مسئلہ کی نوعیت اور بنیادی نقد
گزشتہ چند ہفتوں میں فیس بک پر ایک اہم علمی مناقشہ سامنے آیا۔ اس کا آغاز جناب محمد دین جوہر صاحب نے کیا۔ ان کی گفتگو مختلف پوسٹوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ تاہم، قارئین کی سہولت کے لیے، اپنے فہم کی حد تک، ان کے مقدمے کا خلاصہ درج ذیل نکات میں پیش کیا جا رہا ہے:
جوہر صاحب کی تمام تحریروں کو مجموعی طور پر پڑھا جائے تو ان کی تنقید کا مرکزی مقدمہ یہ سامنے آتا ہے کہ سید احمد شہید کی تحریک کے سیاسی و عسکری عمل کو مولانا شاہ اسماعیل دہلوی نے، بالخصوص اپنی کتاب “منصبِ امامت” میں، ایک ایسا دینی جواز فراہم کیا جو جوہر صاحب کے نزدیک شریعت، نبوت، امامت، جہاد اور دینی استناد کے روایتی تصورات سے بنیادی انحراف پر قائم ہے۔ ان کے خیال میں اس کے نتیجے میں ایک ایسا مذہبی و سیاسی بیانیہ وجود میں آیا جس میں دینی اختیار قرآن و سنت، فقہ، اصولِ فقہ، معقولات اور اجتماعی علمی روایت کے بجائے شخصی امامت، الہامِ تشریعی اور سیاسی اطاعت کے گرد منظم ہو گیا۔
اس مقدمے کی مختلف جہات جوہر صاحب کی تحریروں میں یوں سامنے آتی ہیں:
1: وہ تحریکِ مجاہدین کو محض ایک احیائی یا اصلاحی تحریک نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ایک دینی و سیاسی تحریک قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس تحریک کا مقصد صرف بیرونی استعمار کے خلاف مزاحمت نہ تھا، بلکہ مسلم معاشرے کی داخلی تشکیلِ نو بھی تھا؛ خاص طور پر ان طبقات کے مقابلے میں جنھیں شرک، بدعت یا انحرافِ عقیدہ کا حامل سمجھا گیا۔
2: جوہر صاحب کے نزدیک “منصبِ امامت” اس تحریک کا بنیادی فکری اور سیاسی منشور ہے۔ وہ اسے امامت پر ایک عام علمی رسالہ نہیں، بلکہ ایسی دستاویز سمجھتے ہیں جس میں ایک نئے امام، نئے دینی اختیار اور نئی سیاسی مابعدالطبیعات کی تشکیل کی گئی۔
3:ان کے مطابق اس کتاب میں امامت کو شریعت کے معروف اصولوں سے نہیں، بلکہ انبیا کے “کمالات” اور امام کی “مشابہتِ تامہ” کے تصور سے اخذ کیا گیا ہے۔ جوہر صاحب کے نزدیک یہی تصور آگے چل کر امام کے لیے غیر معمولی دینی اور سیاسی اختیارات کی بنیاد بنتا ہے۔
4: ان تنقید کا بنیادی ہدف “نبی حکمی”، “نبوتِ تامہ”، “نصِ حکمی” اور “سنتِ نبوی” جیسی تعبیرات پر ہے۔ ان کے خیال میں ان اصطلاحات کے ذریعے امام کو نبوت کے نہایت قریب، بلکہ بعض پہلوؤں سے پیغمبرانہ اختیار کے حامل منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ وہ اسے ختمِ نبوت کے باب میں ایک سنگین فکری انحراف سمجھتے ہیں۔
5: جوہر صاحب “الہامِ تشریعی” کو اس پورے نظام کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک تحریک کے قائدین اپنے سیاسی اور عسکری فیصلوں کو محض عرفانی یا ذاتی الہام نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ایسے الہام کا درجہ دیتے تھے جو عملی احکام، اطاعت اور سیاسی اقدام کی بنیاد بن سکتا تھا۔
6. ان کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں الہام ذاتی تجربہ نہیں رہتا، بلکہ دینی و سیاسی اختیار کا ماخذ بن جاتا ہے۔ جوہر صاحب اسے شریعت کے روایتی نظامِ استناد کے مقابل ایک متبادل بنیاد سمجھتے ہیں۔
7: وہ “سیاستِ ایمانی” کو “سیاستِ شرعیہ” کی نفی قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک روایتی مسلم سیاسی فکر میں نظمِ اجتماعی، عدل، خلافت، امارت اور جہاد کے مباحث شریعت و فقہ کے تابع تھے، مگر تحریکِ مجاہدین نے ان کی جگہ عقیدے، الہام اور شخصی اطاعت پر مبنی سیاسی تصور قائم کیا۔
