Home » ارتداد اور سوشل میڈیا
سماجیات / فنون وثقافت شخصیات وافکار کلام

ارتداد اور سوشل میڈیا

28 دسمبر 2025 بروز اتوار ” معمار ” کے زیر انتظام مسجد فاروق اعظم ، گاوں منگ تحصیل و ضلع ہری پور میں ” ارتداد اور سوشل میڈیا” کے عنوان سے ایک علمی مجلس منعقد ہوئی، جس میں علاقہ کے منتخب اہل علم نے شرکت کی۔ جب کہ کلیدی خطبہ محترم جناب عمیر علی صاحب ( مدرس اسلامیات ، گورنمنٹ ہائی سکول کینتھلہ ہری پور ) نے ارشاد فرمایا۔ عمیر صاحب کے خطبہ کا عنوان “ارتداد اور مذہب بیزار انسان کی تشکیل میں سوشل میڈیا کا کردار” تھا۔
عمیرعلی صاحب کی گفتگو تقریبا دو گھنٹے پر محیط تھی، یہ گفتگو کافی طویل ، مشکل علمی اصطلاحات و مباحث کو سموئے ہوئے تھی، گفتگو کے ہر نقطے کو انہوں نے مختلف مثالوں کے ساتھ پیش کیا۔ یہاں اس کا ایک مختصر خلاصہ میں اپنے فہم کے مطابق کے پیش کر رہا ہوں، جس میں مفہوم تو انہیں کا ہے، البتہ تعبیر اور انتخاب الفاظ میں کہیں کہیں سہولت کے پیش نظر تبدیلی کی گئی ہے۔
گفتگو کے دو حصے تھے:
ارتداد و الحاد کا تعارف سوشل میڈیا کے انسانی زندگی پر اثرات
28 دسمبر 2025 بروز اتوار ” معمار ” کے زیر انتظام مسجد فاروق اعظم ، گاوں منگ تحصیل و ضلع ہری پور میں ” ارتداد اور سوشل میڈیا” کے عنوان سے ایک علمی مجلس منعقد ہوئی، جس میں علاقہ کے منتخب اہل علم نے شرکت کی۔ جب کہ کلیدی خطبہ محترم جناب عمیر علی صاحب نے ارشاد فرمایا۔ عمیر صاحب کے خطبہ کا عنوان “ارتداد اور مذہب بیزار انسان کی تشکیل میں سوشل میڈیا کا کردار” تھا۔
عمیرعلی صاحب کی گفتگو تقریبا دو گھنٹے پر محیط تھی، جس کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔
گفتگو کے دو حصے تھے:
ارتداد و الحاد کا تعارف سوشل میڈیا کے انسانی زندگی پر اثرات
ارتداد و الحاد کا تعارف
[گفتگو کے آغاز میں محمد دین جوہر صاحب کے مضمون “الحاد اور رد الحاد” (شمارہ جی) کا ایک حصہ پڑھا گیا]
موضوع کے انتخاب میں الحاد کی بجائے ” ارتداد” کا لفظ اس لئے داخل کیا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے کو جو چیلنج درپیش ہے وہ الحاد کے بجائے ارتداد کا ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے کا تاریخی تجربہ مغرب سے مختلف ہے۔ مغربی معاشرے نے الحاد و دہریت کا سامنا کیا، اور بالآخر مذہب نے شکست کھائی۔ جب کہ ہمارے معاشرے میں ارتداد کا تجربہ ہے۔
الحاد ایک علمی تحریک ہے، جو کہ جدیدیت کے بعد مغرب میں پیدا ہونے والی تحریکات و ابحاث کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ جب کہ ارتداد کے فروغ میں تاریخی و سماجی عوامل کا کردار اہم ہے۔ یہ مذہبی مظاہر اور رویوں پر رد عمل سے پیدا ہو ا ہے، بالفاظ دیگر یہ کسی چیز کی طرف پیش رفت کے بجائے گریز اور فرار کا نام ہے۔ جناب محمد دین جوہر کے نزدیک اس کے درج ذیل تین اہم اسباب ہیں:
1۔ مذہبی عقیدے کا تجربی پہلو 2۔ اخلاقی بحران 3 مذہب کی سیاسی تشکیل
ان تین اسباب کے تحت پھر ہمارا تعارف موضوع ، مسئلہ خیر و شر ، اخلاقیات، مشین و ٹکنالوجی سے تعامل، مذہب کی قانونی و سیاسی تشکیل اور اس کے معاشرتی اثرات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
سوشل میڈیا کے انسانی زندگی پر اثرات
اس کے بعد ہم سوشل میڈیا کے انسانی زندگی پر اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ جن کے زیر اثر انسان وجودی طور پر عقیدے اور مذہب کا حامل ہونے کے لیے سازگار نہیں رہتا۔ یعنی انسان فکری طور پر بدل جاتا ہے۔
مذہب انسان سے اس کی فطری پوزیشن پر مخاطب ہے، جب کہ سوشل میڈیا سے تعامل کے باعث انسان کی ذہنی و فکری سطح اس قدر بدل جاتی ہے کہ انسان مذہب کا مخاطب ہونے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھتا ہے۔
مذہب ایک ایسی معاشرت تشکیل دینا چاہتا ہے، جس میں انسانوں کے لیے مذہبی زندگی ، مذہبی تجربہ آسان ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ایک قاتل کو نیکو کاروں کی بستی کا مشورہ ملتا ہے کہ وہاں نیکی آسان ہو جاتی ہے۔ جب کہ سوشل میڈیا ایک بالکل نئی خودی و نئی معاشرت تشکیل کرتا ہے۔ جس میں انکار مذہب ، ارتداد ، سیکولرازم مذہبی رسوم سے آزادی ہی سازگار معلوم ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا نے اس وقت انسانی زندگی کی فکری و عملی کیفیت پر بہت گہرا اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں قدیم اور جدید انسان میں بعد المشرقین پیدا ہو گیا ہے۔ اس اثر نے انسان کی فکری و عملی کیفیات کو تبدیل کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں مذہب ، مذہبی رسوم وجذبات اور مستقل مزاجی ختم ہو گئی ہے۔ مذہب مختلف دستیاب آپشنز میں سے ایک آپشن بن گیا ہے۔ مذہب و خدا کو احتیاطا مان لینے کا آپشن اور فکر پیدا ہوئی۔ سید مبارک شاہ نے اس کیفیت کو کچھ یوں بیان کیا ہے۔
بتا ان اہل ایماں کی سزا رکھی ہے کیا تو نے
خداوندا جو تجھ کو احتیاطا ً مان لیتے ہیں
چارلس ٹیلر سیکولر ازم کی جو تین صورتیں بیان کرتا ہے اس میں ایک یہ کہ مذہب/ایمان متعدد آپشنز میں سے ایک آپشن یا انتخاب رہ جاتا ہے۔اور یہ تبدیلی نتیجہ ہے سوشل میڈیا کے بنیادی اثرات کا، جو کہ انسانی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ ان اثرات کو ہم دس اہم و بنیادی نکات میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
تنہائی، انسان بیزاری
تنہائی و خلوت ایک حد تک مذہب میں بھی پسندیدہ عمل ہے۔ مگر یہاں مذہب کی مطلوب تنہائی کے برعکس سوشل میڈیا ٹیکنالوجی سے تعامل ایک ایسی تنہائی پر منتج ہوتا ہے جو کہ الوہی ہے اور نہ مفید ، جو اپنی انتہاء میں انفرادیت و معاشرت کی تعمیر میں صرف ہونے کے بجائے کسریت زدہ معاشرت کی تشکیل کرتی ہے۔ یوں ایک منتشر معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ غیر حقیقی تعلقات بنتے ہیں۔ جن میں رابطہ تو رہتا ہے، مگر تعلق اور تعلق کے نتیجے میں قائم ہونے والے ہمدردانہ جذبات ختم ہو جاتے ہیں۔ انسان ہمہ وقت رابطے میں رہتا ہے، معلومات رہتی ہیں، مگر تعلق ، محبت ، ہمدردی و غمگساری ختم ہو جاتی ہے۔
صارفیت کا جبر اور احساس زندگی کا خاتمہ 
سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی نے ہر چیز کو گاہک اور کاروباری تعلق بنا دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ضرورت کے بجائے کاروباری تقاضوں کے تحت اشیاء کی تیاری کی جا رہی ہے، اور یہی اثر انسانی ذہن و افکار پر بھی پڑ رہا ہے۔ کاروباری تقاضوں کے تحت افکار بنتے بگڑتے ہیں۔
قدیم انسان کے ہاں اشیاء میں استحکام تھا ، اور عبادات و رسوم ایک لازمی امر کی طرح تھی، قدیم انسان کااپنی اشیاء سے ایک لگاو ، اور قلبی تعلق بن جاتا تھا، جس کے ضیاع پر اس افسوس ہوتا، وہ چیزوں کو تبدیل کرنے کے بجائے درست کروانے کو ترجیح دیتا تھا۔ بطور مثال گھریلو استعمال کی اشیاء اور گھریلو خواتین کا ان سے انسیت کا تعلق دیکھیں، جب کہ دوسری طرف سمارٹ فون اور اس کا کلائنٹ اس انسیت کے تعلق سے خالی ہوتا ہے۔ یہ اشیاء میں استحکام اور عبادات ورسوم کی پابندی انسانی زندگی کو ایک ترتیب کے ساتھ رکھتی تھی، انسان کی یاداشت ، وقت اور سماجی تسلسل کو مربوط رکھتی تھی۔
اس کے برعکس جدید انسان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر لمحہ اشیاء پیدا کی جارہی ہیں اور پھر ان کے صرف کے طریقے ایجاد کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایجادات کا تسلسل زندگی کو غیر مستحکم کر دیتا ہے، نتیجے کے طور پر اشیاء حتی کے دنیا کے ساتھ بھی برتاو صارف کا سا کرتے ہیں۔ اور یہ صارفیت ہمیں گھیر گھیر کر زندگی کو غائب اور غیر مستحکم کر دیتی ہے۔
جذبات کا جنس بن جانا
جدید معاشرے نے ہر چیز کو جنس بنا دیا ہے، علم ، ثقافت ، انسانی محنت ، انسانی جذبات ہر شئی قابل فروخت جنس کی صورت بازار میں موجود ہے۔ جس کے نتیجے میں جذبات و تعلقات اور دیگر اعلیٰ انسانی خصائص کی اصل قدر وقیمت باقی نہیں رہتی، بلکہ ہر شئ بطور آلہ باقی ہے۔ جذبات کی وابستگی ، حس جمال ، احساس وغیرہ اضافی چیزیں بن گئی ہیں، جب قدیم انسان کے ہاں یہی چیزیں ( یعنی جذباتی وابستگی ، حس جمال ، احساس و درد مندی ) ہی اصل سرمایہ حیات تھی۔
اقدار و روایات کا سطحی ومنفی استعمال
جدید مشینی دور میں اقدار و روایات کا استعمال انتہائی سطحی بلکہ بسا اوقات منفی استعمال ہوتا ہے۔ اعلی اقدار ( انصاف ، مساوات وغیرہ ) کا استعمال محض منافع خوری کے لیے ہونے لگا ہے۔ جب کہ قدیم انسان کے لیے یہ اقدار و روایات جسم میں دوڑتے خون کی طرح تھی، قدیم انسان نفع نقصان ہر قیمت پر ان کا تحفظ چاہتا تھا، جو کہ جدید انسان کے ہاں مفقود ہے۔
5۔ کسریت زدہ خودی
قدیم انسان کے ہاں شناخت میں تعدد نہیں تھا، اس کی پہچان واضح تھی اور وہ خود اپنے تعارف میں یکسو تھا، جب کہ جدید دور کا انسان متعدد شناختیں رکھتا ہے۔ اس کی متعدد آن لائن شناختیں ہیں، جس کے نتیجے میں اس کی خودی اور اندرونی یکجائی بکھر کر رہ گئی ہے۔ اب یہ اپنی شناخت بھی بیرونی عوامل سے تعمیر کر تا ہے۔ اپنی اصل شناخت کے بجائے دوسروں کی توقعات کے مطابق خود کو پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ حالات کے ساتھ خود کو مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ اور بدلاو کبھی مثبت و کبھی منفی ہوتا ہے۔
توثیقی محتاجی
سوشل میڈیا سے مسلسل تعامل سے انسان کے ساتھ یہ المیہ بھی ہو جاتا ہے کہ وہ خود اعتمادی کھو بیٹھتا ہے اور اپنی بات کے لیے بیرونی توثیق اس درکار ہوتی ہے۔ یہ اپنی قیمت کا تعین دوسروں کے لائیکس، شئیر اور کمنٹس سے کرنے لگتا ہے۔ یہاں اس کے افکار اپنی علمی و فکری بنیادوں کو کمزور کرنے بلکہ بسااوقات چھوڑنے لگتے ہیں ، نتیجتا وہ سطحیت پر اتر آتا ہے۔
جذبات کی گراوٹ
سوشل میڈیا کے ساتھ مسلسل تعامل کے نتیجے میں جذباتی گراوٹ پیدا ہوتی ہے، انسان اصل جذبات و وابستگی کو چھوڑ کر وقتی و عارضی جذبات کی رو میں بہنے لگتا ہے۔ فوری ردعمل کا عادی ہو جاتا ہے، مشکل و پیچیدہ معاملات کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔ صبر ، برداشت اور تعلقات کی گہرائی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے کسی قدیم عمر رسیدہ شخص کے مسائل کو حل کرنے کا طریقہ اور جدید انسان کے طریقہ کے فرق کا مطالعہ کریں ، آپ کو اندازہ ہو گا کہ وہ کتنے مشکل مسائل کو کس خوش اسلوبی سے حل کر لیتا ہے، جب کہ ایک جدید انسان اس مسئلہ کو مزید بگاڑ کی طرف لے جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا کا استعمال ایک نشہ
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال ایک نشے کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جس سے انسان کا سیلف کنٹرول کمزور ہو جاتا ہے۔ اور وہ غیر شعوری طور پر مشین کا غلام بن جاتا ہے۔
روحانی اور وجودی تھکاوٹ
سوشل میڈیا کا مستقل استعمال انسان کی روح کو تھکا دیتا ہے۔انسان کو ایک بے مقصد تھکاوٹ کر دیتا ہے۔ علمی گہرائی اور معانی کی وسعت ناقابل رسائی لگنے لگتی ہے۔ نتیجتا ایمان سے اکتاہٹ ، پاکیزہ تخیل سے محرومی ، وجودی خلا جیسی کیفیت وجود میں آتی ہے۔اخلاص علم و عمل سے پر بامعنی و بامقصد زندگی ایک خواب بن جاتی ہے۔ یہاں تک کہ روز مرہ کی علمی زندگی میں بھی سہولت پسندی در آئی ، علمی ابحاث محض نوٹس و سمریز تک محدود ہو گئی۔ وہ جو الفاظ کا بامعنی اور مختلف انداز و زاویوں سے استعمال تھا ختم ہورہا ہے۔
بجتی ہوئی مٹی سے قدم میں نے نکالا
اور کون کی دہلیز پہ اک شور اٹھا، کون (خورشید رضوی)
الفاظ کا ایسا استعمال ختم ہو رہا ہے۔ جب کہ مذہبی زندگی کے لیے بنیاد ہی یہی ہے۔ ہم نے پڑھا کہ سیدنا عمر نے سورہ بقرہ کو پڑھنے پر ڈھائی سال لگائے،یا بعض اہل علم رات بھر ایک ہی آیت پڑھتے رہتے تھے۔ یہ کیا تھا، یہ علمی گہرائی ، الفاظ کی معنویت پر غور و فکر تھا، جدید میڈیائی دور نے انسان سے یہ صلاحیت ختم کر دی۔ یہ مستقل مزاجی اور سرور علمی اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔
10۔ امید و تصورات کا خاتمہ
جدید مشینی دور کے نتیجے میں دنیا سائنسی ہو گئی ، ہم چیزوں کو دو اور دو چار کی طرح دیکھنے لگے۔ جس کے نتیجے میں زمان و مکان کی بہت سی ایسی چیزیں جو سوچ کے نئے زاویے اور نئے معاشرے کے قیام کے سبب ختم ہوگئی ، جیسے بعض جگہوں کا بابرکت ہونا، اوقات کا بابرکت و مقدس ہونا ، وغیرہ وغیرہ ۔ آگے چل کر اسی سے پھر کائنات کا علامت ہونے کا تصور جو اپنے خالق پر شاھد ہے، ختم ہو جاتا ہے ، یوں یہ انداز نظر ختم ہو کر سائنسی انداز نظر جنم لیتا ہے۔ جب امید و تصورات ختم ہوتے ہیں تو پھر انسانی زندگی مشکلات کا سامنا نہیں کر پاتی۔
سوشل میڈیا اور مشینی زندگی کے یہ اثرات ایسے ہیں جو انسان کے لیے مذہب کو چند میسر آپشنز میں سے ایک آپشن کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس وقت مذہبی دنیا کو ارتداد سے زیادہ خطرہ اس تصور سے ہے، کہ یہی آگے چل کر ارتداد و انکار خدا کا سبب بنتا ہے۔ “
عمیر علی صاحب کے گفتگو کے بعد مختلف احباب نے سوالات اور اپنے تبصروں سے گفتگو میں حصہ لیا۔ جب کہ دوران گفتگو میں احباب کے تبصرے اور بعض سوالات چلتے رہے۔ اس کے بعد مفتی توصیف احمد صاحب کے طرف سے تمام شرکاء محفل کی چائے بمع لوازمات سے تواضع کی گئی۔

مولانا وقار احمد

مولانا وقار احمد نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے درس نظامی اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد سے علوم اسلامیہ میں ڈاکٹریٹ کی ہے۔ ہری پور میں ایک سرکاری کالج میں اسلامیات کی تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
waqar.iiu1984@gmail.com

فیصد کمنٹس

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ۔
    اس نشست میں حاضری کا موقع ملا تھا اور دس نکات واقعی نہ صرف دل چسپی کا مرکز رہے بلکہ جدید و قدیم انسان میں واضح فرق بھی محسوس کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے،اللہ کے فضل کے بعد آپ کی کاوشوں سے یہ سلسلہ چلا۔

  • ماشاءاللہ نہایت اہم، بروقت اور فکری طور پر جھنجھوڑ دینے والی گفتگو کا جامع خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ ارتداد کو محض الحاد کے خانے میں بند کرنے کے بجائے اس کے سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی اسباب کو جس گہرائی سے واضح کیا گیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا کے انسانی شعور، خودی، جذبات اور مذہبی تجربے پر اثرات کی جو تحلیل کی گئی ہے وہ آج کے دور کی ایک تلخ مگر ضروری حقیقت ہے۔
    محترم عمیر علی صاحب کی علمی کاوش اور مرتبِ خلاصہ کی محنت دونوں لائقِ قدر ہیں۔ ایسی سنجیدہ مجالس اور تحریریں ہمارے فکری بحران کو سمجھنے اور اس کا علاج سوچنے میں مدد دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس طرح کی علمی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ہمیں فہمِ دین کی گہرائی عطا فرمائے۔ آمین۔

  • جدید الحاد کی ابتدا یورپ سے ھوئ سخت گیر بادشاھت ، سنگدل پاپا ئیت اور ظالم سرمایہ داری اس نظریۓ کے پھیلاؤ کی وجہ بنی ۔
    لیکن ایک بات اچھی طرح سمجھ لی جاۓ کہ الحاد بر صغیر کے مسلمانوں کا مسئلہ ھی نہی ھے ۔۔ بر صغیر کے مسمانوں کا اصل مسئلہ فرقہ واریت ھے ۔۔

    متحدہ ہندوستان ایک ایسی سرزمین تھی جہاں متعدد فتنے پیدا ہوئے، اکبر کا دین الٰہی، امروہہ، لکھنؤ اور رام پور کا شیعہ مذہب، بریلویہ، دیوبندیہ، سلفیہ، قادیانیہ ، چکڑالویہ وغیرہ جیسے بہ زعم خود جنّتی فرقے متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ لاکھوں صوفی، عقل سے دور درجنوں مجدد، مہدی قسم کے لوگ مشہور ہوئے اور سادہ لوح لوگوں نے ان کی پیروی کی۔
    یو پی کا بریلوی مذھب، یو پی اور دہلی کا دیوبندی مذھب، پنجاب اور دھلی کا اہل حدیث مذھب، گورداسپور اور لدھیانہ کا قادیانی مذھب، سب ایک سے بڑھ کرایک فسادی اور جہالت کے امام تھے.
    اعلیٰ حضرت و قدس سرہٗ اور شیخ الحدیث و فضیلۃ الشیخ , ذاکر اہل بیت، مناظر اعظم ، سراج المجتہدین، اور مفتی اعظم قسم کی سینکڑوں مضحکہ خیز مخلوق اس خطہ میں پائی جاتی ہے جنھوں نے برصغیر کے سادہ لوح مسلمانوں کو دین اسلام سے دور کرنے اور اپنے خود ساختہ فرقے کے بے شمار فضائل بیان کر کر کے مسلمانوں کو اپنے اپنے فرقوں میں شامل کرنے کے لیۓ بھرپور کوششیں کیں ۔ برصغیر میں پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی نے اور پھر برٹش سرکار نے بھی ان فرقوں کی بھر پور مالی امداد کر کر کے اپنے الو سیدھے کیۓ رکھے ۔ مسلم یکجہتی تو کسی کو بھی نہی بھاتی ۔
    الحاد کے گھسے پٹے مباحث اب مغرب میں بھی کوئ اھمیت نہی رکھتے البتہ پاکستان و بھارت میں تو لنڈے کا سامان ھو یا گھسے پٹے نظریات بڑے شوق سے ہاتھوں ہاتھ لیۓ جاتے ھیں ۔ الحاد کے مغربی مبلیغین بھی اب الحاد کو فلسفیانہ طرز پر جاری رکھنے کی تگ ودو میں مصروف ھیں عقلی دلائل ان کے پاس ختم ھوۓ عشرے بیت گۓ ھیں اور ” خود بہ خود “ ھونے کا نظریہ عشروں قبل دم توڑ چکا ھے ۔ اب پاکستان اور بھارت کی ملائیت نے فرقہ واریت کے گھناؤنے کرتوت چھپانے کے لیۓ قبر میں پاؤں لٹکاۓ اپنے اپنے جہاز کے انتظار میں مگن بڈھوں پر پنجہ آزمائ کرنے کی نا کام کوششیں شروع کیں ھیں جسکی پہلی قسط مزکورہ بالا مناظرے نما پروگرام کی صورت میں کروڑوں لوگوں نے ملاحظہ کی ھے ۔