Home » زکوۃ سے متعلق دو اہم استفسار
فقہ وقانون

زکوۃ سے متعلق دو اہم استفسار

اول :

تابعین کے فتاویٰ اس حوالے سے مختلف ہیں کہ ایسا سامان یا اثاثے جو فروخت کی نیت سے خریدے گئے ہوں لیکن کئی سال تک فروخت نہ کیے جا سکیں، آیا ان کی قیمت پر ہر سال زکوٰۃ عائد ہوگی یا نہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ ہر سال ان کی زکوٰۃ دی جائے گی، اور دوسری یہ کہ جب وہ سامان یا اثاثہ فروخت کر کے نقد رقم ہاتھ میں آئے، تب اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔ درمیان کے سالوں میں واجب نہیں ہوگی۔ اس دوسرے موقف میں زیادہ آسانی ہے، اس لیے میری رائے میں ایسے سامان یا اثاثے پر زکوٰۃ واجب نہیں ہونی چاہیے، خصوصاً‌ جبکہ اس کی قیمت بھی بہت زیادہ ہو۔ ہاں، آدمی کو گنجائش ہو تو وہ استحباباً‌ ایسے سامان یا اثاثوں کی زکوٰۃ دے سکتا ہے۔
دوم :
اسی طرح کا اختلاف ایسی فصل کے متعلق بھی ہے جس کا عشر ایک دفعہ دے دیا گیا ہو اور پھر وہ کئی سال تک آدمی کے پاس اسٹاک میں پڑی رہے۔ بعض تابعین ہر سال اس کی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہونے کے قائل ہیں اور بعض کے نزدیک جب اسے فروخت کر کے نقد رقم حاصل کر لی جائے، تب دوبارہ زکوٰۃ واجب ہوگی۔ درمیان کے سالوں میں واجب نہیں ہوگی۔ یہاں بھی دوسری رائے بہتر معلوم ہوتی ہے، البتہ استحباباً‌ اس کی زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے۔
اسی پر ایسی مصنوعات کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے جن کی زکوٰۃ ایک دفعہ ادا کر دی جائے اور پھر وہ کئی سال تک اسٹاک میں پڑی رہیں۔ ان پر بھی دوبارہ زکوٰۃ تبھی واجب ہونی چاہیے جب ان کو فروخت کر کے رقم حاصل کر لی جائے۔ یہی حکم اس رقم کا بھی ہونا چاہیے جو زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد سیونگ کے طور پر کسی ضرورت کے لیے الگ رکھ دی گئی ہو اور انویسٹمنٹ کے ذریعے سے مزید آمدن کا وسیلہ نہ بن رہی ہو۔ ایک دفعہ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد ہر سال اس پر زکوٰۃ نہیں ہونی چاہیے۔ البتہ انویسٹ کی گئی رقم کا حکم ظاہر ہے، مختلف ہوگا۔
واللہ اعلم

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں