Home » ول ڈیورانٹ کا تصورِ مذہب
شخصیات وافکار فلسفہ مطالعہ کتب

ول ڈیورانٹ کا تصورِ مذہب

وسیم رضا ماتریدی

(یہ مطالعہ تہذیب کی کہانی کے عربی ترجمہ “قصۃ الحضارۃ” کی روشنی میں کیا گیا ہے )۔

ول ڈیورانٹ کی تہذیبی تاریخ نگاری میں مذہب کو ایک بنیادی مقام حاصل ہے۔ وہ اسے انسانی زندگی کا کوئی عارضی یا ضمنی مظہر نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اخلاق، معاشرت، سیاست، فن اور تہذیبی وحدت کی تشکیل میں مؤثر قوت قرار دیتا ہے۔ تاہم مذہب کی تعبیر کرتے ہوئے اس کی توجہ اس کے الٰہی اور وحیانی ماخذ سے زیادہ ان نفسیاتی، سماجی اور تاریخی عوامل پر رہتی ہے جن کے تحت مذہبی تصورات پیدا ہوئے، ترقی پائی اور انسانی معاشروں پر اثرانداز ہوئے۔

ڈیورانٹ مذہب کی تعریف کرتے ہوئے اسے ان فوق الطبیعی قوتوں کی عبادت قرار دیتا ہے جنھیں انسان محسوس فطرت سے ماورا سمجھتا ہے۔ اصل انگریزی متن میں اس نے مذہب کے لیے “the        worship         of         supernatural         forces” کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔[1] اس تعریف میں مذہب کے تین بنیادی عناصر سامنے آتے ہیں: انسان، مافوق الفطرت قوتوں کا تصور، اور ان قوتوں کے ساتھ عبادت یا تعظیم پر مبنی تعلق۔

یہ تعریف مذہب کی ایک عمومی تاریخی و بشریاتی صورت تو واضح کرتی ہے، لیکن تمام مذہبی روایتوں کا مکمل احاطہ نہیں کرتی۔ بعض مذاہب اور روحانی روایتوں میں کسی شخصی فوق الطبیعی ہستی کی عبادت بنیادی عنصر نہیں ہوتی۔ اس لیے ڈیورانٹ کی تعریف کو مذہب کی جامع فلسفیانہ تعریف کے بجائے تاریخی مطالعے کے لیے اختیار کی گئی ایک ابتدائی عملی تعریف سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔

ڈیورانٹ کے نزدیک مؤرخ کا بنیادی کام یہ فیصلہ کرنا نہیں کہ کوئی مذہب حق ہے یا باطل۔ وہ لکھتا ہے:

“یہ مؤرخ کا کام نہیں کہ وہ پوچھے: یہ مذہب حق ہے یا باطل؟ آخر اسے ایسا ہمہ گیر علم کہاں سے حاصل ہوسکتا ہے جو ہر شے کا احاطہ کرتا ہو؟” [2]

اس اصول کی رو سے مؤرخ کسی مذہب کے مابعد الطبیعی دعووں کی تصدیق یا تردید کے بجائے اس کے تاریخی ظہور، اجتماعی اثرات، اخلاقی کردار اور تہذیبی نتائج کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کسی مذہب نے انسانی معاشرے کو کس طرح منظم کیا، اس کے عقائد نے کون سے ادارے پیدا کیے اور اس نے افراد کے طرزِ فکر و عمل میں کیا تبدیلیاں پیدا کیں۔

تاہم ڈیورانٹ کی تاریخ نگاری میں ایک داخلی تناؤ بھی دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وہ مذہبی حقانیت کے متعلق مؤرخ کو فیصلہ صادر کرنے سے روکتا ہے، لیکن دوسری طرف مذہب کے ظہور اور ارتقا کی ایسی نفسیاتی و سماجی توضیحات پیش کرتا ہے جن میں اس کے الٰہی ماخذ کا امکان بہت حد تک پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یوں مذہب کے حق و باطل پر فیصلہ معلق رکھنے کے باوجود اس کی تعبیر زیادہ تر طبیعی، نفسیاتی اور عمرانی عوامل کے ذریعے کی جاتی ہے۔

مذہب کی نفسیاتی بنیادیں:

ڈیورانٹ نے انسان میں پائے جانے والے مذہبی رجحان کو خوف، حیرت، خواب، جذباتی و تخیلاتی حس اور مخفی قوتوں کے تصور سے وابستہ کیا ہے۔[3]

خوف کو وہ مذہب کے اہم ابتدائی محرکات میں شمار کرتا ہے۔ انسان بیماری، حادثے، قدرتی آفات اور بالخصوص موت کے سامنے اپنی بے بسی محسوس کرتا ہے۔ اس بے بسی کے نتیجے میں وہ ایسی قوتوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے جنھیں وہ فطرت پر تصرف کرنے اور انسانی مصائب کو دور کرنے کے قابل سمجھتا ہے۔

مذہب کو صرف خوف کی پیداوار قرار دینا، البتہ، مذہبی شعور کی مکمل تعبیر نہیں۔ انسانی مذہبی تجربے میں محبت، شکر، جمال، اخلاقی ذمہ داری، وجودی حیرت اور حقیقت کی جستجو بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ خوف مذہب کی بعض ابتدائی صورتوں کی وضاحت تو کرسکتا ہے، مگر اس کے تمام فکری، اخلاقی اور عرفانی مظاہر کی نہیں۔

ڈیورانٹ حیرت کو بھی مذہبی تصور کے ظہور کا ایک سبب قرار دیتا ہے۔ قدیم انسان جب آسمان، ستاروں، بارش، بجلی، طوفان، پیدائش اور موت جیسے مظاہر کی طبعی توضیح پیش کرنے سے عاجز تھا تو اس نے ان کے پسِ پشت غیبی قوتوں کا تصور قائم کیا۔ فطرت کے سامنے یہی حیرت رفتہ رفتہ تقدس، عبادت اور مذہبی رسوم کا سرچشمہ بنی۔

اس توضیح میں ایک بنیادی سوال باقی رہتا ہے: کیا کسی مظہر کی طبعی اور سائنسی تشریح اس کے مذہبی یا مابعد الطبیعی معنی کو لازماً منسوخ کردیتی ہے؟ مذہبی انسان فطری اسباب کا انکار کیے بغیر بھی انھیں کسی وسیع تر الٰہی نظم کا حصہ سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے طبعی توضیح اور مذہبی معنویت ایک دوسرے کی لازمی ضد نہیں۔

خوابوں نے بھی، ڈیورانٹ کے نزدیک، روح، موت کے بعد زندگی اور غیر مرئی عالم کے تصورات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔ انسان خواب میں مرنے والوں کو زندہ دیکھتا، دور رہنے والوں سے ملاقات کرتا اور محسوس دنیا سے مختلف تجربات سے گزرتا تھا۔ ان تجربات نے اسے اس خیال کی طرف مائل کیا کہ جسم سے الگ بھی انسانی وجود کی کوئی صورت ہوسکتی ہے۔

خواب کسی مذہبی عقیدے کے پیدا ہونے کا نفسیاتی موقع فراہم کرسکتے ہیں، مگر اس سے اس عقیدے کی صداقت یا بطلان کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ کسی تصور کی نفسیاتی پیدائش اور اس کی خارجی حقیقت دو الگ مسائل ہیں۔

ڈیورانٹ انسان کی شاعرانہ، جذباتی اور تخیلاتی قوت کو بھی مذہبی عقائد کی تشکیل سے متعلق سمجھتا ہے۔ انسان محض مادی خواہشات اور عقلی استدلال کا مجموعہ نہیں؛ وہ حسن، محبت، خوف، امید، حیرت اور معنویت کا تجربہ بھی کرتا ہے۔ یہی داخلی صلاحیت اسے فرشتوں، ارواح، جنات اور غیر مرئی موجودات کے تصور کی طرف لے جاتی ہے۔

اسی طرح قدیم انسان مظاہرِ فطرت کے پیچھے مخفی قوتوں یا ارواح کا تصور قائم کرتا تھا۔ ہوا سے حرکت کرتے ہوئے پتے، آندھی، بجلی، بیماری اور دیگر فطری واقعات اس کے لیے کسی غیر مرئی قوت کی کارفرمائی کے آثار تھے۔ ڈیورانٹ اس تصور کو روح پرستی اور ابتدائی مذہبی شعور کے ارتقا سے وابستہ کرتا ہے۔

یہ توضیحات مذہب کی بعض ابتدائی صورتوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں، لیکن ان کا اطلاق تمام ترقی یافتہ مذہبی اور فلسفیانہ روایتوں پر یکساں طور پر نہیں کیا جاسکتا۔ مذہب کی اعلیٰ اخلاقی، عرفانی اور وجودی صورتوں کو محض خوف، خواب یا مظاہرِ فطرت سے لاعلمی تک محدود کرنا ایک اختزالی رویہ ہوگا۔

مذہب، اخلاق اور اجتماعی نظم:

ڈیورانٹ کے تصورِ مذہب کا اہم ترین پہلو اس کا اخلاقی اور اجتماعی کردار ہے۔ اس کے مطابق مذہب نے اساطیر، محرمات، ثواب اور عذاب کے تصورات کے ذریعے اخلاقی نظم کی حفاظت کی۔ وہ لکھتا ہے کہ مذہب دو بنیادی وسائل :اساطیر اور محرمات کے ذریعے اخلاق کو استحکام عطا کرتا ہے۔[4]

اساطیر ایک ایسا فوق الطبیعی نظامِ اعتقاد پیدا کرتی ہیں جس کے ذریعے معاشرتی طور پر مطلوب رویوں کو مقدس تائید حاصل ہوجاتی ہے۔ جن اقدار کو معاشرہ یا مذہبی پیشوا برقرار رکھنا چاہتے ہیں، انھیں خدائی حکم، آسمانی اجر اور اخروی سزا سے وابستہ کردیا جاتا ہے۔ اس طرح فرد صرف خارجی قانون کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنے داخلی خوف، امید اور مذہبی ضمیر کے باعث بھی اخلاقی پابندیوں کو قبول کرتا ہے۔

مذہب نے تاریخی طور پر ملکیت، عہد، نکاح، خاندان، باہمی اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری کو تقدس عطا کیا۔ ریاستی قانون انسان کے ظاہری اعمال کی نگرانی کرسکتا ہے، لیکن مذہبی اعتقاد اس کے باطن میں ایک ایسی نگرانی پیدا کرتا ہے جو تنہائی میں بھی اس کے عمل پر اثرانداز ہوتی ہے۔

ڈیورانٹ مذہب کو اخلاق کی واحد اور لازمی بنیاد قرار نہیں دیتا۔ اس کے نزدیک اخلاقی اقدار مذہب کے بغیر بھی پیدا ہوسکتی ہیں، اور بعض تاریخی ادوار میں اخلاقی ترقی مذہبی اداروں کی مزاحمت کے باوجود بھی ہوئی ہے۔ تاہم وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ مذہب اخلاق کا نہایت مؤثر تاریخی محافظ رہا ہے۔

اس کے موقف کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ مذہب ہمیشہ اخلاق کا خالق نہیں، لیکن وہ اخلاقی اصولوں کو تقدس، دوام اور اجتماعی قوت فراہم کرتا ہے۔ یہ فرق اہم ہے، کیونکہ ڈیورانٹ مذہب کی صداقت کے بجائے اس کے سماجی وظیفے پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔

مذہب اور سیاسی اقتدار کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے عربی تحقیقات میں ایک ایسی عبارت ڈیورانٹ کے قول کی حیثیت سے پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عام لوگوں کو صرف عقلی دلائل سے وقار، پرہیزگاری اور ایمان پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس کے لیے مذہبی خوف، اساطیر اور عجائب کی ضرورت ہوتی ہے۔[5]

اصل تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت دراصل قدیم یونانی جغرافیہ نگار اسٹرابو کی ہے، جسے ڈیورانٹ نے مذہب اور اجتماعی نظم کی بحث میں نقل کیا ہے۔ اس لیے اسے بلاواسطہ ڈیورانٹ کا قول قرار دینا درست نہیں۔ البتہ ڈیورانٹ نے اسے جس سیاق میں نقل کیا ہے، اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذہبی خوف کو اجتماعی نظم اور سیاسی اطاعت کے قیام میں ایک مؤثر قوت سمجھتا تھا۔

قانون جب صرف انسانی حکم نہ رہے بلکہ خدائی فرمان سمجھا جائے تو اس کی پابندی زیادہ مضبوط ہوجاتی ہے۔ لیکن یہاں مذہب کے اخلاقی کردار اور حکمرانوں کے ہاتھوں اس کے سیاسی استعمال میں فرق ضروری ہے۔ مذہب کا کسی معاشرے کو اخلاقی نظم فراہم کرنا اور اقتدار کا مذہبی تقدس کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا دو الگ امور ہیں۔

مذہب کا تاریخی اور تہذیبی کردار:

ڈیورانٹ مذہب کے تاریخی سفر کو ایک ایسے عمل کی صورت میں دیکھتا ہے جس میں مذہب ابتدا میں پریشان اور بے بس انسان کو غیبی تسلی فراہم کرتا ہے، پھر اپنے عروج میں عقیدے اور اخلاق کی وحدت پیدا کرتا ہے، اور آخر میں بدلتے ہوئے علمی و معاشرتی حالات سے تصادم کی صورت میں زوال کا شکار ہوجاتا ہے۔

اس کی عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ مذہب ابتدا میں حیران اور پریشان انسان کے لیے جادوئی مدد کا سامان بنتا ہے، پھر اخلاق و عقیدے کی وحدت کے ذریعے تہذیب کو استحکام دیتا ہے، سیاست اور فن کی معاونت کرتا ہے، اور آخرکار ماضی کے ایک شکست خوردہ قضیے کا دفاع کرتے ہوئے خودکُشانہ جنگ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔[6]

اس تعبیر میں مذہب کے متعلق ڈیورانٹ کا موقف یکسر منفی نہیں۔ وہ مذہب کو تہذیب کی تعمیر میں ناگزیر سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک مذہب نے انسان کو مشترک اخلاق، اجتماعی شناخت، امید، ضبطِ نفس، قربانی اور فنون کے لیے ایک عظیم علامتی دنیا فراہم کی۔

وہ یہ سمجھتا ہے کہ تہذیب صرف عسکری قوت، سیاسی تنظیم یا معاشی وسائل سے قائم نہیں رہتی۔ اس کی بقا کے لیے ایسے مشترک تصورات درکار ہوتے ہیں جو افراد کو اپنی فوری خواہشات پر قابو پانے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے اور اجتماعی مفاد کے لیے قربانی دینے پر آمادہ کریں۔ مذہب نے طویل تاریخی ادوار میں یہی کردار ادا کیا۔

لیکن ڈیورانٹ کے نزدیک مذہبی ادارے جب علم، معاشرت اور اخلاقی تبدیلی کے ساتھ مکالمہ کرنے کے بجائے ہر نئی تبدیلی کو ماضی کے لیے خطرہ سمجھنے لگیں تو مذہب اور معاشرے میں کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ یہاں اس کی تعبیر مذہبی اداروں کی تاریخی جمود پذیری پر تنقید بن جاتی ہے۔

اس تصور کی قوت یہ ہے کہ وہ مذہب کے عروج و زوال کو تہذیبی حالات سے وابستہ کرتا ہے۔ اس کی کم زوری یہ ہے کہ وہ مذہبی روایتوں کی داخلی اصلاح، تجدید، اجتہاد اور نئے فکری حالات کے ساتھ تخلیقی ہم آہنگی کی صلاحیت کو مناسب اہمیت نہیں دیتا۔ تاریخ میں متعدد مذہبی روایتوں نے ماضی کی محض حفاظت کے بجائے نئے حالات میں اپنی فکری و اخلاقی تجدید بھی کی ہے۔

مذہبی رسوم اور مختلف ادیان کے بارے میں رویہ:

