سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے بعد، برصغیر میں مسلم معاشرے کو درپیش سیاسی طاقت کا بحران بہت واضح ہو چکا تھا، اور اس میں اول مستجاب (response) ہمارے مذہبی اہل علم کی طرف سے سامنے آیا۔ اٹھارھویں صدی میں کلام، فقہ، تصوف، حدیث اور قرآن مجید کے شعبوں میں نئی تعبیر اور نئی مذہبی فکر کے سب سے بڑے نمائندے حضرت شاہ ولی اللہؒ ہیں۔ ان کی مجموعی تعلیمات کے، غلط یا صحیح، جو ایمانی، علمی اور سیاسی استنباطات ہو سکتے تھے، وہ عملی طور پر تحریک مجاہدین میں اور نظری اور نظریاتی طور پر مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی کتب ”تقویۃ الایمان“ (عقائد)، ”منصبِ امامت“ (فقہ و شریعت)، ”صراطِ مستقیم“ (سلوک و تصوف) اور ”عبقات“ (عرفان) میں برگ و بار لائے۔ اسی باعث مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ ارشاد بہت صائب ہے کہ تجدید و احیا میں مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کو تمام فکری وسائل اپنے خاندان سے ہی حاصل ہوئے اور یہ کہ کارِ عزیمت میں ان کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ اگر بڑے شاہ صاحب بھی زندہ ہوتے تو ان کے جھنڈے تلے ہوتے۔ مولانا آزاد کے ارشاد کا جو مطلب میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی پوری فکر، اور خصوصاً سیاسی فکر، سیدین کی تحریک اصلاح و جہاد میں اپنے تہذیبی اور مذہبی امکانات کو مکمل کر لیتی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی پوری فکر مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی ان چار کتابوں میں سمٹ آئی ہے اور آگے چل کر یہی کتابیں ہماری نام نہاد جدید ”دینی روایت“ کی بنیادگزار ثابت ہوئیں۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی فکر کے حوالے سے مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی وہی حیثیت ہے جو شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کے حوالے سے صدر الدین قونویؒ کی ہے۔ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے ہاں بڑے شاہ صاحب کی فکر منضبط و مرتب ہو کر ایمانیات، فقہ و شریعت، سلوک اور عرفان میں ایک استناد کے ساتھ سامنے آئی ہے۔
اس تناظر میں، ”منصبِ امامت“ ہماری گزشتہ دو سو سالہ تاریخ میں مذہبی سیاسی فکر کی سب سے بنیادی اور بڑی دستاویز ہے، اور جس کے ”علمی“ اور ”ایمانی“ مشمولات ”تقویۃ الایمان“ سے اخذ شدہ ہیں۔ لہٰذا، یہ کہنا قرینِ انصاف ہے کہ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی جدید مذہبی اور سیاسی فکر کے بانی اور اس کے سب سے بڑے نمائندے ہیں۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے مذہبی سیاسی ”مفکرین“ دراصل مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی سیاسی ”فکر“ کا ہی ایک تسلسل ہیں۔ ہماری مابعد مذہبی سیاست دو ذریعوں سے تحریک اصلاح و جہاد سے جڑی ہوئی ہے: ایک سیدین کا سیاسی عمل اور دوسرا ان کی مذہبی ”سیاسی فکر“، جبکہ مذہبی تجدد اس تحریک کے صرف ”اصلاحی“ منصوبے کا تسلسل ہے، اور اس پر ”تقویۃ الایمان“ اور ”منصب امامت“ کے منہجِ علمی کا اثر بہت گہرا ہے۔ یہ بلاوجہ نہیں ہے کہ آپسی نورا کشتی میں مصروف ہمارے علما سیاستدان اور متجددین سب مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے لیے رطب اللساں رہتے اور انھی کا پانی بھرتے ہیں؛ اور ان کا جھگڑا ویسا ہی ہے جیسا والدین کی وفات کے بعد جائیداد پر اولاد کا تنازعہ ہو جاتا ہے۔ یہ سب اپنے اپنے سیاسی asset کے لیے جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ بریلوی حضرات چونکہ صوفی منش ہیں اور موتوا قبل ان تموتوا کے احوال میں ہیں، اس لیے وہ جدید سیاسی ”فکر“ کے بارے میں اتنا ہی جانتے ہیں جتنا مجھے ڈائنوسارز کا علم ہے، لہٰذا اس گفتگو کا موضوع نہیں ہیں کیونکہ ان کے ہاں کسی بھی طرح کی سیاسی یا غیرسیاسی فکر شاید موجود ہی نہیں ہے۔ یہاں ضمناً عرض کرنا ضروری ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد تحریک مجاہدین کے سیاسی عمل کی تصویب نہیں کرتے اور وہ قائدین تحریک کے صوبہ سرحد (موجودہ کے پی کے) میں کیے گئے اکثر عملی اور سیاسی فیصلوں سے غیرمطمئن نظر آتے ہیں۔ لیکن اس میں حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ مولانا آزاد اسی تحریک کے تتبع میں اپنے اور اپنی جماعت کے سیاسی اعمال کو درست سمجھتے ہیں اور گاندھی جی کی سیاسی سیادت پر بہ دل و جاں یکسو ہیں۔ یاد رہے کہ مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے نزدیک سیاسی سیادت کا حامل امام ”نبیِ حکمی“ ہوتا ہے، اور وہی قیادت کا حق دار ہوتا ہے۔ یہاں اس امر کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ مولانا آزاد اور مولانا مدنی نے گاندھی جی کی ”سیادت“ کو تسلیم کرنے کے بعد اپنے سیاسی موقف کو مذہباً درست ثابت کرنے کے لیے دینی وسائل ہی کو استعمال کیا تھا اور اسے دین کے عین مطابق قرار دیا تھا۔
گزشتہ دو سو سال میں ہمارے متجددین اور علما سیاستدانوں نے تحریکِ اصلاح و ج.ہا.د سے متوارث اپنی فکر کو ”اسلامی“ کے نام پر نہ صرف جواز دیا ہے بلکہ اسی جواز پر بڑی بڑی سیاسی تحریکیں بھی اٹھائی ہیں۔ اس میں اولاً دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ وہ ”اسلامی“ کیونکر ہیں؟ کسی بھی عمل کے ”اسلامی“ ہونے کا بنیادی سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ صراحتاً اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا قول ہے یا حکم ہے اور دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے علما سیاستدانوں کا ارشاد یا عمل ہے۔ اس میں گزارش یہ ہے کہ اول الذکر کے ”اسلامی“ ہونے میں ایک عمومی اتفاق پایا جاتا ہے جبکہ سیاسی علما یا علما سیاستدانوں کے ارشاد سے بھی کسی چیز کے ”اسلامی“ یا ”غیر اسلامی“ ہونے میں ہمارا سر تسلیم خم ہے بشرطیکہ اس کے قوی شرعی اور عقلی دلائل موجود ہوں نہ کہ اسے فرقہ وارانہ جبر اور طبقاتی قوت سے ”اسلامی“ کے طور پر مسلط کیا گیا ہو۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کے کچھ احکام ایسے ہیں جن کو آج کی زبان میں اجتماعی یا سیاسی کہا جا سکتا ہے، اور وہ بہت محدود ہیں۔ مثلاً عدل قائم کرنے کا حکم ہے، سود کے خاتمے کا حکم ہے، زکٰوۃ کا نظام قائم کرنے کا حکم ہے، حدود کے نفاذ کا حکم ہے، اور گھوڑے ہر وقت تیار رکھنے کا حکم ہے، یعنی ہر وقت ج.ہا.د کے لیے تیار رہنے کا حکم ہے۔ اور ان احکام میں بھی وہ مسلمان مخاطب ہیں جو ان کاموں کے مکلف ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ وہ اولوا الامر ہی ہیں یعنی جن کے پاس سیاسی طاقت پہلے سے موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان احکام سے کون سا سیاسی نظریہ پیدا کیا جا سکتا ہے؟ لیکن ہمارے علما سیاستدانوں نے اپنے سیاسی عمل کے لیے مذہبی جواز کے ساتھ ”متحدہ قومیت کا نظریہ“ ان احکام کے ہوتے ہوئے پیش کیا، اور وہ یہ ”اسلامی“ نظریہ پیش نہیں کر سکتے تھے اگر مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی منہج علمی کو بروئے کار نہ لایا جاتا کیونکہ شاہ صاحب اطاعتِ عینی کے تحت خود ”نبیِ حکمی“ کے اختیارات بروئے کار لا رہے تھے۔ صریح حکم الہی کے روبرو ویسی ہی نظریہ سازی تو ممکن ہو سکتی ہے جیسی ان تذبحوا بقرۃ کے جواب میں بنی اسرائیل کے ہاں سامنے آئی تھی، اور ہمارے مذہبی سیاسی نظریات کی حیثیت بھی ویسی ہی ہے، اور اوامر الہی سے نکلنے کے راستے فراہم کرتی ہے۔ ہمارے ہاں اب تک مذہبی نظریہ سازی مکمل ہو چکی ہے اور جو ترکِ حکمِ شرعی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی تھی۔ ”اسلامی نظام“ نافذ کرنے کا کوئی تعمیمی حکم شریعت یا دین میں موجود نہیں ہے اور ”اسلامی نظام“ خود جدید اصطلاح ہے اور ک.فا.ر کے تتبع میں اختیار کی گئی ہے۔ دین و شریعت کے صریح احکام کو ”اسلامی نظام“ قرار دینا نظریہ سازی ہی کی طرف پیشرفت ہے۔ یہاں اس امر کو مؤکد کرنا ضروری ہے کہ نظریہ اور نظام دونوں انسان کی اپنے عقلی وسائل سے بنائی گئی چیزوں کے نام ہیں جبکہ مذہب مکمل ہدایت ہے اور کوئی نظریہ یا نظام نہیں ہے، کیونکہ ہدایت الوہی ہے اور نظریہ و نظام قطعی دنیوی چیزیں ہیں۔ اولوا الامر کے لیے دین و شریعت کے احکام بہت واضح ہیں اور تخصیص رکھتے ہیں۔
ہم عصر دنیا میں ”اسلامی“ اور ”شرعی“ کے فرق کو دیکھنا ازحد ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں ہم معنی نہیں ہیں۔ ”شرعی“ سے مراد وہ احکام ہیں جو شریعت میں داخل ہیں۔ مسلمان ہونے کی واحد معنویت ہی یہ ہے کہ اس کا مدارِ عمل شریعت اور شرعی احکام ہیں، کوئی نظریہ یا مابعدالطبیعات نہیں ہے۔ شرعی احکام میں تعمیم یا تخصیص ہو سکتی ہے، لیکن انسانی عمل سے ان کی نسبتیں طے شدہ ہوتی ہیں۔ شاید ہی کوئی انسانی عمل ہو جس سے متعلق شرعی احکام موجود نہ ہوں۔ کسی عمل انسانی پر شرعی کی بجائے اسلامی کی ججمنٹ لانا ہماری روایت میں ایک جذری تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ شرعی کا مطلب ہے انسانی عمل سے شرعی حکم کی نسبتوں کو باقی رکھتے ہوئے اسے مدار عمل بنانا، جبکہ ”اسلامی“ کا مطلب ہے انسانی عمل سے امرِ الہی کی نسبتوں کا ختم کر کے اسے ”مذہبی علم“ یا کسی ”مذہبی نظریے“ کے تابع کر دینا۔ انسانی عمل کا شرعی حکم کے تابع ہونا اور کسی غیرمتعین اور مبہم مذہبی علم یا نظریے کے تابع ہونا دو قطعی مختلف صورتیں ہیں۔ ہمارے ہاں مذہبی ”مفکرین“ کی کثرت اسے لیے سامنے آئی تاکہ انسانی عمل کو شرعی سے منقطع کر کے اسلامی کے تابع کیا جا سکے، اور اسلامی سے مراد ان کے صوابدیدی نظریات ہیں جو مذہبی زبان اور اصطلاحات میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ اہل اسلام کی طرح، جدیدیت بھی اعمال انسانی کی ایک پوری تقویم رکھتی ہے۔ دینی تناظر میں، جدیدیت پر ہمارا بنیادی سوال ہی یہ ہے کہ اس میں انسان کا مدارِ عمل کیا ہے؟ جدیدیت میں انسانی عمل کا مدار علم ہے جبکہ اسلام میں مدارِ عمل شریعت ہے۔ اس فرق کو پیش نظر رکھے بغیر نہ جدیدیت کی تفہیم ممکن ہے اور نہ اسلام کی۔ ہمارے مذہبی ”مفکرین“ نے جدیدیت کے تتبع میں انسان کے مدارِ عمل کو علم پر منتقل کرنے کے لیے پورے دین ہی کو صوابدیدی تعبیرات کا ہدف بنا لیا، اور نہایت ہی انگھڑ اور قطعی غیرمعقول نظریات بنائے اور ان کو مذہبی اصطلاحات میں پیش کیا۔ ہمارے مذہبی ”مفکرین“ کے سارے نظریات مغربی نظریات کا چربہ ہیں جنھیں نہایت چابک دستی سے مذہبی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ ان نظریات کے لیے ”شرعی“ کا لفظ تو استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا اس لیے مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے انھیں ”اسلامی“ قرار دیا گیا۔ اصلاً کسی بھی شرعی چیز کو اسلامی یا غیر اسلامی کہنا ترکِ شریعت اور ترکِ عقل کا پہلا قدم ہے۔ جدیدیت کی خاص الخاص پہچان یہ ہے کہ وہ انسانی عمل کو علم کے تابع لانا چاہتی ہے جبکہ دینِ اسلام عمل کو شریعت کے تابع رکھنے کا نام ہے۔ اس حوالے سے مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی کتاب ”تقویۃ الایمان“ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مذہبی طور پر عمل کا شرعی اور غیرشرعی ہونا اہم ہوتا ہے، اور کسی عمل کا بدعت ہونا بھی شرعی مسئلہ ہے۔ مولانا شاہ صاحب نے اپنی اس کتاب میں مدارِ عمل کو توحید تشبیہی پر منتقل کر دیا، اور اس سے نہ توحید باقی رہی اور نہ شریعت، اور ان کے بعد تو مذہبی ”مفکرین“ نے نظریہ سازی کی گرنیاں ہی چالو کر دیں۔ اس طرح عقیدہ اور شریعت فرقہ بازی میں کھپ گئے اور علما کی طبقاتی تشکیل کے لیے ”نظریاتی“ سیاست بازی کا بازار گرم ہو گیا۔
گزارش ہے کہ اجتماعی (سیاسی اور معاشی) معاملات کے حوالے سے مسائل اور پیچیدگیاں اس وقت پیدا ہوئیں جب سیاسی طاقت مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتی رہی تھی اور شریعت سے رہنمائی لینے کی بجائے احیا اور تجدید کے نئے نئے ”نظریات“ سامنے آنا شروع ہو گئے تھے، اور ان نظریات کا ابوالآبا مولانا شاہ صاحب کا منصبِ امامت کا سیاسی نظریہ ہے۔ شاہ صاحب کا یہ نظریہ نبوت پر براہ راست نقب ہے کیونکہ وہ سیاسی قائد یا امام کو ”نبی حکمی“ مانتے ہیں اور اس کے لیے نبوت تامہ، الہام تشریعی، عصمت، اور بعثت ثابت کرتے ہیں۔ ہمارے علما سیاستدانوں نے شاہ صاحب کے منصبِ امامت کے نظریے کو عین ”اسلامی“ کا عنوان دے کر اس کو برصغیر کے مسلم معاشرے میں فروغ دیا، اپنی طبقاتی تشکیل کو مستحکم کیا اور مذہبی تعبیر پر جبری اجارہ داری کو تکفیر کے ذریعے ایک روزمرہ حقیقت بنا دیا۔ عقل اور شریعت کے دائرے میں یہ سیاسی نظریہ اور مابعد سامنے آنے والے مذہبی سیاسی نظریات قابل دفاع ہی نہیں ہیں کجا یہ کہ انھیں اسلامی بھی قرار دیا جائے۔ شرعی اور عقلی دلائل کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہمارے علما سیاستدانوں نے جبری اور تکفیری ذرائع سے انھیں عوام پر مسلط کیے رکھا ہے اور اجباری قوت کے حصول کے لیے مذہبی جماعتیں جدید ریاست کے ساتھ ہمیشہ سازباز میں رہی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نظریے کے نئے نئے اڈیشن سامنے آتے رہے ہیں جن میں ایک فرق بنیادی ہے۔ شاہ صاحب کا نظریہ تو نبوت پر نقب سے دین و شریعت کی بنیاد ہی ڈھا دیتا ہے جبکہ مابعد مذہبی سیاسی نظریوں میں ک.فا.ر کے سیاسی نطریات کو اختیار کر کے انھیں مذہبی اصطلاحات میں پیش کیا گیا ہے۔
اس موقع پر یہ جاننا ضروری ہے کہ مسلمانوں کی طاقت کے خاتمے کے بعد اس کے ازسر نو قیام کا شرعی طریقہ کیا ہو گا؟ مسلم معاشروں میں سیاسی طاقت کے قیام و انہدام کے معاملے میں، میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا پیروکار ہوں۔ مسلم سیاسی طاقت کے خاتمے کو انھوں نے دارالاسلام کا خاتمہ اور دارالحرب کے قیام سے تعبیر کیا ہے۔ یہ کوئی فتویٰ نہیں ہے ایک تھیوری ہے، کیونکہ فتویٰ فرد کے اعمال جوارح پر دیا جاتا ہے بھلے وہ فرد، عام آدمی ہو یا صاحبِ امر ہو۔ دارالاسلام یا دارالحرب کا موضوع عام فرد یا صاحبِ امر نہیں ہے، بلکہ یہ سیاسی طاقت کی تاریخی صورت حال کو بیان کرتا ہے، اور اسے تاریخ میں سیاسی طاقت کی حرکیات کے بارے میں ایک تھیوری ہی کہا جا سکتا ہے۔ آج کے دور میں، دارالاسلام اور دارالحرب کی فقہی تکییف کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک سیاسی طاقت کے بارے میں ان عقلی تصورات کی نظری تفہیم نہ کر لی جائے جن پر وہ قائم ہوتی ہے اور جس سے وہ جواز پاتی ہے۔ امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کے رائے میں نکتہ یہ ہے کہ جس طرح دارالاسلام کا استقرار ج.ہا.د کے بغیر ممکن نہیں ہے اور ج.ہا.د سے غفلت یا جنگی طاقت کی کمزوری دارالاسلام کے انہدام کا باعث بنتی ہے اسی طرح اس کے پھر سے قیام کے لیے بھی واحد راستہ ج.ہا.د ہی ہے۔ ج.ہا.د ایک اجتماعی سیاسی عمل ہے جو کسی سیاسی قائد کی سیادت میں ہی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اس سے مراد سارے مسلم معاشرے کو ”کلمہ گو“ کافر قرار دے کر چندے کے ج.ہا.د کا فتنہ کھڑا کرنے والا صاحبِ منصب امامت کوئی ”مبعوث“ ”نبی حکمی“ نہیں ہے جو الہام تشریعی، نبوت تامہ اور عصمت کا حامل ہو۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ عہد جدیدیت میں ٹکنالوجی کی وجہ سے سیاسی طاقت نفر سے نظام میں منتقل ہو گئی ہے، اور طاقت میں معاشی ذرائع کو اولیت حاصل ہو گئی ہے۔ اس لیے یہ ناگزیر ہے کہ سیاسی طاقت کی تفہیم اور حصول میں جدید پیداواری ذرائع کو شامل رکھا جائے جس کے بغیر مسلم معاشرے کے سیاسی مقاصد کا حصول قطعی ناممکن ہے۔ جہاد جبرِ حال کا پابند ہوتا ہے اور اس کا مقصود محض طاقت کا حصول ہے تاکہ اسے عدل اجتماعی اور نظام معاش کے قیام کے لیے درکار قوت فراہم ہو جائے۔ یعنی دارالاسلام کے استقرار اور دارالحرب میں مسلم طاقت کی بحالی اور حصول کا واحد ذریعہ ج.ہا.د ہے۔ جدید دور میں، ہمارے سیاسی ملاؤں کے ہاں اس کی بالعموم تین تعبیرات سامنے آئی ہیں: (۱) چندے کے ج.ہا.د کی بدعت کا آغاز کیا گیا۔ (۲) جہاں بھلے نام کے مسلمان حکمران ہوں ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور عوام کی قتل و غارت کو ج.ہا.د قرار دیا گیا۔ (۳) یا ان نام کے مسلمان حکمرانوں کے ہتھیاروں کے سائے میں پناہ گیر ہونے کو ج.ہا.د سمجھا گیا۔ جدید عہد میں جہاد کے شرعی حکم کو ترک کرنے اور اس کی سیاسی معنویت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بعد، ہمارے علما سیاستدانوں نے جدیدیت کے پیدا کردہ دو سیاسی تصورات کو صفر تاریخی اور انسانی شعور کے ساتھ اختیار کیا، ایک اصلاحات اور دوسرا انقلاب۔ بھلا ان سیاسی تصورات کی کیا مجال تھی کہ وہ ”اسلامی“ نہ ہوتے کیونکہ یہاں تو بینک کو سود سمیت ”اسلامی“ بنا لیا گیا ہے۔ ہمارے مذہبی سیاسی علوم میں اصلاحات اور انقلاب کے تصورات کی وہی حیثیت ہے جو پاجامے میں ہوا بھر کر اونچا لٹکانے سے پیدا ہوتی ہے۔ پاجامہ جھولتا رہتا ہے اور لوگ جھومتے رہتے ہیں، اور علما کی طبقاتی تشکیل چلتی رہتی ہے۔
گزارش ہے کہ انسانی فکر بنیادی طور پر تعقل کے حاصلات کا نام ہے، اور جیسا کہ مولانا محمد ایوب دہلوی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ عقل واجبات میں جاری نہیں ہو گی اور اس کا دائرہ کار ممکنات کا ہے۔ ”واجبات میں جاری نہیں ہو گی“ کا جو مطلب میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ عقل اپنی قوامی (constitutive) حیثیت میں واجبات پر کلام نہیں کر سکتی، جبکہ ممکنات میں اس کی یہ حیثیت باقی رہتی ہے کیونکہ ممکنات کے علم میں عقل کی حیثیت قوامی (constitutive) ہوتی ہے اور علم کا علم ہونا عقل سے مشروط ہوتا ہے۔ اس میں مزید نکتہ یہ ہے کہ عقل اپنی غیرقوامی (non-constititive) اور انقیادی (receptive) حیثیت میں واجبات میں کلام کرتی ہے۔ فلسفیانہ مابعدالطبیعات عقل کی قوامی (constitutive) پیشرفت سے پیدا ہوتی ہے اور عقل ناجائز طور پر ”حقائق“ تشکیل دینے پر آمادہ ہوتی ہے اور جن کو بعد میں انسان کی ”اقدار“ بنا دیا جاتا ہے۔ مغرب کے تہذیبی تجربے سے بالکل واضح ہے کہ ہر عقلی اور سری (esoteric) مابعدالطبیعات سیاسی طاقت کے دائرے میں داخل ہو کر آخرالامر انسان کو درندہ بنا دیتی ہے، کیونکہ ہر مابعدالطبیعات مآل عمل کو جواز فراہم کرتی ہے۔ اس میں ہمارے لیے بھی غور کرنے کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظریہ نہیں بنایا جا سکتا، لیکن ”منصبِ امامت“ میں مولانا شاہ اسماعیل دہلوی شریعت کو ترک کرنے کے بعد اہل سنت و الجماعت کے عقیدے کا ہم شکل ایک نیا سیاسی نظریہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اصلاً مولانا شاہ اسماعیل دہلوی دورِ زوال میں مسلمانوں کے مسائل کا حل ایک نئی نبوت میں ڈھونڈھتے ہیں جسے وہ ”امامت“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس سے صرف یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ ”منصب امامت“ میں عقل کا موضوع نہ تاریخ و کائناتِ ممکنات ہے، نہ دینی روایت ہے اور نہ مذہبی متون ہیں، بلکہ ان کا تصور ایک جذری شفٹ (radical shift) ہے اور وہ دین میں ایک بالکل ہی نئی چیز داخل کر دیتے ہیں۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک دین اور روایت کی پوری عمارت کو ڈھا نہ دیا جائے۔ شاہ صاحب کا ”منصب امامت“ کا تصور مابعد ساری متجدد اور مذہبی سیاسی فکر کا منبع ہے۔
ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی مسلم معاشرے کو ”مذہبی سیاسی نظریات“ کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں عقلی وسائل سے بنائے ہوئے ایسے سیاسی نظریات کی ضرورت ہے جو تاریخ کو اس کے تمام تر مؤثرات کے ساتھ ہمارے لیے قابل فہم بنا دیں تاکہ ہم ان موانع کو اچھی طرح جان سکیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے اور دینی اقدار کے تحقق میں مزاحم ہیں اور چونکہ ان کا تعلق طاقت اور قوت سے ہے اس لیے ہم وہ قوت بہم پہنچا سکیں جو ان موانعات کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے۔




کمنت کیجے