مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی کتاب ”منصبِ امامت“ جو حکیم محمد حسین علوی کی ترجمہ شدہ ہے، اس پر مطبع کا نام حاجی حنیف اینڈ سنز درج ہے اور جس میں اہتمام محبوب الرحمٰن انور کا ہے۔ آخری صفحے پر ناشر کا نام طیب پبلشرز، ۵۔ یوسف مارکیٹ غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور درج ہے۔ اس کا سن اشاعت سنہ ۲۰۰۸ دیا گیا ہے۔ اس کے آخری صفحے پر ”امامِ انقلاب، مولانا عبیداللہ سندھیؒ“ کا ایک قول تقریظاً درج ہے کہ: ”ہمارے نزدیک صدر الشہید مولانا شاہ محمد اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے ”منصبِ امامت“ اپنے جدِ امجد حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مقامِ رفیع کی تشریح کرنے کے لیے لکھی تھی۔“
”امام انقلاب“ مولانا عبیداللہ سندھی کے اس قول کے روبرو ان اوصاف کو دیکھ لینا ضروری ہے جو مولانا شاہ اسماعیل دہلوی اپنے مزعومہ ”امام“ میں لازمی شرط کے طور پر بیان کیے ہیں:
(۱) ”چنانچہ امامِ حقیقی کی ذات بابرکات میں نبوتِ تامہ کی صفت رکھی گئی ہے۔“ (ص۔ ۱۳۶)
(۲) ”خلیفۂ راشد نبی حکمی ہے۔“ (ص۔۱۲۲) اس میں مولانا شاہ صاحب ”پایۂ رسالت“ کی نفی فرماتے ہیں لیکن نبوت کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ وہ ایک دوسری جگہ ”خلیفۂ راشد“ کی نئی تعریف متعین کرتے ہیں۔ ”خلیفۂ راشد وہ شخص ہے جو منصب امامت رکھتا ہو اور سیاست ایمانی کے معاملات اس سے ظاہر ہوں۔ جو اس منصب تک پہنچا وہی خلیفۂ راشد ہے۔“ (ص۔ ۱۱۶)
(۳) ”منجملہ ان کے امام کے حکم سے شرعی حکم کا ثبوت ہے۔“ (ص۔۱۲۴)
(۴) ”ایک ان میں سے یہ امر ہے کہ امام کا حکم نصِ حکمی ہے۔“ (ص۔ ۱۲۵)
(۵) ”ایک امر یہ ہے کہ قوانین ریاست اور آئین سیاست جو خلیفۂ راشد سے ظاہر ہوتے ہیں سنت نبویہ کا حکم رکھتے ہیں۔“ (ص۔ ۱۲۶) مولانا شاہ صاحب کی تحریروں سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی رسالت اور نبوت میں فرق کرتے ہیں جس سے وہ ایک علمی اور ایمانی مفاد حاصل کرتے ہیں، اور اپنے امام کو ”نبی حکمی“ قرار دے کر ایک نئی نبوت کا عقیدہ سامنے لاتے ہیں۔
(۶) ”ایک امر یہ ہے کہ امامِ مہتمم کے احکام سنت ہیں۔“ (ص۔ ۱۲۶)
(۷) مولانا شاہ صاحب نے ”شرع“ کی ایک نئی تعریف متعین کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے: ”پس ”شرع“ مجموعہ کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہ اور احکام خلیفۃ اللہ سے مستفاد امور سے مراد ہے۔ جیسا کہ کتاب و سنت اصولِ دین متین سے ہے، ایسا ہی حکمِ امام ادلۂ شرع مبین سے ہے۔ اور جس طرح سنت کو کتاب اللہ سے دوسرا درجہ حاصل ہے ایسا ہی حکمِ امام سنتِ رسول سے دوسرے درجہ پر ہے۔ پس اصل کتاب اللہ ہے اور اسے واضح کرنے والی سنت نبوی اور اس کا مبیّن امام ہے۔ کتاب اللہ پر ایمان سب سے اول ہے اور ایمان بالرسول بعدہٗ ہے اور خلیفۃ اللہ پر یقین تیسرے درجے پر ہے۔“ (ص۔ ۱۲۷) شریعت کی اس نئی تعریف کے بعد اس دین کی کوئی چیز باقی رہ گئی ہو جس کے ساتھ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہوئے ہیں تو مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے منصب داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو عامۃ المسلمین پر واضح فرمائیں۔
(۸) امام کی تشریعی حیثیت کو مؤکد کرتے ہوئے بطور اعادہ مولانا شاہ صاحب فرماتے ہیں: ”ایک امر یہ ہے کہ حکمِ امام بھی نصِ حکمی ہے جو نصِ حقیقی سے دوسرے مرتبے پر ہے اور دیگر ادلۂ شرعیہ سے قوی ہے۔ چنانچہ بہت چیزیں ہیں جن کے بیان سے کتاب اللہ ساکت ہے اور سنت نبویہ ان کو واجب اور حرام بتاتی ہے۔ ایسے ہی بہت سی باتیں ہیں کہ دلائل کتاب و سنت کے ملاحظے سے دونوں طرف دلائل موجود ہیں۔ پھر امام کا حکم ان کو واجب یا حرام ٹھہراتا ہے۔“ (ص۔ ۱۲۸)
اب ”امام انقلاب“ عبیداللہ سندھی کا موقف زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ایسے مواقف کو حضرت شاہ ولی اللہؒ کی طرف منسوب کرنا قطعی ظلم کے درجے میں آتا ہے اور ان کا بڑے شاہ صاحب کی ذات والا صفات سے کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔ چونکہ ہمارے ہاں حضرت شاہ ولی اللہؒ کے افکار کی تعبیر متداولہ میں ”امام انقلاب“ عبیداللہ سندھی کا بڑا دخل اور اثر ہے، اس لیے انھوں نے مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے ان مواقف کی شناعت کا سامنا کرنے کی بجائے انھیں حضرت شاہ ولی اللہؒ سے منسوب کر دیا تاکہ بات ڈھپ ہو جائے۔ لیکن اس فکری چالبازی سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے افکار پر علمی گفتگو کی یقیناً ضرورت ہے اور اولاً اس کا تناظر طے کرنے کی ضرورت ہے۔ علم کی گفتگو صرف معقولات کے تناظر میں ہی ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے باہر مذہبی گفتگو فرقہ واریت کو جنم دیتی ہے۔ اس میں کلام نہیں کہ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی پر بڑے شاہ صاحب کے افکار کا گہرا اثر ہے، لیکن ان کے موقف کو ان کے جد امجد سے منسوب کرنا قطعی قرین انصاف نہیں ہے۔
گزارش یہ ہے کہ مغربی جدیدیت کے فکری، سیاسی اور معاشی پہلوؤں تک رسائی کے تین بڑے راستے ہیں: لبرلزم، اشتراکیت اور فسطائیت۔ اپنے تہذیبی تناظر اور سطح وجود میں یہ تینوں تناظر ایک ہی ہیں، یعنی ان کا تہذیبی ورلڈ ویو ایک ہی ہے اور اپنی معاشی اور سیاسی فکر میں اور اپنی سطح وجود میں یہ مکمل طور مادی ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل، آل انڈیا مسلم لیگ نے جس سیاسی تناظر اور نظام میں سیاسی جدوجہد کی وہ بنیادی طور پر استعماری جدیدیت کا دیا ہوا تھا اور لبرلزم پر اساس رکھتا تھا۔ ہماری تمامتر مذہبی سیاست مختلف راستوں سے انھیں تین نظریات تک پہنچتی ہے لیکن ان کا مکھوٹہ ہمیشہ مذہبی ہوتا ہے۔ مثلاً علامہ مشرقی نے فسطائی سیاسی اور معاشی تصورات کو ”اسلامی“ کہہ کر ان کو یہاں فروغ دینے کی ناکام کوشش کی۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے اشتراکیت کو اختیار کر کے اسے ”اسلامی“ بنایا، جبکہ مولانا مودودی نے لبرل سرمایہ داری نظام کو ماڈل کے طور پر اختیار کیا۔ صدر اول میں ابوالحکم کو بجا طور پر ابوجہل قرار دیا گیا، اور ہمارے سیاسی علما نے ”جدید ابوجہل“ کو ”جدید اسلامی ابوالحکم“ بنا کر پیش کیا۔ ہمارے تمام سیاسی علما نے مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی پیروی کی ہے اور ان کے سیاسی نظریے کے بنیادی اصول میں نے اوپر درج کر دیے ہیں، اور ان کی مزید تفصیل میں احباب کی نذر کرتا رہوں گا۔
لبرلزم، اشتراکیت اور فسطائیت میں بنیادی نزاع ایک سوال پر ہوا ہے کہ ”کیا سرمایہ سیاسی ہے یا ہو سکتا ہے؟“ ان سب نظریات کا ایک ہی جواب ہے کہ سرمایہ سیاسی ہے۔ ان کے مابین شدید اختلاف اس امر پر ہوا کہ ”سرمایہ تو یقیناً سیاسی ہے لیکن اس کے انتظام میں جدید ریاست کا کیا رول ہو گا؟“ خود جدید ریاست نے اپنی تشکیل عین اسی سوال کے روبرو کی ہے۔ انسانی آزادی، حقوق انسانی، آئینی مسائل اور ساورنٹی کے سوالات بھی اسی محل سے برآمد ہوئے ہیں۔ لبرلزم/لبرل سرمایہ داری نظام، اشتراکیت اور فسطائیت کے نظریات روئے زمین پر سب سے بڑی کرپشن ہے، جس نے فطرت معاشرہ اور خلقت انسانی کو بھی کرپٹ کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسی کرپشن ہے جس کو کسی مذہبی رنگ و روغن سے بھی نہیں چھپایا جا سکتا۔ اس کا جواب صرف اسلام دیتا ہے اور جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی رحمۃ للعالمینی کا تاریخی مظہر ہے۔ طاقت اور سرمایہ انسانی معاشروں کے ایسے توامی مظاہر ہیں جن میں فروق کو باقی رکھتے ہوئے گفتگو مسلم معاشرے میں شاید ممکن نہیں رہی کیونکہ ہم دین کی رہنمائی میں تاریخ کا سامنا کرنے سے ہی مکر گئے ہیں اور اپنی دنانیت میں ہر مغربی فلسفے کو اسلامی بنا کر پیش کرنا اپنی فطرت ثانیہ بنا چکے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی کتاب ”منصب امامت“ کے بعد ”اماموں“ کا ایک سلسلۃ الذہب ہے جو امت کی سرباری لیے ہوئے مسائل کے حل میں کوشاں ہے۔
یہاں مذہبی سیاست کے ایک اہم پہلو کو پیش نطر رکھنا ضروری ہے کہ مابعد تمام علما سیاستدانوں نے اپنے تشریعی اختیارات کو مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے دریافت کردہ ”امام“ کے تتبع میں بے دریغ استعمال کیا ہے، اور وہ جدیدیت کو عینِ دین اور شریعت بنانے کا ہے۔ اس پہلو سے ہمارے نام نہاد ”غیر سیاسی علما“ بھی اس تشریعی دوڑ میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔




کمنت کیجے