امام غزالی علم کلام پر اپنی کتاب “الاقتصاد فی الاعتقاد” کے مقدمے میں اس علم کا مقصود بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:
مقصود هذا العلم إقامة البرهان على وجود الرب تعالى وصفاته وأفعاله وصدق الرسل
مفہوم: اس علم کا مقصود وجود باری تعالی، اس کی صفات، اس کے افعال اور نبی کی سچائی پر دلیل قائم کرنا ہے
دیکھ لیجئے کہ وہ کتنی صراحت کے ساتھ مقدمے ہی میں علم کلام کا سکوپ بتا رہے ہیں کہ یہ چار امور سے بحث کرتا ہے: وجود ذات باری کی دلیل، اس کی صفات پر دلیل، اس کے افعال پر دلیل اور اثبات نبوت پر دلیل۔ یہ بنیادی اصول ہیں۔ امام غزالی کے جعلی سجادہ نشینوں کا البتہ کہنا ہے کہ یہ سب امور اندھے اعتقاد پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کا نام ایمان ہے۔
امام صاحب اسی پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ دلیل کیوں قائم کرنا ہے۔ آپ مقدمے میں لکھتے ہیں کہ جب نبی نے آکر یہ کہا:
ان لكم رباً كلفكم حقوقاً وهو يعاقبكم على تركها ويثيبكم على فعلها وقد بعثني رسولاً إليكم لأبين ذلك لكم، فيلزمنا لا محالة أن نعرف أن لنا رباً أم لا. وإن كان فهل يمكن أن يكون حياً متكلماً حتى يأمر وينهى ويكلف ويبعث الرسل، وإن كان متكلماً فهل هو قادر على أن يعاقب ويثيب إذا عصيناه أو أطعناه، وإن كان قادراً فهل هذا الشخص بعينه صادق في قوله أنا الرسول إليكم. فإن اتضح لنا ذلك لزمنا لا محالة، إن كنا عقلاء، أن نأخذ حذرنا وننظر لأنفسنا
مفہوم: تمہارے رب نے تمہیں احکام کا مکلف بنایا ہے جو تمہیں نافرمانی پر عقاب اور فرمانبرداری پر ثواب دے گا اور اس نے مجھے ان امور کو بیان کرنے کے لئے تمہاری طرف بھیجا ہے، تو پھر ہم پر یہ جاننا لازم ہے کہ کیا واقعی ہمارا کوئی رب ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو کیا وہ حی و متکلم ہے کہ نبی بھیج کر امر و نہی جاری کرسکے، اور اگر وہ متکلم ہے تو کیا وہ اس پر قادر ہے کہ فرمانبرداری و نافرمانی پر ثواب و عقاب دے سکے، اور اگر اس پر قادر ہے تو کیا یہ معین شخص اس دعوے میں سچا ہے کہ یہ اللہ کا پیغمبر ہے۔ اگر یہ امور ہم پر واضح ہوجائیں تو عقل کا تقاضا پھر یہی ہے کہ ہم اس کی بات مانیں۔
جی ہاں، نبی کی طاعت کا وجوب چونکہ ان ماقبل علمی مقدمات پر موقوف ہے اور یہ مقدمات خود نبی کی خبر سے ثابت نہیں ہوسکتے، اس لئے ان کی تحقیق لازم ہے تاکہ نبی کی طاعت کا علمی ثبوت متحقق ہو۔ یہ امور نبی کی خبر نہیں بلکہ عقل سے معلوم ہوتے ہیں، یہ بات بھی امام غزالی نے الاقتصاد میں خود ہی لکھی ہے۔ آپ جملہ حقائق کو تین اقسام میں رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
أن ما لا يعلم بالضرورة ينقسم إلى ما يعلم بدليل العقل دون الشرع، وإلى ما يعلم بالشرع دون العقل، وإلى ما يعلم بهما. أما المعلوم بدليل العقل دون الشرع فهو حدث العالم ووجود المحدث وقدرته وعلمه وارادته، فإن كل ذلك ما لم يثبت لم يثبت الشرع، إذ الشرع يبنى على الكلام فإن لم يثبت كلام النفس لم يثبت الشرع. فكل ما يتقدم في الرتبة على كلام النفس يستحيل إثباته بكلام النفس وما يستند إليه ونفس الكلام أيضاً فيما اخترناه لا يمكن اثباته بالشرع. ومن المحققين من تكلف ذلك وادعاه
مفہوم: وہ امور و حقائق جو علم ضروری (یعنی اولیات عقلیات) سے سوا ہیں تین اقسام کے ہیں: جو صرف دلیل عقلی سے معلوم ہوتے ہیں نہ کہ دلیل شرعی سے، وہ جو صرف دلیل شرعی سے معلوم ہوتے ہیں نہ کہ دلیل عقلی سے اور وہ جو دونوں سے معلوم ہوسکتے ہیں۔ پہلی قسم میں ان امور کا علم شامل ہے: حدوث عالم اور اس کے محدث کا علم، اس محدث کی صفات جیسے کہ قدرت، علم و ارادہ کا علم۔ ایسا اس لئے ہے کہ اگر یہ امور ثابت نہ ہوں تو شرع کا اثبات ممکن نہیں کیونکہ شرع کلام (یعنی خطاب الہی) سے عبارت ہے، جب تک (ذات باری کی صفت) کلام نفسی ثابت نہ ہو شریعت ثابت نہیں ہوسکے گی۔ اصول یہ ہے کہ ہر وہ شے جو (ترتیب میں) کلام نفسی پر مقدم ہے اس کا اثبات کلام نفسی اور اس پر مبنی امور سے ہونا محال ہے۔ بعض محققین نے البتہ تکلف سے کام لیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کا دعوی کیا ہے۔
جی ہاں، وہ تمام امور جو ذات باری کی صفت کلام کے ثبوت پر موقوف ہیں وہ صرف دلیل عقلی سے ثابت ہوسکتے ہیں اور انہیں نبی کی خبر سے ثابت نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ کسی خبر کے خدا کی جانب سے ہونے کا امکان خدا کے کلام کرسکنے کے ثبوت پر موقوف ہے اور وہ خدا کے فاعل ہونے پر اور وہ خدا کے باصفات (جیسے علیم، قدیر و مرید) ہونے پر اور وہ خدا کے ہونے پر۔ لیکن ان کے بزعم خود جعلی سجادہ نشینوں کا کہنا ہے کہ یہ سب امور صرف نبی کی خبر سے ثابت ہوتے ہیں نیز یہ علم و دلیل سے ماورا ہیں۔
الغرض جوہر صاحب جیسے حضرات خوغا پہن کر امام غزالی پر کذب باندھتے ہوئے خود کو ان کا سجادہ نشین کہلواتے ہیں۔ ہمارا مقصود بس عوام کو ان جعلی چوغا نشینوں سے ہوشیار کرنا ہے۔




کمنت کیجے