Home » رومان ، حقیقت پسندی اور اقبال شناسی
زبان وادب شخصیات وافکار

رومان ، حقیقت پسندی اور اقبال شناسی

حقیقت پسند ی اچھی چیز ہے مگر اتنی اچھی بھی نہیں کہ خواب اور رومان زندگی سے نکل جا ئیں۔آدمی اتنا بد ذوق ہو جائے کہ شاعری کو فقہ کے پیمانے سے ناپنے لگے۔
مجھ پر اللہ تعالیٰ کے بڑے احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے استادِ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب کے دروازے تک پہنچا دیا۔بقدرِ ظرف،ان سے معارف سیکھے اور آداب بھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دین کی حقیقت جانی۔ یہ جانا کہ قرآن مجید کو کیسا سجھنا چاہیے۔راویوں نےرسالت مآب ﷺ سے جو باتیں منسوب کیں،ان کی حقیقت تک کیسا پہنچا جائے۔ ہماری علمی روایت نے جن علوم کی صورت میں ظہور کیا،ان کا مقام ومرتبہ کیا ہے۔فقہ،کلام اور تصوف کے باب میں ہونے والے مباحث کو سمجھنے کا قرینہ کیا ہے۔ روایت سے تعلق کیوں ضروری ہےا ورجدید ہونے کا مفہوم کیا ہے۔ان سوالات کے جواب اسی بارگاہِ علم سے ملے اور تادمِ تحریر ان پر فی الجملہ اطمینان ہے۔
اس نظامِ فکر کی تفہیم میں، شاہ کلید کی حیثیت ایک لفظ کو حاصل ہے۔وہ ہے :خوش ذوقی۔آدمی خوش ذوق نہ ہو تو قرآن مجید کے مفاہیم تک اس کی رسائی ہو سکتی ہے اور نہ وہ نبی ﷺ کے ارشادات کی حکمت کو جان سکتا ہے۔اگر وہ عہدِ جاہلیت کی شاعرانہ روایت تک رسائی نہیں رکھتا تو اس پرکبھی یہ حقیقت منکشف نہیں ہو سکتی کہ قرآن مجید کس درجے کا ادب ہے۔ وہ اس راز سے کبھی واقف نہیں ہو سکتا کہ قرآ ن مجید کیسے زبان و بیان کا معجزہ ہے۔ وہ اسالیبِ کلام کےتنوع کا نہیں جان پاتا اور یہ بد ذوقی فہمِ قرآن میں سب سے بڑا مانع ہے۔قرآن ایک اسلوب کو رفعِ الزام کے لیے استعمال کرتا ہے اور اہلِ تفسیر اسے الزام کے معنی میں لے لیتے ہیں۔’تدبرِ قرآن ‘‘ اور ’’البیان ‘‘ اس کی مثالوں سے مملو ہیں۔ فہمِ قرآن کے باب میں فراہی دبستان کا سب سے قابلِ قدر اضافہ یہی ہے کہ اس نے لوگوں میں خوش ذوقی پیدا کی۔انہوں نے سیدنا عمر ؓ کے اس قول کی عملی شرح ہمارے سامنے رکھی کہ عہدِجاہلیت کے اشعار یاد کرو کہ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر اور کلام کے معانی ہیں۔
یہی معاملہ ارشاداتِ پیغمبر کا ہے۔نبی ﷺ نےکبھی کوئی بات آداب کے دائرے میں بیان کی اور لوگوں نے اسے احکام کے معنی میں لیا۔کسی چیز کو تہذیب کے باب میں واضح کیا اور فقہا نے اسے حلال و حرام کا ماخذمان لیا۔کوئی بات آپ ﷺ نے نصیحتاً ارشاد فرمائی اور اسے واجب الاطاعت حکم کا درجہ دے دیا گیا۔ غامدی صاحب کی ’علم النبی‘ میں اس کے بے شمار شواہد جمع کر دیے گئے ہیں۔مولانا مودودی نے کہیں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ جو آدمی مسلسل احادیث اور سیرت کا مطالعہ کرتا ہے،وہ مزاجِ شناسِ پیغمبر ہو جا تا ہے۔وہ جا نتا ہے کہ عرب کی سب سے فصیح ہستی جب کلام کرتی ہے تو اس کا معیار کیا ہو تا ہے۔جملہ خود بول اٹھتا ہے کہ وہ زبانِ پیغمبر سے صادر ہوا ہے یا نہیں۔مکتبِ فراہی نے اس خوش ذوقی کو فہمِ دین میں اصل الاصول بنا دیا۔ جو اس رازکو پالیتا ہے،اسے یہ جاننے میں دقت نہیں ہو تی کہ قرآن ہو یا حدیث، کہاں الفاظ ظاہری مفہوم پر دلالت کر رہے ہیں اور کہاں مجازی معنوں میں ہیں۔ کہاں گریز ہے ا ور کہاں براہ راست کلام کیا جا رہا ہے۔ یہ کہنے کی حاجت نہیں کہ یہ انسانی کاوش ہے جس میں غلطی کا پورا امکان ہے۔یہاں صرف یہ بیان کرنا مقصودہے کہ کلام کی تفہیم کے لیے خوش ذوقی کیوں لازم ہے۔
میں نے جاوید صاحب کا جو مضمون سب سے پہلے پڑھا اور پھر ان کا اسیر ہو گیا،وہ ’دبستانِ شبلی‘ کے عنوان سے ان کی کتاب ’مقامات‘ کا حصہ ہے۔ یہ سر تا پا ادب ہے۔یہ پڑھنے والے پر ایک رومان کا دروازہ کھولتا ہے۔میں اسی باب سے اس شہر ِ علم میں داخل ہوا۔ اس مضمون سے متاثر ہو کر، میں نے اسی عنوان سے ایک مضمون لکھا جو غالباً1989میں ’اشراق‘ میں شائع ہوا۔ پھر جاوید صاحب سے علامہ اقبال کے کمالِ فن کی نمائندہ کتاب’جاوید نامہ‘ بھی سبقاً سبقاً پڑھی۔اس سے اقبال کی عظمت اور علم کا جو نقش قائم ہوا،وہ ابھی تک سلامت ہے۔معلوم ہوا،ا قبال محض شاعر نہیں ہیں۔وہ شاعری کی زبان میں زندگی کے بڑے حقائق سے متعارف کراتے ہیں۔حقائق کو ادب کی زبان میں شاید ہی کسی نے اس کامیابی کے ساتھ بیان کیا ہو۔
بڑے آدمی کا ایک نظامِ فکر ہو تا ہے۔بلا تشبیہ عرض ہے کہ جس طرح دین کا عمومی تصور سامنے نہ ہو تو یہ طے کر نا مشکل ہے کہ قرآن و سنت میں کون سے بات احکام کے باب میں کہی گئی ہے،کہاں تہذیب کے دائرے میں کلام کیا جا رہا ہے،کہاں محض نصیحت کرنا مطلوب ہے ،اسی طرح اگر آپ اقبال کے مجموعی نظامِ فکر سے واقف نہیں ہیں تو آپ نہیں جان سکتے کہ کہاں وہ کمزور کی ہمت بندھا رہے ہیں،کہاں تقلید کے خوگر میں ذوقِ تحقیق پیدا کر رہے ہیں،کہاں تہذیبی احساسِ کمتر ی کے مریض کو پیغامِ شفا دےرہے ہیں،کہاں غلام کوانسانی تاریخ کے عروج و زوال کی داستان سنا کر،اس کو جدو جہد پر آمادہ کر رہے ہیں اورکہاں عظلمتِ رفتہ کی تلاش میں سرگراں اپنی قوم کو نئے راستوں کی ضرورت اور اس کی مشکلات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ان سب سے نا واقفیت ، ان کے کلام کی تفہیم میں حجاب بن جا تی ہے۔ ایک بار پھر بلا تشبہہ عرض ہے کہ آپ پھر اقبال کے اشعار سے وہی سلوک کرتےہیں جو ہمارے اہلِ تفسیر نے قرآن مجید سے کیا ہے۔پھر وہ رفعِ الزام کو الزام کے معانی میں لے کر اس کو حسبِ ذوق معانی پہناتا ہے۔پھر وہ شاعری سے عملی حکمتِ عملی کے اصول کشید کرتا ا ور استہزا کرتا ہے کہ دیکھو اقبال نے کیسے بچوں والی بات کر دی۔دیکھیے، اقبال نے کس خوش ذوقی سےاس علمی کوتاہ قامتی کو بیان کیا ہے:
تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہ
ترا گنہ کہ نخیلِ بلند کا ہے گناہ
دینی علم سے واجبی سا تعلق رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ اقبال دین کا ماخذ نہیں ہیں۔دین کا واحدماخذ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کی ہستی ہے ۔ان کا دیاہوا دین قرآن و سنت کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔اب اقبال ہوں یا ابو حنیفہ،دین کے باب میں ان کے کلام کو اسی کسوٹی پر پرکھا جا ئے گا۔ تفہیم کےعمل میں مگر یہ سمجھنا ہو گا کہ ابو حنیفہ فقیہہ ہیں اور اقبال شاعر ومفکر۔دونوں کے فرمودات کو ایک پیمانے پر نہیں پرکھا جا ئے گا۔اس فرق کو سمجھنے کے لیے خوش ذوق ہو نا لازم ہے۔فراہی دبستان کا بڑااحسان یہی ہے کہ اس نے اس بات کی اہمیت کو واضح کیا۔ یہ اسی کی فرع ہے کہ فہمِ دین ہی نہیں، فہمِ اقبال کے لیے بھی خوش ذوقی لازم ہے۔مجھ پر جاوید صاحب کا احسان ہے کہ انہوں نے میرے لیے اس بات کی تفہیم کو آسان کر دیا۔اب مجھے دین کی باتوں کو سمجھنے میں کوئی دقت پیش آتی ہے نہ اقبال کے کلام کی تفہیم، میرے لیے مشکل ہوتی ہے۔مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ رومان اور حقیقت پسندی میں تصادم نہیں اگر دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھا جائے۔رومان عزمِ سفر کو مہمیز دیتا ہے جب کہ حقیقت پسندی راستے کی مشکلا ت سے آگاہ کرتی اور ان سے بچنے کی تدبیر سجھاتی ہے۔

خورشید احمد ندیم

خورشید احمد ندیم، ممتاز دانش ور اور صحافی ہیں۔ آرگنائزیشن فار ریسرچ اینڈ ایجوکیشن (ORE) کے ڈائریکٹر ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے رکن رہے ہیں۔
khurshid_nadeem@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں