Home » خدا عالم سے پہلے” اور “عالم سے پہلے عدم” کا مطلب
اسلامی فکری روایت کلام

خدا عالم سے پہلے” اور “عالم سے پہلے عدم” کا مطلب

بعض لوگ یہ اعتراض دہراتے ہیں کہ اگر کہا جائے “خدا عالم سے پہلے تھا” تو یہاں “پہلے” کا لفظ زمانے ہی کے لئے ہوگا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ عالم سے پہلے بھی زمانہ موجود تھا اور خدا اسی زمانے میں تھا۔ اسی طرح علامہ ابن سینا اور ان کے متعبین چونکہ عالم یا کائنات کو قدیم (eternal) کہتے ہیں، لہذا وہ یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ متکلمین کے بقول “عالم حادث ہے” اور وجود سے پہلے یہ معدوم تھا، لیکن زمانی وجود و حدوث (temporal        existence      and        origination) سے ماقبل یہ عدم تبھی مفہوم ہوسکتا ہے جب یہ عدم بھی زمانی ہو۔ پس ثابت ہوا کہ جس حدوث کی متکلمین بات کرتے ہیں اس سے پہلے زمانہ تھا اور زمانہ حرکت سے ہوتا ہے اور حرکت مادے سے۔ لہذا جس حدوث کی متکلمین نے بات کی اس سے پہلے بھی کائنات ماننا ہوگی (کچھ لوگ ان سوالات کو مکانی جہت سے اٹھا لیتے ہیں)۔ بعض لوگ اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ زمان و مکان سے ماورا کسی وجود کا تصور و علم نہ ہوپانا دراصل انسانی عقل کی حد کا اظہار ہے۔

تبصرہ

یہ سوال مفہوم سے زیادہ زبان (language) کے غلط استعمال سے عبارت ہے۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ کسی شے کی کسی شے پر قبلیت یا تقدم (priority) کے کئی تصورات ہیں، مثلا:

1۔ زمانی (میرے والد کا مجھ سے پہلے پیدا ہونا)
2۔ مکانی (امام کا مقتدی سے آگے ہونا)
3۔ شرفی (حضرت ابوبکر کا سب صحابہ میں افضل ہونا)
4۔ علیتی (علت کا معلول پر تقدم)
5۔ ذاتی (شرط کا تقدم، جیسے ایک کا دو سے مقدم ہونا)
6۔ وجودی (موجود کا معدوم پر تقدم، یعنی ایک ذات کا دوسری شے کے بغیر موجود ہونا)

زبان میں لفظ “پہلے” صرف زمانی یا مکانی قبلیت کے لئے نہیں بولا جاتا بلکہ قبلیت کے درج بالا سب مفاہیم کے لئے بولا جاسکتا ہے۔ جب عالم نہ تھا تو عالم پر خدا کو وجودی (existential) تقدم تھا نہ کہ زمانی و مکانی۔ یہاں زمانے کا کوئی گزر و ذکر نہیں، یہاں ایک شے کا ہونا اور نہ ہونا زیر بحث ہے۔ انسانی عقل وجودی تقدم کو زمانے و مکان کے تصور کے بغیر بھی سمجھتی ہے۔ درج بالا سوال میں یہ غلط مفروضہ پیوست ہے کہ “پہلے” بس زمانے کے لئے ہوتا ہے۔ یہاں یہ غلط مفروضہ بھی کارفرما ہوتا ہے کہ زمان و مکان وجود کی شرط ہے جبکہ یہ سب بے بنیاد ہے۔

ناقدین خود اپنی طرف سے “عالم نہ تھا” کا مفہوم یہ مقرر کرتے ہیں کہ “ایک ایسا زمانہ تھا جس میں عالم نہیں تھا”، جبکہ متکلمین کا کہنا یہ ہے کہ “عالم معدوم تھا، خدا نے اسے موجود کیا”۔ یہاں “عالم نہ تھا” جملے میں عالم کا عدم بیان کیا جا رہا ہے، نہ کہ عدم کا کوئی زمانی ظرف (time        interval)۔ لہذا اس جملے کی صداقت کے لئے کسی زمانے کا تحقق لازم نہیں بلکہ صرف عالم کا خارج میں نہ ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک وجودی حکم ہے نہ کہ زمانی۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں: “جل پری یا یونیکورن (Unicorn) موجود نہیں” یا “شریک باری موجود نہیں”۔ ان جملوں کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی زمانہ ایسا ہے یا تھا جس میں جل پری، یونیکورن یا شریک باری موجود نہیں، بلکہ صرف یہ ہے کہ خارج میں اس کا وجود نہیں۔ یہ وجود کی نفی کا حکم ہے، نہ کہ کسی زمانی ظرف کی خبر۔ لہذا اس کے صدق کے لیے زمانے کا تحقق شرط نہیں کیونکہ ہر نفی زمانی نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب یہ کہا جاتا ہے کہ “عالم نہ تھا اور خدا تھا” تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ “خدا عالم سے ماورا، اس کے بغیر بھی موجود تھا” (جیسے وہ اب بھی عالم سے ماورا موجود ہے، البتہ اب عالم بھی موجود ہے)، نہ یہ کہ “خدا کسی زمانے میں موجود تھا یا ہے”۔ کسی شے پر دائر ہونے والے وجود و عدم کے حکم کو زمانے سے متعلق قرار دینے کے لیے الگ دلیل درکار ہے۔

ابن سینا اور ان کے متبعین کو مزید آسان جواب یہ ہے کہ ابن سینا کے مطابق زمانہ مادی شے کی حرکت کا پیمانہ ہے۔ چنانچہ بات آسان ہے: جب مادہ نہ ہو تو حرکت نہیں، اور حرکت نہ ہو تو زمانہ نہیں، تو پہلی حرکت سے پہلے زمانہ کہاں سے آیا جس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے؟ پہلا حادث (یا مخلوق) حرکت سے عبارت نہیں، کیونکہ یہاں نہ کوئی سابق جسم یا موضوع (substrate) ہے جس میں حرکت واقع ہو اور نہ کوئی انتقال، بلکہ یہ عدم سے وجود ہے اور زمانے کی ابتدا اس کے ساتھ ہے، فافہم۔ اب تو جدید طبیعیات میں بھی غالب رجحان یہی ہے کہ زمانے کو مادہ و توانائی سے جدا سمجھنا آسان نہیں، لہذا اب زمانے کو ایک مستقل ظرف (container) ماننے کا تصور پہلے سے بھی مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے جواب میں ان حضرات کے پاس کہنے کے لئے اس کے سوا کچھ نہیں کہ ذہن پہلی مخلوق یا پہلے حادث سے قبل بھی زمانہ سوچتا ہے۔ تاہم ذھن کا کسی چیز کو سوچنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ خارج میں موجود بھی ہے۔ جب قطعی دلیل بتا رہی ہے کہ پہلے حادث سے قبل خارج میں زمانے کا وجود ممکن نہیں تو محض ایسی سوچ کوئی لائق التفات دلیل نہیں۔

دلیل عقلی کی رو سے بات یوں ہے کہ:

* خدا کو ہم نے جس دلیل سے پہچانا اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ خدا میں مخلوق کی صفت نہ ہو،

• مکانی و زمانی ہونا مخلوق کی صفت ہے،

* پس خدا کا عالم پر تقدم زمانی و مکانی نہیں (بلکہ وجودی ہے)۔

نیز مسلم فلاسفہ یہ بات از خود مانتے ہیں کہ خدا کا عالم پر تقدم زمانی نہیں۔ اب اگر کوئی کہے کہ وہ ایسے موجود کا تخیل نہیں کر پارہا تو ہم کہیں گے کہ کسی شے کا وجود آپ کے تخیل کا محتاج نہیں ہے بلکہ کسی وجود کا علم صحیح دلیل پر موقوف ہے۔

درج بالا گفتگو اس مفروضے پر ہے کہ زمانے کا کوئی خارجی وجود ہے۔ جن متکلمین کے ہاں از خود زمانے کا خارج میں تحقق نہیں بلکہ یہ ایک حادث کی دوسرے حادث کے ساتھ تمیز و ترتیب قائم کرنے کی خاص نسبت ہے، ان کے ہاں عالم کے وجود سے قبل زمانے کی یہ بحث لغو ہے۔ ایسا اس لئے کہ جن حوادث کے مابین نسبت کا نام زمان ہے جب وہ حوادث ہی نہیں تو اس نسبت کا کوئی معنی نہیں۔ تاہم یہاں ہم گفتگو اس طرف نہیں لے جانا چاہتے۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں