کرپٹو کرنسی پر محترم مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کے فتوے کے بعد اس کی ثقاہت پر کافی بحث چلی ہوئی ہے۔ میں تو اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا کیونکہ میرا یہ موضوع نہیں ہے۔ لیکن اس بحث سے مجھے دہلی کے ایک مشہور عالم کی بات یاد آ گئی جب کاغذی کرنسی پر ان سے فتوے کے لیے رجوع کیا گیا۔ انھوں نے کاغذی کرنسی پر فتویٰ دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یہ کرنسی چل جانی ہے میرا فتویٰ نہیں چلنا۔ میرا خیال ہے کہ یہ صورت حال بدستور ہے۔ موجودہ دنیا میں عالمی سیاسی طاقت اور عالمگیر سرمائے کی نوعیت اور ان کے واقعاتی حالات مسلمانوں کے فتوے اور فہم سے کئی نوری سال آگے جا چکے ہیں۔ فتویٰ سازی سے دل پشوری لہوری ہو جائے تو بعید نہیں لیکن اس سے کوئی تفہیمی یا عملی فائدہ حاصل ہونا بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔
فتویٰ کی معروف تعریف سے ہٹ کر میں کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں۔ فتوی کوئی نظری موقف نہیں ہوتا اور نہ کسی شرعی حکم کا بیان ہوتا ہے۔ فتویٰ اصلاً مسلم فرد کے عمل اور شرعی حکم کے مابین نسبتوں کا بیان ہوتا ہے کیونکہ فتویٰ کوئی نیا حکم اور نیا عمل پیدا نہیں کرتا۔ اس میں شرعی حکم پہلے سے صراحت کے ساتھ موجود ہوتا ہے اور فرد کا عمل تکراری یا نیا ہوتا ہے، اور حکم و عمل کی نسبتیں بھی بالکل نئے سرے سے قائم کرنی پڑتی ہیں۔ اس لیے ایٹم، مالیکیول، سیل، ٹرک، ریلوے، کمپیوٹر، ٹکنالوجی اور سسٹم وغیرہ وغیرہ پر کوئی فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔ طبعی نیچر کے ساتھ انسانی تعلق کی تعیین و تحدید کے لیے اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزوں کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے، اور مثلاً حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے جنگ میں درختوں اور فصلوں کو تلف کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ نیچر کو دیکھنے کا اسلامی تناظر طہارت و نجاست کا ہے، خیر و شر کا نہیں ہے جبکہ تاریخ کو دیکھنے کا ہمارا تناظر خیر و شر کا ہے۔ حلال و حرام نیچر سے تعامل کا مذہبی تناظر ہے جبکہ تاریخ سے تعامل کا تناظر حق و باطل ہے۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ فتویٰ میں شرعی حکم پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ کرپٹو پر کوئی شرعی اور فقہی حکم صراحت سے موجود ہی نہیں ہے تو فتویٰ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ نئے سے نئے انسانی اعمال کا ظاہر ہونا معاشرے اور تاریخ کا معمول ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اول اول شرعی مؤیدات کے حامل فقہی حکم کو سامنے لایا جائے اور اس کی فقہی تصریحات قائم کی جائیں۔ فتویٰ اس کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے۔ یہ کہنا کہ نئے فقہی احکام اجتہاد سے ہی سامنے لائے جا سکتے ہیں حد درجہ سادہ لوحی کی بات ہے۔ اجتہاد نئے فقہی حکم کی دو جہتوں کو تعیین کرتا ہے۔ ایک یہ کہ اس کی شریعت سے کیا نسبتیں ہیں اور کن اصولوں پر قائم کی گئی ہیں، اور دوسرا یہ کہ اس کی نئے انسانی عمل سے نسبتیں قائم کرنے کی منہج کیا ہے۔ لیکن کوئی اجتہاد سرے سے ممکن ہی نہیں ہے اگر اجتہادی کاوش کو نظری علم کے وسائل فراہم نہ ہوں۔ جس طرح نیا انسانی عمل اجتہادی حکم کا موضوع ہے اسی طرح وہ دنیا (معاشرہ+تاریخ) جس کے نئے حالات و مؤثرات میں وہ انسانی عمل سامنے آیا ہے نظری علم کا موضوع ہے۔ نظری علم کے اوّلی تعینات کے بغیر اجتہاد کی کوئی معنویت ہی نہیں ہے۔
جدید سیاسی طاقت اور عالمگیر سرمائے نے پوری انسانیت کو ایک بالکل ہی نئی صورت حال میں لا کھڑا کیا ہے، جسے بالعموم ٹکنالوجیائی صورت حال (technological condition) کہا جاتا ہے۔ میرے پاس اس صورت حال کو دیکھنے کا واحد تناظر امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا دارالحرب اور دار الاسلام کا ”فتوی“ ہے۔ فتویٰ کی کسی بھی فقہی تعریف کے مطابق اسے ”فتویٰ“ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے میں اسے سیاسی طاقت کے بارے میں امام اعظمؒ کا ایک نظری موقف (تھیوری) سمجھتا ہوں، اور ان کا یہ موقف کسی بھی شرعی حکم سے اول (prior) اور خارج (external) ہے اور اس دنیا، درست تر معنوں میں، اس تاریخ کو بیان کرتا ہے جو سیاسی طاقت کی بالفعل قائم عملداری اور مؤثرات کا محل ہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے اس ”فتوے“ کی جو تنقیحات قائم کی ہیں وہ بہت اہم ہیں۔
دارالحرب اور دارالاسلام بنیادی طور پر سیاسی طاقت کا نظری موقف ہے۔ امام صاحب کے موقف میں بنیادی بات سیاسی طاقت کی ہیئت ہے اور جو اس تقسیم کی بنیاد ہے یعنی سیاسی طاقت کی ایک قسم کو انھوں نے دارالحرب قرار دیا ہے اور دوسری ہیئت کو دارالاسلام کہا ہے۔ ”دارالحرب“ کو ”دارالکفر“ قرار دینے سے عقیدہ مؤکد ہو جاتا ہے اور عمل پس منظر میں چلا جاتا ہے جبکہ سیاسی طاقت اور شریعت /قانون میں اولیت اور اہمیت عمل کی ہوتی ہے۔ دارالحرب سے مراد وہ سیاسی قوت ہے جو شریعت کے روبرو انقیاد و نفاذ کی پوزیشن نہیں رکھتی اور اپنے آپ میں ساورن ہے۔ دارالاسلام سے مراد ایسی سیاسی قوت ہے جو شریعت سے انقیاد و نفاذ کا تعلق رکھتی ہے۔ اس میں نفاذ ضمنی ہے اور انقیاد اساسی ہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کی تنقیحات کے مطابق دارالحرب قائم ہونے کی صورت میں مسلمان دین کے ان پہلوؤں کا مکلف و پابند رہتا ہے جن کا براہ راست تعلق نفاذی قوت سے نہیں ہے۔ دارالحرب کے نظری موقف میں سب سے اہم پہلو ج.ہا.د کی فرضیت ہے تاکہ عین اس سیاسی طاقت کو بحال کیا جا سکے جو شریعت کے روبرو انقیاد و نفاذ کی پوزیشن رکھتی ہے، اور جس کی اولین ذمہ داری عادلانہ معاشی نظام کا قیام ہے۔ ایسی سیاسی طاقت جو سود کو ختم کر دے اور زکٰوۃ کا نظام قائم کرے اپنی ہیئت اور نوعیت میں اُس سیاسی طاقت سے بالکل مختلف ہے شریعت کے روبرو کوئی انقیادی پوزیشن نہیں رکھتی۔ اس طرح دارالحرب اور دارالاسلام میں بنیادی ترین فرق شریعت کے روبرو انقیاد اور عدم انقیاد سے پیدا ہوتا ہے، اور یہی وہ محل ہے جہاں سے ہمیں جدید سیاسی طاقت اور ساورنٹی کی بحث اٹھانے کی ضرورت ہے۔
گزارش ہے کہ اس وقت سیاسی طاقت کی وہ ہیئت جسے دارالحرب کہا گیا ہے وہ عالمگیر ہو چکی ہے اور کرۂ ارض کا کوئی گوشہ اس کی عملی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ اس جدید سیاسی طاقت کے حوالے سے سود اور زکٰوۃ کی بحث اٹھانا ہمارے اہلِ علم کی بے خبری اور حریصانہ سادہ لوحی کی غماز ہے کیونکہ اس میں سے موجودہ صورت حال کی فہم غیرحاضر ہوتی ہے۔ جدید سیاسی طاقت کو صرف اس لیے برا سمجھنا کہ وہ سود کا نظام قائم کرتی ہے کارِ ثواب یقیناً ہے لیکن مسلمانوں کی موجودہ ضرورت کے لیے ناکافی ہے۔ واقعاتی بات یہ ہے کہ جدید سیاسی طاقت نے فطرت معاشرہ اور فطرت انسان کو ہی منہدم کر دیا ہے، اور یہ کام اس نے سرمائے کو سیاسی بنا کر کیا ہے۔ اسلام حریت انسانی کا علمبردار و پاسبان ہے، اور یہ ایک عملی مسئلہ ہے اور انسان اس کا تحقق اپنے آزاد معاشی عمل سے سامنے لاتا ہے، یعنی آزاد مارکیٹ میں روزگار کے مواقع۔ ہمارے فقہ اور اصول فقہ میں معاملات کے تحت جن امور کو زیربحث لایا جاتا ہے ان کا تعلق بازار یا مارکیٹ سے ہے، اور جو ہمیشہ فقہ و شریعت کی عملداری میں سیاسی مداخلت و جبر سے آزاد رہی ہے۔ اسلام انسانی ملکیت کے نہایت صریح احکام اور مارکیٹ کی مکمل آزادی سے انسانی حریت کے آئیڈیل کو حاصل کرنے کا نام ہے۔ جدید سیاسی طاقت نے کرنسی کو سیاسی بنا کر عدل اور انسانی حریت کے امکانات ہی کا خاتمہ کر دیا ہے اور سرمایہ داری نظام کو بندوق کے زور سے پوری انسانیت پر مسلط کر دیا ہے۔ انسانی معاشرے میں نہایت اساسی نوعیت کی تبدیلی زرِ اجباری کے ذریعے سے لائی گئی ہے تاکہ انسانی زندگی کے ہر عمل پر سیاسی کنٹرول اور جبر کو ممکن بنایا جا سکے۔
معاش اور معاشی سرگرمی انسانی معاشرے کی طبعی اور فطری اساس ہے، اور دینی معاشرت کا قیام بھی ایک ایسے معاشرے ہی میں ممکن ہے جو اپنی فطری اساس باقی رکھے ہوئے ہو۔ زر اجباری (fiat money) کے اجرا، سود کی تنظیم کاری کے لیے مالیاتی پالیسی (monetary policy) اور سالانہ سرمایہ پالیسی (fiscal policy) سے سیاسی طاقت انسانی معاشرے کی عروق شعریہ تک اپنا کنٹرول اور جبر قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، اور حریت اور عدل محض افسانہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام بیک وقت سیاسی اور معاشی ہے، اور جدید فرمانروائی کا ایک مکمل نظام ہے۔ سادہ لفظوں میں، اس نظام میں سیاسی طاقت کی deployment کے تمام تر اسالیب معاشی ہیں اور زرِ اجباری سے جڑے ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک سیاسی طاقت کی موجودہ عالمگیر ہیئت ہی دارالحرب ہے اور ہمیں اس کے خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔




کمنت کیجے