ڈیورانٹ نے کعبہ کے طواف کی مثال دیتے ہوئے مذہبی رسوم کی داخلی اور خارجی تفہیم کے فرق کی طرف توجہ دلائی ہے۔ عربی ترجمے میں اس کی عبارت اس انداز میں سامنے آتی ہے کہ غیر مسلم کو کعبہ کا طواف ایک غیر عقلی یا خرافاتی عمل محسوس ہوسکتا ہے، اور تمام مذاہب میں ایسی رسوم داخل ہوجاتی ہیں جو دوسروں کے لیے ناقابلِ فہم ہوتی ہیں۔[7]

لیکن اصل انگریزی عبارت کا مکمل سیاق نسبتاً زیادہ متوازن ہے۔ ڈیورانٹ یہ کہتا ہے کہ جس طرح غیر مسلم کو طوافِ کعبہ غیر مانوس یا توہم پرستانہ محسوس ہوسکتا ہے، اسی طرح مسلمان بھی مسیحی عشائے ربانی کی رسم کو اس کے داخلی مذہبی اور رمزی مفہوم کے بغیر سمجھ نہیں پاتا۔

اس تقابل کا مقصد صرف طواف کو خرافہ قرار دینا نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ ہر مذہبی رسم اپنی روایت کے داخلی نظامِ معنی میں قابلِ فہم ہوتی ہے۔ کسی عبادت کو محض خارجی مشاہدے کی بنیاد پر جانچنا اس کے حقیقی معنوی اور روحانی پس منظر کو نظر انداز کرسکتا ہے۔

یہ مقام اس امر کی مثال ہے کہ عربی ترجمے یا کسی اقتباس کو اس کے مکمل سیاق سے الگ پڑھنے پر ڈیورانٹ کا موقف اصل کے مقابلے میں زیادہ سخت محسوس ہوسکتا ہے۔

ڈیورانٹ نے یہودی قوم، عبرانی زبان اور یہودی اخلاقی روایت کے بارے میں متعدد تحسینی عبارات بھی لکھی ہیں۔ وہ قدیم یہودی عورتوں کے حسن و آرایش، عبرانی زبان کی موسیقیت اور یہودی قوم کی فضیلت پسندی کی تعریف کرتا ہے۔[8]

وہ یہودیوں کی علاحدگی کو ان کی تقویٰ شعاری، ان کے نزاعی مزاج کو شدید حساسیت اور ان کے نسلی غرور کو صدیوں کے مصائب میں ان کی استقامت کا سہارا قرار دیتا ہے۔

یہ تحسینی زبان بذاتِ خود کسی تعصب کا قطعی ثبوت نہیں۔ ایک مؤرخ کسی قوم کی علمی، اخلاقی یا ادبی خدمات کی تعریف کرسکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ یہی تفہیمی ہمدردی دوسری مذہبی اور تہذیبی روایتوں کے لیے بھی یکساں طور پر اختیار کرتا ہے؟

عربی تحقیقات میں یہ احتمال ظاہر کیا گیا ہے کہ یہودیت کے بارے میں ڈیورانٹ کے مثبت رویے پر اس کی اہلیہ ایریل ڈیورانٹ کے یہودی خاندانی پس منظر کا اثر ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ایک قیاسی رائے ہے۔ محض ایریل ڈیورانٹ کا یہودی خاندان میں پیدا ہونا اس بات کے لیے کافی دلیل نہیں کہ یہودی تاریخ کے متعلق ول ڈیورانٹ کی مثبت آرا اسی خاندانی تعلق کا نتیجہ تھیں۔

کسی مصنف کی فکری ترجیحات کو اس کے شریکِ حیات کے خاندانی پس منظر سے وابستہ کرنے کے لیے اس کے خطوط، ذاتی تحریروں، مکالمات یا واضح سوانحی شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ڈیورانٹ کے مختلف مذاہب کے بارے میں رویے کو اس کے متن، مصادر اور تاریخی معیار کے تقابلی مطالعے کی بنیاد پر جانچنا زیادہ مناسب ہوگا۔

اسلام کے متعلق ڈیورانٹ کی بعض آرا بھی تنقید کا موضوع بنی ہیں۔ عربی تحقیقات میں اس کی طرف اسلامی تعلیمات کے جمود، عورتوں کے مسجد میں داخلے کی ممانعت، مسلم فاتحین کی وحشت اور فتحِ ہند کی خون ریزی سے متعلق سخت احکام منسوب کیے گئے ہیں۔[9]

ان تمام مقامات پر اصل انگریزی متن کی الگ الگ جانچ ضروری ہے۔ مثال کے طور پر عورتوں کے مسجد میں داخلے کے بارے میں ڈیورانٹ یہ لکھتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت دی اور ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا۔ اس کے بعد وہ مسلم تاریخ کے بعض ادوار میں عورتوں کی بڑھتی ہوئی سماجی علاحدگی اور مسجدوں سے ان کے اخراج کا ذکر کرتا ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ ڈیورانٹ نے مطلقاً اسلام کو عورتوں کے مسجد میں آنے سے مانع قرار دیا، اصل بحث کی مکمل ترجمانی نہیں۔ اس نے عہدِ نبوی اور بعد کے مسلم معاشروں کے تاریخی رویوں میں فرق کیا ہے، اگرچہ اس کی بعض عمومی تعبیریں مزید تنقیدی مطالعے کی محتاج ہیں۔

ڈیورانٹ کی تحریروں کے مطالعے میں عربی ترجمے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن متنازع اور حساس مقامات پر اصل انگریزی عبارت دیکھنا ناگزیر ہے۔ Possibly، perhaps، suspected، thought اور may        have جیسے الفاظ ترجمے میں قطعی دعووں میں بدل سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی طویل اور متوازن بحث سے ایک مختصر جملہ الگ کرلینے سے مصنف کا موقف اصل سے زیادہ شدید دکھائی دے سکتا ہے۔

تنقیدی جائزہ:

ڈیورانٹ کا تصورِ مذہب اپنی وسعت کے باوجود بعض بنیادی کم زوریوں کا حامل ہے۔ وہ مذہب کے نفسیاتی اور سماجی اسباب تو تفصیل سے بیان کرتا ہے، مگر بعض اوقات انھی اسباب کو مذہب کی مکمل حقیقت سمجھ لیتا ہے۔

خوف، حیرت، خواب یا سماجی ضرورت کسی مذہبی تصور کے ظہور کی وضاحت کرسکتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی چیز بذاتِ خود اس تصور کی صداقت یا بطلان ثابت نہیں کرتی۔ کسی شخص کا پانی کی ضرورت کے باعث کنویں کی طرف جانا یہ ثابت نہیں کرتا کہ کنویں میں پانی موجود نہیں۔ اسی طرح کسی مذہبی عقیدے کی انسانی ضرورت سے مطابقت اس کے غیر حقیقی ہونے کی دلیل نہیں بنتی۔

ڈیورانٹ کے ہاں مذہب کی تعبیر میں فعلیت پسندی بھی نمایاں ہے۔ وہ اکثر یہ سوال پوچھتا ہے کہ مذہب نے معاشرے کے لیے کیا کام کیا: اس نے اخلاق کو کیسے محفوظ کیا، ریاست کو کیسے استحکام دیا، فرد کو کیسے مطیع بنایا اور تہذیب کو کیسے متحد کیا۔

یہ سوال اہم ہیں، لیکن مذہب صرف ایک سماجی ادارہ نہیں۔ اس میں عبادت، تعلق باللہ، عرفانی تجربہ، توبہ، محبت، دعا، قرب، روحانی تبدیلی اور وجودی معنویت کے پہلو بھی شامل ہیں۔ مذہب کو صرف اس کے معاشرتی وظائف تک محدود کردینے سے اس کا داخلی اور تجربی جوہر پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

اسی طرح مذہب کے ارتقا کو جادو سے اخلاقی وحدت اور پھر ماضی کے دفاع میں زوال تک محدود کرنا ایک وسیع عمومی حکم ہے۔ تمام مذہبی روایتوں کی تاریخ اس یکساں ترتیب کے مطابق آگے نہیں بڑھی۔ مذہب نے بعض ادوار میں جمود پیدا کیا تو بعض ادوار میں اصلاح، علمی تحریک، اخلاقی انقلاب اور سماجی تجدید کی بنیاد بھی فراہم کی۔

ڈیورانٹ مذہب کی تہذیبی ناگزیریت کو گہرائی سے محسوس کرتا ہے، لیکن مذہبی تجربے کی وحیانی اور مابعد الطبیعی حقیقت کو مکمل سنجیدگی سے موضوع نہیں بناتا۔ اس کے نزدیک مذہب انسان کو امید، اخلاق، اجتماعی وحدت اور زندگی کا معنی دیتا ہے، مگر وہ اکثر اس سوال کو معلق چھوڑ دیتا ہے کہ آیا مذہبی حقیقت انسان کی داخلی ضرورت کی محض تخلیق ہے یا انسان کی ضرورت کسی حقیقی ماورائی وجود کی طرف اشارہ بھی ہوسکتی ہے۔

اس لیے ڈیورانٹ کا تصورِ مذہب نہ مذہب کی سادہ نفی ہے اور نہ روایتی مذہبی ایمان کی تائید۔ وہ مذہب کو انسانی تاریخ کی ایک عظیم، مؤثر اور ناگزیر قوت سمجھتا ہے، لیکن اس کی حقیقت کو بنیادی طور پر انسانی نفسیات، اجتماعی ضرورت اور تہذیبی کردار کے ذریعے بیان کرتا ہے۔

اس کی فکر کی سب سے بڑی قوت مذہب کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت کا ادراک ہے، اور اس کی سب سے بڑی کم زوری مذہب کے جوہر کو اس کے نفسیاتی آغاز اور سماجی وظائف میں تحلیل کردینا ہے۔

حواشی و حوالہ جات

[1] ول دیورانت، قصة الحضارة، عربی ترجمہ، بیروت: دار الجیل، ج 1، ص 98؛ نیز:        Will Durant,        Our         Oriental         Heritage,         The         Story of         Civilization, Vol. I, “The         Elements          of          Civilization,” section “Religion” (New York: Simon and Schuster, 1935).

[2] ول دیورانت ڈیورانت، قصة الحضارة، ج 13، ص 53۔ یہ حوالہ عربی نسخے کے مطابق ہے۔

[3] ایضاً، ج 1، ص 99–102؛ نیز: Will        Durant,         Our        Oriental         Heritage، مذہب کے ابتدائی نفسیاتی عوامل سے متعلق بحث۔

[4] ول دیورانت، قصة الحضارة، ج 1، ص 117؛          Will        Durant,        Our         Oriental         Heritage,           section “The         Moral          Function            of Religion.”

[5] ول دیورانت، قصة الحضارة، ج 1، ص 97؛ اصل عبارت کے لیے ملاحظہ ہو: Strabo, Geography, Book I, 2.8۔ ڈیورانٹ نے اس قول کو مذہب اور اجتماعی نظم کی بحث میں نقل کیا ہے۔

[6] ول دیورانت، قصة الحضارة، ج 1، ص 121؛ Will         Durant,           Our            Oriental        Heritage, “The         Moral          Function           of          Religion.”

[7] ول دیورانت، قصة الحضارة، ج 13، ص 128؛ Will         Durant,        The          Age        of         Faith,         The        Story          of          Civilization, Vol. IV، حج اور مکہ سے متعلق بحث (New York: Simon         and        Schuster, 1950).

[8] ول دیورانت، قصة الحضارة، ج 2، ص 329، 345، 377؛ نیز Our        Oriental        Heritage میں قدیم یہودی معاشرت، عبرانی زبان اور یہودی اخلاقی روایت سے متعلق مباحث۔

[9] اسلامی تعلیمات اور عصرِ جدید کے متعلق: قصة الحضارة، ج 3، ص 141؛ عورت اور مسجد: ج 1، ص 63؛ مسلم فاتحین: ج 3، ص 125، 127؛ فتحِ ہند: ج 3، ص 125؛ یہودِ مدینہ: ج 13، ص 36۔ یہ جلد اور صفحات دار الجیل سے شائع شدہ عربی نسخے کے مطابق ہیں۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں