چند ہفتے پہلے کراچی میں ایک پروگرام میں شرکت کی۔ اس کے بعد چائے کی نشست پر ایک معروف صاحبِ افتاء نے اچانک مجھ سے پوچھا کہ آپ جو توہینِ رسالت کی سزا کے متعلق قانون میں اصلاح کی بات کرتے ہیں، تو اس کا فائدہ مغرب سے فنڈ لینے والی این جی اوز اٹھاتی ہیں۔ میں نے وضاحت کی کہ میرے موقف میں اور ایسی این جی اوز کے موقف میں تو بہت بڑا فرق ہے، اور یہ کہ میں تو اس قانون میں حنفی فقہائے کرام کے اصولوں کی روشنی میں اصلاح چاہتا ہوں۔ میں نے یہ بھی کہا کہ یہ کام اگر علمائے کرام نہیں کریں گے، اور دوسرے کریں گے تو شاید ناقابلِ تلافی نقصان ہو۔
انھوں نے مزید کچھ سوالات کیے جن سے مجھے یہ تا ثر ملا کہ وہ تو باقاعدہ میری توبیخ کےلیے آئے ہیں۔ میں نے بہت ادب کے ساتھ عرض کیا کہ میں اپنی جانب سے تو کچھ نہیں کہہ رہا، میں نے تو صرف اتنا کیا ہے کہ علامہ ابن عابدین شامی کے رسالے کا ترجمہ کیا، اس کے حوالوں کی تخریج کی، عبارت کی تحقیق کی، جہاں وضاحت کی ضرورت تھی وہاں توضیحی حواشی لکھے اور پھر اس سب کی روشنی میں پاکستان کے قانون کے متعلق اپنا تجزیہ پیش کیا۔
اب کے انھوں نے علامہ شامی کی خبر لینی شروع کی اور کہا کہ انھوں نے جس قول کو فتاویٰ بزازیہ کی طرف منسوب کرکے کہا ہے کہ اس سے پیچھے یہ قول حنفی فقہاء کے ہاں نہیں پایا جاتا، تو یہ غلط ہے اور اس سے پہلے بھی ایک مستند کتاب میں یہی موقف مذکور ہے۔ میں نے عرض کیا کہ جس عبارت کی طرف آپ اشارہ کررہے ہیں، اس کے استناد سے قطعِ نظر علامہ شامی نے امام ابو یوسف کی کتاب الخراج کی صریح عبارت نقل کی ہے، حنفی متون سے استدلالات پیش کیے ہیں، حنفی مذہب کے اصولوں کی توضیح کی ہے، اس سب کے مقابلے میں اس عبارت کا یا اس رائے کا کتنا وزن رہ جاتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ امام ابو یوسف کی عبارت تو علامہ شامی کے موقف کے خلاف ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ بعض فقہی عبارات مجھے ویسے ہی ازبر ہوتی ہیں، تو میں نے عرض کیا کہ امام ابویوسف نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ جس مسلمان نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی، یا آپ کی تکذیب کی یا آپ کی طرف عیب یا نقص کی نسبت کی، تو وہ کافر ہوگیا اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی، فإن تاب؛ وإلا، قُتِل (پھر اگر وہ توبہ کرے، تو بچ جائے گا، ورنہ اسے سزائے موت دی جائے گی)۔میں نے کہا کہ فإن تاب؛ وإلا، قُتِل کے الفاظ تو بالکل صریح ہیں۔
اس پر انھوں نے کہا کہ چلیں یہ بھی ایک رائے ہے لیکن یہ حنفی مذہب نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ امام ابو یوسف کی صریح عبارت بھی حنفی مذہب نہیں ہے، ظاہر الروایہ اور متون سے علامہ شامی کی نقل کی گئی عبارات بھی حنفی مذہب کی تعیین کے لیے کافی نہیں، تو پھر حنفی مذہب کہاں سے معلوم ہوگا؟ خیر، اب میں نے مؤدبانہ کہا کہ میں تو آپ کے سامنے طفلِ مکتب ہوں اور میں ہر گز آپ کی رائے کے سامنے اپنی رائے پیش کرنے کی جسارت نہیں کروں گا، لیکن اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ حنفی مذہب نہیں ہے اور علامہ شامی کہتے ہیں کہ یہ حنفی مذہب ہے، تو بصد احترام عرض ہے کہ میں علامہ شامی کی بات مانوں گا کیونکہ ان کی بات کے سامنے آپ کی بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس پر، الحمد للہ، وہ ٹھنڈے ہوگئے۔ اللہ انھیں اجر جزیل عطا فرمائے۔
1984ء میں جب وفاقی شرعی عدالت میں اسماعیل قریشی صاحب مرحوم نے شریعت درخواست جمع کرائی، تو اس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان میں امہات المؤمنین، صحابۂ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اجمعین کی شان میں گستاخی پر تو سزا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی پر سزا نہیں ہے، اس لیے حکومت کو اس مقصد کےلیے قانون سازی کا حکم دیا جائے۔ اس مقدمے میں ایک سوال یہ زیرِ بحث تھا کہ عدالت کسی قانون میں غیر اسلامی شق کو تو کالعدم کرسکتی ہے، لیکن کیا وہ قانون میں کسی شق کے اضافے کا حکم بھی دے سکتی ہے یا نہیں؟
ابھی یہ مقدمہ زیرِ التوا تھا کہ 1986ء میں پارلیمان میں اس مقصد کےلیے قانون سازی کا مسودہ پیش کیا گیا۔ بیگم نثار فاطمہ زہرہ، جناب لیاقت بلوچ، مولانا گوہر رحمان، مولانا شاہ تراب الحق قادری و دیگر اس مسودے کے حق میں تھے۔ اسمبلی کے فلور پر کی گئی بحث سے، جو اب بھی قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود ہے، معلوم ہوتا ہے کہ علمائے کرام کی رائے میں توہینِ رسالت پر صرف سزائے موت ہونی چاہیے تھی، لیکن وزیرِ قانون نے انھیں قائل کیا کہ بعض اوقات حالات کی بنا پر سزائے موت کی جگہ عمر قید کی گنجائش دینی ضروری ہے، جیسے قتل کے مقدمے میں سزائے موت بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات عمر قید کی سزا بھی ہوتی ہے۔
اسمبلی کے ریکارڈ پر موجود شاہ تراب الحق قادری مرحوم کی تقریر سے ایک اقتباس کا نقل منسلک ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے اور دیگر علمائے کرام نے مل کر اس مسودے میں دوسری سزا کا اضافہ کیا کیونکہ ”کسی پر ذرا سا بھی شبہ ہو کہ اس نے گستاخی کی ہے، تو اسے پھانسی پر چڑھا دیا جائے، یہ منشا ہرگز نہیں ہے ۔“ عمر قید کی سزا کی گنجائش دینے کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ”وہ الزام اگر اپنے لوازمات کے ساتھ ثابت نہ ہو، تو اسے دوسرے نمبر کی سزا دی جائے۔“
چنانچہ ان جید علمائے کرام کے تعاون اور ان کی تائید سے دفعہ 295-سی پارلیمان نے منظور کرکے مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان میں اضافہ کرلی اور اس میں یہ قرار دیا کہ توہینِ رسالت کے مرتکب کو موت یا عمر قید مع جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
اسماعیل قریشی صاحب اس قانون سے خوش نہیں تھے۔ چنانچہ انھوں نے وفاقی شرعی عدالت میں اس قانون کے خلاف دلائل دیے۔ ان کا موقف تھا کہ اس جرم کی صرف ایک ہی سزا ہے، اور وہ ہے سزائے موت۔
وفاقی شرعی عدالت نے اس سوال پر کئی جید علمائے کرام کو سنا۔ ان میں مولانا سحبان محمود، مفتی غلام سرور قادری اور حافظ صلاح الدین یوسف بھی شامل تھے اور وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ان تینوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ اگرچہ اس جرم کی سزا موت ہے، لیکن مجرم اگر توبہ کرے اور عدالت اس کی توبہ سے مطمئن ہو، تو یہ سزا ساقط ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ یہ علمائے کرام تین الگ مکاتبِ فکر، دیوبندی، بریلوی اور اہلِ حدیث، سے تعلق رکھتے تھے۔
وفاقی شرعی عدالت نے مفتی غلام سرور قادری کا موقف ان الفاظ میں ذکر کیا ہے: ”انھوں نے ان احادیث کا بھی حوالہ دیا جن میں ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے توہین کرنے والے کو معاف کردیا تھا۔ انھوں نے قرآن کی آیات اور نبی ﷺ کی احادیث بھی نقل کیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی جرم سے توبہ کی جائے تو وہ قبول ہوگی۔ انھوں نے ممتاز حنفی فقہاء، خصوصاً ابن عابدین کا حوالہ بھی دیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ توہین کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے اور یہی حنفی فقہاء کی راجح رائے ہے۔“
وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں توبہ کے علاوہ نیت اور محرک پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حکم نامے میں اس حوالے سے کوئی چیز شامل نہیں کی گئی۔ بہرحال اس فیصلے پر بحث کسی اور وقت کریں گے، ان شاء اللہ۔ اس وقت تو صرف یہ دکھانا مقصود تھا کہ قانون سازی کے مرحلے پر پارلیمان میں، اور پھر جب قانون پر عدالت میں بحث آئی تو وہاں بھی جید علمائے کرام نے یہ موقف پیش کیا تھا کہ بعض اوقات سزائے موت کی جگہ کوئی اور سزا بھی دی جاسکتی ہے، اور یہ کہ عدالت اگر توبہ سے مطمئن ہو، تو سزا ختم بھی کی جاسکتی ہے۔
ان جید علمائے کرام کی یہ رائے میرے یا آپ کے نزدیک درست ہے یا غلط، اس سے قطعِ نظر مقصود صرف یہ بتانا تھا کہ ان جید علمائے کرام نے یہ رائے پیش کی تھی۔




کمنت کیجے