Home » تکفیر کہاں سے شروع ہوتی ہے ؟
تہذیبی مطالعات فقہ وقانون

تکفیر کہاں سے شروع ہوتی ہے ؟

اکثر علما سے جب تکفیر اور کسی شخص کے دائرۂ اسلام میں ہونے یا نہ ہونے کے مسئلے پر گفتگو ہوتی ہے تو میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے فیصلے کہاں تک محض نصوص کے فہم اور علمی استدلال کا نتیجہ ہوتے ہیں، اور کہاں انسانی نفسیات، گروہی وابستگی اور مذہبی شناخت بھی ان میں اپنا کردار ادا کرنے لگتی ہے۔

میرا تاثر یہ ہے کہ تکفیر عموماً وہاں سے شروع نہیں ہوتی جہاں وہ ہمیں بظاہر شروع ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ کسی شخص کو گمراہ یا کافر قرار دینا اکثر ایک طویل ذہنی عمل کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔

ابتدا ایک علمی رائے سے ہوتی ہے۔ اس کے دلائل زیرِ بحث آتے ہیں اور اس سے اتفاق یا اختلاف کیا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی رائے کسی امام، مسلک یا تاریخی روایت کے ساتھ گہری وابستگی اختیار کر لے تو رفتہ رفتہ وہ محض ایک علمی موقف نہیں رہتی، بلکہ ہماری مذہبی شناخت کا حصہ بن جاتی ہے۔

اس کے بعد اس پر ہونے والی تنقید کو بھی ہم صرف علمی نقد کے طور پر نہیں سنتے۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اکابر، ہماری روایت، بلکہ کسی درجے میں خود ہماری دینی شناخت زیرِ سوال آ گئی ہے۔ یہیں سے ایک حد قائم ہونے لگتی ہے: ایک طرف ہم اور دوسری طرف وہ۔

اصل مسئلہ اسی مقام پر پیدا ہوتا ہے۔ انسان بظاہر دلیل کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے، لیکن لاشعوری طور پر ممکن ہے کہ وہ اپنے پہلے سے قائم مذہبی فہم کی سرحد کی حفاظت بھی کر رہا ہو۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ یہ حد دلیل نے قائم کی ہے، یا حد پہلے قائم ہو چکی تھی اور دلیل اب اس کی تائید کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے ہمارے مسلکی اختلافات بھی خاصے معنی خیز ہیں۔ بعض گروہوں کے بارے میں ہمارا سخت ردعمل اس بنا پر ہوتا ہے کہ ہم ان کے اختلاف کو کسی بنیادی عقیدے سے متعلق سمجھتے ہیں۔ قادیانیوں کے معاملے میں مسلمانوں کا موقف اسی نوعیت کا ہے۔ لیکن یہی نفسیاتی طرزِ عمل بعض اوقات دیوبندی، بریلوی اور شیعہ اختلافات میں بھی دکھائی دیتا ہے، حالاں کہ ان اختلافات کی نوعیت اور درجے یکساں نہیں ہیں۔

یہ بات بتاتی ہے کہ مسئلہ ہمیشہ صرف عقیدے کی نوعیت کا نہیں ہوتا۔ گروہی شناخت بھی کبھی ایسا ماحول پیدا کر دیتی ہے جس میں دوسرے کی رائے محض غلط نہیں رہتی، بلکہ وہ خود بھی رفتہ رفتہ “دوسرا” بن جاتا ہے۔

یہیں سے ایک اور خرابی پیدا ہوتی ہے۔ ہم قول سے آگے بڑھ کر قائل کی نیت کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔ پہلے کسی بات کو غلط کہا جاتا ہے، پھر گمراہ کن، پھر اس کے قائل کو گمراہ قرار دیا جاتا ہے، اور اس کے بعد اس کے ایمان اور باطن کے بارے میں بھی حکم لگانا آسان ہو جاتا ہے۔

حالاں کہ کسی قول پر حکم اور اس کے قائل پر حکم ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ کوئی بات کفر یا گمراہی کے زمرے میں آ سکتی ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر وہ شخص جو کسی تاویل، غلط فہمی یا فکری اشتباہ کے باعث اسے بیان کر رہا ہے، اس کے ایمان اور آخرت کے بارے میں بھی وہی فیصلہ صادر کر دیا جائے۔

اسی لیے تکفیر کے مسئلے کو صرف فقہ اور علمِ کلام کے دائرے میں دیکھنا کافی نہیں۔ انسانی نفسیات، گروہی شناخت، تاریخی وابستگی اور مذہبی اقتدار بھی بعض اوقات اس میں مؤثر ہو جاتے ہیں۔

اور یہ مسئلہ کسی ایک مسلک یا جماعت تک محدود نہیں۔ یہ انسانی نفسیات کا مسئلہ ہے۔ اس لیے دوسروں کے کفر و گمراہی کے بارے میں حساس رہنے اور دین کی حفاظت کا جذبہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے طرزِ فکر، اپنی وابستگیوں اور اپنے فیصلوں کا جائزہ لیتے رہنا بھی ضروری ہے۔

محمد حسن الیاس

محمد حسن الیاس علوم اسلامیہ کے ایک فاضل محقق ہیں۔انھوں نے درس نظامی کی روائتی تعلیم کے ساتھ جامعۃ المدینۃ العالمیۃ سے عربی ادب کی اختصاصی تعلیم حاصل کی۔معروف مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی کے شاگرد اور علمی معاون ہونے کے ساتھ ان کے ادارے میں تحقیقی شعبے کے ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہیں۔

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں