Home » وجودِ ذہنی و وجودِ خارجی کا خلطِ مبحث اور متکلمین
اسلامی فکری روایت • شخصیات وافکار • کلام

وجودِ ذہنی و وجودِ خارجی کا خلطِ مبحث اور متکلمین

ہم نے عرض کی تھی کہ سیٹ تھیوری میں جس قسم کے نرے ذھنی امکان کو پیش کرکے حوادث لا اول لھا کی صورت عالم کے قدیم ہونے کے امکان کو کوئی توپ چیز یا نئی قسم کی دریافت سمجھ کر پیش کیا جارہا ہے، یہ سب پرانی باتیں ہیں جو متکلمین فیس کرچکے ہیں۔ یہاں ہم اس کی ایک مثال پیش کرنا چاہتے ہیں۔

ہمارے سامنے اس وقت امام رازی (606 ھ) کی کتاب “معالم اصول الدین” پر علامہ تلمسانی (م 644 ھ) کی لکھی ہوئی شرح ہے۔ آپ اعراض (accidents) کی اقسام کے ضمن میں ان اعراض پر گفتگو کررہے ہیں جن کے مفہوم ہی میں نسبت کا معنی شامل ہے، یعنی جن کا حصول کسی نسبت کو لازم ہے۔ انہیں نسبتی اعراض بھی کہتے ہیں جیسے کسی شے میں یا اس سے باہر ہونے (کون) کی نسبت، متقابلات (باپ و بیٹا ہونا)، فعل و انفعال بمعنی تاثیر و تاثر وغیرہ۔ متکلمین کا موقف یہ ہے کہ ان نسبتوں کا کوئی خارجی وجود نہیں جس کے مختلف دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ اگر اضافات یا نسبتی تعلقات کا خارج میں وجود مانا جائے، تو چونکہ وہ بذاتِ خود قائم نہیں ہوسکتے (بلکہ کسی محل یا موصوف کے محتاج ہوتے ہیں جن کے مابین وہ تعلق کو بیان کررہے ہوتے ہیں)، اس لیے انہیں کسی محل میں قائم ہونا پڑے گا۔ اب اس نسبت کا اپنے محل کے ساتھ قائم ہونا خود ایک اور نئی نسبت یا تعلق ہے۔ ایسے میں اس دوسری نسبت کے لیے تیسری نسبت کی ضرورت ہوگی، اور یہ سلسلہ بغیر کسی حد لامتناہی چلتا رہے گا جو کہ باطل ہے۔

آپ کہتے ہیں کہ معتزلہ میں سے معمر (م 215 ھ) نے نہ صرف یہ کہا کہ یہ نسبتیں بھی خارج میں موجود ہیں بلکہ اس نے اس الزام کو بھی قبول کیا کہ نسبتوں کے آپسی قیام کا یہ لامتناہی تسلسل بھی خارج میں موجود ہے۔ علامہ تلمسانی نے اس لامتناہی تسلسل کو باطل قرار دینے کی اس مقام پر دلیل بیان کی ہے (یہاں اس کی تفصیل مقصود نہیں)۔ اس کے بعد آپ معمر کے اس موقف کو درست قرار دینے والوں کی جانب سے ایک شبہ لاتے ہیں اور وہ یہاں اہم ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

ولا يلزمنا عليه تضعيف مراتب الأعداد، فإن الآحاد والعشرات والمئين والآلاف تضعيف في كل رتبة إلى ما لا يتناهى، وقد دخلها الأكثر والاقل
مفہوم: اور اس (ابطالِ تسلسل) کے خلاف ہم پر اعداد کے مراتب کے اضافے (Progressive        Scaling         or        Multiplication) ) سے کوئی اعتراض لازم نہیں آتا کہ اکائیوں، دہائیوں، سیکڑوں اور ہزاروں کے مراتب میں ہر مرتبے کا اضافہ لامتناہی حد تک ہوتا ہے اور اس میں بھی کم اور زیادہ (لامتناہی) کا شمار داخل ہوجاتا ہے۔

