Home » نظر کا وجوب (2)
اسلامی فکری روایت کلام

نظر کا وجوب (2)

”نظر“ کو واجب قرار دینا ایک علمی قضیہ ہے۔ لہذا یہاں کچھ علمی مسائل کا سامنا یقیناً ہوگا۔ چناچہ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور بوکھلاہٹ میں اپنے معترضین پر کفر و جہالت کے فتاویٰ جاری نہیں کرنےچاہیے۔ ”نظر“ کو واجب قرار دینے میں سب سے پہلا مسئلہ عوام اور علماء کے باہمی امتیاز کا ختم ہو جانا ہے۔ علماء کو علم میں تخصص حاصل ہوتا ہے، جو کسی طور بھی عوام کا خاصہ نہیں۔ علماء کے معیارِ علم پر عوام کو کیوں جانچا جائے گا۔ علم کی تمام شاخیں بھی یکساں موضوع کی حامل نہیں ہوتی۔ ہر علم کا ایک خاص موضوع اور ایک خاص ہدف ہوتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر صاحبِ علم عالم نہیں ہوتا۔ علوم کی دو بنیادی تقسیمات دینی اور غیر دینی عنوانات سے جانی جاتی ہیں۔ دینی علوم بھی اپنے محتوی کے اعتبار سے متنوع ہوتے ہیں۔ فقہ اور اصول فقہ، تفسیری علوم اور احادیث مبارکہ سے متعلق علوم سب مختلف ہیں۔ علوم عقلیہ ایک الگ کیٹیگری ہیں۔ اِن علوم کے الگ الگ ماہرین ہوتے ہیں۔ جو اپنے دائرے میں کمال رکھتے ہیں، مگر دوسرے علوم میں اُن کی کوئی خاص پوزیشن نہیں ہوتی۔ پھر ایک ہی علم کی شاخ میں لوگوں کے مابین علم و عمل کا تفاوت پایا جاتا ہے۔ فقہ کے ڈسپلن میں کچھ لوگ ید طولٰی رکھتے ہیں اور کچھ لوگ محض تدریسی سدھ بدھ۔ یہ سب لوگ برابر نہیں ہو سکتے۔
ایک استاد جو ایساغوجی پڑھانے میں مہارت رکھتا ہے، وہ بھی کلامی مباحث کے بنیادی موضوعات پر قلم اٹھانے کی صلاحیت سے خالی ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگ عوام کی قبیل میں شمار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجنئیر، اکاؤنٹنٹ اور معاشی تجزیہ کار ایسے لوگ اپنے اپنے شبعہ جات کے ماہر ہو سکتے ہیں۔ لیکن اِن کا بھی کلامی مباحث سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اِنھیں دلیلِ حدوث کی کیا خبر۔ حتی کہ متکلمین کی جماعت بھی بقول امام غزالی رحمہ اللہ ان مباحث کے دقیق پہلوؤں کے تحقق سے فروتر ہیں۔ امام صاحب علم کلام کو عوام کے لیے مضر تصور کرتے ہیں اور اُن کے لیے بھی جو خود کو متکلم سمجھتے ہیں اور سمجھنے میں سچے بھی ہیں، لیکن اِس کی کماحقہ اہلیت سے خالی ہیں۔ یہ لوگ سب عوام الناس ہیں۔ اِن کو کلامی مباحث سے دور رہنا چاہیے اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ ماسوائے اس شخص کے کہ جسے کسی سوال کا سامنا ہے، خواہ مخواہ لوگوں کو کھینچ کھینچ کر کلامی مباحث میں داخل نہ کرے۔
دوسری اور زیادہ اہم چیز خود اول الواجب کو سمجھنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اولین فریضہ کیا ہے۔ ایک انسان کی حیثیت میں میری سب سے پہلی ذمہ داری کیا ہے۔ متکملین کی ایک جماعت اور بعض اصولی فقہاء اِس کا جواب دیتے ہیں کہ اول الواجب ”نظر“ ہے۔ علامہ زرکشی نے اس بحث کو مختصر مگر جامع انداز میں البرھان میں نقل کیا ہے اور اس موقف کے حق میں اپنا ووٹ بھی ڈالا ہے۔ انھوں نے قشیری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ نظر شرعی واجب ہے۔ قشیری کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول واجب ہے۔ اس معرفت کے حصول کا واحد قابل اعتماد ذریعہ ”نظر“ ہے۔ جو چیز واجب کے حصول کا ذریعہ ہو، وہ چیز خود واجب ہوتی ہے۔ لہذا ”نظر“ شرعی واجب ہے۔ ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ غور و خوض سے خدا کو پہچانے اور اس کی قربت کا طلب گار بنے۔
بظاہر یہ صاف اور سیدھا استدلال ہے۔ لیکن اس کی گہرائی میں بہت سے علمی اور ایمانی مسائل پوشیدہ ہیں۔ ”نظر“ کے شرعی واجب ہونے کی پہلی زد اس ایمان پر پڑتی ہے، جو بغیر نظر کے حاصل ہو۔ تمام علماء و مسالک کا اس پر کلی اتفاق ہے اور امت کا اجماعی عمل بھی اس بات کے حق میں گواہی دیتا ہے کہ مسلم گھرانے میں پیدا ہونے اور پرورش پانے کے بعد اسلام پر جو یقین اور اعتقاد پیدا ہوتا ہے، وہ بالکل صحیح اور درست یے۔ اِس شخص سے نماز کا تقاضا کیا جائے گا اور زکاۃ ادا کرنے کا کہا جائے گا، لیکن اُس سے مبنی بر نظر کلمۂ شہادت کا تقاضا نہیں کیا جائے گا۔ بالنظر کلمۂ شہادت کا اسلام میں کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ کسی بھی مسلم سے بالغ ہونے پر اعادۂ ایمان کا تقاضا نہیں کیا جاتا، یعنی وہ ایمان جو اس نے بالنظر حاصل کیا ہو۔ اگر متکملین کی بات کو درست مان لیا جائے، تو ایسے شخص سے فریضۂ اول کی ادائیگی میں مستقل کوتاہی رہے گی، جب کہ وہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتا رہا ہے، رمضان کے روزے رکھتا رہا ہے، حج کیا اور ساری زندگی زکاۃ کی ادائیگی کی۔ مگر نظر کے وجوب سے روگردانی کرتے ہوئے، عند اللہ معتوب ہوا۔ امت کا اجماعی عمل اس موقف کی تغلیط پر کافی دلیل ہے۔ ان تمام لوگوں کو مساجد میں نماز کی اجازت ہوتی ہے، بلکہ وہ امامت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ حج کرنے اور بیت اللہ کا طواف کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اُن کا نکاح پڑھایا جاتا ہے۔ فوت ہونے پر نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے۔
متکملین کی مراد یہ نہیں ہو سکتی کہ ان لوگوں کا ایمان مقبول نہیں۔ لہذا یہ موقف بھی درست نہیں کہ اول الواجب ”نظر” ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابوالحسن اشعری نے ”نظر“ کے وجوب کی بجائے، معرفتِ خداوندی کو واجب قرار دیا ہے۔ معرفت کا لفظ چونکہ خود ایک کلیت کا حامل ہے، اس لیے کچھ دوسرے علماء نے کلمۂ شہادت کو اول الواجب قرار دیا ہے۔ معرفتِ خداوندی کو عین درمیان میں تصور کریں کہ یہ نظر کا سبب بھی ہے اور اس کا منتھی بھی، تو اس کی ایک جانب نظر اور دوسری جانب کلمۂ شہادت ہے۔ نظر » معرفت « کلمۂ شہادت۔ کلمۂ شہادت معرفتِ تام ہے۔ یہ ملفوظ ہے، جہاں ادراک اور اظہار دونوں جمع ہو جاتے ہیں۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ کلمۂ شہادت اسم بامُسَمّی ہے۔ چناچہ کلمۂ شہادت سے آگے کچھ نہیں۔ لیکن ”نظر“ سے آگے اور پہلے قصد و ارادہ ہے: ”نظر“ کا قصد و ارادہ۔ لہذا کچھ لوگوں کے نزدیک ”نظر“ پہلا واجب نہیں۔ بلکہ ”نظر“ کا قصد و ارادہ پہلا فریضہ ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قصد و ارادہ سے پہلے بھی کچھ ہوتا ہے۔ یہ شک سے ملتی جلتی کیفیت ہے۔ یہ وہ سوال ہے، جو فکر کو تحریک فراہم کرتا ہے اور انسان کو ”نظر“ کا قصد و ارادہ کرنے پر مائل کرتا ہے۔ چناچہ چند لوگ ”شک“ کو پہلا واجب قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنے موقف کے حق میں دلیل پیش کرتے ہیں۔ بادی النظر میں وہ دلیل ”نظر“ کے وجوب کی دلیل سے زیادہ قوی دلیل محسوس ہوتی ہے، کیونکہ وہ بالکل بنیاد سے جڑی ہے۔ ”نظر“ کے وجوب کی دلیل اللہ تعالیٰ کی معرفت کے وجوب سے مستنبط ہے۔ شک کا وجوب نظر کے وجوب سے مستنبط ہے۔ اللہ تعالیٰ کو خالق و مالک وہ لوگ بھی مانتے ہیں، جو نظر کی اہلیت رکھتے ہیں اور نہ اس کا قصد و ارادہ۔ لیکن نظر کی اہلیت کے لیے ضروری ہے کہ انسان سوال کا متحمل ہو۔ وہ شک کو اگر نہیں بھی مانتا، تو اس کے امکان سے ڈیل کرنے کی استعداد رکھتا ہوں۔ لہذا اول الواجب اگر نظر ہے، تو اس کی شرط شک ہے۔ شرط اولی ہے، مشروط سے۔
اب اگر کوئی یہ کہے کہ نظر کے لیے شک کا لزوم نہیں، کیونکہ نظر اول الواجب یے۔ تو ہم جواب میں کہیں گے کہ نظر کا وجوب خدا کی معرفت کے وجوب کا حاصل ہے۔ ان میں لازم و ملزوم کا تعلق تو آپ بھی مانتے ہیں، کیونکہ اگر آپ اس تعلق کی لزومیت کو نہیں مانتے، تو اس پر دو اعتراضات بنتے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ لزومیت کے انکار سے الحاد بھی ویسا ہی معتبر موقف ہوگا، جیسا توحید ہے۔ وجوبِ اول اپنے نتیجہ سے توثیق حاصل کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ اگر معرفت خدا کے طور پر حاصل نہ ہو، تو مسئلہ قصد و ارادہ میں پایا جاتا ہے، نظر میں مسئلہ نہیں۔ جس کا پہلا مطلب یہ ہے کہ قصد و ارادہ نظر پر زمانی اور علمی فوقیت رکھتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ نظر سے حاصل الحاد کو نہ آپ مانتے ہیں اور نہ ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ جس طرح بدن بیماری کی صورت میں اپنے نارمل کام کی ادائیگی میں کوتاہ رہتا ہے، ویسے ہی ذہنی مرض لاحق ہونے کی صورت میں نظر و استدلال سے خدا کی معرفت تک پہنچنے میں کوتاہی کرتا ہے۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ کسی چیز کے وجوب اور عدمِ وجوب کی بحث بعد از ایمان کی بحث ہے۔ قبل از ایمان اس بحث کی کوئی توجیہ نہیں۔ وجوب خارج از دین کوئی چیز نہیں۔ وجوب کا مطلب ہی پہلے مسئول پھر عدم تعمیل کی صورت میں معتوب ٹہرایا جانا ہے۔ اگر اس اعتراض کے جواب میں ہمارا مخاصم وجوب کو مذہبی کی بجائے اضطراری معنی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ وجوب سے مراد دین میں مقرر کردہ واجبات نہیں بلکہ اضطرار کی وہ صورت ہے، جو ہم سے کبھی منفک نہیں ہوتی۔ اس میں کافر و مسلم سب انسان ہونے کی حیثیت میں شامل ہیں۔ اس پر ہمارا جواب یہ ہے کہ قشیری رحمہ اللہ نے اسی شرعی واجب قرار دیا ہے۔ واجب کے اضطراری معنی میں شرعی ہونے کا کونسا پہلو ہے۔ اور اگر آپ کے نزدیک شرعی وجوب میں وجوب اضطرار کے معنوں میں ہے اور شرعی فطری کے معنوں میں ہے، تو پہلی گزارش یہ ہے کہ لفظوں کے ہیر پھیر سے لوگوں کو دھوکا دینا بند کریں۔ اپنے تحریر کو بہتر بنائیں تاکہ آپ اپنے موقف کو لوگوں تک درست انداز میں پہنچا سکیں۔ یہ عجیب منطق ہے کہ نظر کو آپ شرعی واجب قرار دیتے ہیں اور جب اس پر اعتراض کیا جاتا ہے، تو وجوب کو اس کے معروف معنی یعنی دینی حکم کی حیثیت میں ماننے کی بجائے، اسے اضطرار کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ اور شرعی جس کے واضح اور دو ٹوک معنی خدا کی نازل کردہ شریعت ہے، اسے فطرت میں ودیعت ہدایت کے معنوں کی طرف موڑ دیتے ہیں۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ فطری اور اضطراری کے اجتماع سے جو مفہوم بنتا ہے، اس میں عام مسلمان اور اہل علم کیسے جمع ہو سکتے ہیں۔ فطری اور اضطراری کو جمع کرنا آپ کے اختیار میں تھا، وہ آپ نے لفظوں کو توڑ مروڑ کر کردیا، اب عام مسلمان اور اہل علم کو نظر کے مفہوم میں کیسے جمع کریں گے۔ بالفرض آپ یہاں پر بھی صلاحیتوں کے تفاوت کو ممکن مانتے ہوئے، اضطرار کو لوگوں کے شخصی اور ذاتی احوال کے موافق چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص اپنی بساط بھر کوشش کرے گا کہ وہ حق کو پالے اور اس پر قلبی یقین پیدا کر لے۔ تو ہم بصد ادب عرض کریں گے کہ نظر کے وجوب کا یہی وہ مفہوم ہے، جو ہم اس تحریر کے آغاز میں بیان کر آئے ہیں۔ ہم نے گزارش کی تھی کہ نظر کے اضطراری استعمال میں ہر شخص اپنی بساط کا پابند ہے اور اسی کے اندر رہتے ہوئے، وہ اپنے تمام امور کی تدبیر کرتا ہے اور اپنے مسائل کا حل ڈھونڈتا ہے۔ لہذا نظر کے شرعی وجوب کا یہ سارا مبحث ہی محل نظر ہے۔ اس سے اتفاق کرنا ایمان کی حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے اور علم کی اساسیات سے روگردانی ہے

جہانگیر حنیف

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں