Home » خواتین کے زیر استعمال زیور کی زکوٰۃ سے متعلق ایک استفسار کا جواب
اسلامی فکری روایت فقہ وقانون

خواتین کے زیر استعمال زیور کی زکوٰۃ سے متعلق ایک استفسار کا جواب

زیور جو خاتون کی ملکیت میں اور اس کے زیر استعمال ہو، اس پر حنفی فقہاء کے نزدیک زکوٰۃ واجب ہوتی ہے لیکن اس کی ادائیگی خاتون ہی کے ذمے ہے۔ شوہر اپنی خوشی سے اس کی زکوٰۃ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، لیکن اس پر واجب نہیں۔ خاتون اپنی آمدن یا جیب خرچ سے یا گھر کے خرچ سے رقم بچا کر یکمشت یا اقساط میں زکوٰۃ ادا کر سکتی ہے۔ بہ صورت دیگر سال پورا ہونے پر زیور کا کچھ حصہ بیچ کر زکوٰۃ ادا کرنی ہوتی ہے۔

حنفیہ کے برخلاف، جمہور فقہاء کے نزدیک خواتین نے عام دنوں میں یا تقریبات کے موقع پر پہننے کے لیے جو زیورات رکھے ہوں، وہ زکوٰۃ سے مستثنی ہوتے ہیں۔ تاہم مالدار گھرانوں کی خواتین کے پاس استعمال کے زیور کی مقدار بہت زیادہ ہو سکتی ہے اور ان کو زکوٰۃ سے علی الاطلاق مستثنیٰ قرار دینا، زکوٰۃ سے گریز کا ایک چور دروازہ بھی کھول دیتا ہے۔ جمہور فقہاء نے ایسے زیورات کی مقدار یا مالیت کی کوئی تحدید بیان نہیں کی جس سے ان کے موقف میں ایک طرح کا خلا پیدا ہو جاتا ہے۔

اس لیے مناسب ہے کہ کسی فقہی ادارے کے اجتماعی فتوے یا حکومتی قانون سازی کے ذریعے سے مختلف طبقوں کے معیار زندگی اور ذرائع آمدن کے لحاظ سے استعمال کے زیور کی ایک حد اجتہاداً‌ مقرر کر دی جائے اور اس سے زائد زیور کو قابل زکوٰۃ قرار دیا جائے۔ جب تک ایسی کوئی فقہی یا قانونی تحدید دستیاب نہ ہو، افراد اپنے طور پر اس نوعیت کا اجتہاد کر کے ایک خاص مقدار کو مستثنیٰ رکھ کر باقی زیور کی زکوٰۃ ادا کر سکتے ہیں۔ واللہ اعلم

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں