹھا تھا یہاں تک کہ اس نے فعل کرنا شروع کردیا۔ اس شبہے پر ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں، یہاں چند آسان اشکال کی صورت اس کی غلطی واضح کی گئی ہے۔ ابن تیمیہ کا شبہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ خدا پر بھی کوئی زمانہ گزر رہا ہے اور اس زمانی خط پر پہلے ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں خدا کوئی فعل نہیں کررہا ہے، پھر ایک خاص لمحے پر ساکن یا فارغ خدا کی جگہ فاعل خدا آتا ہے جس کے اثر کے طور پر عالم ظاہر ہوتا ہے، پھر خدا کے یک بعد دیگر افعال کے نتیجے میں عالم میں اشیا ظاہر ہوتی ہیں۔ یوں خدا کی اپنی ذات پر ایک زمانِ انتظار (waiting time) گزر کر پھر ایک زمانِ فعلیت (active time) شروع ہوتا ہے جو ان کے خیال میں درست نہیں۔ اس شبہے کا حل انہوں نے یہ تجویز کیا کہ حوادث لا اول لھا کے oxymoron کی صورت ماسوا اللہ کو قدیم کہا جائے، یعنی اس ڈائیگرام میں عالم میں ظاہر ہونے والی اشیا کو بغیر کسی ابتدا کے لامتناہی طور پر پیچھے یا اوپر کی جانب کھینچا جائے تاکہ خدا بھی ازل سے بغیر کسی ابتدا فاعل بن سکے۔
اس پورے استدلال میں خدا کے افعال کو بندوں کے افعال پر قیاس کرنے کی غلطی کارفرما ہے کہ چونکہ ہم انسان خود سے ظاہر ہونے والے افعال کے وقت خود میں کچھ تبدیلی محسوس کرتے ہیں، لہذا خدا کا فعل بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔ علامہ ابن تیمیہ اس غلطی پر اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ فعل کی ماہیت میں فاعل میں تبدیلی (حدوث) کا عنصر لازم ہے۔ تاہم یہ ایک بوگس قیاس ہے اس لئے کہ بندوں کے افعال قدرتِ محدثة ( originated power) کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں اور اس لئے بندوں کے معاملے میں فاعل میں کچھ نئے پن کا تصور قابل فہم ہے، لیکن جس فاعل کی قدرت قدیم ہو اس کے ہاں قیاس کے زور پر اس قسم کی تبدیلی کا تصور قائم کرنے کے لئے کوئی مشترک بنیاد موجود نہیں۔ البتہ ابن تیمیہ ایسی رائے اس لئے رکھ سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے پہلے سے خدا کے لئے مکانی اور حوادث کا محل ہونے کو جائز فرض کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ مسلم فلاسفہ کو بھی یہی شبہ لاحق تھا کہ عالم کو حادث ماننے سے خدا میں عدم فعل سے فعل کا تغیر لازم آئے گا، تاہم انہوں نے اس اشکال کا حل خدا پر زمانہ جاری ماننے میں نہیں، بلکہ خدا سے فاعل ہونے کا معنی ختم کرکے عالم کو قدیم کہنے جیسی محال بات میں تلاش کیا۔ ان کے نزدیک خدا سے ازلاً ایک عقل اول صادر ہوتی ہے، پھر اس عقل سے دیگر عقول اور افلاک کا سلسلہ صادر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس عالم میں رونما ہونے والے حوادث اس نظام صدور میں ان عقول و افلاک وغیرہ کی تاثیرات کے ذریعے واقع ہوتے ہیں۔ اس نظریے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ابن سینا کا واجب الوجود عالم میں رونما ہونے والے حوادث پر ان عقول و وسائط کی تاثیرات کے بغیر مؤثر نہیں ہوسکتا۔ وہ ان کے وجود کا مبدا تو ہے لیکن ان کی ماہیات کا خالق نہیں، اور انہی کے ذریعے اس کی تاثیر عالم تک پہنچ سکتی ہے۔
درست بات وہ ہے جو ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ نے سمجھی۔ چونکہ خدا زمان و مکان سے ماورا ہے لہذا یہ “انتظار کا زمانہ” اور “فعلیت کا زمانہ” جیسی لینگویج ہی بے معنی ہے۔ خدا کی کوئی ٹائم لائن نہیں بلکہ ٹائم لائن صرف عالم کی ہے۔ عالم کے ہر لمحے کا ہر حادث براہ راست خدا کی ازلی قدرت اور ارادہ سے متعلق ہے، اس لیے نہ خدا میں کوئی تغیر آتا ہے اور نہ ہی خدا پر “پہلے” اور “بعد میں” کا اطلاق ہوتا ہے۔ زید اگر ۱۹۸۰ میں پیدا ہوا تو مطلب یہ ہے کہ ۱۹۸۰ میں ظاہر ہونے والی اس شے کا خدا کی ازلی قدرت سے تعلق قائم ہوا (یعنی خدا ازل سے “۱۹۸۰ کی شے” کو پیدا کرنے والا ہے)، زید کا وہ پوتا جو ابھی پیدا نہیں ہوا مگر مستقبل کے کسی لمحے مثلاً ۲۰۳۰ میں پیدا ہوسکتا ہے تو مطلب یہ ہے کہ ۲۰۳۰ کے اس لمحے میں اس کا تعلق خدا کی ازلی قدرت سے قائم ہونا جائز ہے یا قائم ہوگا وقس علی ذلک (اس معنی میں خدا ازل سے زید اور اس کے پوتے کا خالق ہے اگرچہ زید اور اس کا پوتا دونوں قدیم نہیں اور نہ ہی ہوسکتے ہیں)۔ اس کے برعکس علامہ ابن تیمیہ کی منطق کا مطلب یہ ہے کہ زید اگر ۱۹۸۰ میں پیدا ہو تو خدا بھی کسی زمانی لمحے میں یہ فعل کررہا ہے، اور اسکا پوتا اگر ۲۰۳۰ میں پیدا ہوا تو خدا اب کسی اگلے زمانی لمحے میں اس کے خلق کا فعل کررہا ہے اور یوں یہ سلسلہ خدا پر ازل سے جاری ہے، فیا للعجب! (اگر ابن تیمیہ یہ کہیں کہ خدا کے سب افعال اس کی ازلی قدرت سے متصل ہیں تو ان کا “پہلے فراغت” اور “پھر فعل” کا اعتراض ہی ختم ہوجائے گا)۔ یہاں یہ مفروضہ بھی چھپا ہوا ہے کہ خدا زید کی پیدائش کا معین زمانہ خود کسی زمانے میں فعل کئے بغیر متعین نہیں کرسکتا۔ الغرض علامہ ابن تیمیہ کا شبہ یہ ہے کہ انہوں نے فعل (object of action) کی صفات کو فاعل پر لاگو کردیا ہے، ۱۹۸۰ میں ظاہر ہونا زید کی صفت ہے فاعل کی نہیں، یہ شبہ انہیں (اور معتزلہ کو) بعض دیگر مسائل میں بھی لگا ہے۔ چنانچہ علامہ ابن تیمیہ اپنے تئیں اگرچہ اس فرضی مسئلے کو حل کررہے ہوں کہ خدا پر فراغت کا الزام ختم کیا جائے، تاہم وہ تجسیم کی اس سے بڑی مصیبت میں جا پڑے ہیں۔





کمنت کیجے