Home » دی امپوسیبل سٹیٹ ؛ وائل حلاق (مطالعہ)
انگریزی کتب سیاست واقتصاد

دی امپوسیبل سٹیٹ ؛ وائل حلاق (مطالعہ)

خالد ولی اللہ بلغاری

وائل حلاق کی کتاب امپوسیبل سٹیٹ کا مطالعہ ختم ہوا۔ دو سو صفحات کی کتاب میں سو صفحات پر حوالہ جات ہیں مگر کتاب شاندار ہے۔ حلاق کولمبیا یونیورسٹی میں ہیومنیات کے پروفیسر ہیں اور کتاب عام قاری کیلئے بھی قابل فہم ہے جو ایک کمیاب چیز ہے۔ ایک پڑھے لکھے دوست سے کتاب کے حوالے سے بات ہوئی تو کہنے لگے کہ حلاق اُس باریک تفہیمی رسی پر مسلسل چلتے رہتے ہیں اور گڑبڑاتے نہیں جس کے ایک طرف عامیانہ پن اور معیار پر کمپرومائز کی کھائی ہے اور دوسری جانب تھیوری کی تفصیلات اور بات کے ناقابل فہم ہو جانے کی مہیب خندق؛ درمیان میں مستوی رہنے کا یہ کمال کم لوگوں کو نصیب ہوا ہے۔ اس دوسرے مسئلے کے مظاہر ہمارے یہاں بھی دانشوروں کے ایک گروہ کے اندر ظاہر ہو رہا ہے۔ سادہ بات کو پیچیدہ بنانا اور سامنے کی چیز کو کسی طور الٹ پلٹ کر تھیوری کی کسی بھاری اصطلاح کا چولا پہنا دینا اور اکثر درست اصطلاح کو غلط جگہہ استعمال کرنا، تھیوری اووَر ڈوز کی ان علامتوں کے مظاہرے مشاھدے میں آتے رہتے ہوں گے۔ ایبسٹریکٹ نسبتوں کے ابلاغ و اظہار کیلئے پیچیدہ ٹیکنیکل زبان کی ضرورت سے انکار مقصود نہیں لیکن ہر جگہہ اصطلاح گھسیڑنے سے اجتناب ضروری ہے۔ میڈیکل کی تعلیم میں فزیالوجی ایک بنیادی سبجیکٹ ہے وہاں ایک تصور کسی عضو کے زیادہ استعمال کے باعث توانا اور بڑا ہوجانے کا ہے جسے ‘ہائیپر ٹروفی’ کہا جاتا ہے اس کے الٹ اصطلاح ‘اے ٹروفی’ رائج ہے جس کے معنی کسی عضو کے کم استعمال کے باعث اس کا کمزور اور چھوٹا ہو جانا ہے۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ میڈیکل کے کسی طالب علم کو گائے کی تصویر دکھائی گئی اور پوچھا گیا کہ یہ کیا جانور ہو سکتا ہے؟ کچھ غور فکر کے بعد طالب علم نے فرمایا کہ ہائپر ٹروفیڈ بکری معلوم ہوتی ہے۔

کانٹینٹ کے حوالے سے عرض یہ ہے کہ جدیدیت اور خاص طور پر جدید ریاست کے جو مباحث عالمی سطح پر مفکرین کے اندر متداول ہیں اور جدید ریاست پر جو تنقید ان مفکرین کے ہاں رائج ہے اسے اپنی ضروری پیچیدگی کو محفوظ رکھتے ہوئے قابل فہم انداز میں بیان کر دیا ہے۔
جو دوست جدید ریاست پر غور و فکر کرتے ہیں یا پڑھتے لکھتے ہیں ان کے بہت سے بکھرے ہوئے تصورات کو ایک تفہیمی زنجیر میں مربوط کرنے کیلئے کتاب معاون ہو سکتی ہے۔

اسلام کے نظام سیاست کے حوالے سے یہ دوسری کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے جو مغربی اکیڈیمیا کے پروفیسر نے لکھی ہے۔ جدید دنیا کا ‘سٹیزن’ ہونے کے بسبب غالبا، دیسی مصنفین کی نسبت یہ حضرات ہماری سمجھ کو زیادہ راس آتے ہیں۔ علمی سرگرمی کا معیار بھی ہمارے ہاں اب عموما وہی ہے جو مثلا دودھ اور شہد کا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا ہی ہوگا، معیاری مباحث کم کم ملتے ہیں۔ بہرحال ان دونوں حضرات میں یہ نکتہ مشترک اور متفق علیہ ہے کہ کمیونٹی اور معاشرے کی صحت، اور معاشرے کی اجتماعی صحت مند رائے کو اسلامی سیاست کا محور گردانتے ہے۔ یعنی سیاست کا مرکز کمیونٹی کو سمجھتے ہیں اور سمجھ لیں کہ سیاسی بحث میں سفر کا آغاز یہاں سے کرتے ہیں۔ ناصر عباس نیر نے اپنی کتاب مابعد جدیدیت نظری مباحث کے مقدمے میں سماجی تشکیل کو مابعد جدیدیت کا مرکزی وصف بتایا ہے وہ لکھتے ہیں ” ما بعد جدیدیت میں اگر کسی چیز کو مرکزیت حاصل ہے تو وہ سماجیت یا ہر شے کے سماجی تشکیل ہونے کے تصور کو ہے۔” یہ ایک دلچسپ پیٹرن ہے کہ جدیدیت کے ناقدین جس چیز کو قابل تعریف ٹھہراتے ہیں وہ گھوم پھر کر اپنے عہد کے معروف تصوارت ہی ہوتے ہیں۔ وٹگنسٹائن جس کو اپنی لسانیات کی بنیاد پر مابعد جدید مفکرین خاص طور پر لیوتار پر اثرانداز بتایا جاتا ہے کہتا ہے ” کوئی معنی شخصی اور نجی نہیں ہے۔ معنی زبان میں ہے، زبان سے قائم ہے اور زبان سماجی تعامل سے وجود میں آتی ہے”۔
اگرچہ ایسے تلازمات اور مشترکات کسی بھی دو کے مابین ذرا سی محنت کر کے دکھائے گنوائے جا سکتے ہیں تاہم اپنے عہد کے غالب فکری مزاج سے متاثر ہوجانا بھی ایک فطری امر ہے۔ لگتا یوں ہے کہ یہ تاثیر زیادہ تر غیر شعوری ہوتی ہے۔
دوسری بات جو اسی سے متعلق بھی ہے یہ، کہ اسلامی سیاست کو چلانے والی اصل طاقت اور محرک یا اس کی روح لازما اور دائما اخلاقی ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں ‘از’ اور ‘آٹ’ کی تقسیم پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ کانٹ کا بھی ذکر ہوا ہے اور پوزیٹیو ازم کا بھی۔ سامنے کی چیز اور شے کا حسی اور عقلی تجربہ ہی سب کچھ ہے، یہی حقیقت ہے اور اس کے پیچھے کچھ نہیں ہے کا پوزیٹیوسٹک تصور اخلاقی ڈومین میں جا کر یہ بن جاتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے جو امر واقعہ ہے وہی اچھا ہے، کیا ہونا چاہئے کا سوال ہی فضول ہے۔ جو ہست ہے وہ ٹھیک ہے، باید کی بات ہی نہ کرنی چاہئے۔ جدیدیت کی دنیا ہست کی دنیا ہے، اسلام سراسر باید ہے۔ سیاست میں ‘زمینی حقائق’ کو اصل کہنے اور کیا ہونا چاہئے کو آئیڈیلسٹک کہہ کر ہلکا کرنے والے علمائے کرام کا فکری شجرہ یہاں ڈھونڈنا چاہئے۔

جدید ریاست اور اسلامی طرز حکومت کے اندر ایسی کون سی متضاد اور متصادم خصوصیات ہیں جن کی بنا پر پروفیسر صاحب کے یہاں جدید ریاست کو اسلامی بنانا ناممکن قرار پاتا ہے، کتاب کا اصل موضوع ہے اور اس پر نکتہ وار بحث کی گئی ہے۔

ریاست کی ما بعد الطبیعیاتی اساس کے حوالے سے پروفیسر نے ذکر نہیں کیا لیکن ہائڈگر کا یہ مقولہ یاد آتا رہا کہ “سائنس ایک نسبتا جدید ما بعد الطبیعیات ہے جہاں ہونے سے مراد شے ہونا ہے” جدید دنیا سائنس کی دنیا شے کی دنیا ہے اور شے کی حقیقت وغیرہ کی بات کو خام خیالی اور بے بنیاد اوہام گردانتی ہے۔ پروفیسر اس نکتے کی وضاحت میں خاصی محنت کرتے ہیں کہ جدید ریاست کو خود سے باہر کسی ما بعد الطبیعیات کی تلاش کی ضرورت نہیں رہتی۔حقیقت سے تعلق کاٹ دئیے جانے کے بعد جدید دنیا کے بڑے مظاہر جن میں جدید ریاست سب سے بڑا مظہر ہے، خود اپنے آپ میں ایک ما بعد الطبیعی شان پیدا کر چکے ہیں۔ ان کے نزدیک جو سامنے موجود ہے وہی حقیقت ہے۔ اب ریاست خود اپنا ڈیفائینر/ معرف بھی ہے اور خود اپنا اینڈ/ غایت بھی ہے۔ چناچہ ریاست اپنے طے کردہ اہداف کے حصول کے لئے اپنے سیٹیزن سے جان اور مال کی قربانی طلب کرتی ہے اور پس و پیش کی صورت میں جبر کو بھی جائز اور روا سمجھتی ہے۔ سیٹیزن بھی اس اختیار اور مطلق قدرت پر ایمان لائے ہوئے ہیں۔

دوسرا نکتہ ساورنٹی یا حاکمیت اعلی کا ہے جس میں جدید ریاست عوام کی متفقہ رائے کا نمائندہ اظہار ہونے کی بنا پر ساورن ہے۔ ہم لوگ ساورنٹی کے اس نکتے سے آئین پاکستان میں حاکمیت اعلی کا مالک خدا کو قرار دینے کی قرارداد مقاصد کی شق کے حوالے سے واقف ہیں۔ پاکستان کا آئین جس فکر کا نمائندہ ہے وہ فکر یہ ہے کہ جدید ریاست کو کچھ رد و بدل اور اضافہ و ترمیم کے ساتھ اسلامی بنایا جا سکتا ہے اور قرارداد مقاصد کی یہ شق اسی کاوش کا عملی اظہار ہے۔ پروفیسر حلاق اس فکر سے اتفاق نہیں کرتے۔

تیسرا نکتہ سپریشن آف پاورز کا ہے جو جدید مغربی سیاسی نظام کا ایک بڑا اصول ہے، پروفیسر اس اصول کی فکری اور عملی خامیاں بتا کر یہ باور کرواتے ہیں کہ عملی طور پر سپریشن ممکن نہیں ہوتا اور حتمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے اختیارات کے اوپر کھینچا تانی کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ مقننہ عدلیہ سے اور عدلیہ انتظامیہ سے اور سبھی ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اس دوران کبھی ایک کا کبھی دوسرے کا پلڑا بھاری ہو جاتا ہے۔ اپنے ملک میں ہم اس صورتحال کا مشاھدہ بخوبی کر سکتے ہیں۔ اسلامی سیاسیات میں اختیارات کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا؟ کے سوال کو پروفیسر نے واضح نہیں کیا۔ وہ اسی بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ اسلامی شریعت کے پانچ ستونوں عبادات صوم و صلوۃ اور زکوۃ پر تربیت اور اس کے معاشرے پر مثبت اثرات پہلی اینٹ ہے جس کے ذریعے ایسے رجال کار کی تیاری ممکن ہے جن کی پہچان ایک اسلامی نظام معاشرت سے خاص ہے۔ رجال کی تیاری کو حکومت اسلامیہ کے قیام کا پہلا اور اہم ترین مرحلہ بتانے کا یہ تصور بہت عام بلکہ ‘گھسا پٹا’ ہے اور ہمارے یہاں سیاسی اسلام کی نمائندہ جماعتوں جیسے جماعت اسلامی اور تحریک اسلامی وغیرہ کے منصوبوں سے مماثل ہے۔ پروفسیر اسلامی معاشرت کی اس خاص پہچان کے حامل افراد کو مورل سبجیکٹ کہتے ہیں جو جدید ریاست کے زیر تربیت رہنے والے فرد سے اندرونی طور پر یکسر مختلف ہے جس کو وہ سیٹیزن کا نام دیتے ہیں۔
اسلامی حکومت ان خاص پہچان کے حامل افراد کے اجتماعی ارادہ اور جدو جہد سے قائم ہونے والی حکومت کا نام ہے اور اسی خاص سانچے پر تیار کردہ طرز معاشرت کے اندر ہی اسلامی طرز حکومت فعال اور با معنی ہے۔ اسلامی ریاست ایک مضبوط سماجی ڈھانچے کی موجودگی کے باعث فرد اور خاندان پر اس طرح کی مائیکرو گورننس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا نہ ہی سماج حکومتی اثر رسوخ کو باریکیوں میں دخیل ہونے دیتا ہے۔ قاضی، مفتی اور حکمران کے تعلق پر عویمر انجم صاحب نے کچھ تفصیل لکھی ہے، اگرچہ خاطر خواہ اطمینان وہاں بھی نہیں ہوتا۔

پروفیسر حلاق کی فکر میں اور سیاسی اسلام کی جماعتوں کے خیالات مابین رجال کار کی تیاری کے حوالے سے کچھ مماثلتیں موجود ہیں لیکن پروفیسر حلاق کے یہاں جدیدیت سے نفور کی شدت کافی زیادہ ہے۔ وہ جدیدیت کو اور جدید ریاست کو میٹافزکس سے لیکر معیشت تک مغربی تہذیب کی ایک ایسی نئی ایجاد سمجھتے ہیں جس کا اسلامی تہذیب کیساتھ کوئی نباہ ممکن نہیں ہے تا آنکہ جدید ریاست کے اندر ایسی بنیادی تبدیلیاں نہ کر دی جائیں کہ جس کے بعد اسکی ‘جدید ریاست’ کے طور پر شناخت بدل جائے۔ اس نکتے پر ان کے خیالات محمد دین جوہر صاحب سے قریب معلوم ہوتے ہیں۔ جوہر صاحب کے یہاں بھی جدید ریاست کی اصل اور فروع کو بطور معروض کے تفصیل کیساتھ سمجھنے کے حوالے سے معیاری مضامین موجود ہیں۔انکے نزدیک بھی جدید ریاست کا اسلام کے ساتھ نباہ جدید ریاست کے ڈھانچے میں اس کی شناخت کو منقلب کر دینے والی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی کرسی ہے، اس میں جگہ ہی ایک آدمی کے بیٹھنے کی ہے اور اس میں بیک وقت دو آدمی نہیں بیٹھ سکتے۔ گویا ایک نیام اور دو تلواروں والی بات ہو گئی۔ جدید ریاست اپنی اصل اور خالص شکل میں کیمپ ہے ,اور کیمپ ہر جگہ موجود ہے، جورجیو اگامبن کے یہ معروف فرامین جوہر صاحب اکثر استعمال کرتے ہیں۔ اگامبن جدید ریاست پر غالبا سب سے تیز دھار تنقیدی کاٹ رکھنے والے فلسفی ہیں۔ ان کا ‘سٹیٹ آف ایکسیپشن’ اور ‘ہومو سیکر’ اور ‘کیمپ’ کے تصورات و اصطلاحات بہت جاندار اور فکر افروز ہیں۔ جوہر صاحب جدیدیت اور روایتی دنیا کے مابین ایک مکمل نہیں تو کم و بیش مکمل ‘انقطاع’ کے بھی حامی رہے ہیں۔ تفصیل میں جانے کا یہ محل نہیں، ناصر عباس صاحب نے فوکو کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ ایک اپسٹیم اور دوسرے اپسٹیم کے مابین انقطاع کا حامی ہے، تاریخ کے مستقیمی تصور پر نقد کا مابعد جدید فلسفہ کا یہ بنیادی موقف ہے۔

نظام معیشت پر بات کرتے ہوئے بھی پروفیسر حلاق اسی موٹف کو دوہراتے ہیں کہ اسلامی معیشت جدید سرمایہ دارانہ معیشت سے یکسر مختلف بنیادیں رکھتی ہے۔ کیپٹل ازم جہاں بہر طور زیادہ سے زیادہ منافع کے گرد مسلسل گھومتے رہنے والا نظام معیشت ہے وہاں اسلامی معیشت خدائی قانون کے زیر اثر عام فرد کو سہولت دینے اور مال دار کے مال میں غریب کے حق کو خدائی فرمان بنا دینے کے اصول پر کھڑی ہے۔
پروفیسر کے نزدیک کارپوریشن کو آئینی فرد کی حیثیت دینے کا قانون سرمایہ دارانہ نظام معیشت کا ایسا قانونی اقدام ہے جس کی اسلامی معیشت میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ سود کے اندر بھی منافع اصول ہے لہذا کیپٹل ازم کے اندر زندگی کی لہر کی طرح دوڑتا ہے جبکہ اسلام منافع کو اصل قرار دے کر کھسوٹ کو طرز معیشت بنا دینے والے اس کام کو خدا اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کہتا ہے۔ گویا جدید معیشت اور اسلامی معیشت کا تضاد اور تصادم اس درجہ کا ہے کہ سیدھی جنگ ہے۔
عالمی معیشت کیپٹل ازم پر کھڑی ہے اور منافع کی حرکیات کچھ اس طرح کی واقع ہوئی ہیں کہ طبقاتی مساوات اس نظام منافع کو راس نہیں ہے۔ یہ نظام جو منافع کو اپنی اصل قرار دے کر چلتا ہے طبقاتی فرق کا موجود رہنا اور مجبور مزدور کا موجود رہنا اس کی زندگی ترقی کیلئے گویا آب حیات ہے اور اس صورتحال کو قائم رکھنے کیلئے یہ نظام ہر طرح کے اقدامات کو جائز اور روا جانتی ہے۔ اسلامی طرز حکومت میں طبقاتی مساوات اور غریب پروری کے اصول منافع پر کھڑے نظام سے براہ راست متصادم ہیں اور عالمی معیشت کا منافع مرکز نظام یہ بندوبست لازما کرتا ہے کہ غریب پروری کے اصول پر ایسی کوئی حکومت قائم نہ ہونے پائے اور اگر کسی طور قائم ہو جائے تو ناکام ہو جائے۔ پروفیسر اس سوئچ کو کسی سازشی تھیوری کے طور پر نہیں بلکہ معیشت کے دو جمع دو چار کے طور سمجھاتے اور بیان کرتے ہیں۔

چند نکات اور بھی گنوائے ہیں لیکن مہم یہی معلوم ہوئے۔ تبصرہ کچھ طویل ہو گیا۔ انکی یہ کتاب امپوسیبل سٹیٹ سب سے زیادہ مقبول ہے اور ہماری دانست میں جدید ریاست اور اسلامی طرز حکومت کے موضوع کو دیکھنے والے ہر آدمی کیلئے ناگزیر کہی جا سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

خالد ولی اللہ بلغاری صاحب میڈیکل ڈاکٹر ہیں ،الشریعہ اکیڈمی سے فاضل کا کورس کر رہے ہیں ۔ فلسفے میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں ۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں