پہلے ایک تصحیح ضروری ہے۔ اس سے پہلی تحریر میں 1870ء کی دہائی میں امریکی سپریم کورٹ کے چند نظائر کا حوالہ آیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے بینک کی رسیدوں کو پہلے مال ماننے سے انکار کیا اور بعد میں انھیں مال قرار دیا۔ تصحیح یہ کرنی ہے کہ یہ فیصلے بینک کی رسیدوں کے متعلق نہیں، بلکہ سرکاری خزانے کی جاری کردہ رسیدوں (green backs) کے متعلق تھے اور بینکاروں کا اعتراض یہ تھا کہ اس طرح تو ہماری رسیدوں کی حیثیت ختم ہوجائے گی۔ بینکاروں کے ان تحفظات کے جواب میں کئی مرحلوں میں تفصیلی قانون سازی ہوئی اور آخر میں نتیجہ وہی نکلا جو ہم نے پاکستان کے تناظر میں ذکر کیا تھا، کہ بینک دیگر قابلِ انتقال وثیقہ جات تو جاری کرسکتے ہیں، لیکن ’حاملِ ہذا کو مطالبے پر ادائیگی کے وعدے کی دستاویز‘ جاری کرنے کا اختیار سرکار نے اپنے لیے محفوظ کرلیا۔
اس مثال سے معلوم ہوا کہ انیسویں صدی کے نصف آخر سےدنیا کے مختلف ممالک میں ’زرِ اعتباری‘ (fiat money) کی قبولیت کی وجہ ’عرف‘ یا ’رواج‘ نہیں تھا، بلکہ اس کا حقیقی سبب وہ ریاستی جبر تھا جس نے متعدد قوانین اور عدالتی نظائر کے ذریعے لوگوں کو اس پر مجبور کیا کہ وہ اس فرضی زر کو بطورِ مال قبول کرلیں۔ لوگوں کے پاس اس فرضی زر کو حقیقی زر کے طور پر قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس لیے اگر اس فرضی زر کی مالیت کے لیے کوئی عرف ورواج سے استدلال کرتا ہے، تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ عرف و رواج قانونی و عدالتی جبر کے ذریعے مصنوعی طور پر پیدا کیا گیا ہے، اور اسی لیے جیسے یہ جبر ختم ہوجاتا ہے، کاغذ کا یہ پرزہ محض کاغذ کا پرزہ ہی رہ جاتا ہے، زر نہیں رہتا۔ مثلاً پانچ روپے کا نوٹ اب زر نہیں ہے، محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے، اور اس کو زر منوانے والے ریاستی جبر کے خاتمے کے ساتھ ہی اس کو زر ماننے کا عرف ورواج بھی ختم ہوگیا ہے۔
یہ حقیقت واضح ہوگئی ہو، تو اس سوال پر بحث بھی آسان ہوجاتی ہے کہ بینک اکاؤنٹ میں رکھی گئی ’رقم‘ بھی تو ’محض اعداد‘ ہوتے ہیں، اور جب ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں ’رقم‘ منتقل کی جاتی ہے، تو یہاں سے کچھ ’اعداد‘ کم ہوجاتے، اور وہاں کچھ ’اعداد‘ بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ہے، لیکن یہ سوال کرنے والے یہ بنیادی حقیقت نظر انداز کردیتے ہیں کہ بینک اکاؤنٹ میں ’رقم‘ کی نشان دہی کرنے والے یہ ’اعداد‘ دراصل اسی فرضی زر کی نمائندگی کرتے ہیں جسے ریاستی جبر کے ذریعے زر منوایا گیا ہے۔ اس لیے جب اس زر کے پیچھے موجود ریاستی جبر ختم ہوجائے، تو ان اعداد کی مالیت بھی ختم ہوجاتی ہے اور یہ خالی خولی اعداد رہ جاتے ہیں۔
مثلاً 1860ء کی دہائی میں خانہ جنگی کے دوران میں جن امریکی جنوبی ریاستوں نے وفاق کے خلاف نیم وفاقیہ (confederation) کی تشکیل کی، انھوں نے اپنا زر بھی جاری کیا تھا جسے confederate dollar کہتے تھے۔ جنوبی ریاستوں کے باشندوں نے اس زر کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرایا۔ جب 1865ء میں جنوبی ریاستوں کو شکست ہوئی، تو وفاقی حکومت نے اپنا تسلط واپس جما لینے کے بعد اس زر کو وفاقی ڈالر میں تبدیل کرنے کے بجائے یکسر باطل قرار دیا، اور بینکوں میں موجود تمام ’نیم وفاقی ڈالروں‘ کی مالیت صفر ہوگئی۔ چنانچہ ان بینکوں کے اکاؤنٹ میں موجود ’اعداد‘ کی حیثیت محض اعداد ہی کی رہ گئی! ایک اور مثال دوسری جنگِ عظیم کے بعد مغربی جرمنی کی ہے جس نے ہٹلر کے جاری کردہ زر )ریکس مارک) کو اپنے زر (ڈوئچے مارک) سے تبدیل کرنے کی پالیسی اپنائی، لیکن وہ پالیسی ایسی ظالمانہ تھی کہ سابق زر کے 100 کو نئے زر کے تقریباً 7 کے برابر کردیا۔ چنانچہ اعداد وہی رہے، لیکن ان کی مالیت میں 93 فی صد کمی آئی۔ ماضی قریب میں سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد نئے روس میں لوگوں کے بینکوں کے اکاؤنٹ سے پرانے روبل نکالنے سے قبل ہی ان کی مالیت تقریباً صفر ہوگئی، یعنی اعداد باقی رہے، لیکن ان کی مالیت ختم ہوگئی کیونکہ ان اعداد کے پیچھے ریاستی جبر ختم ہوگیا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مالیت یا زر کی حیثیت کو صرف عرف و رواج کا نتیجہ ماننے کا سادہ موقف یکسر غلط ہے کیونکہ یہ موقف مالیت کے حقیقی عامل، یعنی اس ریاستی جبر کو نظر انداز کردیتا ہے جو قانونی دفعات اور عدالتی نظائر کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔
بعض لوگوں نے کرپٹو کو مال ماننے کے لیے بھی عرف و رواج سے استدلال کی کوشش کی ہے اور اس ضمن میں علامہ ابن عابدین شامی کی عبارت کا حوالہ دیا ہے کہ مال وہ ہے جسے لوگ مال سمجھتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ حوالہ پیش کرنے والوں میں وہ بھی شامل ہیں جو دن رات اسلامی قانون کا مطالعہ کرتے ہیں، پھر بھی وہ یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ لوگوں کے ماننے سے ہر چیز مال نہیں بن جاتی کیونکہ شریعت نے بعض چیزوں (مثلاً خنزیر) کی مالیت کی نفی کی ہے اور خواہ ساری دنیا اس کی مالیت پر متفق ہوجائے وہ چیز مال نہیں بن سکتی۔ فقہ اور قانون کے طلبہ کے لیے یہ اصول واضح ہے کہ بعض اوقات کسی فقہی یا قانونی عبارت میں کوئی بات مطلق بیان ہوئی ہوتی ہے، لیکن دوسرے مقامات پر بیان شدہ اصولوں کی روشنی میں وہ بات مقیّد ہوتی ہے اور یہ قیود اور شرائط فقہ و قانون کے ماہرین کے لیے واضح ہوتی ہیں۔ چنانچہ علامہ شامی کی اس عبارت میں بھی یہ قید موجود ہے کہ مال وہ ہے جسے لوگ مال سمجھیں، بشرطیکہ اسے مال سمجھنے سے شریعت کے کسی اصول کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔
شریعت کے یہ اصول سمجھنے کا ایک دائرہ یہ ہے کہ ان چیزوں کو بھی دیکھا جائے جنھیں قرآن و حدیث میں مال قرار دیا گیا ہے اور انھیں بھی جن کی مالیت کی نفی کی گئی ہے، پھر غور کیا جائے کہ کیوں ان چیزوں کو مال مانا گیا ہے اور کیوں ان دوسری چیزوں کی مالیت کی نفی کی گئی ہے؟ دوسرا دائرہ یہ ہے کہ ان شرائط پر غور کیا جائے جو کسی چیز کو مال مان چکنے کے بعد اس میں تصرف اور تعامل کے لیے عائد کی گئی ہیں۔ مثلاً سونے اور چاندی کے تبادلے کے لیے احادیث میں پوری صراحت کے ساتھ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ یہ تبادلہ ایک ہی مجلس میں ہو۔ یہ احادیث اسلامی قانون میں ’ثمن‘ اور ’عقدِ صرف‘ (currency exchange) کے تصورات کی بنیاد ہیں۔ اسی طرح کئی نصوص میں مال کے تبادلے کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ معاہدہ کرتے وقت وہ ’موجود‘ اور ’قابلِ تسلیم‘ (deliverable) ہو۔ کب کسی چیز کو ’موجود‘ اور ’قابلِ تسلیم‘ مانا جائے گا، ’قبضہ‘ کیا ہوتا ہے اور کیسے منتقل ہوتا ہے، یہ بھی شرعی اصولوں سے ہی طے ہوتا ہے۔
بہت ساری نصوص میں مذکور مسائل اور ان کی شرائط سے اسلامی قانون کے عمومی اصول (general principles) معلوم ہوتے ہیں، اور پھر ان عمومی اصولوں سے مال یا زر کا تصور وجود میں آتا ہے۔ مزید تفصیل آئندہ، ان شاء اللہ




کمنت کیجے