آج کل محترم مولانا اللہ وسایا صاحب کی تالیف کردہ کتاب ”احتسابِ ناصبیت“ پر بحثا بحثی بہت زوروں پر ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ احناف اہلِ سنت کے بیان عقیدہ (faith statement) کا بحران اور انتشار جو انیسویں صدی کے اوائل میں ”تقویۃ الایمان“ سے شروع ہوا تھا ابھی تک پوری شدت سے جاری ہے۔ ہمارے مذہبی علما نے اول اول عقیدۂ توحید کی حفاظت فرمائی، اور ابھی یہ کام مکمل نہیں ہوا تھا کہ عقیدۂ رسالت کو درپیش واقعاتی خطرات سے دفاع کی ذمہ داری بھی ان پر آ پڑی۔ اس کے بعد، اب اہل بیت اطہار، عظمت صحابہ اور ان کے مقام و مرتبہ کی علمی اور ایمانی حفاظت کا مسئلہ درپیش ہے۔ عالمی اور علاقائی سیاسی نظام میں جو تبدیلی اس وقت روپذیر ہے اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس بحث کا اگلا پڑاؤ کیا ہو گا۔
میں امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کا مقلد ہوں اور ان کے عقیدہ جاتی اور شرعی مواقف میں ہی عافیت دیکھتا ہوں۔ ایک مشہور فقیہ کا قول ہے کہ مسلمانوں پر قیامت تک جو مصائب آئیں گے ان میں سے سب سے بڑا سانحہ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کا دنیا سے پردہ فرمانا ہے۔ میری رائے میں دوسرا بڑا سانحہ مشاجرات ہیں۔ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کا دنیا سے تشریف لے جانا اپنے آپ میں ایک تاریخی واقعہ بھی ہے، اور مشاجرات بھی مسلم امت میں ظاہر ہونے والا ایک بڑا تاریخی واقعہ ہے۔ ان دونوں واقعات کا اہلِ اسلام کے ایمان پر براہِ راست اثر پڑا، اور ردہ اسی امر کو ظاہر کرتا ہے۔ بعدازاں، مشاجرات سے مسلمانوں کے اندر ایسے تفرقے کا آغاز ہوا جس سے عقائد میں بھی اضطراب پیدا ہوا۔ اول الذکر سانحے کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حق کو سربلند رکھا۔ مشاجرات میں یہی حیثیت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے کہ حق ان کے ساتھ ہے، اور یہ اہل سنت و الجماعت کا یہ متفقہ مذہبی موقف بھی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں نزاع واقع ہوا اور اس پر امت کی علمی روایت میں ہر طرح کا لٹریچر موجود ہے۔ مشاجرات تیسرے خلیفۂ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت سے شروع ہوئے اور سانحۂ کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ کی شہادت اور پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ کی شہادت تک المناک واقعات کی صورت میں جاری رہے۔ یہ تقریباً تین دہائیوں کا زمانہ ہے۔ ان مشاجرات کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کا مذہبی اور سیاسی موقف تابعین اور تبع تابعین کے زمانے تک منضبط ہو چکا تھا، اور امت میں چار مجتہدین کے مواقف کو بالعموم پذیرائی حاصل ہوئی۔ بعد میں کچھ مذاہب میں باہم مخالف مواقف بھی سامنے آئے۔ مشاجرات پر ”نئی“ تاریخی یا آثاریاتی تحقیق کے لیے اب کوئی زیادہ لوازمہ میسر نہیں ہے۔
مشاجرات پر گفتگو میں ایک ایسی نزاکت ہے جس کی طرف مسلمانوں کا دھیان نہیں جاتا۔ آج کل مشاجرات پر گفتگو کرنے سے کشاں کشاں آدمی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس نزاع پر حکم بننے کی کوشش کرتا ہے جو بہت جلد ان بزرگ و برتر ہستیوں سے تعلق پر اثرانداز ہوتا ہے۔ فی زمانہ مشاجرات پر بحث و تکرار دراصل ایک نئی تحکیمِ فکری قائم کرنے کی کوشش ہے۔ یہ کوئی علمی رویہ نہیں ہے بلکہ قاطعِ ایمان ہے اور معاشرے میں فتنے کا دروازہ کھولتا ہے۔ میری گزارش ہے کہ جدید عہد میں ہم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت کا اندازہ کرنے کے کوئی فکری اور علمی وسائل ہی پیدا نہیں کیے، اور مشاجرات پر فکری اور علمی تحکیم کی کوشش میں ہم اپنے ایمان کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں اور فتنے کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام سے محبت و اطاعت ہی ہمارا کل سرمایہ ہے اور اس کے لیے صحابہ کرام اور بعدازاں مجتہدین سے تمسک ہی میں عافیت ہے کیونکہ وہی درست راستہ ہے۔ میری رائے میں اہلِ بیت اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تعلق میں افراط و تفریط اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آقا علیہ الصلٰوۃ و السلام سے تعلق میں کچھ اونچ نیچ آ جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے نبی علیہ الصلٰوۃ و السلام سے وہی تعلق نصیب فرمائے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی ہوں اور جو اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام کی زندگیوں کا اصل سرمایہ اور سبق ہے۔
جدید علوم تاریخ کو جس طرح دیکھتے ہیں، ان میں رہتے ہوئے یہاں مشاجرات کے بارے میں ایک دو گزارشات کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ تاریخ، ارادے اور شعور کی قوتوں کے ٹکراؤ کا محل ہے۔ یعنی تاریخ اور معاشرے کی خلقت ہی یہ ہے کہ اس میں انسانی ارادے اور شعور سے پیدا ہونے والے مؤثرات جس جدلیات میں ظاہر ہوتے ہیں وہ ہر آن میں اور ہر مقام پر فعال رہتی ہے۔ یہ جدلیات انسانی انفس سے معاشرے اور تاریخ میں داخل ہوتی ہے۔ اگر انفس انسانی اور آفاق انسانی ایک ہی حقیقت پر استقرار پکڑ لیں تو اس جدلیات کا خاتمہ ممکن ہے۔ انفس میں یہ حقیقت تقویٰ ہے اور آفاق میں عدل ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی کی جدلیات سے رستگاری انسان کی سب سے بڑی آرزو ہے، اور جدید علوم میں utopia وغیرہ کے تصورات انسان کی اسی وجودی آرزومندی سے پیدا ہوئے ہیں۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یوٹوپیا کی ہر انسانی جدوجہد dystopia میں منتج ہوتی ہے۔ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام نے جو معاشرہ قائم فرمایا وہ معلوماتی اعتبار سے تو یقیناً تاریخی ہے لیکن وجودی اعتبار سے ہرگز تاریخی نہیں ہے۔ وقت کے جس لمحے نے حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کو پایا وہ مقدس ہے، اور جہاں آپ نے قدم رکھا وہ جگہ مقدس ہے۔ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام سے انسانوں نے ہدایت پائی اور حق سے جڑے اور آپ کی بعثت کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا۔ لیکن ارض دنیا پر حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کی موجودگی اتنا بڑا واقعہ ہے کہ اس سے تاریخ اور معاشرہ بھی اپنے خلقی عیب یعنی جدلیات سے شفایاب ہو کر فطرت پر بحال ہو گئے۔ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد یہ ناگزیر تھا کہ مسلم معاشرہ بھی تاریخی زمانیت میں داخل ہو جائے اور تاریخی مؤثرات بھی اس میں ویسے ہی ظاہر ہوں جیسے ہر انسانی معاشرے میں ہوتے ہیں۔ مشاجرات مسلم تاریخ اور معاشرے میں جدلیات کی واپسی ہے۔ اس لیے وہ معاشرہ جو حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام نے قائم فرمایا وہ معلومات کے اعتبار سے یقیناً تاریخی ہے لیکن وجودی اعتبار سے وہ ارض دنیا پر کچھ زمانے کے لیے آمدِ رضواں ہے، اور وہ اس وجہ سے ہے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام ارض دنیا پر تشریف فرما تھے۔ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام نے جو معاشرہ قائم فرمایا وہ ایک ایسی historical actuality ہے جو انسان کے آئیڈیل سے بھی فزوں تر ہے۔




کمنت کیجے