8: جہاد کے باب میں بھی ان کی تنقید یہی ہے کہ اسے مسلم سیاسی نظم اور صاحبِ امر کے اختیار کے بجائے ایک شخصی مذہبی و سیاسی اختیار بنا دیا گیا۔ ان کے نزدیک اس سے جہاد شریعت کے منضبط سیاسی تصور کے بجائے داخلی غلبے اور نفاذِ فکر کا ذریعہ بن گیا۔
9: وہ “تقویۃ الایمان”، “عبقات” اور “منصبِ امامت” کو ایک ہی فکری سلسلے کی مختلف کڑیاں سمجھتے ہیں: “تقویۃ الایمان” کو نئی توحید، “عبقات” کو نئی دین منھج کا دستاویز ، اور “منصبِ امامت” کو نئی امامت اور مذہبی سیاست کی کتاب کے طور پر دیکھتے ہیں۔
10: جوہر صاحب اس پورے بحران کی فکری جڑ معقولات، علم الکلام اور اصولِ فقہ کی روایت کے ضعف یا ترک میں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب یہ روایت کمزور ہوئی تو دینی تعبیر کا اختیار علمی و اصولی دائرے سے نکل کر شخصی تعبیر، الہام اور سیاسی طاقت کے دائرے میں منتقل ہو گیا۔
11: ان کے خیال میں تحریکِ مجاہدین کے بعد کی بہت سی مذہبی سیاسی تحریکیں اسی سانچے کی توسیع ہیں۔ وہ بعد کے دیوبندی، اہلِ حدیث، جماعتِ اسلامی، بعض تجددی رجحانات اور جدید مذہبی سیاست کے کئی مظاہر کو اسی الہامی، تعبیری اور سیاسی جڑ سے وابستہ سمجھتے ہیں۔
12: ان کے نزدیک اصل مسئلہ “استناد” کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دینی استناد قرآن و سنت، اصولِ فقہ، معقولات اور اجتماعی علمی روایت سے ہونا چاہیے تھا، لیکن “منصبِ امامت” اور اس سے پیدا ہونے والی مذہبی سیاست نے اسے شخصی، سیاسی اور الہامی بنا دیا۔
جوہر صاحب کی تنقید کا مرکزی پوائنٹ یہ ہے کہ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اور تحریکِ سید احمد شہید نے مذہب کو ایک نئی سیاسی مابعدالطبیعات میں ڈھال دیا۔ ان کے نزدیک اس تعبیر میں امامت کو منصبِ نبوت کے قریب کر دیا گیا، شخصی الہام کو تشریعی حیثیت مل گئی، جہاد کو نظمِ اجتماعی کے بجائے شخصی اختیار کے تابع کر دیا گیا، اور سیاستِ شرعیہ کی جگہ ایک ایسا ایمانی تصورِ اقتدار قائم ہوا جس نے بعد کی مذہبی تحریکوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
نقد کا جواب اہل روایت کی جانب سے:
جوہر صاحب کے نقد کے جواب میں جو تحریریں سامنے آئیں، ان کا مجموعی مقدمہ یہ ہے کہ “منصبِ امامت” کو نئی نبوت، نئی شریعت یا متوازی دین کے اعلان کے طور پر پڑھنا درست نہیں۔
ان کے نزدیک جوہر صاحب نے کتاب کو اس کے سیاق، اصطلاحی دلالت اور مصنف کے مجموعی مدعا سے الگ کر کے پڑھا ہے۔ ان جوابات کا بنیادی اصرار یہ ہے کہ اس کتاب کا اصل موضوع امامت، خلافت، اطاعت، سیاسی نظم اور شریعت کی بالادستی ہے، نہ کہ نبوت، وحی یا تشریع کا کوئی نیا دعویٰ۔
اس جوابی موقف کو چند بنیادی نکات میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے:
1: جواب دینے والوں کے نزدیک جوہر صاحب نے “منصبِ امامت” کو پہلے ہی سے نئی نبوت، نئی شریعت اور متوازی دین کی کتاب فرض کر لیا، پھر ہر مشکل تعبیر کو اسی مفروضے کے تحت پڑھا۔
2: ان کے مطابق “نبی حکمی” سے حقیقی نبوت مراد نہیں۔ “حکمی” کا لفظ خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں ایک اعتباری، نیابتی یا تشبیہی نسبت مراد ہے۔ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اسی عبارت میں واضح کر دیتے ہیں کہ خلیفۂ راشد “فی الحقیقت پایۂ رسالت کو نہیں پہنچا”۔
3: “مشابہتِ تامہ” کو بھی وہ مساوات یا عینیت کے معنی میں نہیں لیتے۔ ان کے نزدیک مشابہت ہمیشہ کسی خاص وصف یا جہت میں ہوتی ہے، کلی مساوات میں نہیں۔ اس لیے امام کی انبیا سے کسی وصف میں مشابہت کو نبوت میں شرکت نہیں سمجھا جا سکتا۔
4: ان کے نزدیک “کمالاتِ انبیا” کا ذکر امام کے لیے نبوت ثابت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ امامت کی اخلاقی، روحانی اور سیاسی بلندی واضح کرنے کے لیے ہے۔ اسلامی روایت میں خلفا، علما، اولیا اور مجتہدین کے لیے انبیائی اوصاف سے مشابہت کی زبان ملتی ہے، مگر اسے نبوت کا اثبات نہیں سمجھا گیا۔
5: الہام کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسے وحی یا مستقل قانون سازی کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔ یہ زیادہ سے زیادہ شریعت فہمی، ترجیحِ دلائل، عملی بصیرت یا غیر منصوص امور میں رہنمائی کا ذریعہ ہو سکتا ہے، مگر شریعت کا بدل نہیں۔
6: اسی بنا پر وہ “الہامِ تشریعی” کی تعبیر کو ایک سخت نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک شاہ اسماعیل دہلوی کے ہاں اصل بالادستی شریعت کو حاصل ہے، اور الہام اگر کہیں معتبر ہے تو شریعت کے تابع ہے، اس کے مقابل نہیں۔
7: جواب دینے والوں کے مطابق “منصبِ امامت” امام یا سلطان کو شریعت سے بالاتر نہیں بناتی۔ کتاب میں کئی مقامات پر کتاب اللہ، سنت، احکامِ شرع، حدود، تعزیرات، جہاد، اجتماعِ امت اور سیاسی نظم کو شریعت کے تابع بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے امام شارع نہیں، بلکہ شریعت کا محافظ اور منفذ ہے۔
8: “حقیقت” اور “ظاہریت” کی تقسیم کو بھی وہ باطنیہ کا نظریہ نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک اس سے مراد احکامِ شرعیہ کی حکمت، علت اور باطنی معنویت ہے، نہ کہ ظاہرِ شریعت کی تنسیخ۔
9:ان کے نزدیک کتاب میں امامت اور سلطنت کے مختلف مراتب بیان کیے گئے ہیں، جیسے خلیفۂ راشد، سلطانِ کامل، سلطانِ جابر، سلطنتِ عادلہ، سلطنتِ ضالہ اور سلطنتِ کفریہ۔ یہ درجہ بندی اس بات کی دلیل ہے کہ کتاب کسی ایک مطلق، غیر مشروط اور شخصی اقتدار کا نظریہ پیش نہیں کر رہی۔
10: جہاد کے باب میں بھی وہ اس نتیجے کو جادہ اعتدال سے ہٹا ہوا سمجھتے ہیں کہ کتاب نئی نبوت یا نئی شریعت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ان کے نزدیک “منصبِ امامت” میں جہاد کو سیاسی نظم، صاحبِ امر، قوتِ نافذہ اور شریعت کے اجتماعی احکام کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ اس کے تاریخی اطلاق پر بحث ہو سکتی ہے، مگر اسے لازماً نئی شریعت یا نئی نبوت سے جوڑ دینا درست نہیں۔
چنانچہ جوہر صاحب کے نقد کا جواب دینے والوں کے نزدیک “منصبِ امامت” میں بعض تعبیرات مشکل، غیر مانوس یا قابلِ نقد ہو سکتی ہیں، مگر انھیں ختمِ نبوت میں نقب، الہام کے ذریعے متوازی شریعت، یا شخصی مذہبی اقتدار کے قیام کا قطعی اعلان قرار دینا متن، سیاق اور مصنف کے اپنے بیانات سے ہم آہنگ نہیں۔ ان کے نزدیک کتاب کا بنیادی موضوع امامت، خلافت، اطاعت، سیاسی نظم اور شریعت کی بالادستی ہے، نہ کہ نئی نبوت یا نئی تشریع کا کوئی تصور۔
اس جوابی موقف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ زیادہ تر استدلال کتاب کے متن، سیاق، مصنف کی مراد، اصطلاحات کی دلالت اور تاریخی پس منظر کی توضیح تک محدود ہے۔ علمی روایت میں اس نوعیت کی بحثیں ناگزیر ہیں، کیونکہ کسی مصنف کی عبارت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس نے کوئی تعبیر کس معنی میں استعمال کی، ناقد نے اسے درست سمجھا یا نہیں، اور اس سے کون سا نتیجہ واقعی لازم آتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ جوابات “منصبِ امامت” کے فہم میں کئی اہم پہلو روشن کرتے ہیں۔
لیکن اس کے بعد ایک زیادہ بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔ بحث صرف یہ نہیں کہ شاہ اسماعیل دہلوی کی مراد کیا تھی یا ان پر عائد کیا گیا الزام متن سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ امامت، ولایت، الہام، کمالاتِ انبیا، سیاستِ ایمانی اور دینی قیادت کے یہ تصورات خود دین میں کس بنیاد پر قائم ہیں؟ ختمِ نبوت کے بعد کیا کسی شخص، امام، مجدد یا تحریک کے لیے خصوصی دینی علم، ماموریت یا اتھارٹی کا کوئی اصولی تصور باقی رہتا ہے؟
چنانچہ ضرورت یہ ہے کہ بحث کو متن کی توضیح اور تاریخی دفاع سے آگے بڑھا کر ان تصورات کی اصولی دینی حیثیت تک لے جایا جائے جن پر یہ پورا مناقشہ قائم ہے۔ اسی پس منظر میں فکرِ فراہی، بالخصوص جناب جاوید احمد غامدی صاحب کا زاویۂ نظر کیا ہے، اور میرے فہم کے مطابق وہ اس بحث کو کس سطح پر لے جاتا ہے، یہ اگلی سطور میں زیرِ بحث آئے گا۔
فکرِ فراہی کی روشنی میں:
اس پورے مناقشے کو اگر فکرِ فراہی، بالخصوص جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے زاویۂ نظر سے دیکھا جائے تو بحث کسی ایک کتاب، ایک شخصیت یا چند مخصوص تعبیرات کے فہم تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایک بنیادی اصولی سوال کی صورت اختیار کر لیتی ہے: ختمِ نبوت کے بعد کیا دین میں کسی شخص، جماعت یا تحریک کے لیے خدا کی طرف سے کسی خصوصی علم، ماموریت، اتھارٹی یا غلبے کا کوئی تصور باقی رہ جاتا ہے؟
فکرِ فراہی میں دین کی ہر نسبت، اصطلاح اور منصب کو قرآن مجید کی میزان پر پرکھا جاتا ہے۔ اس منہج کے مطابق کسی عقیدے، اختیار یا منصب کی دینی حیثیت اسی وقت تسلیم کی جا سکتی ہے جب اس کی بنیاد قرآن و سنت میں واضح طور پر موجود ہو۔ چنانچہ امامت، ولایت، الہام، غوث، قطب، خلافت، اقامتِ دین، غلبۂ اسلام اور اس نوعیت کے دوسرے تصورات بھی اسی اصول کے تحت دیکھے جائیں گے۔
اسی تناظر میں غامدی صاحب کے نزدیک اسلامی تاریخ میں دو بڑے تعبیری رجحانات نمایاں ہوئے ہیں: ایک صوفیانہ تعبیر اور دوسری دین کی سیاسی تعبیر۔
پہلا رجحان نبوت کے بعض خصائص کی توسیع پر مبنی ہے۔ ولایت، کشف، الہام، مکاشفہ، باطنی علم، قطب، غوث، ابدال اور رجال الغیب جیسے تصورات کے ذریعے خدا سے ایک خصوصی نسبت، غیر معمولی روحانی علم اور غیب تک رسائی کا تصور پیدا ہوا۔ ختمِ نبوت کے اقرار کے ساتھ اسے ولایت، غیر تشریعی نبوت اور روحانی کمالات کے مختلف عنوانات دیے گئے، لیکن عملی طور پر نبوت کے بعض آثار مختلف ناموں سے باقی رہے۔
دوسرا رجحان رسالت کے بعض خصائص کی توسیع پر مبنی ہے۔ اقامتِ دین، خلافت، غلبۂ اسلام، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور جہاد کے بعض تصورات اس طرح مرتب ہوئے کہ گویا مسلمانوں پر بھی وہی ذمہ داری عائد ہے جو رسولوں پر عائد تھی، اور انھیں بھی بالآخر اسی نوعیت کے غلبے اور سیاسی کامیابی تک پہنچنا ہے جس کا ذکر قرآن رسولوں کے بارے میں کرتا ہے۔ اسے خلافت علیٰ منہاج النبوۃ، اقامتِ دین، نفاذِ شریعت، غلبۂ اسلام یا جہاد فی سبیل اللہ کے عنوانات دیے گئے، لیکن عملی طور پر رسالت کے بعض آثار سیاسی و اجتماعی منصوبے کی صورت میں باقی رہے۔
چنانچہ اصل سوال یہ ہے کہ ختمِ نبوت کے بعد کیا ان دونوں رجحانات کے لیے دین میں کوئی اصولی بنیاد باقی رہتی ہے؟ فکرِ فراہی اس سوال کو قرآن مجید کی میزان پر رکھ کر دیکھتی ہے۔ اس کے نزدیک نبوت اور رسالت دونوں خدا کے مقرر کردہ منصب ہیں۔ ان کے خصائص، نتائج اور لوازم کسی امت، جماعت، ولی، مجدد، امام یا سیاسی تحریک کو منتقل نہیں کیے جا سکتے۔ ختمِ نبوت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ خدا کی طرف سے براہ راست رابطے،خصوصی علم، حکم اور حجت کا باب بند ہو چکا ہے۔ اسی طرح ختمِ نبوت کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ رسولوں کے ساتھ خاص اتمامِ حجت، دنیوی فیصلہ، غلبہ اور نصرت کی سنت کو بعد کی کسی دینی یا سیاسی تحریک پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔
ختمِ نبوت اور صوفیانہ تعبیر:
فکرِ فراہی کے نزدیک تصوف پر بنیادی تنقید محض چند مخصوص اصطلاحات یا بعض منفرد صوفیانہ عقائد تک محدود نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تعبیری رجحان سے متعلق ہے۔ یہ نقد تصوف کے اخلاقی، تزکیاتی یا اصلاحی پہلو پر نہیں، بلکہ اس تعبیر پر ہے جس میں انسان کی دینی ترقی کو قرآن و سنت کی محکم ہدایت، اخلاقی تزکیہ اور عملی بندگی کے بجائے ایسے باطنی تجربات، روحانی مقامات اور مابعد الطبیعی مشاہدات سے وابستہ کر دیا جاتا ہے جو اپنی نوعیت میں نبوت کے بعض خصائص سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس تعبیر میں اگرچہ ختمِ نبوت کا اقرار موجود رہتا ہے، لیکن ولایت، نبوت عامہ،غیر تشریعی نبوت اور کمالات نبوت کے عنوانات کے تحت عملاً نبوت کے بعض خصائص کو امت میں جاری رکھنے کی کوشش پیدا ہو جاتی ہے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کسی شخص کو خواب آ سکتا ہے یا نہیں، کسی صالح انسان کو کوئی غیر معمولی داخلی تنبیہ یا بصیرت حاصل ہو سکتی ہے یا نہیں، یا کوئی شخص اپنے باطن میں کسی روحانی کیفیت کا تجربہ کر سکتا ہے یا نہیں۔ یہ سب اپنی جگہ ممکن ہو سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ دین میں خصوصی علم، خصوصی نسبت اور دینی حجت کا ماخذ کیا ہے؟ اگر رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی خدا کی طرف سے کسی شخص کو دوسروں کے مقابلے میں کوئی امتیازی دینی معرفت، باطنی رہنمائی یا روحانی اتھارٹی حاصل ہو سکتی ہے تو پھر ختمِ نبوت کا عملی مفہوم کیا باقی رہ جاتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں صوفیانہ تعبیر اور فکرِ فراہی کے درمیان اصل اختلاف پیدا ہوتا ہے۔
قرآن مجید نے انسان کی دینی جدوجہد کا اصل میدان خدا کی ذات، عالمِ غیب، مابعد الطبیعی حقائق اور اسرارِ ربوبیت کے براہِ راست مشاہدے کو نہیں بنایا۔ اس نے انسان کو ایمان بالغیب، بندگی، تقویٰ، تزکیہ، اخلاق، عدل، انفاق، عبادات اور خدا کے احکام کی اطاعت کی دعوت دی ہے۔ دین کا مطالبہ یہ نہیں کہ انسان غیب کو دیکھ لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ غیب میں رہتے ہوئے ایمان لا کر خدا کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔ اسی لیے قرآن محکمات پر قائم رہنے کی تلقین کرتا ہے اور متشابہات کے درپے ہونے کو انحرافِ قلب کی علامت قرار دیتا ہہے۔
چنانچہ قرآن مجید میں “ولایت” کوئی دینی منصب یا اصطلاح نہیں ہے۔ “ولی” عربی زبان کا ایک عام لفظ ہے، جس کے بنیادی معنی قرب، اتصال، تعلق، نصرت اور رفاقت کے ہیں۔ اسی اصل سے یہ لفظ کبھی دوست، کبھی مددگار، کبھی سرپرست اور کبھی قریب و وابستہ شخص کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ ان اہلِ ایمان کی صفت کے طور پر آیا ہے جو ایمان، تقویٰ اور بندگی کی راہ پر قائم رہتے ہیں۔ اس اعتبار سے ہر وہ بندہ اللہ کے “اولیا” میں شامل ہے جو ایمان و تقویٰ کی زندگی اختیار کرتا ہے۔
قرآن انھیں اللہ کے مقرب اور محبوب بندوں کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن اس سے نہ کوئی روحانی درجہ بندی قائم ہوتی ہے، نہ کشف و الہام کا کوئی منصب ثابت ہوتا ہے، نہ باطنی علم کی کوئی سند ملتی ہے، اور نہ کسی شخص کو دوسرے انسانوں پر دینی اتھارٹی حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح صالحین، صدیقین اور شہدا کی اصطلاحات بھی دنیا میں کسی روحانی اقتدار، باطنی منصب یا دینی حاکمیت کے لیے استعمال نہیں ہوئیں، بلکہ اللہ کے ہاں قرب، قبولیت، سرفرازی اور آخرت کے اجر و مقام کے بیان کے لیے آئی ہیں۔
فکرِ فراہی کے نزدیک صوفیانہ روایت کی یہی تعبیر محلِ نقد ہے جس میں انسان کی دینی جدوجہد کا رخ محکمات سے ہٹا کر متشابہات اور مابعد الطبیعی تجربات کی طرف موڑ دیا گیا۔ خدا کی ذات کا عرفان، مشاہدۂ غیب، کشف، مکاشفہ، باطنی علم، فنا و بقا اور اسرارِ حقیقت کے ادراک کو دینی کمال کا عنوان بنا دیا گیا۔ یوں قرآن کا مطلوب تزکیہ، جو ایمان، عبادت، اخلاق، بندگی اور اطاعت سے عبارت ہے، بعض صوفیانہ تعبیرات میں ایسے روحانی مقامات کے حصول سے وابستہ ہو گیا جن میں نبوت کے بعض خصائص کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں معاملہ محض اصطلاحی اختلاف نہیں رہتا، بلکہ ختمِ نبوت کے عملی مفہوم سے متعلق ہو جاتا ہے۔ دین میں صرف پیغمبر ہی وہ ہستی ہے جسے خدا کی طرف سے وحی ملتی ہے، جسے غیب کی بعض حقیقتوں سے خدا کے اذن سے آگاہ کیا جاتا ہے، جو خدا کی طرف سے کلام کرتا ہے، اور جس کی حیثیت لوگوں کے لیے حجت بن جاتی ہے۔ امت کے عام افراد کے لیے یہ دروازہ نہیں کھولا گیا۔ ان کے لیے دین کی راہ قرآن و سنت کی ہدایت، تزکیۂ نفس، عبادت، اطاعت، اخلاقی پاکیزگی اور خدا کے حضور جواب دہی کے شعور سے متعین ہوتی ہے۔
اسی بنا پر غامدی صاحب کے نزدیک ختمِ نبوت کا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد خدا کی طرف سے مخاطبت،خصوصی دینی علم، حکم اور حجت کا کوئی ایسا ذریعہ باقی نہیں رہا جس سے کسی شخص کو ایسی رہنمائی حاصل ہو جو دوسروں کے لیے لازم الاتباع بن سکے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نبوت میں سے اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ نے پوچھا: مبشرات کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا خواب۔ اس ارشاد سے بھی یہی اصول واضح ہوتا ہے کہ ختمِ نبوت کے بعد اگر کوئی صالح خواب یا ذاتی تنبیہ باقی ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ شخصی بشارت، تسلی یا تنبیہ کا ذریعہ ہو سکتی ہے؛ وہ دین کا ماخذ، شریعت کا حکم، اجتماعی حجت یا دینی اتھارٹی نہیں بن سکتی۔ اس سے نہ کوئی نیا حکم ثابت ہوتا ہے، نہ کسی دوسرے انسان پر اطاعت لازم آتی ہے، نہ کسی شخص کو امت پر کوئی روحانی اقتدار حاصل ہوتا ہے۔
ختم رسالت اور دین کی سیاسی تعبیر:
دوسرا رجحان رسالت کے خصائص کی توسیع اور دین کی سیاسی تعبیر سے متعلق ہے۔ فکرِ فراہی کے نزدیک یہاں اصل مسئلہ چند سیاسی اصطلاحات، فقہی مباحث یا حکومت و سیاست کے عمومی سوالات کا نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تعبیری رجحان کا ہے۔ یہ نقد اسلام کے اجتماعی، اخلاقی، قانونی یا سیاسی پہلو سے انکار پر مبنی نہیں، بلکہ اس تعبیر پر ہے جس میں رسولوں کے ساتھ خاص نتائج کو امت کے عمومی دینی مشن میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
اس تعبیر میں اقامتِ دین، خلافت، غلبۂ اسلام، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور جہاد کے بعض تصورات اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ گویا مسلمانوں پر بھی وہی تاریخی ذمہ داری عائد ہے جو رسولوں پر عائد تھی، اور گویا انھیں بھی بالآخر اسی نوعیت کے غلبے، فتح اور سیاسی کامیابی تک پہنچنا ہے جس کا ذکر قرآن مجید رسولوں کے بارے میں کرتا ہے۔ یوں ختمِ نبوت و رسالت کا صریح اقرار باقی رہتا ہے، لیکن اقامتِ دین، خلافت، غلبۂ اسلام اور جہاد کے عنوانات کے تحت عملاً رسالت کے بعض تاریخی و سیاسی خصائص کو امت میں جاری رکھنے کی کوشش پیدا ہو جاتی ہے۔
فکرِ فراہی کے نزدیک یہ توسیع اس لیے درست نہیں کہ قرآن مجید کے مطابق رسول محض داعی، مصلح یا سیاسی قائد نہیں ہوتا، بلکہ خدا کی طرف سے مامور ہستی ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے پہلے اتمامِ حجت ہوتا ہے، پھر دنیا ہی میں خدا کی عدالت ظاہر ہوتی ہے: منکرین پر فیصلہ نافذ کیا جاتا ہے، اہلِ ایمان کو نصرت ملتی ہے، اور رسول کو اپنے مخالفین پر غلبہ عطا کیا جاتا ہے۔ قرآن اس معاملے کو رسولوں اور ان کے براہِ راست ساتھیوں سے متعلق ایک خاص سنتِ الٰہی کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اس بنا پر رسولوں کے باب میں غلبہ محض سیاسی جدوجہد، عسکری تنظیم یا اجتماعی حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اتمامِ حجت کے بعد ظہورِ حق اور فیصلۂ الٰہی کا مظہر ہوتا ہے۔
چنانچہ دین کی سیاسی تعبیر میں اصل خلطِ مبحث اسی مقام پر پیدا ہوا کہ رسولوں کے ساتھ خاص الٰہی سنت کو امت کا عمومی دینی فریضہ سمجھ لیا گیا۔ اس کے نتیجے میں اقامتِ دین سیاسی غلبے سے، خلافت مستقل دینی منصب سے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اقتدار کے حصول سے، اور جہاد عالم گیر غلبۂ اسلام کے منصوبے سے وابستہ ہو گیا۔ یوں دین کا مطالبہ عملاً ریاستی اقتدار کے قیام میں سمٹنے لگا، خلافت اسلام کے مطلوب سیاسی قالب کے طور پر پیش کی گئی، اور اقامتِ دین بعض تعبیرات میں اسلام کے سیاسی اقتدار کا دوسرا نام بن گئی۔
اسی اصول سے جہاد کا معاملہ بھی واضح ہوتا ہے۔ فکرِ فراہی کے نزدیک قرآن میں جہاد و قتال کا تعلق ظلم، عدوان، مذہبی جبر اور مسلمانوں پر ہونے والی زیادتی کے خلاف مزاحمت سے ہے، نہ کہ ایک عالم گیر سیاسی غلبے کے مستقل منصوبے سے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کا قتال ایک خاص تاریخی اور الٰہی سنت کا پس منظر رکھتا تھا۔ اس میں دعوت، اتمامِ حجت، ہجرت، نصرت، براءت، عذاب اور ظہورِ حق کی وہ سنت کارفرما تھی جو رسولوں کے باب میں جاری ہوتی ہے۔ بعد کے مسلمانوں کے لیے قتال کو بعینہٖ اسی معنی میں جاری مان لینا دراصل رسالت کے بعض خصائص کو امت کی عمومی ذمہ داری میں تبدیل کر دینا ہے۔
اگر کسی موقع پر ظلم کے خلاف مزاحمت، خروج یا قتال کا سوال پیدا ہو تو وہ بھی شریعت کی مقرر کردہ حدود، قدرت، مصلحت، نظمِ اجتماعی، معاہدات، نتائج اور اخلاقی قیود کے تابع ہو گا۔ محض دینی جذبہ، خواب، الہام، کشف، کسی فرد کے اجتہاد، یا کسی جماعت کے انقلابی تصور کی بنیاد پر قتال یا سیاسی اقدام شروع نہیں کیا جا سکتا۔ اجتماعی قتال کا فیصلہ کسی فرد، صاحبِ کشف، صاحبِ الہام، روحانی پیشوا یا نجی جماعت کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ نظمِ اجتماعی کے دائرے میں ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کے بعض احکام افراد سے متعلق ہیں اور بعض نظمِ اجتماعی سے۔ عبادات، اخلاق، دعوت، تزکیہ، صبر، انفاق اور حق کی گواہی ہر فرد کے مکلف بہ امور ہیں، لیکن حدود، تعزیرات، قتال، جنگ، صلح، معاہدات اور بعض سیاسی احکام اجتماعی نظم اور اقتدار سے متعلق ہیں۔ اس لیے جن احکام کا مخاطب نظمِ اجتماعی ہے، ان کا مطالبہ ہر فرد یا ہر گروہ سے نہیں کیا جا سکتا۔ کسی فرد یا جماعت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو امت کا نمائندہ، خدا کا مامور، یا رسالت کے منصبی مشن کا وارث قرار دے کر اجتماعی قتال یا سیاسی انقلاب کا آغاز کر دے۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں معاملہ محض سیاسی اختلاف یا حکمتِ عملی کے فرق تک محدود نہیں رہتا، بلکہ رسالت کے خصائص اور ختمِ نبوت کے عملی مفہوم سے متعلق ہو جاتا ہے۔ رسول ہی وہ ہستی ہے جس کے ذریعے خدا کی حجت آخری درجے میں قائم ہوتی ہے، جس کے انکار پر خدا کا فیصلہ دنیا میں ظاہر ہوتا ہے، جس کے ساتھیوں کو خدا کی نصرت خاص طریقے سے حاصل ہوتی ہے، اور جسے اپنے منکرین پر غلبہ عطا کیا جاتا ہے۔ امت کے عام افراد، علما، مصلحین، مجددین، جماعتیں اور سیاسی تحریکیں اس منصب کی حامل نہیں ہوتیں۔ ان کا کام دعوت، اصلاح، شہادتِ حق، عدل، خیر خواہی اور اپنے حالات کے مطابق اجتماعی جدوجہد ہے؛ مگر وہ خدا کی طرف سے مامور جماعت نہیں ہوتیں۔
چنانچہ جس طرح صوفیانہ تعبیر میں نبوت کے بعض خصائص ولایت، کشف، الہام، باطنی علم اور روحانی مقامات کے عنوانات کے تحت باقی رہے، اسی طرح دین کی سیاسی تعبیر میں رسالت کے بعض خصائص اقامتِ دین، خلافت، غلبۂ اسلام اور جہاد کی بعض تعبیرات کے ذریعے امت کے عمومی مشن میں منتقل ہو گئے۔
اسی لیے اس نقطۂ نظر سے اصل بحث یہ نہیں رہتی کہ ’’نبیِ حکمی‘‘ کی تعبیر درست ہے یا نہیں، یا ’’الہام‘‘ کو وحی کے برابر قرار دیا گیا ہے یا نہیں، یا کسی امام و مجدد کے لیے کون سی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ اصل سوال اس سے کہیں زیادہ بنیادی ہے: کیا ختمِ نبوت کے بعد دین میں کسی شخص، امام، ولی، مجدد، جماعت یا سیاسی قیادت کے لیے کوئی ایسا خصوصی دینی اختیار باقی رہتا ہے جو دوسروں کے لیے حجت بن سکے؟ کیا کسی فرد یا تحریک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو خدا کے کسی خصوصی منصوبے کا نمائندہ قرار دے؟ کیا کوئی جماعت اپنے سیاسی یا عسکری اقدام کو رسولوں کے مشن کا تسلسل کہہ سکتی ہے؟
فکرِ فراہی کا جواب نفی میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے بعد دین مکمل ہو چکا ہے اور دینی حجت اپنے آخری اور محفوظ ماخذ، یعنی قرآن و سنت، میں پوری طرح قائم کر دی گئی ہے۔ اب نہ کسی شخص کو خدا کی طرف سے خصوصی دینی علم حاصل ہو سکتا ہے، نہ کسی جماعت کو رسالت کے مشن کا وارث قرار دیا جا سکتا ہے، نہ کسی سیاسی تحریک کو خدا کی طرف سے مامور جماعت کی حیثیت دی جا سکتی ہے، اور نہ کسی اجتماعی منصوبے کو وعدۂ الٰہی کے نام پر تقدس عطا کیا جا سکتا ہے۔ علم، اجتہاد، دعوت، اصلاح، سیاست، مزاحمت اور اجتماعی جدوجہد سب اپنی جگہ جائز، بلکہ بعض حالات میں مطلوب بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ان میں سے کسی کو بھی نبوت و رسالت کے خصائص، عصمت، تقدس یا ماورائے انسانی اتھارٹی حاصل نہیں۔
اس اصول کے بعد ہر عالم، مجدد، مصلح، امام، جماعت اور تحریک انسانی دائرے ہی میں سمجھی جائے گی۔ اس کا علم اجتہادی ہو گا، اس کی سیاست انسانی ہو گی، اس کی جدوجہد قابلِ نقد ہو گی، اور اس کا کوئی دعویٰ قرآن و سنت کی میزان سے بالاتر نہیں ہو گا۔
ہماری طالبعلمانہ رائے میں اسی اصول کی روشنی میں ’’منصبِ امامت‘‘ اور سید احمد شہید کی تحریک کے گرد پیدا ہونے والی پوری بحث کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔




کمنت کیجے