
وحید مراد
بعض مقامی اہل فکر کا موقف ہےکہ “حسن و قبح کے احساسات کا نام شعور ہے جو انسان میں ہمیشہ سے موجود ہوتے ہیں۔ان احساسات کا تضاد یا تنوع عقل وفہم کا اختلاف ہے لیکن شعور اپنی اصل میں مستقل فیکلٹی ہے ۔ تاریخ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ انسانی شعور میں کبھی ارتقاء ہوا ہو۔ہاں البتہ اجتماعی شعور ارتقاء پذیر ہے جو جو اس وقت ظہور میں آتا ہے جب گروہی مفادات فرد کے شعوری مطالبات کے سامنے پسپا ہو جائیں ۔ وقت کے ساتھ معلومات، فلسفہ اور نظریات میں اضافہ ہوتا ہے لیکن شعوری ارتقاء نہیں ہوتا۔ پچھلے ادوار میں بھی ایسے افراد موجود رہے جن کا شعور آج کے انسان سے کسی طرح کم نہیں تھا”۔
اس موقف کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ یہاں “شعور”کو ایک غیر متعین اورجامد حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شعور سے مراد اخلاقی حس ہے، خود آگاہی ہے، ادراکی صلاحیت ہے یا تاریخی و سماجی فہم۔ فلسفہ، نفسیات، بشریات اور عصری علوم میں شعور ایک کثیرالجہتی تصور ہے، اس لیے جب تک اس کی سطحیں اور جہتیں متعین نہ کی جائیں، شعور کے عدمِ ارتقا کا دعویٰ ایک مبہم اور منطقی طور پر کمزور قضیہ بن جاتا ہے۔
مذکورہ تصور اس مفروضے پر قائم ہے کہ چونکہ اچھائی اور برائی کا ایک بنیادی احساس ہمیشہ سے انسان میں موجود رہا ہے، اس لیے شعور میں ارتقا ممکن نہیں۔ حالانکہ کسی صلاحیت کا فطری امکان اور اس کا تاریخی، ادراکی اور اخلاقی اظہار ایک چیز نہیں ہوتے۔ زبان کی استعداد انسان میں ابتدا ہی سے موجود تھی لیکن زبان کے پیچیدہ ڈھانچوں، معنوی وسعت اور اظہار کی صورتوں کا ارتقا ایک تسلیم شدہ تاریخی حقیقت ہے۔ اسی طرح اخلاقی شعور کا امکان اور اخلاقی فہم کی مختلف سطحیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
یہ بات درست ہے کہ انسان کے اندر حسن و قبح کا ایک ابتدائی اور فطری احساس موجود ہوتا ہے۔ ظلم، درد اور ناانصافی پر اضطراب یا احسان پر اطمینان ایسے ردِعمل ہیں جو سماج پیدا نہیں کرتا بلکہ بیدار کرتا ہے۔ لیکن یہ احساس بذاتِ خود نہ منظم ہوتا ہے، نہ واضح اور نہ مستقل۔ اچھے اور برے کو باقاعدہ طور پر طے کرنایعنی یہ فیصلہ کرنا کہ کس حد تک، کن حالات میں، کس مقصد اور کس قیمت پر کوئی عمل درست یا غلط ہے؛سماج، روایت اور تہذیب کے بغیر ممکن نہیں۔ اخلاقی فیصلے محض احساس نہیں بلکہ معنی، ترجیح اور ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں اور یہ تینوں عناصر زبان، تاریخ اور مشترک انسانی تجربے کے بغیر وجود میں نہیں آتے۔ اس لیے سماج اچھائی اور برائی کو ایجاد نہیں کرتا بلکہ انہیں صورت، زبان اور ادارہ جاتی شکل دیتا ہے۔
اگر فرد کو سماج اور روایت سے بالکل کاٹ دیا جائے تو اس کے اخلاقی ردِعمل باقی رہتے ہیں لیکن وہ کوئی بامعنی اخلاقی نظام تشکیل نہیں دے سکتا۔ وہ کسی عمل کو ناپسند کر سکتا ہے لیکن یہ واضح نہیں کر پاتا کہ وہ عمل کیوں غلط ہے، کب غلط ہے اور اس کی خلاف ورزی پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسی لیے تاریخ میں کوئی اخلاقی ضابطہ کسی تنہا فرد نے تنہائی میں تشکیل نہیں دیا؛ ہر اخلاقی نظام ہمیشہ کسی نہ کسی تہذیبی اور معنوی روایت کے اندر ابھرا ہے۔
احساسِ ذمہ داری بھی کوئی مجرد یا آفاقی اصول نہیں بلکہ ایک تاریخی اخلاقی مطالبہ ہے۔ ذمہ داری تب پیدا ہوتی ہے جب اختیار موجود ہو، عمل کے نتائج قابلِ فہم ہوں اور جواب دہی کا کوئی تصور قائم ہو۔ یہ تینوں عناصر ہر دور میں یکساں نہیں رہتے۔ قبائلی معاشروں میں ذمہ داری قبیلے کے سامنے ہوتی ہے، جدید ریاست میں قانون اور اداروں کے سامنے اور مذہبی تناظر میں خدا کے حضور۔ اس لیے اخلاقی فیصلہ کبھی خلا میں نہیں ہوتا ، ہمیشہ کسی معنوی فریم ورک، تصورِ انسان اور غایتِ حیات کے اندر تشکیل پاتا ہے۔ حتیٰ کہ روایت سے بغاوت بھی ہمیشہ کسی متبادل روایت یا مفہوم کے اندر ہی ممکن ہوتی ہے۔
کلاسیکی فلسفے میں شعور کو کسی الگ ذہنی شے کے طور پر نہیں بلکہ نفس کی فعلیت کے طور پر سمجھا گیا۔ ارسطو کے نزدیک شعور نفس کی مختلف قوتوں(حس، تخیل اور عقل)کے بالفعل ہونے کا نام ہے اور یہ درجہ بہ درجہ ظاہر ہوتا ہے۔ اسلامی فلسفے میں یہی تصور ایک نئے مابعدالطبیعی اوراخلاقی فریم ورک میں پیش کیا گیا ۔ فارابی اور ابنِ سینا کے نزدیک شعور نفسِ ناطقہ کی خاصیت ہے، جو خود آگاہی، اخلاق اور ذمہ داری سے جڑی ہوئی ہے، کیونکہ مکلف ہونا شعور کے بغیر ممکن نہیں۔
جدید فلسفے میں شعور علمیات کا مرکزی مسئلہ بن گیا۔ ڈیکارٹ نے اسے پہلی یقینی حقیقت قرار دیا، کانٹ نے اسے تجربے کی شرط کے طور پر سمجھا، اور ہیگل نے شعور کو ایک تاریخی اور جدلی عمل کے طور پر پیش کیا جو فرد سے سماج اور پھر اجتماعی خود آگاہی تک وسیع ہے۔ یہاں شعور پہلی بار ایک غیر جامد اور تاریخی مفہوم کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
جدید سائنس، خصوصاً نفسیات، نیوروسائنس، بشریات اور ارتقائی حیاتیات نے شعور کو تجرباتی اور فعلی سطح پر لا کھڑا کیا۔ ڈینیئل ڈینیٹ ( Daniel Dennett)جیسے مفکرین کے مطابق شعور کوئی ازلی جوہر نہیں بلکہ قدرتی انتخاب، دماغی پیچیدگی، زبان اور سماجی تعامل کے طویل عمل کا نتیجہ ہے۔ ابتدائی حیاتی ادراک سے لے کر خود آگاہی اور اجتماعی اخلاقی شعور تک، شعور مختلف درجات میں ظاہر ہوتا ہے۔ نیوروسائنس کے مطابق شعور دماغ کے کسی ایک مرکز میں نہیں بلکہ متعدد عصبی نیٹ ورکس کی مشترکہ فعلیت سے ابھرتا ہے، جبکہ بشریات اور سماجیات میں اقدار اور اخلاق ثقافت اور تاریخ کے ساتھ بدلتےہیں۔
اس تناظر میں یہ کہنا زیادہ معقول ہے کہ انسانی شعور نہ مکمل طور پر جامد ہے اور نہ محض سماجی تشکیل کا مظہر۔ انفرادی سطح پر شعور کا بنیادی امکان فطری ہو سکتا ہے، لیکن اس کا اظہار، پیچیدگی، خود آگاہی اور اخلاقی صورتیں حیاتی، سماجی اور تاریخی عمل کے ساتھ ارتقا پذیر ہیں۔ اخلاق نہ خالص آفاقی ہے، نہ محض سماجی جبر، بلکہ انسان کی داخلی بصیرت اور خارجی روایت کے مکالمے سے جنم لینے والا ایک زندہ، تاریخی اور معنوی عمل ہے۔
مذکورہ متن میں عقل و فہم کو شعور سے الگ ایک “فیکلٹی”قرار دے کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ اختلاف یا تضاد شعور میں نہیں بلکہ عقل میں ہے۔ یہ تقسیم نہ کلاسیکی فلسفے میں اس شدت کے ساتھ ملتی ہے اور نہ جدید علمی روایت میں۔ عملی طور پر انسانی شعور ادراک، فہم، جذبات، اخلاق اور استدلال کے باہمی تعامل سے بنتا ہے۔ عقل کو شعور سے الگ کر کے شعور کو غیر متغیر ثابت کرنا ایک نظریاتی مفروضہ ہے، جس کی تاریخی یا تجربی تائید موجود نہیں۔
فیکلٹی (faculty) سے مراد انسان کی وہ بنیادی صلاحیت یا قوت ہے جس کے ذریعے وہ کسی خاص نوعیت کا کام سر انجام دیتا ہے۔ فلسفہ اور نفسیات میں فیکلٹی کسی عضوی شے کا نام نہیں بلکہ ایک فعلی استعداد ہوتی ہے۔ عام طور پر انسانی فیکلٹیز میں حسی، ادراکی، یادداشت، تخیل، ارادہ اور جذبات شامل کیے جاتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر فلسفیوں اور جدید نفسیات کے مطابق شعور خود کوئی الگ فیکلٹی نہیں بلکہ ان تمام فیکلٹیز کی فعلیت کی حالت یا ان کے فعال ہونے کا تجربہ ہے۔اسی لیے نیند میں سوچنے کی فیکلٹی موجود رہتی ہےلیکن شعور نہیں ہوتا اور آنکھ بند ہونے پر دیکھنے کی فیکلٹی باقی رہتی ہےلیکن شعوری ادراک نہیں ہوتا۔ شعور وہ کیفیت ہے جس میں مختلف فیکلٹیز باہم مربوط ہو کر فعال ہوتی ہیں اور انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ جان رہا ہے، محسوس کر رہا ہے اور فیصلہ کر رہا ہے۔
بعض جدید مباحث میں شعور کو بالواسطہ یا فعلی طور پر “فیکلٹی” کہا گیا ہے، لیکن اسے ایک خودمختار اور مستقل فیکلٹی ماننا غالب فلسفیانہ موقف نہیں۔ شعور کو فیکلٹی کہنا اس وقت فکری اختزال (reduction) بن جاتا ہے جب اسے دیگر ذہنی قوتوں میں سے محض ایک قوت سمجھ لیا جائے، حالانکہ شعور ان سب کے بامعنی ظہور کی شرط ہے۔ اسی طرح جب شعور کو مکمل طور پر عصبی یا حیاتیاتی میکانزم تک محدود کر دیا جائےیعنی اسے محض نیورونز کی firing کا فنکشن کہا جائےتو ادراک کی وضاحت تو ہو جاتی ہے، لیکن معنی، ارادہ، اخلاقی ذمہ داری اور خود آگاہی غائب ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر تھامس نیگل اور ڈیوڈ چامرز نے تنقید کرتے ہوئے نیوروسائنسی اختزال کو ناکافی قرار دیا ہے۔
ایک اور سطح پر اختزال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شعور کو محض ایک آفاقی نفسیاتی صلاحیت قرار دے کر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا جائے کہ اخلاق، قدر اور ذمہ داری ہمیشہ تاریخی، سماجی اور معنوی تناظر میں تشکیل پاتے ہیں۔ اس صورت میں شعور ایک مجرد اور بے سیاق صلاحیت بن جاتا ہے۔ جب اخلاق کو محض نظام یا ریاست کے تابع سمجھ لیا جائے تو بھی یہی مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
البتہ تدریسی، تجزیاتی یا سائنسی گفتگو میں شعور کو فیکلٹی کہنا بعض اوقات ایک اصطلاحی سہولت ہو سکتی ہےبشرطیکہ یہ کوئی مابعدالطبیعی دعویٰ نہ ہو بلکہ ایک تجزیاتی طریقہ ہو۔ مثال کے طور پر perceptual، cognitive یا moral consciousness جیسے تصورات شعور کے مختلف درجات کو واضح کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شعور کو تاریخ، اخلاق اور روایت سے منقطع تصور کیا جائے، ایسی صورت میں شعور ظلم کو ایک واقعہ کے طورپر تو دیکھ سکتا ہے لیکن اخلاقی مسئلے کے طورپر نہیں؛ نتیجتاً یہ اخلاقی مطالبہ پیدا کرنے سے قاصر رہتا ہے ۔
یہ دعویٰ کہ تاریخ میں انسانی شعور کے ارتقا کا کوئی ثبوت نہیں، خود متن کے مفروضات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ متن کے مطابق معلومات، فلسفے اور نظریات میں اضافہ ہوتا ہے، انسان کی اخلاقی حساسیت، سیاسی شعور اور سماجی انصاف کے تصورات میں وسعت آئی ہے، تو شعور کو اس عمل سے مکمل طور پر الگ رکھنا کیسے ممکن ہے؟ غلامی، عورتوں اور بچوں کےحقوق، تشدد اور طاقت کے بارے میں انسانی رویوں میں تبدیلی محض معلوماتی اضافہ نہیں بلکہ شعوری فریم ورک کی توسیع کی علامت ہے۔
یہ کہنا کہ ہر دور میں چند ایسے افراد موجود تھے جن کا شعور آج کے انسان سے کم نہ تھا، شعور کے عدمِ ارتقا کی دلیل نہیں بنتا۔ غیر معمولی افراد امکانات کی موجودگی کو تو ظاہر کرتے ہیں،لیکن اجتماعی، ادارہ جاتی اور عمومی شعور کی تاریخی تبدیلی کی نفی نہیں کرتے۔ اسی طرح اجتماعی شعور کو محض مفادات کی اسیری کا نتیجہ قرار دے دینا اس کے تاریخی، ادارہ جاتی اور معنوی کردار کو نظر انداز کرنا ہے۔ اجتماعی شعور اگر وقت کے ساتھ وہ مطالبات قبول کرتا ہے جو پہلے رد کرتا تھا، تو یہ محض مفادات کی تبدیلی نہیں بلکہ شعوری فریم ورک کی وسعت بھی ہو سکتی ہے۔




کمنت کیجے