یعنی ناقد کہہ رہا ہے کہ اعداد کو 10، 100، 1000 یا اربوں اور لامتناہی سے ضرب دیتے چلے جانے اور ان میں کمی بیشی فرض کرنے میں کوئی عقلی مانع و تضاد نہیں ہے، پس اگر یہ جائز ہے تو نسبتوں کے تعلقات کا لامتناہی تسلسل بھی جائز ہے۔ علامہ تلمسانی یہ جواب دیتے ہیں:

لأنا نقول: تلك الأمور اعتبارات ذهنية ولا مانع من اعتبارات لا نهاية لها، وما ادعاه أمور محققة موجودة، فهي في الاستحالة نظير ما سلمه من استحالة وجود جسم لا نهاية له مكانًا
مفہوم: یہ اعتراض اس لئے درست نہیں کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ یہ سب امور (یعنی اعداد کے مراتب و اضافے) محض ذہنی اعتبارات (       mental constructs) ہیں، اور ایسے لامتناہی ذہنی اعتبارات کے ماننے میں کوئی چیز مانع نہیں۔ جبکہ اس (معمر معتزلی) نے ان چیزوں کے خارجی طور پر موجود ہونے کا دعوی کیا ہے، ان کا محال ہونا بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ اس نے خود اس بات کے محال ہونے کو تسلیم کیا ہے کہ مکان میں کسی لا متناہی جسم کا وجود ناممکن ہے۔

جی ہاں، اعداد کا ذھن میں لامتناہی ہوتے چلے جانا یہ “الأمور اعتبارات ذهنية” ہے، جبکہ بحث “أمور محققة موجودة” کے دعوے کے بارے میں ہے۔ ذھنی اعتبارات و تخیلات کسی بھی شے کے بارے میں کچھ بھی بنائے جاسکتے ہیں اور لامتناہی کی تخیل کاری پر کوئی پابندی نہیں، خارجی طور پر یہ محض نتھنگ کے بارے میں ہے جس کا کوئی خارجی ریفرنٹ نہیں۔ یہ تخیل کسی شے کا وجود نہیں ہے بلکہ صرف تخیل کا وجود ہے (       this        is        not        existence        of something ,        it        is        existence        of        imagination         of        something)۔ آپ اپنے تخیل میں کھیر کی ایک لامتناہی سی بڑی دیگ پکا سکتے ہیں، تخیل میں آپ خدا کو بہت ہی بڑا سا جسم بھی سوچ سکتے ہیں جو اتنا بڑا ہے کہ پورا عالم اس کی ھتھیلی پر رکھا ہو، لیکن یہ تخیل کسی لامتناہی کھیر اور اس کے امکان کا وجود و ثبوت نہیں ہے بلکہ یہ صرف اس کے خیال کا وجود ہے اور علامہ تلمسانی بتارہے ہیں کہ کسی شے کے خیال کا وجود و امکان اس شے کا وجود و امکان نہیں ہے۔ جب دیگر دلائل سے یہ معلوم ہو کہ خارج میں لامتناہی کا تحقق ممکن نہیں تو ذھنی تخیلات دلیل نہیں بن سکتے۔ آپ نے معمر کو یہ الزامی جواب دیا ہے کہ خارج میں یہ لامتناہی تسلسل اسی طرح محال ہے جیسے خود اس کے مطابق خارج میں کسی مکانی لامتناہی جسم کا ہونا محال ہے اگرچہ ذھن ایسے جسم کا بھی اعتبار و تخیل قائم کرتا ہے یا ایک متناہی جسم بڑا ہوتے ہوتے لامتناہی ہوجائے۔ اس سے زیادہ بوگس بات کیا ہوگی کہ کوئی شے ایک ایک ایک کے اضافے سے لامتناہی ہوجائے یا کوئی لامتناہی شے ایک ایک ایک کے اضافے سے آھستہ آھستہ مکمل بھی ہوجائے یا گزر جائے! ایسے خیالات کو خارج سے متعلق سمجھنا، یہ نادانی و ھذیان (hallucination) ہے۔

الغرض سیٹ تھیوری کو بنیاد بنا کر حوادث لا اول لھا کے لئے جس قسم کی باتیں بنائی گئی ہیں، متکلمین نے انہیں ذکر کر رکھا ہے۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں