امام جصاص حنفی (م 370 ھ / 981 ء) کی کتاب الفصول فی الاصول کے ان اقتباسات کو پڑھ کر آپ کو لگے گا کہ امام صاحب ہمارے ارد گرد موجود لوگوں کو ایڈریس کررہے ہوں۔ دراصل ان لوگوں جیسی باتیں کرنے والا ایک گروہ ماضی میں بھی رہا ہے کہ عقل سے وجود باری کا ثبوت نہیں ہوتا بلکہ وہ دلیل نقلی سے معلوم ہوتا وغیرہ، انہیں حشویہ وغیرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ امام جصاص الْقَوْلُ فِي وُجُوبِ النَّظَرِ وَذَمِّ التَّقْلِيدِ پر باب باندھتے ہوئے لکھتے ہیں:
فَقَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ: النَّظَرُ وَاجِبٌ، وَحُجَجُ الْعُقُولِ صَحِيحَةٌ ثَابِتَةٌ، تُعْرَفُ بِهَا صِحَّةُ الْمَذَاهِبِ مِنْ فَاسِدِهَا. وَقَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْجَهْلِ وَالْغَبَاوَةِ: لَا مَدْخَلَ لِلْعَقْلِ فِي تَصْحِيحِ شَيْءٍ وَلَا إفْسَادِهِ، وَإِنَّمَا تُعْرَفُ صِحَّةُ الْمَذَاهِبِ وَفَسَادُهَا مِنْ طَرِيقِ الْخَبَرِ
مفہوم: اہلِ علم نے کہا: نظر (عقلی غور و فکر) واجب ہے، اور عقل کی حجتیں صحیح اور ثابت (یعنی مفید علم) ہیں، انہی کے ذریعے مذاہب کے مابین درست اور باطل کی تمیز ہوتی ہے۔ البتہ بعض اہل جہل اور کم عقل لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے کے تعین میں عقل کا کوئی دخل نہیں بلکہ مذاہب کا حق و باطل ہونا صرف خبر (دلیل نقلی) کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔
اس کے بعد آپ ان لوگوں کے ان تضادات کو واضح کرتے ہیں کہ یہ لوگ عقل سے استدلال کرکے عقل کے غیر مفید علم ہونے کو ثابت کررہے ہوتے ہیں، پھر آپ قرآن مجید سے نظر و استدلال کے حجت ہونے نیز اصول دین میں تقلید کی مذمت کے دلائل لاتے ہیں۔ یہ بحث کرنے کے بعد آپ ان لوگوں کا قول لاتے ہیں جن کے مطابق دلیل نقلی (یعنی وحی) آجانے کے بعد اب انہیں دلیل عقلی کی ضرورت نہیں رہی۔ آپ اس پر تبصرہ کرتے ہیں:
وَقَوْلُ هَذَا الْقَائِلِ يُضَاهِي قَوْلَ دَاوُد فِي قَوْلِهِ: إنِّي عَرَفْت اللَّهَ بِالْخَبَرِ. وَقَائِلُ هَذَا الْقَوْلِ مُقِرٌّ: أَنَّهُ لَا يَعْرِفُ اللَّهَ تَعَالَى، لِزَعْمِهِ أَنَّ الْعَقْلَ لَمْ يَدُلَّهُ عَلَى التَّوْحِيدِ، وَلَا عَلَى إثْبَاتِ الصَّانِعِ، وَلَا سَبِيلَ لِأَحَدٍ إلَى عِلْمِ ذَلِكَ، إلَّا مِنْ جِهَةِ الْعَقْلِ، وَلَا وُصُولَ إلَى عِلْمِ صِحَّةِ الْخَبَرِ إلَّا بِالْعَقْلِ، وَالِاسْتِدْلَالِ عَلَى صِدْقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَكَذِبِ الْمُتَنَبِّي. وَعَلَى أَنَّهُ يَسْتَحِيلُ أَنْ يَعْرِفَ الرَّسُولُ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَا يَعْرِفُ الْمُرْسِلَ، وَيَعْلَمَ النَّبِيَّ نَبِيًّا قَبْلَ أَنْ يَعْرِفَ اللَّهَ تبارك وتعالى، فَقَوْلُ الْقَائِلِ: إنِّي عَرَفْت اللَّهَ عز وجل بِالْخَبَرِ، لَا يَكُونُ إلَّا مِنْ خِذْلَانٍ لَيْسَ وَرَاءَهُ غَايَةٌ، وَمِنْ جَهَالَةٍ لَيْسَ وَرَاءَهَا نِهَايَةٌ۔
فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: إنَّمَا أَعْرِفُ دَلَائِلَ الْعُقُولِ بِانْضِمَامِ الْخَبَرِ إلَيْهَا، وَمَتَى لَمْ يَنْضَمَّ إلَيْهَا الْخَبَرُ لَمْ تَكُنْ الْعُقُولُ مُفْضِيَةً إلَى عِلْمِ التَّوْحِيدِ، وَإِلَى إثْبَاتِ الصَّانِعِ الْحَكِيمِ.
قِيلَ لَهُ: هَذَا مُتَنَاقِضٌ، لِأَنَّ الْخَبَرَ الَّذِي ادَّعَيْت أَنَّهُ شَرْطٌ فِي صِحَّةِ وُقُوعِ الْعِلْمِ بِدَلَائِل الْعَقْلِ لَا يَخْلُو مِنْ أَنْ يَكُونَ خَبَرًا صَحِيحًا، أَوْ فَاسِدًا، أَوْ مَشْكُوكًا فِيهِ، لَا يُعْلَمُ صِحَّتُهُ وَلَا فَسَادُهُ، فَإِنْ كَانَ خَبَرًا فَاسِدًا أَوْ كَاذِبًا، فَإِنَّهُ يَسْتَحِيلُ أَنْ يُوجِبَ الْعِلْمَ (بِمُخْبِرِهِ لِأَنَّ مُخْبِرَهُ كَذَبَ، وَالْخَبَرُ الْمَشْكُوكُ فِيهِ أَيْضًا لَا يُوجِبُ الْعِلْمَ) ، لِأَنَّهُ إذَا أَوْجَبَ الْعِلْمَ لَمْ يَكُنْ مَشْكُوكًا فِيهِ، وَعَلَى أَنَّ هَذَا يُوجِبُ أَنْ (لَا) يَخْتَلِفَ فِي ذَلِكَ خَبَرُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرُ خَبَرِهِ، إذَا لَمْ تُرَاعَ صِحَّتُهُ فِي انْضِمَامِهِ إلَى دَلَائِلِ الْعُقُولِ. وَإِنْ كَانَ شَرْطُ ذَلِكَ الْخَبَرِ أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا وَصِدْقًا، فَإِنَّ هَذَا الْخَبَرَ لَا يُعْلَمُ صِحَّتُهُ مِنْ فَسَادِهِ إلَّا مِنْ جِهَةِ الْعَقْلِ، فَيَحْتَاجُ أَوَّلًا أَنْ يُسْتَدَلَّ عَلَى صِحَّتِهِ أَوْ فَسَادِهِ مِنْ جِهَةِ الْعَقْلِ، فَقَدْ أُوجِبَ اسْتِعْمَالُ دَلَالَةِ الْعَقْلِ قَبْلَ ثُبُوتِ الْخَبَرِ، وَقَدْ اسْتَغْنَى الْعَقْلُ فِي دَلَالَتِهِ عَلَى مَدْلُولِهِ عَنْ خَبَرٍ يُضَادُّهُ، فَتَنَاقَضَ قَوْلُك، وَظَهَرَ تَجَاهُلُك
مفہوم: ایسی بات کہنے والے کا یہ قول داؤد ظاہری کے اس قول کے مشابہ ہے کہ میں نے اللہ کو خبر کے ذریعے پہچانا۔ ایسی بات کہنے والا درحقیقت اس بات کا اقرار کر رہا ہے کہ وہ اللہ کو نہیں جانتا کیونکہ اس کے گمان کے مطابق عقل نے نہ توحید پر دلالت کی اور نہ صانع کے اثبات پر، حالانکہ عقل کے سوا کسی کے لیے بھی ان امور کا علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ و ذریعہ نہیں۔ (ایسا اس لئے کہ) خبر کی صحت کا علم بھی دلیل عقلی ہی سے حاصل ہوتا ہے اور نبیﷺ کے سچا ہونے اور جھوٹے مدعی نبوت کے جھوٹا ہونے پر بھی عقل ہی سے استدلال کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات محال ہے کہ کوئی شخص رسولﷺ کی تو معرفت پالے جبکہ وہ انہیں بھیجنے والے (یعنی اللہ) کی معرفت نہ رکھتا ہو، یا وہ کسی کو نبی جانے قبل اس سے کہ وہ اللہ کو جانے۔ پس یہ قول کہ “میں نے اللہ کو خبر کے ذریعے پہچانا” ایسی محرومی و جہالت سے پیدا ہوتا ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔
اگر کوئی کہے: میں تو دلائلِ عقلیہ کو خبر کے ساتھ ملا کر (خدا کو) پہچانتا ہوں اور جب تک خبر اس کے ساتھ شامل نہ ہو عقل توحید کے علم اور صانعِ حکیم کے اثبات تک نہیں پہنچا سکتی، تو اسے کہا جائے گا: یہ بات متناقض ہے کیونکہ جس خبر کو تم نے دلائلِ عقلیہ کے ذریعے علم کے حصول کی شرط قرار دیا ہے وہ خبر یا تو سچ و صحیح (true) ہوگی یا جھوٹ و فاسد (false) اور یا مشکوک جس کی نہ صحت معلوم ہو نہ فساد۔ اگر وہ خبر فاسد یا جھوٹی ہو تو یہ بات محال ہے کہ اس سے کوئی علم ملے اس لئے کہ اس کا خبر دینے والا جھوٹا ہے۔ اسی طرح جو خبر مشکوک ہو وہ بھی علم کے لئے مفید نہیں کیونکہ اگر وہ علم پیدا کر دے تو پھر مشکوک نہ رہے گی۔ مزید یہ کہ اگر اس خبر کے دلائلِ عقلیہ کے ساتھ انضمام میں اس کی صحت کا لحاظ نہ رکھا جائے، تو اس سے لازم آئے گا کہ نبیﷺ کی خبر اور غیر نبی کی خبر میں کوئی فرق نہ رہے۔ اور اگر اس خبر کے (مفید علم ہونے کے) لیے یہ شرط رکھی جائے کہ وہ صحیح اور سچی ہو، تو اس کی صحت اور فساد کا علم بھی عقل ہی کے ذریعے ہوگا۔ یوں پہلے قدم پر عقل کے ذریعے اس کی صحت یا فساد پر دلیل دینا لازم ہوا۔ پس خبر کے (مفید علم ہونے کے) ثابت ہونے سے پہلے ہی عقل کی دلالت کے استعمال کو لازم مان لیا گیا، یوں عقل اپنے مدلول پر دلالت کرنے میں اس خبر سے بے نیاز ہوگئی جو اس کے خلاف ہو۔ الغرض تمہارے قول کا متناقض ہونا اور تمہاری لاعلمیت ظاہر ہوگئی۔
آپ نے حشویہ کی طرف سے یہ دلیل لے کر بھی اس پر تبصرہ کر رکھا ہے:
فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ مِنْ الْحُمْقِ: إنَّمَا قُلْت بِالتَّقْلِيدِ اتِّبَاعًا لِلسَّلَفِ، لِأَنَّهُمْ أَمَرُونَا بِالِاتِّبَاعِ وَنَهَوْنَا عَنْ الِابْتِدَاعِ وَاتِّبَاعِ الرَّأْيِ. قِيلَ لَهُ: أَوَّلُ مَا فِي هَذَا، أَنَّهُ تَخَرُّصٌ عَلَى السَّلَفِ، لِأَنَّهُمْ قَدْ اسْتَعْمَلُوا النَّظَرَ وَالرَّأْيَ فِي حَوَادِثِ أُمُورِهِمْ، وَلَا يَجْهَلُ ذَلِكَ إلَّا مَنْ كَانَ فِي غَايَةِ الْجَهْلِ وَالْغَبَاوَةِ
مفہوم: اگر کوئی حماقت کے باعث یہ کہے کہ میں نے تقلید (یعنی بلا دلیل تصدیق) کا قول صرف اس لیے اختیار کیا ہے کہ میں سلف کی پیروی کرتا ہوں اور انہوں نے ہمیں اتباع کا حکم دیا ہے اور بدعت و رائے کی پیروی سے منع کیا ہے، تو اس سے کہا جائے گا: اس میں پہلی بات یہ ہے کہ تم سلف پر بے بنیاد بات گھڑ رہے ہو کیونکہ انہوں نے اپنے دور میں پیش آمدہ معاملات میں نظر اور رائے ہی کو استعمال کیا ہے اور اس بات سے وہی شخص ناواقف ہو سکتا ہے جو انتہائی جاہل اور غبی ہو۔
ان پیراگرافس میں آپ نے جو لکھا ہے، مذھب کا مقدمہ ثابت کرنے میں یہی اہل سنت کا معیاری طریقہ ہے جسے اشاعرہ و ماتریدیہ نے اختیار کئے رکھا ہے، یہاں تک کہ بیسوی صدی ھجری میں خود کو سنی کہنے والے چند نئے حشوی پیدا ہوگئے۔




کمنت کیجے