Home » “اس عالم سے ماسوا دیکھا نہیں” تو دلیل حدوث ناکام ہے؟
شخصیات وافکار • کلام

“اس عالم سے ماسوا دیکھا نہیں” تو دلیل حدوث ناکام ہے؟

ایک صاحب نے سوال پوچھا کہ دلیل حدوث میں ہم اس عالم کے حادث ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ اگر مان لیں کہ یہ حسی عالم دلیل تطبیق (       infinite regress argument) تام ہونے کی بنا پر حادث ہے، تب بھی یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اس عالم سے سوا کوئی ایسی چیز کیوں نہیں ہوسکتی جو قدیم ہو، ہم نے کونسا سب کچھ دیکھ لیا ہے؟ کیا اس کا امکان ماننے سے دلیل حدوث کی قطعیت جاتی نہیں رہتی؟

یہ ایک پرانا سوال ہے جو مسلم فلاسفہ وغیرہ کرتے آئے ہیں اور جس پر متکلمین کا کلام موجود ہے۔ اس پر یہاں ہم تین باتیں کہیں گے:

1) وجود باری کا علم اس عالم کے حدوث کے علم پر موقوف ہے نہ کہ کسی اور (مفروضہ) عالم نہ ہونے کے علم پر۔ یعنی دلیل حدوث سے خدا کے وجود کے اثبات کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہم یہ بھی ثابت کریں کہ اس حسی عالم کے علاوہ کوئی اور قدیم چیز موجود نہیں۔ پس اگر ہم قطعی دلیل سے یہ جان لیں کہ یہ والا عالم جو ہمارے حواس میں ہے یہ حادث ہے، تو ہم قطعی طور پر جان لیں گے کہ اس کا محدث ہے۔ فھو المطلوب۔ اس کے بعد یہ ایک الگ سے سوال ہے کہ کیا اس عالم کے سوا بھی کوئی ایسی چیز ہے جو مثلاً قدیم ہو؟ یہ ایک مستقل سوال ہے جس کا وجود باری کے علم کی قطعیت سے تعلق نہیں۔ اس کا تعلق اس سوال سے ہے کہ کیا اس محدث کے سوا کوئی اور بھی قدیم شے موجود ہے؟

2) دلیل حدوث ہمیں یہ قطعی علم دیتی ہے کہ اس عالم کا محدث بااختیار ذات ہے اور یہ عالم اس کا ارادی فعل یا اثر ہے (اور ارادی اثر لازماً حادث ہوتا ہے)۔ نیز دیگر دلائل سے یہ بھی ثابت ہے کہ وہ محدث واحد ہے۔ جب دلائل سے یہ ثابت ہوچکا، تو اس کے بعد جس مفروضہ چیز کی بات کی جارہی ہے اس کے بارے میں سوال ہے کہ کیا یہ واجب ہے یا ممکن ہے؟ اگر قائل کے نزدیک یہ واجب الوجود ہے تو اس کی اسے دلیل دینا ہوگی کہ اس نے اسے کیوں کر واجب کہا؟ اگر یہ واقعی واجب ہوتا تو اسے معدوم فرض کرنے سے محال لازم آنا چاہئے جبکہ ایسا کچھ نہیں۔ اور اگر یہ ممکن الوجود ہے تو ہمارے نزدیک ہر ممکن موجود حادث ہوتا ہے، پس یہ بھی حادث ہوگا، فھو المطلوب۔ اور اگر وہ اسے قدیم مگر ممکن کہتا ہے تو ہمارے نزدیک یہ مفروضہ باطل ہے کیونکہ ممکن موجود حادث ہوتا ہے۔

3) آخری بات یہ کہ محض ایک فرضی تخیل و ذھنی امکان پیش کردینا خﷺد بخود کسی شے کے خارجی وجود (یا اس کے خارجی امکان) کا علمیاتی ثبوت نہیں، یعنی محض فرضی ذھنی امکان کسی چیز کے وجود کی مثبت دلیل نہیں ہوتی (اسی طرح “چونکہ ہم نے اسے نہیں دیکھا اس لئے وہ نہیں ہے” یہ بات بھی درست نہیں)۔ پس قائل کو بتانا چاہئے کہ وہ کس دلیل کی بنا پر ایک ایسی قدیم چیز کے وجود کی بات کررہا ہے نیز اس قدیم چیز کی نوعیت و خصائص وغیرہ کیا ہیں تاکہ اس پر کوئی علمی حکم لگایا جاسکے (جیسے مثلاً معتزلہ یا ابن سینا وغیرہ نے کچھ قدیم اعیان کی بات کی اور متکلمین نے ان پر بحث کرتے ہوئے ان کی غلطی واضح کی)۔ رہی سائل کی نری تخیل کاری یا یہ کہنا کہ ممکن ہے کوئی ایسا وجود ہو جو نہ جوہر ہو اور نہ عرض، تو وہ زیر بحث نہیں لائی جاسکتی۔ ویسے بھی اس کا یہ بیان محض سلبی ہے۔ الغرض یہ قائل محض فرضی امکان کی بات کرکے ایسے موجود کی دلیل دینے کی ذمہ داری سے فارغ نہیں ہوجاتا۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں