Home » اجتماعی احکام، نظریہ اور سیاسی تعبیر
زبان وادب کلام

اجتماعی احکام، نظریہ اور سیاسی تعبیر

دینِ اسلام بہت واضح اجتماعی احکام اور تعلیمات رکھتا ہے، جنھیں آج کی زبان میں ”سیاسی“ کہا جا سکتا ہے۔ حکم کی اساسی معنویت مخاطِب اور مخاطَب کی قطبیت میں قائم ہوتی ہے، اور الوہی حکم کی معنویت کا ایک پہلو اسی قطبیت ہی کی وجہ سے متعین ہوتا ہے۔ اصول فقہ کی کتب میں، احکام کے ذیل میں حاکم، حکم، محکوم علیہ، محکوم فیہ، محکوم بہٖ کے تعین کی ضرورت تناظرِ تخاطب ہی میں پیش آتی ہے۔ چونکہ حکم شرعی کی کوئی تعبیر ممکن نہیں ہوتی، لہٰذا احکام سے متعلق کسی قسم کے نظری مباحث بھی کھڑے نہیں کیے جا سکتے کیونکہ احکام میں عقل کا قوامی (constitutive) رول صفر ہے۔ حکم کا وضوح اور صراحت کا حامل ہونا اور ابہام سے پاک ہونا بھی ازحد ضروری ہے کیونکہ بہت سے شرعی احکام کے ساتھ اجباری طاقت (coercive        power) جڑی ہوتی ہے، اور ابہامِ حکمی کی صورت میں اسقاطِ عدل (miscarriage        of         justice) کا امکان ہوتا ہے جو ظلم ہے اور شریعت کے منشا و مراد سے قطعی متغایر ہے۔ اسی باعث حکم شرعی کی تعیین کے تمام وسائل ضرور بروئے کار لائے جاتے ہیں جن میں احکام کی تقسیمات اور مباحثِ لغویہ بھی شامل ہیں۔ مباحث لغویہ کے ضمن میں حکم شرعی کو زیرِ بحث لاتے ہوئے ایک معروف مسئلہ خاص و عام کا ہے اور اس وقت دیگر پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہوئے اسی تقسیم و تعیین کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ اس بحث میں حکم زیرِ بحث نہیں ہوتا بلکہ اس کے مخاطَب کا تعین مطلوب ہوتا ہے۔ اور یہیں سے ہم سیاسی نظریے اور دین کی سیاسی تعبیر کا سوال اٹھانا چاہتے ہیں۔

شرعی حکم کا مخاطب خاص یا عام ہوتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ”سیاسی نظریے“ کا مخاطِب اور مخاطَب بھی کوئی ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب صرف اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے جب یہ طے کر لیا جائے کہ ”سیاسی تھیوری“ یا ”سیاسی نظریہ“ کیا ہوتا ہے؟ کیا ”حکم“ اور ”نظریہ“ ایک ہی چیز ہے؟ کیا شرعی حکم اور نظریے میں کوئی مماثلت تلاش کی جا سکتی ہے؟ مزید یہ کہ کیا نظریے میں حکم نام کی کوئی چیز پائی بھی جاتی ہے؟ اور کیا حکم کسی نظریے میں ڈھل سکتا ہے؟ کیا مذہب اپنی نظری یا نظریاتی تشکیل کے بعد بھی مذہب ہی رہتا ہے یا وہ کوئی سیکولر فکر بن جاتی ہے؟ اہم ترین سوال غور طلب ہے کہ مسلمان ہونے کی کل معنویت ایمانیات اور شریعت میں محصور ہے اور ایک مسلمان کے عمل کی، بھلے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، بنیاد شریعت ہے جو احکام الہی کا مجموعہ ہے۔ تو کیا مسلمان کسی ”نظریے“ یا کسی ”تعبیر“ کو اپنے عمل کی بنیاد بنا سکتا ہے؟ سادہ لفظوں میں کیا کوئی ”علم“ مسلمان کا مدار عمل ہے یا کوئی الوہی ”حکم“ اس کے عمل کی اساس ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی پیدا ہوتا ہے کہ حکم شرعی اور انسانی عمل میں نسبتیں صراحت سے معلوم اور متعین ہوتی ہیں جبکہ نظریے اور انسانی عمل میں کوئی نسبتیں سرے سے قائم ہی نہیں کی جا سکتیں۔ اس حوالے سے نام نہاد ”اسلامی انقلاب“ کے نظریے کو دیکھ لینا کافی ہے کہ وہ کس انسانی عمل کی بنیاد بن سکتا ہے؟ ک.فا.ر کے تمام قوانین ان کے سیاسی ”علوم“ اور ”نظریات“ کے مابعد ہیں، جبکہ احکام شرعی کسی ماقبل یا مابعد علم سے ماخوذ ہی نہیں ہیں۔ گزارش ہے کہ احکامِ الہی کے اللہ تعالیٰ کی جنابِ خاص سے تنزیل ہونے اور ان کے خبرِ غیب ہونے کے مابعد ہی زیرنظر گفتگو اپنا جواز رکھتی ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ براہ راست اپنے بندوں سے مخاطِب ہے۔ حکم الہی کی معنویت ہی یہ ہے کہ حاکم محکوم علیہ سے مخاطِب ہے اور جو مکلف ہے۔

نظر (theory) اور نظریہ (ideology) علم کی ایک نوع ہے اور علم کا کوئی خاص یا عام مخاطَب نہیں ہوتا۔ بطور علم ایک موضوع کے تابع ہونے کی حیثیت سے، تھیوری اور نظریے میں تعمیم اور تخصیص کا سوال ہی نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ہر علم میں فاعلِ علمی تو فرض کیا سکتا ہے کیونکہ ایجنسی کے بغیر کسی علم کا کوئی تصور یا امکان ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور ہر ”علم“ احوالِ وجود، درجاتِ وجود اور مراتبِ وجود کا ثقہ بیان ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ بطور علم، تھیوری صرف تصورات کی تشکیل و بیان تک محدود رہتی ہے جبکہ نظریہ praxis کو محیط ہوتا ہے جو تصور اور عمل کی یکتائی سے نمود لاتا ہے۔ حکم الہی کا کوئی نہ کوئی مخاطَب ہوتا ہے جبکہ سیاسی نظر (political        theory) یا سیاسی نظریے (political        ideology) کا موضوع تو ہوتا ہے لیکن کوئی خاص یا عام مخاطَب نہیں ہوتا۔ سیاسی تھیوری اور سیاسی نظریے کا موضوع اپنے مؤثرات و مظاہر کے ساتھ تاریخ ہے۔ جس لحاظ سے تاریخ مثلاً ہیروڈوٹس، ابن خلدون، یا گبن کا موضوع ہے ویسے یہ ہرگز قرآن مجید کا موضوع نہیں ہے۔ قرآن مجید میں، دنیا میں انسان کے نظمِ حیات (order        of        life) پر تبصرے موجود ہیں، اور ججمنٹس بھی، لیکن کسی بھی معنی میں یہ انسانی تاریخ کو موضوع نہیں بناتا۔ مؤرخ تاریخ میں برپا ہونے والے واقعات کی تحقیق و تصویب کرتا ہے جبکہ جدید سیاسی نظریہ ساز انسانی معاشرے میں طاقت اور سرمائے کے مؤثرات و مظاہر کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ تاریخ کی وظیفہ جاتی نہاد تک رسائی حاصل کر سکے۔ سیاسی نظریہ انسانی ارادے کو فعال کرتے ہوئے تاریخی مؤثرات و مظاہر میں کچھ تبدیلیاں لانے کا داعیہ رکھتا ہے۔

سیاسی تھیوری اور سیاسی نظریے کا موضوع تاریخ کے مؤثرات و مظاہر میں نمود لانے والی طاقت ہے۔ سیاسی تھیوری معاشرے میں طاقت کو ایسے ہی سرایت کیے ہوئے دیکھتی ہے جیسے سائنس نیچر میں توانائی کو سرایت کیے ہوئے دیکھتی ہے۔ جس طرح سے سائنس طاقت پر کنٹرول اور مادی استفادے کے لیے ٹکنالوجی ایجاد کرتی ہے ایسے ہی سیاسی تھیوری بھی طاقت پر کنٹرول اور استفادے کے لیے ریاست کی تنظیمی ٹکنالوجی کو بروئے کار لاتی ہے۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ مشینی ٹکنالوجی اور سیاسی ٹکنالوجی نیچر اور تاریخ میں عین اس جگہ قائم ہوتی ہیں جہاں انسان کا بسیرا ہے اور وہ ہستی کو اس حد تک بدل دیتی ہیں کہ انسان ان کی شرائط پر زندہ رہنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مشینی اور سیاسی ٹکنالوجی کا نکتۂ ادغام جدید ریاست ہے۔

احکامِ الہی اور نظریے کی ماہیت پر غور کرنے سے اس امر کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان میں عینیت کا کوئی پہلو موجود نہیں ہے اور وہ مکمل غیریت رکھتے ہیں۔ اگر سیاست شرعیہ کے فقہی ڈھانچے کو مکمل ترک کر دیا جائے اور قرآنی آیات اور مذہبی تعلیمات کو کسی جدید نظریے کے سانچے میں ڈھالنے کی الل ٹپ کوشش کی جائے تو ”مذہبی نظریہ سازی“ سامنے آتی ہے جو جدید سیاسی نظریات کے تتبع میں مؤثرات و مظاہرِ تاریخ کو زیر بحث لاتی ہیں، جیسے اصلاحات، انقلاب، جدید ریاست، جنگ، سرمایہ داری نظام وغیرہ وغیرہ۔ مذہبی سیاسی نظریات کی اصطلاحات بھی روایتی سیاست شرعیہ اور فقہ کے اجتماعی احکام سے مکمل طور پر مختلف ہوتی ہیں، ان کا مقصد کسی حکم الہی کی طرف رجوع کرنا نہیں ہوتا بلکہ مذہب کو جدید فہم اور جدید عمل کا آلۂ کار بنانا ہوتا ہے۔ اول مذہبی سیاسی نظریے اور پھر سیاسی پارٹیاں بنا کر ہمارے سیاسی علما نے انھیں سیاسی نظریات کو مسلم معاشروں میں سیاسی اور اجتماعی عمل کی بنیاد بنانے کی کوشش کی۔ کسی انسانی نظریے یا تعبیری نظریے کو انسانی عمل کی بنیاد بنانا دراصل ک.فا.ر کا دیا ہوا طریقۂ کار ہے۔ مذہبی تعبیری نظریات سے پیدا ہونے والے سیاسی عمل کے راستے میں حکم الہی پر عمل کوئی سنگ میل ہوتا ہے اور نہ کوئی منزل۔ سیاسی نظریہ اور حکم الہی باہم یک نگر (mutually        exclusive) ہیں۔

یاد رہے کہ سیاسی نظریہ انسانی عمل کی بنیاد اپنی صرف ایک خلقی صفت کی وجہ سے بنتا اور بن سکتا ہے، اور وہ صفت اس کا مکمل طور پر مادی، اثباتیاتی اور سیکولر ہونا ہے۔ دورانِ عمل نظریہ عمل کے لیے صرف جواز کا کام کرتا ہے اس کی کوئی ہیئت حکمی متعین نہیں کرتا۔ شریعت میں امتثال امر میں ہیئت حکمی اہم ہوتی ہے جو نظریے میں سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔ جدید سیاسی عمل حرکیات میں یہ امر قابل اعتنا ہی نہیں ہے کہ نظریہ انسان نے عقل سے گھڑا ہے یا مذہب کی تعبیر سے گھڑا ہے۔ مذہبی سیاسی نظریہ، تعبیر و تشکیل کے عمل سے گزرتے ہی اپنی ہر الوہی جہت سے مکل طور پر خالی ہو جاتا ہے کیونکہ تھیوری اور نظریہ (ideology) مکمل طور پر ”تصوراتی علم“ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ مذہب اور مذہبی احکام ”غیرتصوراتی علم“ ہے۔ مذہب کی جدید تعبیر سے پیدا ہونے والا مذہبی سیاسی نظریہ بھی مذہب سے ویسی ہی غیریت رکھتا ہے جیسے کہ تمام سیکولر سیاسی نظریات۔ مذہب کے اجتماعی احکام پر عمل کرنے اور مذہب کو نظریہ بنا کر اس پر عمل کرنے میں کسی بھی سطح پر کوئی مماثلت نہیں ہے۔ مذہب کی تعبیر سے پیدا ہونے والا سیاسی نظریہ خود مذہب کو مکمل طور پر سیکولر بنائے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ برصغیر میں، مذہب کی سیاسی تعبیر مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی کتاب ”منصب امامت“ سے شروع ہوئی اور مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا سید ابوالاعلی مودودی میں اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔ ہمارے سیاسی علما اپنی کاوشوں سے نہ صرف پورے دین ہی کو منہدم کرنے میں کامیاب ہو گئے بلکہ مسلمانوں کے لیے جدیدیت اور اس کی پیدا کردہ تحدیوں کا سامنا کرنے کے تہذیبی وسائل کا بھی مکمل خاتمہ کر دیا۔ مذہب کی سیاسی تعبیر سیکولر نظریات سے بھی بدتر ہے کیونکہ سیکولر نظریات سے دنیا کا حصول ممکن ہوتا ہے جبکہ مذہب کی سیاسی تعبیر سے دنیا تو مذہبی نہیں ہو پاتی اور خود مذہب ہی سیکولر ہو جاتا ہے۔

اس وقت مسلم معاشرے ترکِ شریعت کے احوال میں ہیں اور اس کا براہِ راست نتیجہ دین کی سیاسی تعبیرات کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ مذہب کے ملبے سے سیاسی تعبیر پیدا کرنے کی بجائے ہمیں اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا آج کے عہد میں مسلمان مخاطَبِ الہی بننے کی استعداد پیدا کر سکتا ہے؟ اور مقامِ تخاطب میں احکامِ الہی کو علی حالہٖ سربلند رکھتے ہوئے کیا وہ اپنے اردگرد امڈتی ہوئی تاریخ کی طغیانی کو اپنی عقل کا موضوع بناتے ہوئے اور اپنے شعور اور ارادے کی ایجنسی کو بروئے کار لاتے ہوئے عین اس تاریخ کو سمجھنے کی بھی کوئی استعداد پیدا کر سکتا ہے؟ یہ تاریخ ہی وہ مقام ہے جہاں اس کو احکام کے روبرو امتثالِ امر کا چیلنج درپیش ہے۔ اگر فقہ کی کتب کو دیکھا جائے تو مباحثِ احکام کے ضمن میں ”تاریخ“ غیرمذکور ہے۔ محکوم علیہ کے حوالے سے بھی ایسا کوئی اشارہ سرے سے ہی موجود نہیں ہے کہ اس کے تاریخی حالات و احوال کیا ہیں۔ چونکہ تاریخ امتثالِ امر پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہے، اس لیے یہ محکوم علیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عقل کو بروئے کار لاتے ہوئے تاریخ کے مؤثرات و مظاہر کی نظری اور نظریاتی تفہیم کے وسائل خود پیدا کرے۔ جدید عہد میں، امتثالِ امر صرف عمل تک محدود نہیں رہا، اس میں نظری پہلو بھی داخل ہو گئے ہیں اور ان پر شدت سے غور و تامل کی ضرورت ہے اگر ہم اپنے رب سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ مذہب اور اس کی سیاسی تعبیر میں کوئی عینیت نہیں ہے اور مذہبی سیاسی تعبیرات نہ احکام الہی کے حوالے سے کوئی چیز ہیں، نہ کوئی عقلی نظریہ ہیں اور نہ ہی وہ امتثال امر کے لیے مطلوب اس دنیا کا کوئی فہم سامنے لاتے ہیں۔ مذہب کی سیاسی تعبیرات صرف ک.فا.ر کی ریس سے پیدا ہوئی ہیں۔ لیکن ان میں ایک ایسی چیز ہے جو مذہب کی جڑ ہی کاٹ دیتی ہے۔ جدید سیاسی طاقت اپنی تنظیمی تشکیل میں جو بھی ہیئت اختیار کرتی ہے اس کی بنیادی ترین صفت یہ ہے اس میں relexivity اور کوئی داخلی جہت نہیں ہوتی، اور اس کے ٹکنالوجیائی ہونے کی بنیادی ترین معنویت یہی ہے۔ اپنی اس ہیئت میں، جدید سیاسی طاقت جب اپنے سیاسی نظریات اور حرکیات سے انسانوں کی تشکیل و تعمیر کرتی ہے اور انھیں اپنا ایجنٹ (agent) یا فعال کارندہ بناتی ہے تو وہ بھی مکمل طور پر ہر طرح کی reflexivity اور داخلیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے اڈولف آئیک مین کا مطالعہ کر لینا کافی ہے۔ پھر سیاسی نظریات اور مذہبی سیاسی تعبیرات public        sphere میں بالکل ایک ہی طرح کام کرتے ہیں اور ان کے زیر اثر عام فرد کی جو شخصیت تعمیر ہوتی ہے وہ کسی بھی معنی میں مذہبی نہیں ہوتی، بلکہ مکمل طور پر سیاسی ہوتی ہے اور ہر طرح کی reflexivity اور داخلیت سے محروم ہوتی ہے۔ ایک ایسا انسان جو reflexivity اور داخلیت سے محروم ہو اس کے حوالے سے مذہبی کا لفظ استعمال کرنا بھی بدذوقی اور فریب کاری ہے۔ مکارم الاخلاق اور اسوۂ حسنہ، اجتماعی احکامِ شرعیہ کے بالمقابل مذہب کی داخلی جہت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک مسلمان کی داخلیت کی بالفعل تشکیل کے ذرائع سیاسی قطعاً نہیں ہیں، اور وہ داخلیت مکارم الاخلاق اور اسوۂ حسنہ کے ذرائع سے تشکیل پاتی ہے۔ مذہبی تعبیر سے پیدا ہونے والے سیاسی نظریات کے غلبے میں ایسی انسانی داخلیت کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے جس میں مکارم الاخلاق اور اسوۂ حسنہ کا بیج پڑ سکے۔

ہمارے ہاں، مذہب کی ”سیاسی تعبیر“ چونکہ فسطائیت، مارکسیت، اور کنزرویٹو لبرلزم کے سانچوں پر بنائی گئی ہوتی ہیں، اس لیے یہ بھی انسان کی بالکل ویسی ہی نفسی تشکیل سامنے لاتی ہیں جو سیکولر نظریات کا ماحصل ہے۔ مذہبی شخصیت کی تعمیر احکام الہی کے روبرو امتثالِ امر سے ممکن ہوتی ہے، کسی بھی طرح کے سیاسی نظریے سے فرد کی تشکیل صرف اور صرف طاقت کی شرائط پر ہی سامنے لائی جا سکتی ہے اور طاقت کی شرائط پر بننے والی شخصیت داخلیت سے محروم، مکمل طور پر سیکولر اور ایک ٹکنالوجیائی مخلوق ہوتی ہے۔ مذہبی سیاسی تعبیرات سے سیاست شرعیہ کی بنیاد پر عادلانہ معاشرے کا قیام تو دور کی بات ہے، یہ مسلمان فرد ہی کو انسان ہونے کے مقام سے گرا دیتی ہے۔

محمد دین جوہر

محمد دین جوہر، ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم ہیں اور صادق آباد میں مدرسۃ البنات اسکول سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
mdjauhar.mdj@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں