Home » ربا کیا ہے ؟
فقہ وقانون

ربا کیا ہے ؟

اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے آئین نے 1973ء میں ریاست پر لازم کیا تھا کہ وہ ”جتنی جلدی ممکن ہو، ربا کا خاتمہ کردے“۔ 2024ء میں 26 ویں ترمیم کے بعد الفاظ اب یہ ہیں کہ: ”یکم جنوری 2028ء سے قبل ربا کا مکمل خاتمہ کردے“۔2021ء میں وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں ربا کو تحفظ دینے والے قوانین کے خاتمے کے لیے یہی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس تاریخ کے قریب آنے کے ساتھ ہی ربا کے تحفظ کے لیے سرگرم لابی نے پھر پرانے دعوے دہرانے شروع کردیے ہیں کہ ربا کی تو تعریف ہی متعین نہیں ہے، اس پر اتفاق ہی نہیں ہے کہ کیا چیز ربا ہے اور کیا نہیں ہے، نہ ہی ناجائز ربا اور جائز منافع میں فرق کا معیار واضح ہے، وغیرہ ۔ 1991ء کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے، 1999ء کے سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ کے فیصلے اور 2021ء کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں ان دعووں کے تار وپود بکھیرے جاچکے ہیں۔ تاہم گوئبلز نے کہا تھا کہ غلط دعووں کو پورے یقین کے ساتھ اتنی بار دہراؤ کہ لوگ انھیں درست ماننے لگیں، اور ربا کے تحفظ کی لابی اسی فلسفے پر عمل پیرا ہے۔ اس لیے اہلِ علم کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو مسلسل آگاہی دیتے رہیں۔
ایچ ایل اے ہارٹ کی اصطلاحات استعمال کریں تو کسی بھی قانونی تصور کے مغز یا مرکز(core) اس کے سائے یا حاشیے (penumbra) میں فرق ضروری ہے۔ مثلاً اگر قانون میں یہ لکھا ہو کہ اس راستے سے گاڑیوں کا جانا ممنوع ہے، اور گاڑی (vehicle) کی قانونی تعریف یہ ہو کہ ہر وہ شے جو پہیوں سے چلتی ہو، تو موٹر کار، ٹرک اور بس کو گاڑی کہنے، اور بچوں کی تین پہیوں کی سائیکل اور سکیٹنگ کے جوتوں کو اس تصور سے باہر سمجھنے پر شاید ہی کسی کا اختلاف ہو۔ تاہم اس پر اختلاف ہوسکتا ہے کہ کیا بڑوں کی دو پہیوں پر چلنے والی سائیکل بھی اس قانونی مفہوم میں گاڑی ہے یا نہیں کیونکہ یہ اس تصور کے مرکز میں نہیں، بلکہ حاشیے میں واقع ہے۔ کیا مریض کو لے جانے والے سٹریچر کے متعلق کیا کہا جائے گا کیونکہ وہ بھی پہیوں پر چلتا ہے؟ رونالڈ ڈوورکن نے واضح کیا تھا کہ کسی چیز کو اس قانونی تصور کے اطلاق میں شامل کرنے یا نکالنے کا فیصلہ اٹکل پچو سے نہیں بلکہ منضبط قانونی اصولوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس روشنی میں ربا کے قانونی تصور پر غور کیجیے۔
یہ مفروضہ تو مانا ہی نہیں جاسکتا کہ جو فعل نہ چھوڑنے پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جانب سے جنگ کا اعلان کیا گیا ہو (سورہ البقرہ، آیت279)، اس فعل کا مفہوم ہی واضح نہ ہو۔ علمی حقیقت بھی یہی ہے کہ ربا کے قانونی تصور کے مغز پر مسلمان اہلِ علم کے ہاں ہمیشہ سے اتفاق پایا جاتا رہا ہے، اور جو بھی اختلاف واقع ہوا ہے وہ اس تصور کے حاشیےمیں آنے والی چیزوں پر ہے۔ ایسے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اٹکل پچو کے بجائے اسلامی شریعت کے اصولوں کی طرف ہی رجوع کرنا لازم ہے۔
ایک بڑی غلط فہمی پچھلی صدی میں ”قرآن کی ربا“اور ”سنت کی ربا“ کی تقسیم سے پیدا ہوئی۔ فقہائے کرام کے ہاں قرآن اور سنت میں دوئی نہیں پائی جاتی، بلکہ وہ سنت کو قرآن کی شرح مانتے ہیں۔ چنانچہ ان کے منہج کی رو سے ”الربوٰ“ ایک شرعی اصطلاح ہے، قرآن نے اسے حرام قرار دیا اور سنت نے اس کا مفہوم واضح کرکے بتا دیا۔ جیسے قرآن میں ”الصلوۃ“ اور ”الزکوۃ“ کی اصطلاحات کا مفہوم ہم لغت یا عرب معاشرے کے رواج سے نہیں، بلکہ سنت کی توضیحات اور تفصیلات سے متعین کرتے ہیں، ایسے ہی قرآن نے جس ربا کو حرام کیا، اس کا مفہوم ربا کے متعلق احادیث سے ہی معلوم کیا جائے گا۔ چنانچہ ”قرآن کی نماز“ اور ”سنت کی نماز“ یا ”قرآن کی زکاۃ“ اور سنت کی زکاۃ“ کی تقسیم کی طرح ”قرآن کی ربا“ اور ”سنت کی ربا“ کی تقسیم بھی غلط ہے۔
قرآن و سنت سے ربا کا جو تصور معلوم ہوتا ہے، اسے امام سرخسی نے الفاظ کا جامہ یوں پہنایا کہ: ” مال کے مال کے ساتھ تبادلے (بیع) کے معاہدے میں جب کسی فریق کےلیے کوئی ایسا اضافہ مشروط کیا جائے جس کے مقابل میں دوسرے فریق کےلیے کوئی عوض نہ ہو، تو یہ ربا ہے۔“ اس تعریف کے تین بنیادی عناصر ہیں1۔ بیع، یعنی مال کے مال کے ساتھ تبادلہ؛ چنانچہ جب تک مال کا مال کے ساتھ تبادلہ نہ ہو، ربا کا سوال پیدا نہیں ہوتا؛ 2۔ اس بیع میں کسی فریق کےلیے اضافے کی شرط رکھی جائے؛ چنانچہ اگر بیع کے معاہدے کے تحت کسی فریق پر دوسرے کو کچھ اضافہ دینا لازم نہ ہو، لیکن وہ اپنی جانب سے اسے زیادہ دینا چاہتا ہو، تو یہ ربا نہیں ہے؛ 3۔ اس مشروط اضافے کے عوض میں دوسرے فریق کےلیے کچھ نہ ہو؛ چنانچہ اگر دوسرے فریق کےلیے ایسا کچھ ہو، جو شرعاً اس اضافے کا جائز عوض بن سکے، تو پھر یہ اضافہ ربا نہیں ہے۔ یہ ربا کی آسان ترین اور واضح ترین تعریف ہے؛ اس میں ربا کی ہر صورت داخل ہے اور جو چیز اس تعریف پر پورا نہیں اترتی، وہ ربا نہیں ہے۔ یقین نہیں، تو اس تعریف کا اطلاق مختلف مثالوں پر خود ہی کرکے دیکھ لیجیے۔
ربا اور کاروباری منافع میں فرق کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شریعت کے اصولوں کی رو سے کاروباری منافع کے استحقاق کے لیے تین میں کوئی ایک سبب موجود ہونا چاہیے: 1۔ مال کو پہنچ سکنے والے نقصان کے اٹھانے کی ذمہ داری (ضمان)؛ 2۔ عمل کو پہنچ سکنے والے نقصان کے اٹھانے کی ذمہ داری؛ یا 3۔ مال ادھار خرید کر شراکتی کاروبار شروع کیا ہو، تو اس ادھار خریدے گئے مال کی قیمت (ثمن) ادا کرنے کی ذمہ داری۔
چنانچہ اگر کسی شخص نے کاروبار کے لیے مال تو دیا ہے، لیکن وہ اس کاروبار کے نقصان کا ضمان نہیں اٹھا رہا، اور اس کے باوجود وہ اس مال پر کوئی اضافہ مانگ رہا ہے، تو یہ کاروباری منافع نہیں، بلکہ ربا ہے؛ شرعاً وہ صرف اس مال کا مستحق ہے جو اس نے کاروبار کرنے والوں کو بطور قرض دیا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کاروبار میں مال تو نہیں دے رہا، لیکن عمل یعنی اپنی خدمات دے رہاہے، تو اس عمل کی بنا پر وہ اجرت کا تو مستحق ہوجاتا ہے، لیکن کاروباری منافع کا مستحق تب ہوگا جب وہ اس عمل کا ضمان بھی اٹھائے (جیسے مضاربہ میں ہوتا ہے)۔ تیسری صورت تو ہے ہی ضمان کی۔ پس معلوم ہوا کہ کاروباری منافع کے استحقاق کی بنیاد دراصل ”ضمان“ پر ہے۔ حدیث مبارک کے الفاظ ہیں: ”الخراج بالضمان“ (منافع کے حصول کا استحاق نقصان کی ذمہ داری اٹھانے پر ملتا ہے)۔ یہ حدیث اسلامی تجارتی قانون کا سب سے بنیادی اصول بتا رہی ہے۔ یہ اصول ناجائز ربا اور جائز کاروباری منافع میں فرق کےلیے معیار کی حیثیت رکھتا ہے جو بہت آسانی سے واضح کردیتا ہے کہ کون سا اضافہ ربا ہے اور کونسا جائز کاروباری منافع؟ یقین نہ ہو، تو مختلف معاملات پر اس اصول کا اطلاق کرکے خود ہی دیکھ لیجیے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ شریعہ وقانون کے چیئرمین ہیں اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ذیلی ادارہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

(mushtaq.dsl@stmu.edu.pk)

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں