Home » انقلاب ایران اور ڈنڈا بردار نفاذ اسلام کے چند عملی مظاہر
تاریخ / جغرافیہ تہذیبی مطالعات سیاست واقتصاد

انقلاب ایران اور ڈنڈا بردار نفاذ اسلام کے چند عملی مظاہر

ڈاکٹر حسن الامین 
میرے ایرانی دوست (حالیہ مقیم امریکہ) محمد ماشین چیان کی ایک طبع شدہ تحقیق کا اردو زبان میں ترجمہ کررہا ہوں۔ افادہ عام کے لئے اس ترجمے کے کچھ حصے اپ کے ساتھ شیئر کررہا ہوں جس سے اپ کو اندازہ ہوگا کہ اپنے فہم دین کو جب بھی انقلاب اور ڈنڈے کے زور سے نافذ کیا جائے گا اس کے نہ صرف یہ کہ بھیانک نتائج نکلیں گے بلکہ اس کے زیر اثر معاشرہ منافقت اور کھوکھلا پن کا شکار ہوگا۔
انقلاب سے پہلے خمینی نے جب شاہ ایران کے مقابلے میں علماء کو طاقت اور اقتدار سے محروم دیکھا تو ان کو موبیلائیز کرنے کی کوشش کی جس کی معتبر شیعہ علما اور اس وقت کے ایت اللہ العظمی نے شدید مخالفت کی۔ مثلا دوراندیش آیت اللہ بروجردی کا اعلانیہ جواب درج ذیل تھا:
“شاہ لوگوں کو بندوقوں اور توپوں سے دباتا ہے۔ جبر کی اس شکل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ ان کی (شاہ کی) کی جگہ لے لیں گے، تو آپ کا ہتھیار لوگوں کے عقیدے اور ایمانیات ہوں گے اور یہ ایسا ہتھیار ہے جس کے خلاف مزاحمت اتنی آسان نہیں، اور اس عمل میں، دین خود یرغمال بن جائے گا۔”
“آیت اللہ بروجردی کے جانشین، آیت اللہ ابوالقاسم خوئی (۱۸۹۹–۱۹۹۲ء)، نے سیاست میں سکوت کی روایت برقرار رکھی اور خمینی کے ولایت فقیہ کے نظریے کو رد کیا۔ ان کے سب سے نامور شاگرد، علی السیستانی، جو بعد میں آیت اللہ اعظم بنے اور عراق میں شیعہ کمیونٹی کے روحانی رہنما بنے، نے بھی یہ موقف اپنایا کہ ایک فقیہ کے فیصلے اسلامی حکومت کی بنیاد نہیں بن سکتے۔
تاہم، بروجردی کی وفات کے بعد، خمینی کے انقلابی نظریہ کو تقویت ملنے لگی اور۱۹۷۰ کی دہائی تک اس سوچ نے ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ شاہ کی حکومت کو گرانے کے بعد جب خمینی نے ۱۹۷۹ء کے انقلاب کے بعد اقتدار سنبھالا، تو انہوں نے وہی نظام نافذ کیا جس کے بارے میں بروجردی کو خدشہ تھا۔ بازاریوں پر مالی انحصار کی پابندی سے آزاد ہو کر، خمینی کے ساتھیوں نے ریاست کے وسیع خزانوں پر قبضہ کر لیا، جسے ۱۹۸۰ کی دہائی کے اوائل میں بڑھتی ہوئی تیل کی آمدنی نے مزید تقویت دی۔ انقلاب ایران سے پہلے کے آیت اللہ کے برعکس، جنہیں اپنے فتاوے اور پیروکاروں کے مفادات کے درمیان نازک توازن برقرار رکھنا پڑتا تھا، خمینی ایسی کسی فکر سے بالکل آزاد تھے۔ انہوں نے مدارس اور نجی عطیہ دہندگان کے درمیان روایتی رشتہ توڑ کر مذہبی اداروں کو براہ راست سرکاری بجٹ میں شامل کر دیا۔ ریاستی پشت پناہی سے مدرسے اور وسیع مذہبی فاؤنڈیشنز، جنہیں بنیاد کہتے ہیں، ابھرے، ہر “بنیاد” شیعہ اسلام کی بلاشرکت غیرے انقلابی تشریح کو فروغ دینے کے لیے مختص تھا۔ نتیجتا آنے والی دہائیوں میں، مذہبی اداروں کی فنڈنگ اسمان کی بلندیوں کو چھونے لگی، اور اس کی وجہ سے دیگر معاصر مکاتب فکر نیست و نابود ہوگئے۔ علماء بشمول آیت اللہ کی بقا کا واحد راستہ سپریم لیڈرکی رضامندی اور تائید تھا۔ جن کا انحصار اب سرکاری سرپرستی پر تھا۔”
انقلاب ایران کے بعد، “اسلام کوادارتی طور پر ریاستی سرپرستی اور کنٹرول میں لانے کے بعد، امام خمینی نے اگلی نسل کو اپنے مذہبی نظریے کے وفادار پیروکاروں اور سپاہیوں کی شکل دینے کی کوشش کی۔ اسلامی جمہوریہ نے، ایک نہایت نوجوان آبادی پر حکومت کرتے ہوئے، اسکولوں کو ذہن سازی کے مراکز میں تبدیل کر دیا۔ مصنف (یعنی محمد ماشین) سمیت لاکھوں ایرانی نوجوان ایک ایسے نظام میں پلے بڑھے جو آزادانہ سوچ کو ختم کرنے اور اس کی جگہ فرمانبرداری کو پروان چڑھانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ نظری طور پر یہ فرمانبرداری خدا کی تھی، لیکن عملاً یہ زمین پر خدا کے نائب رہبراعلیٰ کی اطاعت تھی۔ لازمی ملک گیر ریلیوں کے ذریعے سے لوگوں کو یہ مشق کروائی گئی کہ وہ “خدا کے دشمنوں” یا ریاست کے دشمنوں کے خلاف نعرے لگائیں، جہاں ان دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ عوامی مظاہروں نے جبری رسومات کی شکل اختیار کی، جن میں خاموش رہنا کوئی آپشن نہیں تھا اور ظاہری جوش و خروش ہی خود کو بچانے کا واحد ذریعہ تھا۔”
“اپنے معاشرے میں اپنے پرھیزگاری اور پاکیزگی کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے، اسلامی جمہوریہ نے ایک وسیع نافذ کرنے والا ڈھانچہ بھی کھڑا کیا۔ ۱۹۸۰ کی دہائی میں، انقلابی کمیٹیوں (کمیته) اور گشت ارشاد (اخلاقی پولیس) نے ایرانی شہروں کی گلیوں پر گشت کرنا شروع کر دیا۔ یہ غیر اسلامی حرکتوں پر نظر رکھتے، جیسے کہ نامناسب لباس، مردوزن کے مخلوط میل جول اور شراب نوشی۔ اسی طرح، جن خواتین کے ڈھیلے اسکارف یا بال نظر آتے، یا وہ رنگین لباس اور میک اپ میں نظر آتیں تو ان کو ہراساں کیے جانے یا گرفتار ہونے کا خطرہ ہوتا۔ بالکل اسی طرح، مردوں کو “مغربی” ہیر اسٹائل رکنے یا بے حیائی والے لباس پر سزا دی جا سکتی تھی۔ ان انقلابی ثقافتی پاسداران نے موسیقی اور تفریح پر بھی کڑی نظر رکھی، مثلا، ایسے کیفے بند کر دیے گئے جہاں غیر محرم مرد و خواتین ملتے تھے، “فحش” موسیقی کی کیسٹیں ضبط کی گئیں، اور فیشن والی جینز پر پابندی لگا دی گئی۔ ساحل اور بسیں جنس کی بنیاد پر الگ کر دی گئیں۔ روزمرہ زندگی، اسکول سے لے کر کام کی جگہ تک، خود کو خدا کا نائب کہنے والوں کی سخت نظر میں آ گئی۔”
میرے ایرانی دوست (حالیہ مقیم امریکہ) محمد ماشین چیان کی ایک طبع شدہ تحقیق کا اردو زبان میں ترجمہ کررہا ہوں۔ افادہ عام کے لئے اس ترجمے کے کچھ حصے اپ کے ساتھ شیئر کررہا ہوں (بیک گراونڈ سمجھنے کے لئے پہلے پوسٹ نمبر 1 پڑھ لیں۔)
“تاہم، اس سب کچھ کا نتیجہ خمینی کی سوچ کے بالکل برعکس نکلا۔ عقیدہ و ایمان، جو کبھی ایران میں رضاکارانہ عقیدت اظہار تھا، جبر کے ساتھ خلط ملط ہوگیا اور اس کا اخلاقی و روحانی جوہر چھین لیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اسلام کو سیاسی مصلحت کا آلہ بنا دیا گیا، اس کی مقدس علامات کو روح کی نجات کے بجائے ریاست کی بقاء کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ دہائیوں پر محیط جبر اور زبردستی کی تعمیل نے مذہب کے ساتھ گہری وابستگی کو فروغ دینے کے بجائے کینہ پروری، مایوسی اور خاموش بغاوت کو جنم دیا۔ بروجردی کی پیش گوئی کے مطابق، جب مذہب ریاست کا ہتھیار بن جائے، تو سب سے زیادہ نقصان مذہب کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ اج ایران میں اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے اور اس کا موجب بیرونی عناصر یا سیکولر قوتیں نہیں ہیں بلکہ اس مذہب کی حفاظت کے دعویدار ہیں۔ “
“اقتدار میں آنے کے فورا بعد امام خمینی نے اسلامی اقدار کے اپنے فہم کو ریاستی سطح پر نافذ کرنا شروع کیا۔ کیونکہ ان کی نظر میں ان کے برپا کردہ انقلاب کا مقصد صرف بادشاہت کو گرانا نہیں تھا بلکہ ایرانی معاشرے کو اوپر سے از سر نو اسلامی بنانا یا اسلامائیز کرنا تھا۔ اس لئے نئی حکومت نے اتے ہی مذہبی اقدار کو قانونی شکل دینے جلدی سے اغاز کیا۔ انقلاب کے فوراً بعد دفاتر کے اسلامیانے کا عمل شروع ہو گیا، بے پردہ خواتین کو سرکاری ملازمتوں اور عوامی عمارتوں میں داخل ہونے سے منع کر دیا گیا۔ ۱۹۸۳ء میں، پارلیمنٹ نے باضابطہ طور پر ایران کے قوانین میں ترمیم کر کے تمام خواتین کے لیے عوامی مقامات پر اسلامی لباس پہننا لازمی قرار دے دیا۔ ان ترامیم کے بعد، بغیر پردے کے باہر نکلنا قابل سزا جرم بن گیا۔ اس پردے میں سر ڈھانپنا اور ایک لمبا اوور کوٹ پہننا شامل تھا۔ نئے تعزیری قانون کے آرٹیکل ۶۳۸ کے تحت، پبلک مقامات پر برسر عام گناہوں اور بے حیائی کو مجرمانہ قرار دیا گیا، عائد کردہ لباس کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین جرمانہ، قید یا ۷۴ کوڑوں تک کی سزا کی موجب قرار دی جا سکتی تھی۔ نتیجتا حجاب ذاتی مذہبی انتخاب نہیں رہا بلکہ یہ اسلامی جمہوریہ کا چلتا پھرتا پرچم بن گیا۔ یہ گویا ایک سیاسی ہتھیار تھا جو حکومت کی اخلاقی اتھارٹی ثابت کرنے کے لیے استعمال ہونے لگا۔”
“اسلامی جمہوریہ کی ایک نمایاں پالیسی گزینش (انتخاب) کا نظام تھا، جو ۱۹۸۵ء میں متعارف ہوا۔ اس پالیسی کے ذریعے سے اعلیٰ تعلیم اور سرکاری ملازمت تک رسائی کے لیے سخت نظریاتی جانچ لاگو کی گئی۔ یونیورسٹیوں، سرکاری ملازمتوں یا حتیٰ کہ بعض نجی عہدوں کے لیے امیدواروں کو اسلامی جمہوریہ سے وفاداری اور اسلام (یعنی عملاً حکمران اشرافیہ کے اثنا عشری شیعہ مسلک) کی پیروی کا ثبوت دینا پڑتا تھا۔ بین الاقوامی مبصرین نے گزینش نظام کو انسانی حقوق کے اقوام متحدہ کے عالمی اعلامیے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ یہ بنیادی شہری حقوق کو مذہب اور سیاسی وفاداری سے مشروط کرتا ہے۔ اس کے بعد اقوامِ متحدہ نے بارہا ایران پر زور دیا کہ وہ ان امتیازی سلوک پر مبنی معیارات کو ختم کرے، مگر اس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ انقلابی قیادت کے نزدیک نظریاتی پاکیزگی کوئی خامی نہیں بلکہ نظام کی ایک بنیادی خصوصیت تھی۔ اس ذریعے سے یہ یقینی بنانا تھا کہ ملکی اشرافیہ طبقہ اسلامی نظام سے اپنی وابستگی اور وفاداری برقرار کئے رکھے۔ “
“1989 میں آیت اللہ خمینی کے انتقال کے وقت، اسلامی جمہوریہ ایران میں سماجی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو، کم از کم ظاہری طور پر، اسلام سے مالامال کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔ جوں جوں ایک نئی نسل اسلامی نظام کے تحت پروان چڑھنے لگی، یہ حقیقت نمایاں ہوتی گئی کہ جبری پرہیزگاری ایک غیر ارادی ردعمل پیدا کررہی ہے۔ ریاست کی سخت اسلامائیزیشن نے مذہب کے ساتھ گہری وابستگی کو فروغ دینے کی بجائے معاشرے کی جڑوں میں اسلام کو ڈی اسلامائیز کرنا شروع کر دیا۔ عوامی سطح پر مذہبی شعائر کی ادائیگی اکثر محض ایک رسمی کارروائی محسوس ہوتی تھی۔ لوگ محض ممکنہ مشکلات اور ریاستی بازپرس سے بچنے کے لیے وہ کچھ انجام دیتے جو ان سے مطلوب ہوتا، اور پھر اپنی نجی زندگی اور ذاتی مصروفیات میں واپس لوٹ جاتے تھے۔ نتیجتاً نمازوں اور مساجد کی مذہبی سرگرمیوں میں شرکت، خصوصاً نوجوانوں کے درمیان، بتدریج کم ہونے لگی۔ کچھ لوگوں نے تو ظاہر ہے اخلاص کے ساتھ اسلام پر عمل جاری رکھا، لیکن ایک بڑی تعداد نے اگر مکمل ناراضگی نہیں تو کم اندرونی عقیدت کے ساتھ صرف ریاست کی ضروریات پوری کیں۔ سماجی علوم کے ماہرین اسے “اندرونی سیکولرائزیشن” کہتے ہیں۔”
“ایرانی معاشرے میں مذہب سے وسیع پیمانے پر یہ بے تعلقی ان غیر ملکی مسافروں کے لیے حیران کن تھی جو یہاں تقوی اور پرہیزگاری دیکھنے کی توقع رکھتے تھے۔ ان میں سے ایک، ممتاز ماہر سماجیات امیتائی ایٹزیونی، ۲۰۰۰ کی دہائی کے اوائل میں ایران کے سفر کے دوران یہ مشاہدات بیان کئے:
“میں نے جتنے بھی مسلم شہروں کا سفر کیا تھا، ان میں تہران ایسا شہر تھا جہاں اذان کی صدائیں سب سے کم سنائی دیتی تھیں۔ مقررہ اوقاتِ نماز میں کئی مساجد تقریباً خالی ہوتی تھیں، جبکہ بعض کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ چنانچہ تہران کی ایک مسجد تو اب ایک سیاسی جماعت کے انتخابی ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ میرے ایرانی ساتھیوں نے بھی، اور روزمرہ کے مشاہدات نے بھی، اس امر کی تائید کی کہ ایرانی نوجوانوں کی بھاری اکثریت، جبکہ ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی تیس برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، نہ رمضان کے روزے رکھتی ہے اور نہ ہی یومیہ پانچ وقت کی فرض نمازوں کی پابندی کرتی ہے۔ … اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ ایرانی عوام پر مذہب کا اثر و رسوخ بتدریج کمزور پڑتا جا رہا ہے۔”
” ۲۰۱۹ء میں تہران کا سفر کرنے والے ایک برطانوی صحافی نکولس پیلہم نے بھی حکومت کی مذہبی ٹھاٹھ باٹھ اور زمینی حقائق کے درمیان موجود تضاد کے بارے میں حیرانگی کا اظہار کیا: “تہران شاید مشرق وسطیٰ کا ایسا دارالحکومت ہے جہاں مذہب کم سے کم ہے۔ علما خبروں کی سرخیوں پر چھائے رہتے ہیں اور ٹیلی وژن ڈراموں میں بزرگوں کا کردار بھی عموماً انہی کے سپرد ہوتا ہے، لیکن اشتہاری بورڈوں کے سوا میں نے انہیں کبھی سڑکوں پر نمایاں طور پر موجود نہیں دیکھا۔ دیگر مسلم ممالک کے برعکس اذان تقریباً ناقابل سماعت ہے، اور شراب پر پابندی کے باوجود شراب کی گھر تک ترسیل پیزا کی ڈیلیوری سے بھی تیز ہے۔”
پیلہم کے اس جاندار بیان کردہ حقیقت کی عکاسی وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتی گئی:
لازمی مذہبیت کے چار عشروں کے بعد ایرانی معاشرہ، بہت سے پہلوؤں سے، ظاہری مذہبی وابستگی کے اعتبار سے اس قدر مذہبی نہیں رہا جتنا وہ نسبتاً آزاد ماحول والے 1970ء کی دہائی میں تھا۔”
” ایرانی عوام کے بارے میں کیے گئے سروے بھی اس رجحان کی تائید کرتے ہیں۔ 2020ء میں ایک غیرجانبدار تحقیقاتی ادارے گمان کی جانب سے کیے گئے ایک اہم آن لائن سروے نے ایک نہایت چونکا دینے والی صورتِ حال آشکار کی۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اگرچہ 90 فیصد سے زیادہ ایرانی اپنی شناخت مسلمان کے طور پر ظاہر کرتے تھے، لیکن اس خفیہ سروے میں صرف تقریباً 40 فیصد شرکاء نے خود کو مسلمان قرار دیا، جبکہ 47 فیصد نے بتایا کہ وہ غیر مذہبی ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، تقریباً ایک تہائی سے بھی کم جواب دہندگان نے اپنی شناخت شیعہ مسلمان کے طور پر کی، جبکہ اکثریت نے خود کو روحانیت پسند، لاادری (Agnostic)، ملحد، یا دیگر مذاہب کا پیروکار قرار دیا۔”
” اس خاموش سیکولرائزیشن کا ایک نمایاں مظہر یہ ہے کہ جب ایرانیوں کو ریاستی نگرانی اور قانون کے نفاذ سے بچ نکلنے کا موقع ملتا ہے تو وہ حجاب اور دیگر مذہبی ضابطوں کے ساتھ کس قدر مختلف طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں۔ 2000ء کی دہائی میں شمالی تہران جیسے نسبتاً جدید اور کاسموپولیٹن علاقوں میں یہ ایک عام منظر بن گیا تھا کہ خواتین لباس کے سرکاری ضابطوں کی حدود کو مسلسل چیلنج کررہی ہیں۔ وہ شوخ رنگوں کے اسکارف ڈھیلے انداز میں سر کے پچھلے حصے پر اوڑھتی تھیں، اپنے بال جان بوجھ کر نمایاں رکھتی تھیں، یا مانتو(خواتین کا لمبا اوورکوٹ) کو مختصر کرکے گھٹنوں تک پہننے لگتی تھیں۔ نجی محفلوں میں بہت سی خواتین اپنا حجاب مکمل طور پر اتار دیتی تھیں۔ کیفے اور آرٹ گیلریاں غیر رسمی پناہ گاہوں میں تبدیل ہو گئی تھیں، جہاں پولیس کی غیر موجودگی کا یقین ہوتے ہی لازمی اسکارف کندھوں تک سرک جاتے تھے۔ زیادہ جرات مند خواتین تو سر کھلا رکھ کر سڑکوں پر چلتی تھیں، حالانکہ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ اس کے نتیجے میں انہیں پولیس کی مداخلت، حراست یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔”
” یہ مایوسی صرف بے تعلقی یا خاموش بغاوت میں ظاہر نہیں ہوئی بلکہ بہت سے ایرانیوں نے فعال طور پر ریاستی مذہب سے منہ موڑ کر دوسرے عقائد اختیار کیے۔ پچھلی چند دہائیوں کے سب سے قابل ذکر سماجی رجحانات میں سے ایک ایران کے اندر اور سمندرپار دونوں میں عیسائی مذہب اختیار کرنے اور برملا الحاد کا عروج رہا ہے۔ ایران کی زیر زمین عیسائی کمیونٹی کو مشنری تنظیموں نے بار بار “دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھنے والی” کمیونٹی قرار دیا ہے۔ ۲۰۱۵ء کی مردم شماری نے ۲۰۱۰ء تک تقریباً ایک لاکھ ایرانی مسلمان عیسائی ہونے کا اندازہ لگایا ۔ جبکہ۲۰۲۰ء کے کچھ نئے تخمینوں کے مطابق تین سے پانچ لاکھ تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق کرنا آسان نہیں، کیونکہ اس نوعیت کی تبدیلیٔ مذہب عموماً نہایت خفیہ انداز میں ہوتی ہے۔ تاہم مجموعی رجحان واضح اور ناقابلِ انکار دکھائی دیتا ہے۔ مسیحیت اختیار کرنے والے ان افراد میں سے بہت سے اپنی مذہبی عبادات اور سرگرمیاں گھریلو چرچز میں ادا کرتے ہیں جن کے اجتماعات گھروں کے ڈرائنگ روموں میں فارسی زبان میں دعا، عبادت اور بائبل کے مطالعے کے لیے منعقد ہوتے ہیں۔ دیگر افراد ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک ہجرت کرکے مختلف کلیسیاؤں سے وابستگی اختیار کرچکے ہے۔”
“اسی طرح، اپنے آپ کو برملا ملحد یا لاادری قرار دینے والے ایرانیوں کی تعداد (ملک کے اندر بھی اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ایرانیوں میں بھی) نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ ایرانی سوشل میڈیا، جو بڑی حد تک بیرونِ ملک سے چلایا جاتا ہے، پر غیر مذہبی ایرانیوں کے مختلف حلقے اس بات پر گفتگو کرتے ہیں کہ انہوں نے مذہب کیوں اور کیسے ترک کیا، اور بے باک ملحد مفکرین کے افکار اور مواد بھی ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں۔ ایران کے اندر اگرچہ الحاد کا علانیہ اظہار خطرات سے خالی نہیں، لیکن نجی محفلوں میں تعلیم یافتہ ایرانیوں سے یہ سننا غیر معمولی بات نہیں کہ وہ ان مذہبی عقائد میں سے کسی پر بھی ایمان نہیں رکھتے؛ بعض اوقات وہ اس کا اظہار نہایت تلخ لہجے میں کرتے ہیں۔ کم از کم ان لوگوں کے تجربات کی روشنی میں جنہوں نے اسلام ترک کر دیا ہے، مذہب کے بارے میں ان کے دلوں میں پائی جانے والی گہری ناراضی اور تلخی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جلاوطن حقوق نسواں کی کارکن اعظم کمگویاں لکھتی ہیں کہ: “کیسے1979ء کے بعد کے ایران میں اسلام نے مسلسل تین نسلوں کی زندگیوں، خوابوں، امیدوں اور امنگوں کو تباہ کر دیا۔” تاہم حقیقت میں اس صورتِ حال کا ذمہ دار اسلام نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ہے۔ لیکن بہت سے ایرانیوں کی نظر میں یہ دونوں اس حد تک باہم مدغم ہو چکے ہیں کہ ان کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔”
“مذہبی وابستگی میں اس نمایاں کمی کا بالواسطہ اعتراف ایران کے اعلیٰ ترین حکومتی عہدے دار بھی کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ صدرحسن روحانی جو لازمی حجاب کے نفاذ کی وکالت کرنے والے ابتدائی انقلابی رہنماؤں میں شامل تھے، اپنے دورِ صدارت (2013ء تا 2021ء) میں اس معاملے پر سخت گیر حلقوں کے ساتھ کھل کر اختلاف کرتے رہے۔ 2016ء میں نسبتاً زیادہ تجربہ کار اورعملیت پسند روحانی نے خفیہ طور پر کام کرنے والی اخلاقی پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “کوڑے کے زور پر لوگوں کو جنت نہیں بھیجا جاسکتا۔” اس بیان میں عام ایرانیوں کے جذبات کی ترجمانی ہوئی، لیکن سپریم لیڈر کی جانب سے اس پر تنقید بھی ہوئی، اور ظاہر ہے کہ اخری فیصلہ کا اختیار انہی کے پاس ہوتا ہے۔”
“چار دہائیوں کے بعد نئی نسل کے فکری رجحان کو ایک جملے میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے: اگر مذہب خیر کا سرچشمہ ہے تو اسے آزادی سے اختیار کیا جانا، نہ کہ لوگوں پر مسلط کیا جانا چاہئے۔ یہ إحساس ایک اتش فشاں کی طرح اس وقت پھٹا جب ۲۰۲۲ کے أواخرمیں ایک بائیس سالہ ماشا امینی کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت واقعہ ہوئی جسے مبینہ طور پر نامناسب حجاب پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کی موت نے اسلامی انقلاب کے بعد حکومت مخالف سب سے بڑے عوامی احتجاج کو جنم دیا۔ ان مظاہروں کے نعرے عورت، زندگی اور ازادی تھے جو نہ صرف لازمی حجاب بلکہ پورے ریاستی نظام جبر کے انکار کی علامت بن گیا۔ خواتین نے عوامی مقامات پر اپنے سروں کے دوپٹے نذرِ آتش کیے، جبکہ طالبات نے اپنی درسی کتابوں سے ایت اللہ روح اللہ خمینی کی تصاویر پھاڑ دیں۔ گویا انقلاب کے پوتوں اور پوتیوں نے اپنی عملی مزاحمت سے، اپنے قدموں اور بے نقاب سروں کے ذریعے، اپنے حکمرانوں کی سخت گیر مذہبیت کو مسترد کردیا۔”
“اسلامی جمہوریہ کی قیادت طویل عرصے تک اس حقیقت کی منکر رہی کہ اس کی پالیسیاں عوام میں مذہب سے بے زاری اور دوری کا سبب بن رہی ہیں۔ تاہم 2010ء کی دہائی تک انہیں بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ایرانی نوجوان اپنے والدین کی نسل کے مقابلے میں کم مذہبی ہو چکے ہیں۔ مساجد میں حاضری کے بارے میں سامنے آنے والے سرویز اور غیر مذہبیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کا سامنا ہونے پر سخت گیر حلقوں نے اس کی ذمہ داری بیرونی عوامل، مغربی ثقافتی یلغار، پر عائد کی۔ تاہم زیادہ بصیرت رکھنے والے مبصرین اس صورتِ حال کے ناگزیر نتائج کو بھانپ چکے تھے۔ ان کے نزدیک ریاست کی جانب سے مذہب کے ضرورت سے زیادہ جبری نفاذ نے خود ایرانیوں، بالخصوص نوجوان نسل، کو مذہب سے دور دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔”
“بہت سے ایرانی دانشوروں نے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ ریاست نے مذہب کو اس کی روحانی معنویت سے محروم کر کے عملاً ایک پوری نسل کو مذہب کے خلاف “مدافعت” پیدا کرنے پر آمادہ کر دیا ہے۔ جب نماز اور روزے کی ادائیگی کے لئے ان پرکڑی نظر رکھی جاتی ہے، تو وہ اپنے روحانی معنی کھوکر یا تو کھوکھلے رسوم رہ جاتے ہیں یا پھر خاموش احتجاج کے مظاہر۔ رمضان میں دانستہ طور پر کھانا بغاوت کا ایک استعارہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جہاں مذہب کو آزادانہ انتخاب کا معاملہ رہنے دیا جائے، وہاں اس سے لوگوں کو تحریک و ترغیب بھی ملتی ہے اور اس میں اپنی حقیقی معنویت اور تاثیر کے ساتھ توانائی قائم رہتی ہے۔”
” تاہم یہ واضح رہے کہ ایران میں ہر شخص اس تضاد سے بے خبر نہیں تھا۔ خود انقلاب کے بعض بانی رہنماؤں اور سرکردہ شخصیات نے بھی بالآخر یہ محسوس کیا کہ ایرانی معاشرے کو ایک گہرے دینی بحران کا سامنا ہے۔ انقلاب ایران کے ایک بڑے دنشور عبدالکریم سروش ۱۹۹۰ کی دہائی کے اتے ہی حکومت کے نمایاں ناقد بن گئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اسلامی جمہوریہ نے اسلام کو استبداد کے ساتھ وابستہ کر کے خود اسلام سے بے وفائی کی ہے۔ اپنی ایک تحریر میں انہوں نے اپنی گہری ندامت اور افسوس کا اظہار دعا کے انداز میں یوں کیا:
“اے پروردگار! تو گواہ رہ کہ میں، جس نے ساری عمر دین کی خاطر دکھ سہے اور دین کی تعلیم و ترویج میں گزاری، اس حکومت کی آمریت سے براءت کا اعلان کرتا ہوں، جس نے استبداد کو اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ اور اگر کبھی نادانستہ یا کسی غلطی کے باعث میں نے ظالموں کی کسی صورت میں مدد کی ہو، تو میں تجھ سے معافی اور مغفرت کا طلب گار ہوں۔”
“اسی طرح ایت اللہ حسین علی منتظری (انتقال، ۲۰۰۹) انقلابیوں کے اندر سے نمایاں ناقد کے طور پر سامنے ائے۔ مرحوم منتظری جو خمینی انقلاب کے بنیادی معماروں میں سے تھے اور خمینی ان خود ان کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا، وہ ۱۹۸۸ میں سیاسی قیدیوں کی اجتماعی پھانسیوں کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہوئے اور اس اقدام کو انہوں نے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ ۱۹۹۰ کی دہائی تک منتظری امریت کے ایک بے باک ناقد، شہری ازادیوں، سیاسی تکثیریت اور اقلیتوں کے حقوق کے مضبوط حامی بن چکے تھے جس کے پاداش میں انہیں کئی برس تک نطربند رکھا گیا۔ مذہبی جبر کے خلاف ان کا فتوی خاص طور پر قابل ذکر تھا کیونکہ انہوں نے قرانی أصول “دین میں کوئی جبر نہیں” کا حوالہ دیتے ہوئے ارتداد کے جرم اور دین کے اندر جبر کی دیگر شکلوں کو رد کیا۔”
“حالیہ برسوں میں قم کے متعدد شیعہ علما بھی، اپنے مذہبی طبقے کے وقار اور سماجی اثر و رسوخ میں مسلسل کمی کا مشاہدہ کرتے ہوئے، اس رائے کا اظہار کرنے لگے ہیں کہ مذہب کے نفاذ کے لیے ریاست کا جبری طرزِ عمل ایک غلطی تھی۔ ان کے نزدیک اسلامی روایت کی حقیقی روح یہ ہے کہ ایمان اور دین کو ان لوگوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا جاسکتا جو اسے قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں۔”
“ایک اور نمایاں مذہبی ناقد محسن کدیوار ہیں جو ایک ایرانی عالم دین ہیں۔ انہوں نے ایت اللہ حضرات کا مرکز سمجھے جانے والے شہر قم سے میں فقہ اور اسلامی فلسفے کی تعلیم حاصل کی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ بھی اسلامی جمہوریہ کی پالیسیوں کے ناقد بن گئے۔ اس ناقدانہ موقف کے باعث انہوں بدنام زمانہ ایون جیل میں قید کردیا گیا۔ وہ بالاخر ۲۰۰۷ میں ایران چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ کدیوار کی تحریروں میں ان کا استدلال یہ ہے کہ ریاستی طاقت کے ذریعے مذہبی اعمال کو نافذ کرنا ایمان کی اصل روح کے منافی ہے۔ ان کے نزدیک حجاب جیسے مذہبی اعمال کی اخلاقی قدرومنزلت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب وہ آزادانہ انتخاب اور مخلصانہ التزام کا نتیجہ ہوں، نہ کہ سزا کے خوف سے اختیار کیے گئے جبری رویے کا۔ وہ مزید ولایتِ فقیہ کے نظریے پر بھی تنقید کرتے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ بالغ افراد پر کسی سیاسی سرپرستی یا ولایت کا دعویٰ قرآن کے اس بنیادی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا جس کے مطابق ہر انسان اپنے اعمال کے بارے میں براہِ راست اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہے۔”
” اسی طرح، صدیقہ وسماغی ایک خاتون اسلامی اسکالر اور تہران سٹی کونسل کی سابق رکن رہی ہیں، انہوں نے بھی اکتوبر ۲۰۲۲ء میں ایک وسیع پیمانے پر گردش کرنے والے کھلے خط میں اسی موقف کا اظہار کیا۔ اکتوبر 2022ء میں شائع ہونے والے ایک کھلے خط میں صدیقہ وسماغی نے ایران کی مذہبی قیادت پر زور دیا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ لازمی حجاب کے لیے قرآن میں کوئی واضح اور قطعی بنیاد موجود نہیں، اور یہ کہ ریاست کی جانب سے اس کے جبری نفاذ نے حجاب کو ایک ذاتی مذہبی انتخاب کے بجائے ریاستی جبر کی علامت بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق ضمیر اور عقیدے کے معاملات میں جبر نہ صرف مذہبی تعلیمات کی اخلاقی ساکھ کو مجروح کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بے زاری، ناراضی اور ریاکاری کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد ممتاز دینی شخصیات، جن میں مذکورہ بالا آیت اللہ العظمیٰ حسین علی منتظری اور آیت اللہ العظمیٰ یوسف صانعی شامل ہیں، اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کر چکے تھے۔ آیت اللہ صانعی نے متعدد مواقع پر یہ فتویٰ دیا کہ ایمان اور دینی اعمال کی حقیقی معنویت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب وہ آزادانہ اختیار اور رضاکارانہ التزام پر مبنی ہوں، نہ کہ جبر و اکراہ پر۔”
” ان شیعی علما کے علاوہ چند سنی اسکالرز نے بھی ایران کے مذہبی جبر پرتنقید کی ہے۔ سنی عالم شیخ عبدالحکیم مراد (سابق ٹموتھی جان ونٹر)، کیمبرج مسلم کالج کے بانی اور ڈین، نے بھی ایران کے جبر کے تجربے کی ناکامی کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق دور جدید کا اسلام ایک مسئلہ سے دوچار ہے جو عسکریت اور طاقت سے دبانے والے مسلمان ایکٹرز نے پیدا کیا ہے، اس مسلہ کو وہ تنفیر کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے “دلوں کو اپنی طرف کھینچنے کے بجائے دور کرنا۔” یہ بنیادی طور پر اسلام کو ایک آمرانہ نظریے میں ڈھالنے سے پیدا ہوتا ہے جو لوگوں کے دل جیتنے کی بجائے ان کو دھمکاتا، چونکاتا اور دور بھگاتا ہے۔ اس اسلامی نظریہ سازی کے نتائج یہ ہیں کہ اسلام کے نام پر دہشت گردانہ تشدد ہورہا ہے، جس نے عرب دنیا میں “ایمان سے روگردانی کی لہر” پیدا کی ہے، اور اسی طرح “ریاستی جبر” کو جنم دیا ہے جو اس سے بھی بدترچیز ہے۔ شیخ مراد کے مطابق:
“تنفیر مسلمانوں کے ایمان کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن اس وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ ایسے حالات میں جنم لیتی ہے جہاں مذہب کو ریاستی اقتدار حاصل ہو چکا ہو۔ ایسے ماحول میں اہلِ ایمان ریاست کے بدنما اور ناگوار چہرے کو بے بسی کے ساتھ دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ان کا ایمان آہستہ آہستہ کمزور پڑتا جا رہا ہے، کیونکہ غصے اور انتقام کے جذبے سے سرشار حکام نے جبر کے ذریعے خود کو اسلام کا نمائندہ اور ترجمان بنا لیا ہوتا ہے۔ “
اسی لیے شیخ مراد مزید کہتے ہیں کہ “اسلامی جمہوریہ” اپنا مذہب کھو رہی ہے: “اپنے انقلاب کے کئی عشروں بعد ایران، جہاں ریاست مذہب کو جبر کے ذریعے نافذ کرتی ہے، ایک رِدّہ ستان میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ ” رِدّہ ستان کی اصطلاح ارتداد سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہے ارتداد کی سرزمین۔ شیخ مراد کے نزدیک یہ ستم ظریفانہ انجام صرف ایران تک محدود نہیں۔ ان کے بقول، جدید دنیا میں ہر وہ مسلم ریاست جس نے شریعت کو ریاستی طاقت کے ذریعے نافذ کیا، بالآخر ایک مطلق العنان نظریاتی ریاست میں تبدیل ہو گئی۔ ایسی ریاست اسلام کو ایک جامد اور تنگ قالب میں قید کر دیتی ہے، اور بالآخر خود ایک الم ناک “رِدّہ ستان” بن جاتی ہے، جہاں مذہب سے بے زاری جنم لیتی ہے اور جو عالمی سطح پر تنفیر کو فروغ دینے کا سبب بنتی ہے۔”
ایرانی تجربے سے حاصل ہونے والا سبق
“ایران کے اندر اس بڑے پیمانے پر ہونے والے تجربے کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اپنے نوجوان شاگرد، خمینی، کے عزائم سے اختلاف کرتے ہوئے مرحوم آیت اللہ بروجردی کا مؤقف درست تھا۔ جس کے مطابق، معاشرے پر مذہب کو نافذ کرنے کے لیے ایک اسلامی جمہوریہ کا قیام کوئی دانشمندانہ تصور نہیں تھا۔ اس کے نتائج بہت سے پہلوؤں سے نقصان دہ ثابت ہونگے، حتیٰ کہ خود مذہب کی پاکیزگی، اخلاص اور روحانی قوت بھی اس سے متاثر ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آمرانہ حکومت نے جب ایک اسلامی بیانیہ اپنایا تو بہت سے ایرانیوں کو خود اسلام غیر مستند لگنے لگا، یعنی یہ سیاسی جبر پر پردہ ڈالنے کا ایک ذریعہ ہے اور ایک ایسی بوجھل ذمہ داری ہے جسے مجبورا برداشت کرنا پڑے۔ جیسا کہ بہت سے ایرانی مفکرین برسوں سے متنبہ کرتے آ رہے ہیں، لوگوں کو ایسی مذہبی وابستگی کے اظہار پر مجبور کرنا جو حقیقت میں ان کے دلوں میں موجود نہ ہو، درحقیقت انہیں جھوٹ کے ساتھ جینا سکھاتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ میں دوہری زندگی گزارنا بقا کی ایک حکمتِ عملی بن گیا تھا۔ انسان عوامی مقامات پر مذہبی دینداری کا اظہار کرنا سیکھ لیتا، مگر نجی زندگی میں اپنی اصل شخصیت کے مطابق زندگی گزارتا۔ وقت کے ساتھ یہ دوہرا پن خود مذہب کے احترام کو بھی مجروح کرنے لگا۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک اسلام نجاتِ اخروی یا اخلاقی اقدار کے بجائے ریاست کے سخت گیر چہرے کی علامت بن گیا؛ یعنی اخلاقی ضابطوں پر عمل کرانے والے اہلکار، کوڑوں کی سزا سنانے والا جج، اور لباس کے سرکاری ضابطوں پر عمل درآمد کرانے والا افسر۔”
۔۔۔ختم شد۔۔۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں