Home » امام رازی کا کانٹ پر تبصرہ
شخصیات وافکار فلسفہ

امام رازی کا کانٹ پر تبصرہ

کانٹ کے فلسفے کی نوعیت اور غلطی کو سمجھنے کے لئے یہ سمجھنا چاہئے کہ حسی تجربے یا ادراک کے دو بڑے نظریات ہیں: براہ رست ادراک اور بالواسطہ ادراک (جسے رپریزنٹیشنل ازم) کہتے ہیں۔ اول الذکر کے مطابق حسی ادراک کا مطلب خارج میں موجود شے کے ساتھ ایک نسبت ہے جہاں مدرک خارجی شے کا مشاہدہ کرتا ہے جبکہ موخر الذکر کے مطابق ہم شے کو نہیں دیکھتے بلکہ ذہن میں اس کے مظہر یا شبیہہ سے ہونے والی  نمائندگی کو دیکھتے ہیں۔ ادراک کے بارے میں دوسرے تصور کا غلبہ مغرب میں راہ پانے والی امپیریسزم کی وہ غلطی تھی جس کی پیروی کرتے ہوئے کانٹ مقولات بطور وجود ذہنی ماننے کی غلطی کا شکار ہوا ، یعنی یہ فرض کیا جانا چاہئے کہ ذہن کے منتشر امیجز کو مربوط کرنے کا کام ذہن کی ایک پیشگی بنی بنائی کلی نما تفہیمی ساخت کرتی ہے اور یہ ذہن کی جانب سے آتی ہے نہ کہ خارج سے، یہ ساخت اس کے نزدیک “عقل محض” ہے۔ اس کے بعد علم کو سبجیکٹو بنادینے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہ تھا اور نتیجتاً وہ سوفسطائیہ کے گروہ عندیہ کی پرانی کھائی میں جاگرا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کانٹ فلسفے کے سب گروہوں کا مسئلہ حل نہیں کررہا تھا بلکہ امپریسزم کی رپریزنٹیشنلسٹ تشریح کرنے والے فلسفے کا مسئلہ حل کررہا تھا جہاں یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ذہن کے منتشر امیجز کی وہ مربوط تشریح کیسے کی جائے جو مربوط علم کی صورت انسان کو حاصل ہے۔

رپریزنٹیشنل ازم کی  نوعیت کو سمجھنے کے لئے چند مثالوں پر غور کرنا چاہئے۔ جب وہ کہتا ہے کہ مثلاً کے ٹو پہاڑ کی اونچائی 8611 میٹر ہے، تو اس قضئے میں وہ خارج میں موجود کسی پہاڑ کے بارے میں خبر نہیں دے رہا ہوتا بلکہ وہ اپنی آنکھ و ذہن وغیرہ میں موجود پہاڑ کے امیج کا سائز بتا رہا ہوتا ہے جو 8611 میٹر طویل ہوتا ہے! جب وہ کے ٹو پہاڑ کو مثلاً ایک سوئی سے ایک لاکھ گنا بڑا کہتا ہے تو یہ ذہن میں ابھرنے والے دونوں اشیا کے امیجز کے سائز کا موازناتی بیان ہوتا ہے! جب وہ کہتا ہے کہ اس کی آنکھوں کے سامنے فیصل مسجد 300 میٹر کے فاصلے پر ہے تو یہ فیصل مسجد اور اس کے مابین فاصلے کا بیان نہیں ہوتا بلکہ اس کے ذہن میں چسپاں ہونے والے “فاصلے کے عکس” کا بیان ہوتا ہے! جب وہ کہتا ہے کہ آواز فلاں جہت سے اور اتنے فاصلے سے آئی، تو یہ اس کے ذہن پر “اس خاص جہت و فاصلے کے امیج” کا بیان ہوتا ہے! جب وہ کہتا ہے کہ فلاں آواز کی شدت 30 میگا ھرڈز ہے، تو یہ اس کے ذہن میں “آواز کی لہروں کی شدت کے امیج” کا بیان ہوتا ہے! جب وہ کہتا ہے کہ یہ کار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ اور وہ ٹرین 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہے تو یہ اس کے ذھن میں منعکس ہونے والے کار و ٹرین کے متحرک امیجز کی رفتار کا بیان ہوتا ہے! الغرض ادراک کی حقیقت کے بارے میں یہ ایک لغو نظریہ ہے اور کانٹ اس کے مسائل حل کرنے کے لئے “ذہنی مقولات” بناتا رہا۔ کانٹ نے بیماری کا علاج کرنے کے بجائے اسے بڑھاوا دیتے ہوئے یہ کہنا شروع کردیا کہ ذہن میں کچھ اور کلی قسم کے امیجز کو بھی مان لو تاکہ علمی قضایا کا اعتبار خارج سے منقطع ہو کر پوری طرح سبجیکٹو بن سکے۔ یہ ہے فلسفے میں اس کا کنٹریبیوشن جسے وہ “کاپرنیکن انقلاب” سے تعبیر کرتا ہے۔

یاد رہے کہ نامینا اور فنامینا کی جعلی تقسیم بھی اسی نظریہ ادراک کی رہین منت ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ کانٹ کی جانب سے “پیور فارمز آف انٹیوشن” جیسی گاڑی اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے تجربی ادراک کی حقیقت پر یہ شرط عائد کرنا کہ یہ صرف زمانی و مکانی ہوسکتا ہے، یہ علمیاتی مجبوری بھی ادراک کی حقیقت سے متعلق رپریزنٹیشنل ازم جیسی غلط metaphysical        assumption سے جنم لیتی ہے ورنہ ڈائرکٹ رائیل ازم کے تحت یہ بات ماننے میں کوئی رکاوٹ و مشکل نہیں کہ ادراک کی شرط موجود ہونا ہے نہ کہ زمانی و مکانی موجود ہونا۔

رپریزنٹشنل ازم کی نوعیت سمجھ آجائے تو اب مذہبی میٹافزکس کے خلاف کانٹ کا کھیل سمجھنا آسان  ہوجاتاہے:

  • کانٹ کہتا ہے کہ تجربہ خارج سے اشیا کے وصول ہونے والے امپریشنز کے ادراک کا نام ہے۔ تجربے کی حقیقت سے متعلق یہ ایک فاسد خیال تھا جس پر وہ فنامینا اور نامینا کی جعلی تقسیم کھڑی کرتا ہے۔
  • یہ تجربی امپریشنز چونکہ جزئی ہوتے ہیں، تو وہ کہتا ہے کہ ان منتشر تجربی امپریشنز کو ذہن میں ایک کلی وحدت میں پرونے کے لئے ذہن میں چند مزید مقولوں کا پیشگی “وجود ذہنی” فرض کیا جانا چاہئے تاکہ کلی علم کی توجیہہ ہوسکے۔ اس پیشگی عقلی ساخت کو وہ عقل محض کہتا ہے۔ یہ بنائے فاسد علی الفاسد تھی کہ ایک قسم کے وجود ذہنی کے لئے ایک اور قسم کے وجود ذہنی کو فرض کرلیا جائے۔
  • ان کلی مقولوں یا خیالات میں سے ایک علت کا خیال ہے جس کا مطلب زمانی طور پر ماقبل واقعے کا ایسا امپریشن ہے جو اپنے سے مابعد کے لئے وجوبی ہو۔ یہ علت کے ایک خاص لوڈڈ مفہوم کو تحکم کے زور پر نرا خیال منوانے کی کوشش تھی۔
  • وہ کہتا ہے کہ حسی ادراک زمانی و مکانی شے کا ہی ممکن ہے۔ یہ بھی بنائے فاسد علی الفاسد تھی جو رپریزنٹیشنل ازم کے مفروضے پر قائم ہے۔
  • پھر وہ کہتا ہے کہ چونکہ خدا کا کوئی امپریشن حسی تجربے سے نہیں آسکتا کہ خدا زمان و مکان سے ماورا ہے، لہذا عقل محض سے خدا پر گفتگو ممکن نہیں اس لئے کہ عقل محض کا کام تجربی امپریشنز کو وحدت دینے تک محدود ہے اور علیت کے نرے خیال سے کسی امپریشن کے بغیر خدا پر استدلال کرنا ممکن نہیں۔

پس اگر علیت کے مفہوم پر کانٹ کے تحکم سے وقتی طور پر اغماض بھی کرلیا جائے (حالانکہ یہ مفہوم بذات خود ایک مستقل غلطی ہے)، تب بھی اگر آپ رپریزنٹیشنل ازم کے مفروضے کی صحت پر ہی سوال اٹھا دیں، جو کہ متکلمین اٹھائیں گے، تو یہ سارا استدلال زمین بوس ہوجاتا ہے۔

کانٹ اپنے پیش رو مغربی فلاسفہ کی تقلید کرتے ہوئے ادراک کے جس نظرئیے کا حامی تھا، علامہ ابن سینا بھی اسی کے قائل تھے جن کے مطابق ادراک خارج میں موجود شے سے تعلق کا نام نہیں بلکہ ذہن میں منطبع یا حاصل ہونے والی شبیہات کے عرفان کا نام ہے۔ اس کے برعکس ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ ادراک کے اس نظرئیے کے قائل تھے جسے آج کی اصطلاح میں ڈائریکٹ رئیل ازم کہتے ہیں۔ امام رازی نے علامہ ابن سینا کے نظریہ ادراک پر بحث کے بعد یہ لکھا ہے:

فثبت بھذہ الوجوہ ان الادراک لیس عبارۃ عن نفس الانطباع بل الحق انه حالة نسبیة اضافیة فانا نعلم بالبدیھة انا اذا ابصرنا زیدا فان لقوتنا الباصرۃ نسبة خاصة الیه، وان الذی یقال من: ان المبصر لیس ھی زید الموجود فی الخارج بل ھو غیر مبصر اصلاً وانما المبصر مثاله و شبحه فانه تشکک فی اجلی العلوم الضروریة و اقواھا، وان امثال ھذہ الکلمات یجب ان لا یخطر ببال الانسان التسلیم العقل فضلا عن ان یجعل مواضعا للبحث(شرح الاشارات والتنبہیات)

مفہوم: پس ان وجوہ سے ثابت ہوا کہ ادراک انطباع (یعنی ذہن و نفس میں شے کی صورت نقش ہونے) کا نام نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نسبتی اور اضافی حالت ہے (جو ہمیں شے کے ساتھ حاصل ہوتی ہے)۔ چنانچہ ہم بدیہی طور پر جانتے ہیں کہ جب ہم زید کو دیکھتے ہیں تو ہماری قوتِ بینائی کی اس کے ساتھ ایک خاص نسبت ہوتی ہے۔ رہی یہ بات کہ مدرَک (یعنی دیکھی جانے والی چیز جس کا ادراک ہوتا ہے) خارج میں موجود زید (thing        in itself) نہیں بلکہ وہ تو غیر مدرَک ہی رہتا ہے اور اصل میں مدرَک اس کا مظہر یا شبیہہ (appearance) ہوتی ہے، تو ایسی سب باتیں بالکل واضح و قطعی بدیہی علوم میں شک ڈالنے کے مترادف ہیں۔ اس قسم کی باتوں کو عقلی طور پر تسلیم کرنے کا انسان کے ذہن میں خیال آنا بھی مناسب نہیں، چہ جائیکہ انہیں بحث کا موضوع بنایا جائے۔

کبھی کبھار شک گزرتا ہے کہ “عقل محض” کے نام پر کانٹ جو کرتا رہا کیا وہ واقعی فلسفہ تھا!

 

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں