Home » نظریہ امامت کے مختلف ظہور
اسلامی فکری روایت سیاست واقتصاد شخصیات وافکار کلام

نظریہ امامت کے مختلف ظہور

نظریہ امامت کا ظہور اسلامی تاریخ میں دو سیاسی حقیقتوں کے پس منظر میں ہوا تھا: پہلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے متعلق یہ رجحان کہ آپ کے قرابت دار ہونے اور اہلیت سے متصف ہونے کی وجہ سے اقتدار انھی کو ملنا چاہیے تھا۔ اور دوسرا، یہ واقعہ کہ قریش کے طرزِ حکمرانی میں تدریجاً‌ خلافت کے بجائے ملوکیت کے اوصاف نمایاں ہوتے چلے گئے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں کے مطابق کئی مواقع پر جبر واستبدادِ محض کی صورت بھی اختیار کر لی۔
اس تناظر میں اہل بیت کے استحقاقِ خلافت کے رجحان نے جب ایک سیاسی نظریے کی صورت اختیار کی تو اس کے عناصرِ ترکیبی میں ’’معصومیت’’ کا عقیدہ شامل ہونا ناگزیر تھا، کیونکہ بنیادی سوال ہی یہ تھا کہ اقتدار اگر صاحبِ اقتدار کو کرپٹ کر دیتا ہے تو کسی خاص گروہ کے لیے اس کے ابدی استحقاق کا دعویٰ کیونکر کیا جا سکتا ہے؟ معصومیت کا عقیدہ دراصل اسی سوال کا جواب تھا۔
اسی سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ امامت کے نظریے میں ظاہراً‌ نبوت کے تسلسل کی صورت پائے جانے کے باوجود اہل سنت کے متقدمین ائمہ اور متکلمین نے اس کی بنیاد پر اہل تشیع کی تکفیر کیوں نہیں کی۔ وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ ائمہ کے مہبطِ وحی اور معصوم ہونے کے نظریے کا محرک براہ راست ختم نبوت کے عقیدے کی نفی کرنا اور نبوت کو جاری وساری قرار دینا نہیں، بلکہ دراصل ایک سیاسی نظریے کو اعتقادی بنیاد فراہم کرنا ہے اور یہ کہ علمائے شیعہ اسی وجہ سے امامت کے منکرین کو ’’انبیاء’’ کے منکرین قرار دے کر اسلام سے خارج نہیں کرتے، بلکہ ان کی تضلیل پر اکتفا کرتے ہیں۔
اہل سنت کے متاخرین علماء میں سے جنھوں نے نظریہ امامت کی وجہ سے اہل تشیع کی تکفیر کی ہے، وہ بعینہ اس نکتے کو ملحوظ نہیں رکھ سکے۔ پھر انھیں اس قسم کی تاویلات کرنی پڑیں کہ اہل تشیع کے تقیے کی وجہ سے متقدمین پر ان کا صحیح عقیدہ واضح نہیں ہو سکا تھا، اس لیے انھوں نے تکفیر نہیں کی۔ یہ دونوں باتیں تاریخی طور پر نادرست ہیں، کیونکہ اہل تشیع کے علماء نے نظریہ امامت کو بیان کرنے میں کبھی تقیے سے کام نہیں لیا، اور اہل سنت کے علماء بھی اس سے قطعاً‌ ناواقف نہیں تھے۔ چنانچہ ابن تیمیہؒ کے ہاں نظریہ امامت کا ذکر اور اس پر تنقید بھی موجود ہے، اور اس کے باوجود وہ اہل تشیع کی تکفیر کے قائل نہیں ہیں۔
اہل تشیع کے نظریہ امامت نے امت کے مرکزی دھارے یعنی سنی روایت کے لیے کئی طرح کے چیلنج کھڑے کیے۔ چیلنج کا ایک پہلو سیاسی تھا جو مسلسل شورشوں کی صورت میں درپیش تھا اور اس سے سیاسی طاقت نبرد آزما رہی۔ دوسرا پہلو اعتقادی اور کلامی تھا جس میں دینی استدلال کے میدان میں اہل تشیع کے علماء اور سنی محدثین ومتکلمین پنجہ آزمائی میں مصروف ہوئے۔ لیکن اس کا ایک تیسرا اور بڑا ہی اہم پہلو نظریہ امامت کی وہ جذباتی اور روحانی اپیل تھی جو عام مسلمانوں پر نہایت موثر ثابت ہو رہی تھی۔
یہ روحانی وجذباتی اپیل بنیادی طور پر تین نکتوں میں پنہاں تھی:
۱۔ یہ نظریہ کہ رسول اللہ کے اہل بیت کی نہ صرف حق تلفی کی گئی، بلکہ ان کو ظلم وجبر کا بھی نشانہ بنایا گیا۔
۲۔ یہ امر واقعہ کہ طرزِ حکمرانی ملوکیت میں تبدیل ہو چکا تھا اور حکمرانوں کے سیاسی اقدامات اور فیصلوں پر ان کے احتساب اور جواب دہی کا کوئی میکنزم موجود نہیں تھا۔
۳۔ یہ نکتہ کہ سنی نظریے میں رسول اللہ کے بعد آسمان سے ہر طرح کی ’’راہ نمائی’’ کا سلسلہ منقطع ہو چکا تھا اور اب انسانوں کو اگر کوئی سہارا میسر تھا تو وہ انھی جیسے محدود اور غیر یقینی علم رکھنے والے انسانوں کا سہارا تھا۔
ان تینوں حوالوں سے سنی بیانیہ defensive پوزیشن پر تھا اور جوابی بیانیہ تیار کرنے کی ذمہ داری سنی علماء کے مختلف گروہوں پر تھی۔ ان میں سے تیسرے نکتے کے حوالے سے جوابی بیانیہ مہیا کرنے کا بیڑہ اہل سنت کے صوفیہ نے اٹھایا اور ’’نظریہ ولایت’’ کی داغ بیل ڈالی۔ یہ اہل سنت کی روایت میں نظریہ امامت کی پہلی Repackaging تھی۔
اہل سنت کے صوفیہ میں ’’نظریہ ولایت’’ کی پہلی منظم تعبیر بظاہر حکیم ترمذیؒ (متوفیٰ تقریباً 320ھ) کی تصنیف “ختم الأولياء” میں ملتی ہے جو احادیث کے ایک معروف اور ہر طرح کی روایات پر مشتمل مجموعے ’’نوادر الاصول’’ کے بھی مصنف ہیں۔ شیخ اکبر ابن عربیؒ کے نظریہ ولایت کا بڑا ماخذ بھی یہی تصنیف ہے اور وہ ’’فتوحات’’ میں حکیم ترمذی ہی کے بیان کردہ نکات کی مزید تفصیل وتوضیح کرتے ہیں۔
ختم الاولیاء کی متعدد فصول میں حکیم ترمذی نے نظریہ ولایت کے بنیادی نکات واضح کیے ہیں۔ ہماری گفتگو سے متعلق دو اہم نکات ’’الفصل التاسع: النبوۃ والولایۃ’’ اور ’’الفصل العاشر: علامات الاولیاء’’ میں بیان ہوئے ہیں جو حسب ذیل ہیں:
حکیم ترمذیؒ بتاتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ ہر زمانے میں چالیس صدیقین کو موجود رکھنے کا اہتمام کرتا ہے جن کے ذریعے سے زمین کا نظام قائم رکھا جاتا ہے اور، مثلاً‌، انھی کے ذریعے سے بارش طلب کی جاتی ہے۔ حدیث میں انھی کا ذکر ’’اھل بیتی امان لامتی’’ کے الفاظ میں کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جب تک اللہ کے وجود کو دنیا میں باقی رکھیں گے، امت کو امان حاصل رہے گیا اور جب دنیا کے خاتمے کا فیصلہ کیا جائے تو ان صدیقین کا سلسلہ بھی ختم کر دیا جائے گا۔ ترمذی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’آل بیت’’ سے یہی لوگ مراد ہیں، اس سے آپ کے نسبی رشتہ دار مراد نہیں ہیں۔
ترمذیؒ نے دوسرا اہم نکتہ یہ واضح کیا ہے کہ اولیاء میں مختلف مراتب ہوتے ہیں اور سارے کے سارے اولیاء ایسے نہیں ہوتے کہ ان کے خواطر والہامات غیر مامون ہوں اور ان پر اعتماد نہ کیا جا سکے، بلکہ ان میں سے جو اولیاء ’’محدث’’ کے مقام پر فائز ہوتے ہیں، ان تک اللہ کی راہنمائی اسی طرح بحفاظت پہنچانے کا اہتمام کیا جاتا ہے جیسے انبیاء کی طرف کیا جاتا ہے، اگرچہ صورت دونوں کی مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً‌ انبیاء کی طرف کلام کی صورت میں وحی کی جاتی ہے، جبکہ محدثین کے دل میں باتیں القاء کی جاتی ہیں، تاہم یہ القاء بھی اس حفاظت کے ساتھ ہوتا ہے کہ محدث کے اپنے خیالات کی آمیزش اس میں نہیں ہوتی اور اس کو مکمل یقین اور اطمینان ہوتا ہے کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
یوں سنی صوفیہ کے نظریہ ولایت نے نظریہ امامت کے اس چیلنج کا جواب دینے کی کوشش کی کہ ختم نبوت کے بعد اللہ کی طرف سے راہنمائی کا خصوصی اعزاز صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبی تعلق رکھنے والے اہل بیت کو حاصل ہے۔ نظریہ ولایت نے بتایا کہ راہنمائی اور رابطے کا سلسلہ تو جاری ہے، لیکن ’’اہل بیت’’ سے مراد آل علیؓ وفاطمہؓ نہیں، بلکہ تمام ملہمین ومحدثین ہیں، جن میں ظاہر ہے، اہل سنت کے اولیاء بھی شامل ہیں۔ صوفیہ کی روایت میں اپنے باطنی سلسلوں کو حضرت علیؓ اور حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ جوڑنے کے محرکات بھی اسی پس منظر میں سمجھے جا سکتے ہیں۔ ان تمام مساعی کا مجموعی پیغام یہی تھا کہ اہل تشیع کا، رسول اللہ کی ’’روحانی وباطنی میراث’’ پر اجارہ داری کا دعویٰ درست نہیں، اس میں اہل سنت بھی شریک ہیں۔
اہل سنت کی روایت میں نظریہ امامت کی ایک اور repackaging قریبی زمانے میں شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب ’’منصب امامت’’ میں ملتی ہے جسے شاہ صاحبؒ کو موروثی طور پر ملنے والی تخلیقی واختراعی صلاحیت کا ایک مظہر بھی کہا جا سکتا ہے۔ پچھلے دنوں یہ محترم جوہر صاحب اور ان کے ناقدین کی تحریروں میں کافی زیربحث بھی رہی ہے۔ ہماری گفتگو کے تناظر میں اس سے متعلق چند قابل توجہ نکات حسب ذیل ہیں:
شاہ صاحب کے ہاں تخلیق واختراع کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ سنی صوفیہ نے، اہل تشیع کے نظریہ امامت کے برعکس، ولایت کو ظاہری اقتدار سے الگ کرنے کی جو کامیاب سعی کی تھی، شاہ صاحبؒ کے ہاں اس کو دوبارہ ظاہری اقتدار سے جوڑنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ شیعی روایت میں نظریہ امامت کی شکلیں مختلف ہیں۔ اثناعشری مذہب میں اقتدار، اصولاً‌ امامت کا جزو لاینفک ہے، لیکن بالفعل امام کو اقتدار حاصل ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح غَیبتِ امام کے زمانے میں براہ راست کسی مامور من اللہ کی اطاعت کا سوال غیر متعلق ہو جاتا ہے۔
اسماعیلی مذہب میں بھی امام کو بالفعل اقتدار حاصل ہونا ضروری نہیں، لیکن امام کی اطاعت کا معاملہ قائم رہتا ہے۔ زیدی مذہب میں امام، مامور من اللہ بھی نہیں اور بالفعل اسے اقتدار حاصل ہونا بھی ضروری نہیں۔ یوں ان کا نظریہ اہل سنت کے کافی قریب ہو جاتا ہے۔ تاہم ان اختلافات کے ساتھ، امامت اور اقتدار نظری اور اصولی طور پر تینوں مذاہب میں باہم مربوط ہیں۔
سنی صوفیہ نے اپنے ’’نظریہ ولایت’’ میں دراصل اسی تعلق کو منفک کر کے شیعی سیاسی بیانیے کا جواب دینے کی کوشش کی تھی۔ شاہ اسماعیلؒ اس انفکاک کو بالکل ختم تو نہیں کرتے، لیکن ولایت اور خلافت کو بالکل الگ بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ اس پورے تصور کی ایک نئی تشکیل کرتے ہیں جس کا بنیادی عنوان ’’امامت’’ ہے اور روایتی مفہوم کے لحاظ سے ولایت، دعوت وہدایت، اور خلافت تینوں ’’امامت’’ ہی کی مختلف شکلیں قرار پاتی ہیں۔
شاہ اسماعیلؒ کے نظریہ امامت میں امامت، نبی کی نیابت کا منصب ہے جس کی بہت سی صورتیں ہیں، لیکن ان میں سے تین نمایاں ترین ہیں:
۱۔ امامتِ خفیہ، ۲۔ امامتِ باطنہ، ۳۔ امامتِ تامہ
امامتِ خفیہ کی تعبیر وہ صوفیہ کے تصورِ ولایت اور خصوصاً‌ ’’ابدال واقطاب’’ کے لیے استعمال کرتے ہیں، یعنی وہ مقرب ہستیاں جن کو اللہ تعالیٰ تدبیر عالم اور تصرفاتِ کونیہ میں واسطہ بناتا ہے۔ یہ خفیہ اس لیے ہے کہ لوگوں کو ان کے متعلق علم نہیں ہوتا۔
امامتِ باطنہ کا مطلب خلق کی ہدایت وارشاد کا منصب ہے۔ اس کا مصداق خلق خدا کو انذار وتذکیر کرنے اور انھیں راہِ ہدایت کی طرف بلانے والے داعیان اور علماء کو کہا جا سکتا ہے۔ ان کی امامت، باطنہ اس لیے ہے کہ انھیں سطوت اور اقتدار حاصل نہیں ہوتا۔
امامتِ تامہ کی تعبیر وہ خلافت راشدہ اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کو تامہ کہنے کی وجہ واضح ہے کہ اس میں خلق کی ہدایت وارشاد کے ساتھ ان پر اجرائے احکام کا اختیار بھی ان کو حاصل ہوتا ہے۔
امامت کی اس نئی تصوراتی تشکیل میں شاہ صاحب کی اختراع وابتداع کے پہلو متعدد ہیں:
پہلا یہ کہ وہ امامت باطنہ یعنی ہدایت وارشاد اور امامت تامہ یعنی خلافت راشدہ، دونوں کو نبی کی نیابت میں یہ ذمہ داری ادا کرنے کی وجہ سے ’’نبوتِ حکمیہ’’ کا درجہ دیتے ہیں، بشرطیکہ ان کے حاملین انبیاء کے اوصاف کے ساتھ کامل مشابہت پیدا کر لیں۔ نبوتِ حکمیہ کا مطلب یہ ہے کہ جیسے انبیاء کی طرف سے خلق کی دعوت وہدایت کے نتیجے میں اتمام حجت ہو جاتا ہے اور منکرین عذاب کے مستحق قرار پاتے ہیں، اسی طرح امامتِ باطنہ کی صورت میں بھی یہی معاملہ پیش آتا ہے۔
علیٰ ہذا القیاس، جیسے نبی کے احکام کی اطاعت بلا چون وچرا واجب ہوتی ہے اور مخالفت سے انسان حبطِ اعمال کا مستوجب اور اخروی نجات سے محروم ہو جاتا ہے، اسی طرح غیر منصوص احکام اور تدبیری وانتظامی امور میں خلیفہ راشد کے احکام کی غیر مشروط اطاعت واجب ہے اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے کی عبادات واعمال آخرت میں اکارت جا سکتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ جیسے امامتِ باطنہ یعنی ہدایت وارشاد کا منصب کسی خاص دور تک محدود نہیں ہے، اسی طرح امامت تامہ یعنی خلافتِ راشدہ کا منصب بھی کسی خاص دور یا خاص شخصیات تک محدود نہیں ہے۔ آخری خلیفہ راشد تو یقیناً‌ مہدی موعود ہوں گے، لیکن خلفائے اربعہ اور امام مہدی کے درمیان بھی متعدد خلفائے راشدین ہو سکتے ہیں جن کی خلافت مقررہ اوصاف کی حامل ہونے کی وجہ سے خلافتِ راشدہ ہی کا درجہ رکھتی ہے۔ اس سے شاہ صاحبؒ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ خلافتِ راشدہ کے ظہور کے متعلق ہمیشہ پرامید رہنا چاہیے اور دعا کرنی چاہیے کہ کوئی خلیفہ راشد ہمارے زمانے میں بھی ظاہر ہو جائے۔
گفتگو کا آغاز صاحبانِ علم کے اس نکتے سے ہوا تھا کہ ’’خلافت وملوکیت’’ میں مولانا نے اہل تشیع کے نظریہ امامت کی اصولی تردید کی ہے۔ ہمیں اس سے اتفاق ہے، لیکن اس قید کے ساتھ کہ اس بیان کو ’’خلافت وملوکیت’’ تک محدود رکھا جائے، کیونکہ خلافت کے ملوکیت میں بدل جانے کے بعد کی تاریخی صورت حال میں مولانا اہل دین کے کردار اور ذمہ داری کو جس تناظر میں دیکھتے ہیں، اس پر اس بیان کو اتنی آسانی سے منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ گفتگو کے آخر میں ہم اسی نکتے کی مختصر وضاحت کریں گے۔
نظریہ امامت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اقتدار مامور من اللہ کا حق ہے اور اس کا یہ حق تسلیم نہ کر کے امت کے اہل حل وعقد انحراف کا شکار ہوئے ہیں جسے امام مہدی آ کر سدھاریں گے۔ مولانا کے سیاسی نظریے میں اس کی repackaging یوں ہوتی ہے کہ امت کے اہل حل وعقد انحراف کا شکار تو ہوئے ہیں، لیکن یہ انحراف خلافت کو ملوکیت میں بدلنے کی صورت میں ہوا ہے اور اس کو سدھارنے اور ’’جاہلیت’’ کے نمائندوں سے اقتدار چھین کر واپس ’’صالحین’’ کے سپرد کرنے کی ذمہ داری کسی ’’مامور من اللہ’’ کے آنے پر منحصر نہیں، بلکہ امت کے اہل دین اجتماعی حیثیت میں ہر دور میں اس کی تگ ودو کرنے کے مکلف ہیں۔
مولانا نے ’’تجدید واحیائے دین’’ میں اسی معیار پر امت کے بڑے بڑے مجددین کی مساعی اور کارناموں کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے مولانا نے اپنا تحریکی نظریہ بھی تشکیل دیا ہے جو ہر مسلمان کو، اس کی بساط اور استطاعت کے مطابق، مکلف ٹھہراتا ہے کہ وہ باقی فرائض دینیہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ’’اقامت دین’’ کی جدوجہد میں بھی حصہ ڈالے، ورنہ وہ بارگاہِ الہی میں مسئول ہوگا۔ اس سے آگے بڑھ کر مولانا اس جدوجہد کو انبیاء کی پوری دعوت تک پھیلا دیتے ہیں اور ان کی بعثت کا اساسی مقصد ہی اس کو قرار دیتے ہیں کہ وہ دنیا میں ایک سیاسی انقلاب برپا کریں۔
یہ ’’نظریہ امامت’’ اور ’’نظریہ ولایت’’ سے بھی آگے کی چیز ہے۔ یہ دونوں نظریے بہرحال انبیاء کی ہستیوں اور ان کے منصب کو اصل اور امامت یا ولایت کو اس پر متفرع اور تابع قرار دیتے ہیں۔ اقامت دین کے نظریے میں اس ترتیب کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں رہتی، اور نبی وغیر نبی، ہر قسم کے حالات میں اس جدوجہد کے یکساں مکلف ٹھہرتے ہیں۔ اس اعتبار سے ہمارے نزدیک مولانا کے سیاسی نظریے کو، ایک اہم نکتے میں نظریہ امامت سے مختلف مانتے ہوئے، بنیادی طور پر اسی کی ایک ریڈیکل repackaging قرار دینا زیادہ درست ہے۔

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں