Home » مصنف کی موت
فلسفہ

مصنف کی موت

عمران شاہد بھنڈر
مصنف صرف موضوع کے انتخاب پر قادر ہے۔ متن میں موجود معنی کی تعیین اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ متن انسانی ہو یا الوہی، معنی کی وحدت نہیں، کثرت معنی اس کا مقدر ہے۔ ایسے میں مصنف کی منشا کیا تھی؟ یہ سوال ہی پس پشت چلا جاتا ہے۔ وجہ یہ کہ متن زبان میں تحریر ہوتا ہے۔ زبان میں معنی کی تخلیق زبان کے داخلی رشتوں کی پابند ہوتی ہے۔ ایک بڑا نقاد زبان کی بنیاد پر متن کے داخلی رشتوں پر گہری نظر رکھتا ہے۔ وہ بڑی حد تک موضوعی تعصبات سے دور ہوتا ہے۔ تاہم متن کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی قرات متن کے حقیقی داخلی مفاہیم کو معطل کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “الوہی” یا “غیر الوہی متون” وہ معنی متعین کرنے سے قاصر رہتے ہیں جو اس کے مصنف کی منشا ہوتی ہے۔
متن کی قرات خواہ متن کی “مرکزیت” پر قائم کی جائے، یا قرات کی بنیاد قاری کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور فرقہ وارانہ حیثیت ہو، ہر دو صورتوں میں مصنف خواہ “خدا” ہو یا انسان لامرکز ہو جاتے ہیں۔
الوہی متون کی عقلی قرات سے تقلیب کا جو عمل طے پایا اس میں تاریخی سچ کے طور پر خدا کے تصور کی ڈی کنسٹرکشن ہو گئی۔ خدا کی جگہ انسان (مصنف) نے لے لی۔ مصنف کی دو طرح سے ڈی کنسٹرکشن ہوئی: ایک کی بنیاد متن کی “سائنسی” قرات تھی، دوسرا مخصوص سیاق میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے قارئین نے کی۔ الوہی متون میں خدا کی متن پر قدرت کے تصور کو مفسرین، متکلمین، مجددین نے رخصت کر دیا۔ مثال کے طور پر اگر الوہی متن کی سینکڑوں تعبیرات ہیں تو ان میں خدا کی منشا کیا تھی، یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔ ایک ہی بات کی ہزاروں تاویلات اس بات کا مظہر ہیں کہ خدا کو اس کے متعین کردہ معنی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ یہی کچھ بعد ازاں انسانی مصنف کے ساتھ ہوا۔ اسی کو “خدا کی موت” اور بعد ازاں “مصنف کی موت” کہا گیا ہے۔ دونوں کا جوہر یہ ہے کہ مصنفین معنی پر قادر نہیں ہیں، اور یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے۔ قدیم الوہی اور غیر الوہی کتابوں کی جدید قرات مصنفین کو مزید غیر متعلق کر دیتی ہے، وجہ یہ کہ معنی گزشتہ متعینات سے یکسر مختلف ہو جاتا یے۔ کیا یہی مصنف کا مطمع نظر تھا؟ جواب نفی میں ہے!

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں