Home » قرآن ، نماز اور فقہاء کا طریقہ استدلال
تفسیر وحدیث شخصیات وافکار فقہ وقانون

قرآن ، نماز اور فقہاء کا طریقہ استدلال

غامدی صاحب کے شاگرد جناب حسن الیاس صاحب نے فقہا پر اعتراض کیا ہے کہ فقہا نماز کے احکام متعین کرنے کے لئے ایسی قرآنی آیات کو حوالہ بناتے ہیں جن کا دور دور تک وہ موضوع نہیں ہوتا۔ اس کے لئے انہوں نے چند مثالیں دی ہیں کہ دیکھو سورۃ مدثر کی آیت وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ سے نماز کی تکبیر تحریمہ اخذ کی گئی۔ پھر وہ اپنے تصور سنت کی بڑائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے ہاں یہ احکام نبی علیہ السلام کی سنت سے ماخوذ ہیں جو قرآن سے ماقبل ہے وغیرہ اور یہاں اس قسم کے دور دراز استنباطات کی ضرورت نہیں۔ ان کے اعتراض کا خلاصہ دو نکات ہیں:

الف) فلاں آیت میں یہ موضوع زیر بحث نہیں

ب) لہذا اس سے یہ حکم نہیں نکلتا جبکہ فقہا نکالتے ہیں

یہ اعتراض انہوں نے اپنے استاد محترم صاحب سے سیکھا ہے۔

تبصرہ

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ غامدی صاحب نبی علیہ السلام کو یا غالب کی شاعری کی شرح لکھنے والے معنی میں قرآن کا مبین سمجھتے ہیں اور یا قیاسی اطلاقات مقرر کرنے والے مجتہد کی طرح، جبکہ عربی زبان میں اور قرآن کے محاورے میں بیان اردو والے عمومی تصور شرح کو نہیں کہتے بلکہ اس میں مجمل کا بیان تفسیر، عام و مطلق کا بیان تخصیص و تقیید و نسخ سب شامل ہے۔ اس پر ہم نے اپنی کتاب میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ غامدی صاحب قرآن میں مجمل نہ ہونے کے مدعی ہیں جبکہ فقہا اس کے قائل ہیں اور سنت کو اس کے بیان تفسیر کا درجہ بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ایک مجمل حکم ہے، پس اگر فقہا کہیں کہ نبی علیہ السلام نے اس مجمل کا بیان تفسیر کیا اور یہ حکم تواتر سے ہم تک پہنچ گیا اس لئے یہ فرض یا واجب ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ مثلا فَكَبِّرْ کئی پہلووں سے ایک مجمل حکم ہے کہ:

* تکبیر کس موقع پر کرنی ہے؟
* کس موقع پر کہی جانے والی تکبیر کا شرعی حکم کیا ہے؟
* کس لفظ اور کس طرح سے کرنی ہے؟
* اس کی کتنی مقدار ہے؟
* اس کا ترک نماز کو باطل کرتا ہے یا نہیں؟ وغیرہ

لہذا فقہا کہیں گے کہ قرآن نے اصل حکم (مثلاً تکبیر کا وجوب) دیا، نبی ﷺ نے اس کی ایک عملی تبیین فرمائی (مثلاً نماز کے آغاز میں تکبیرِ اولی) اور وہ تبیین جب ایک خاص طریقہ دلالت پر ہم تک پہنچ جائے تو اس کا حکم وجوب و فرض ہوتا ہے۔ چنانچہ یہاں طریقہ استدلال یہ ہے:

* فَكَبِّرْ: اصلِ تکبیر کا حکم
* سنتِ رسول ﷺ: اس مجمل و مطلق حکم کی تعیین اور بیان
* تواترِ عملی: اس سنت کا قطعی انتقال
* نتیجہ: تکبیرِ اولی کی شرعی حیثیت یا حکم

ناقد کا اعتراض ہے کہ آیت کا موضوع تکبیرِ تحریمہ نہیں لہذا اس سے تکبیرِ تحریمہ ثابت نہیں ہوتی۔ لیکن فقہا کا تو کہنا ہی یہ ہے کہ صلوۃ، رکوع، سجود، وغیرہ مجمل ہیں، یعنی شارع کی خاص اصطلاحات ہیں جن کا علم وضعِ لغوی یا عرفی سے ممکن نہیں بلکہ یہ شارع کے بیان سے معلوم ہوسکتی ہیں۔ چنانچہ فقہا کا یہ دعوی ہی نہیں کہ مثلاً لفظ فکبر کے لغوی معنی سے انہیں نماز کی تکبیر تحریمہ کا حکم معلوم ہوا ہے، یہ تعیین بطور بیان تفسیر سنت سے ہوئی ہے۔ پس اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ آیت میں اصلِ تکبیر کا حکم موجود ہے تو پھر سنت کے ذریعے یہ معلوم ہونا کہ نماز میں داخل ہوتے وقت مخصوص تکبیر کہنی ہے اس میں کوئی اشکال نہیں۔ ہاں زیادہ سے زیادہ اس میں بحث ہوسکتی کہ کیا یہ حکم اس آیت سے متعلق ہے یا کسی اور دلیل سے، لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ فقہ میں ایسا اختلاف ہونا عام بات ہے۔ لہذا مصنف کا یہ اعتراض بے معنی ہے کہ “اس آیت میں دور دور تک بھی تکبیر تحریمہ زیرِ بحث نہیں”۔ یہ ایسا ہی اعتراض ہے کہ مثلاً قرآن میں آئے کہ “زکوۃ ادا کرو” اور نبی علیہ السلام بطور بیان تفسیر زکوۃ کی تفصیلات مقرر فرمائیں، لیکن ناقد کہے کہ آیت میں دور دور تک زکوۃ کی مقدار کا حکم نہیں۔ یا قرآن کہے “صلوۃ ادا کرو” اور فقہا سنت میں مذکور اس کے طریقے کو بیان تفسیر کہیں تو آپ یہ اعتراض لے کر بیٹھ جائیں کہ اس مقام پر قرآن نماز کے طریقے کی بات ہی نہیں کررہا۔ یہ سب غیر متعلق باتیں ہیں۔

اسی غلط مفروضے سے ناقد نے یہ نتیجہ پیدا کیا ہے کہ اس آیت سے یہ حکم نہیں آسکتا کہ نماز میں تکبیر تحریمہ فرض ہے۔ لیکن آیت سے یہ معین کیفیت کا حکم ثابت ہونے کا دعوی کیا کس نے ہے، آیت اس پہلو سے مجمل ہے جناب! پس فاضل مصنف کے اس استدلال پر ہمارا سوال یہ ہے کہ فكبّر کو آخر انہوں نے فوراً سے اپنے مفہوم “اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کرو” میں متعین کرکے کس بنیاد پر ختم کردیا ہے؟ یہی تو وہ مقام ہے جہاں سے اصولی بحث شروع ہونی ہے نہ کہ ختم۔ فاضل ناقد کی بات میں یہ خفیہ مفروضہ کارفرما ہے کہ قرآن کے کسی لفظ کا معنی بس اسی قدر ہوتا ہے جو لغت کی مدد سے کسی سیاق کلام میں سمجھ آجائے۔ اس مفروضے کی کیا دلیل ہے؟ ایسا قطعاً نہیں ہے، نبی علیہ السلام “بطور مبین” قرآن کے کسی لفظ کے لغوی و عرفی معنی کے سوا عند اللہ مراد ایسے اضافی پہلو کی نشاندہی فرماسکتے ہیں جو عام مجتہد کو سمجھ نہ آئے۔ فاضل ناقد کی دیگر مثالیں بھی اسی خلط مبحث پر مبنی ہیں۔

الغرض ان کی ساری تنقید فقہا کا منہج نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ مسئلے کی تشخیص کرتے ہوئے ہم پھر سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ مسئلہ فقہا کے طریقہ استدلال میں نہیں بلکہ “نبی بطور مبین” کے معنی مقرر کرنے میں ہے۔ آپ لوگوں نے نبی علیہ السلام کی قرآنی تبیین کو قرآنی اصطلاح کے خلاف قیاسی اطلاقات میں بند قرار دے دیا ہے، اس لئے سنت سے ثابت تبیین آپ کے ہاں کوئی نیا حکم نہیں لاتی۔ فقہا اس مفروضے ہی کو رد کرتے ہیں، فافہم۔ یہاں کچھ مزید پہلو بھی ہیں لیکن امید ہے یہ اصولی بات کفایت کرے گی۔

غامدی تصور سنت پر ہمارا سوال

آخر میں ہم بھی آپ کے طریقے پر ایک سوال مقرر کرتے ہیں۔ سنت ہونا یا دین ہونا، یہ از خود کوئی حکم شرعی نہیں ہے۔ حکم شرعی فرض واجب مندوب اباحت کراھت و حرمت ہے۔ دینی ہدایت دینے یا کسی فعل کو مشروع کرنے کا مطلب کسی فعل کا درج بالا میں سے کوئی حکم بتانا ھے، ایک فعل دین ان سب درجوں میں سے کسی ایک میں ہوتا ہے، انکے سوا دین ھونے کا الگ سے کوئی معنی نہیں۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ سنت سے ثابت کسی فعل کے شرعی حکم کی نوعیت کیسے معلوم ہوتی ہے؟ کیا یہ محض نقل ہوتا ہے یا اس کے دلائل دیگر ہوتے ہیں؟ غامدی صاحب نے ایک پروگرام میں قربانی کے مسئلے میں آپ کے سوال پر کہا کہ سنت سے صرف مشروعیت یا استحباب آتا ہے، اس کے بعد کے درجات کے لئے وہ دیگر دلائل دیکھتے ہیں اور قربانی کے وجوب پر چونکہ انہیں اس کی دلیل نہیں ملی لہذا وہ اسے واجب نہیں مانتے۔ وہ دیگر دلائل کیا ہیں؟ اگر وہ سنت سے ماسوا مثلا قرآن کی کوئی آیت ہوتی ہے تو پھر سنت سے تو فعل کے حکم کی نوعیت متعین نہ ہوئی۔ ان کا موقف تب بامعنی ہے جب یہ کہا جائے کہ نبی علیہ السلام نے ایک فعل کو ایک خاص حکم کے درجے میں ابتدا سے جاری فرمایا تھا اور اسے جاننے کے لئے سنت سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن آپ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی یہ نوعیت ہم قرآن وغیرہ سے الگ سے دیکھیں گے۔ لیکن یہ موقف تب درست ہوسکتا ہے جب یہ فرض کیا جائے کہ نبی علیہ السلام مثلا قرآن کی آیت سے یہ سمجھتے تھے کہ فلاں فعل فرض یا واجب ھے۔ اس صورت میں اس حکم کا ماخذ سنت نہیں بلکہ ماخذ قرآن ہے۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟

چنانچہ بات یہ ہے کہ فقہا نے اپنے دلائل اور ان کے مابین ترتیب تفصیل سے لکھے ہیں۔ ہر ہر جزئی کے لئے کیا گیا استدلال بھی بتایا ہے۔ آپ نے سنت کے نام پر سوائے ایک بدلتی ہوئی لسٹ دکھانے کے کیا کیا ہے؟ بامعنی گفتگو اس روز ہوگی جب آپ سنت سے ثابت ہر ہر حکم شرعی کے حکم کی نوعیت کے استدلال کو واضح کریں گے، محض یہ کہہ دینا کہ “یہ بات امت کے اجماع سے منتقل ہوگئی ہے” ایک بلیک بکس ہے۔ اس بلیک بکس کا صرف قربانی کے ایک مسئلے پر یہ حال ہے کہ یہاں ایک ایسے عمل کے حکم کو سنت مان لیا گیا ہے جس پرامت کی ایک عظیم جماعت (حنفیہ) کا اس بات پر اختلاف ہے کہ یہ مستحب ہے یا واجب جبکہ آپ کا دعوی ہے کہ سنت سے ثابت حکم امت کو اجماع سے ملتا ہے۔ تو ذرا اس بلیک بکس کو کچھ کھولئے اور سنت سے متعلق ہر ہر حکم کی دلیل سامنے لائیے تاکہ کچھ بامعنی گفتگو ہو۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں