Home » کانٹ کا علمیاتی تجزیہ
شخصیات وافکار فلسفہ

کانٹ کا علمیاتی تجزیہ

ڈاکٹر خضر یسین

ایمانوئیل کانٹ اپنی انتقادی انکوائری کا انسان بلکہ عام انسان کی حیثیت سے آغاز کرتا ہے اور پوری انکوائری میں ان حدود سے تجاوز نہیں کرتا جنہیں حس مشترک یا common         sense کہا جاتا ہے۔
وہ اپنے انتقادی پراجیکٹ میں عقل محض کی تنقید تک خود کو محدود نہیں رکھتا، وہ عقل عملی اور جمالیاتی قضایا کے انتقاد کو اسی طرح مستقلاً ڈیل کرتا ہے جس طرح عقل نظری کے انتقاد کو کرتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ کانٹ کے انتقادی پراجیکٹ کا اصل موضوع انسان کی استعداد فہم یا faculty         of         understanding ہے۔
وہ استعداد فہم کی تنقید کرتا ہے۔ یہاں ایک بات آپ ضرور ذہن میں رکھیں کہ فلسفیانہ انکوائری ادبی انتقاد نہیں ہوتی۔ ادبی انتقاد میں آپ کو جو آزادی حاصل ہوتی ہے وہ فلسفیانہ انتقاد میں ممکن نہیں ہوتی۔ لہذا کانٹ اپنے مسئلے کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے؛
علم کیا ہے؟ اور علم کیسے ممکن ہے؟
ایک عام انسان کے لیے یہ سوال بہت واضح ہے اور دو ٹوک ہے۔
لیکن اس کا جواب دینے سے قبل وہ کہتا ہے۔ علم کی نسبت مجھے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ میرے سمجھنے کی صلاحیت میں علم کے ساتھ ملتے جلتے یا مماثل فضائل کون کون سے ہیں باوجودیکہ وہ علم نہیں لیکن علم جیسے لگتے ہیں۔ مثلاً خیال لہذا وہ انسان کی حیثیت سے سوال کرتا ہے کہ کیا خیال علم ہے؟ اور انسان کی ہی حیثیت سے جواب دیتا ہے کہ نہیں، خیال علم نہیں ہے۔ اسی طرح رائے، مفروضہ اور مسلمہ postulate کی نسبت اپنے ان سوالات کو یکے بعد دیگرے اٹھاتا ہے اور ہر سوال کا جواب نفی میں دیتا ہے کہ جس طرح خیال علم نہیں اسی طرح رائے، مفروضہ اور مسلمہ علم نہیں ہیں۔
انسان کانٹ کے ساتھ ہے اور علمی دیانت کے ساتھ انسان کانٹ کے اس مؤقف کی نفی نہیں کر سکتا۔ اب وہ کہتا ہے علم کے واقع ہونے کے لیے عالم اور معلوم کا وجود مقدم شرائط preconceived ہیں۔ عالم میں علم کی استعداد ہے اور معلوم میں اس استعداد کے مطابق سمجھے جانے کی اہلیت ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرے سمجھنے کی استعداد محدود ہے، میں جو سمجھنا چاہوں، وہ سمجھ لوں کم از کم حدود علم میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ مطلقاً سمجھنا اور حدود علم میں سمجھنا، ان دونوں میں فرق ہے۔
میں انسان ہوں اور میرے آبنائے جنس حدود علم رہتے ہوئے اگر حقیقت کو سمجھتے ہیں تو پھر ہمارے سمجھنے میں اشتراک ہونا ضروری ہے۔ اشتراک فی العلم علم کے علم ہونے کی دلیل ہے۔ جب میں حدودِ علم میں اپنی رائے، اپنا خیال، اپنی پسند و ناپسند شامل کر لوں گا تو وہ علم نہیں رہے گا۔ اگرچہ اس صورت میں موضوعہ قضیے کو سمجھنے میں کسی کو دشواری نہیں ہوگی۔
کانٹ حس مشترک اور انسان کی استعداد علمیہ کا تجزیہ کرتا ہے اور اس تحلیل میں وہ بتاتا ہے، میرے پاس حصول علم کی جو مشترک استعداد ہیں وہ حواس ہیں اور عقل ہے۔ ان دونوں استعداد میں حواس ایک ایسی اِستعداد ہے جو اپنا موضوع یعنی محسوس کو تخلیق کرتی اور نہ کر سکتی ہے، وہ فقط یافت finding کی استعداد ہیں۔ البتہ عقل ایک ایسی اِستعداد ہے جو تصور ساز ہے۔ کبھی یہ اپنے تصور کا خام مواد حواس سے مستعار لیتا ہے اور کبھی خیال سے اخذ و استفادہ کرتا ہے اور کبھی خود اپنا من کھولتا ہے اور وہاں سے اخذ کرتا ہے۔
کانٹ انتہائی دقیق فلسفیانہ انکوائری سے عقل اور اس کی مضمر استعداد کو ورک آؤٹ کرتا ہے۔ یہاں اس نے جو نکات دریافت کیے ہیں، وہ اسے نہ صرف اپنے دور کے مفکرین سے بہت بلندی پر لے گئے بلکہ آنے والے ہر زمانے میں ممتاز ترین مفکر بنائے گئے ہیں۔ میرے لیے اس انکوائری کو یہاں بتانا ممکن نہیں ہے، کبھی وقت ملا تو تفصیل سے عرض کروں گا۔
کانٹ کہتا ہے جب تک کوئی معروض object حواس کی رینج یا فیلڈ آف پرسپشن میں نہ ہو وہ علم کے حدود سے باہر رہے گا۔ لہذا علم کا خام مواد حواس سے ملتا ہے اور عقل ان میں کلیت اور لزوم universality        and        necessity پیدا کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں جو قضیہ متشکل ہوتا ہے، وہ قضیہ، قضیہ علمیہ ہے۔
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مطلقاً سمجھنا علم ہے تو وہ خیال کو بھی علم مان لے گا، رائے، مفروضہ، مسلمہ اور پسند و نا پسند کو علم بنا لے گا۔ کانٹ نے مابعدالطبیعیات کے علم ہونے کی نفی کی ہے۔ یہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ اس نے مابعدالطبیعیات کی نفی کی ہے۔ اب ایسے لوگوں سے کیا الجھا جائے؟

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں