Home » امکان و وجوب اور جناب اکرم ندوی صاحب
شخصیات وافکار کلام

امکان و وجوب اور جناب اکرم ندوی صاحب

ایک تحریر نظر سے گزری جس کے مصنف ڈاکٹر اکرم ندوی صاحب کا کہنا ہے کہ وجوب و امکان ایسے احکام عقلیہ ہیں جو عقلی ساخت وغیرہ سے متعلق قائم نسبتیں ہیں نہ کہ کسی وجودی حقیقت سے متعلق، اور مسلم فلاسفہ ہوں یا متکلمین دونوں نے اس حقیقت سے اغماز برتتے ہوئے ایک عقلی نسبت کو وجودی حقیقت فرض کرلیا۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ “اس ذہنی نسبت کو خارجی حقیقت بنا دینا وہ بنیادی مغالطہ ہے جس پر فلاسفہ اور متکلمین دونوں کی عمارت کھڑی ہے”۔ ان کا کہنا ہے کہ اس غلطی کی اصلاح کے بعد واجب الوجود اور ممکن الوجود کی دوئی بے معنی ہوجاتی ہے اور یہ صرف ایک تفسیری مفروضہ بن جاتا ہے، نیز ممکن ایک ontological یا وجودی درجہ نہیں بلکہ epistemic علمیاتی درجہ رہ جاتا ہے۔ ندوی صاحب نے اس خیال کو بنیاد بنا کر مسلم فلاسفہ و متکلمین دونوں پر نقد کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وجود باری کے اثبات کے لئے امکان و وجوب جیسے احکام پر مبنی دلائل ناقص و غیر متعلق ہیں کیونکہ یہ خارجی حقائق سے متعلق نہیں۔ ان کے اس نقد میں متعدد جھول و خلا ہیں جن کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے۔
1) ان کا دعوی ہے کہ امکان و وجوب محض احکام عقلیہ و ذھنی نسبتیں ہیں جنہیں ذہن گویا خارج پر اپنی طرف سے مسلط کردیتا ہے نیز ان کا کسی خارجی شے اور وصف سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دعوی اپنی وضع میں کانٹین فلسفے نما ہے جو یہ فرض کرتا ہے کہ ذہن کے اندر ایک ساخت پہلے سے موجود ہے جسے وہ خارج پر لاگو کرتا ہے۔ ندوی صاحب نے اپنے اس دعوے کی صحت پر کوئی دلیل فراہم نہیں کی بلکہ محض اسے درست فرض کرتے ہوئے تجزئیے کی عمارت کھڑی کرتے چلے گئے ہیں۔ ہم ایسی کسی ماقبل ذہنی ساخت کے مفروضے کو ہی درست نہیں مانتے، اس صورت میں ان کے تجزئیے کی پوری عمارت بنائے فاسد علی الفاسد ہے (اگر وہ اس کے قائل ہیں تو کھل کر اپنا موقف واضح کریں تاکہ اس کے لحاظ سے ان سے بات کی جاسکے۔ چونکہ اس پر ان کی کوئی صراحت موجود نہیں لہذا اس پر تبصرہ قبل از وقت ہے)۔
2) ندوی صاحب کا یہ دعوی خلاف حقیقت ہے کہ مسلم فلاسفہ و متکلمین امکان و وجوب کو خارجی اشیاء یا اوصاف (جیسے کہ سفیدی وغیرہ) کی طرح خارجی حقائق مانتے رہے۔ اس کے برعکس ان کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ معقولات ثانیہ (secondary intelligible) ہیں جو خارجی اوصاف سے ماخوذ یا ان پر صادق ہیں نہ کہ ان سے منقطع۔ باالفاظ دیگر امکان کے حکم کو لاگو ہونے کے لئے کسی خارجی وجود یا صفت کی ضرورت ہوتی ہے جس پر وہ صادق ہو اور جو اس کا گراونڈ ہو۔ لہذا ندوی صاحب کا یہ دعوی غلط ہے کہ مسلم فلاسفہ و متکلمین نے گویا امکان کو خارجی اشیاء و اوصاف سمجھ لیا۔ اپنے اس دعوے پر انہوں نے کوئی حوالہ پیش نہیں کیا کہ مسلم فلاسفہ و متکلمین میں سے یہ دعوی آخر کس نے کیا ہے کہ از خود امکان و وجوب بھی خارجی اعیان میں پائے جاتے ہیں۔ پس ان کا یہ استدلال ایک خلاف واقعہ مفروضے پر مبنی ہے کہ “خارجی دنیا میں شے یا موجود ہے یا نہیں ہے؛ ‘ممکن’ ہونا خارج میں کوئی تیسری حالت نہیں”۔
3) درج بالا بات کہ بذات خود امکان خارجی موجودات میں سے نہیں بلکہ ان سے متعلق حکم ہے، اسے متکلمین کے ہاں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ متکلمین کے نزدیک وجود محض یا مطلق کوئی شے نہیں، وجود یا قدیم ہوتا ہے اور یا حادث (یعنی خارج میں کوئی شے صرف پائی نہیں جاتی بلکہ ہر موجود شے یا حادث ہوتی ہے اور یا قدیم)، وجوب و امکان کے احکام انہی موجودات سے متعلق ہیں۔ امکان دراصل حادث وجود سے متعلق حکم اور اس پر صادق ہے۔ حادث وہ جس کے وجود کا آغاز ہے۔ اب اگر ندوی صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ حادث کو ممکن کہنا صرف ذھنی نسبت ہے اور یہ کوئی ایسا حکم نہیں جو خارج میں موجود کسی شے سے متعلق اور اس پر صادق ہے، تو یہ صریح غلط فہمی ہے۔ حادث کا مطلب کیا ہے؟ وہ جو نہ تھا اور پھر ہے۔ ممکن کسے کہتے ہیں؟ وہ جو ہونا اور نہ ہونا دونوں قبول کرے۔ چنانچہ حادث ہی کو ممکن کہا جاتا ہے، اور امکان حادث وجود پر صادق حکم ہے۔
خوف طوالت کے باوجود درج بالا کی کچھ تفصیل یوں ہے کہ اشعری و ماتریدی متکلمین کے مطابق کائنات کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ یہ تغیر سے دوچار ہے: یعنی اشیاء وجود میں آتی ہیں اور فنا ہو جاتی ہیں؛ وہ حرکت و سکون کی حالت میں ہیں، ان کے رنگ بدلتے ہیں وغیرہ۔ اس حقیقت سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ان کے لیے کوئی ایک حالت بالذات ضروری نہیں، لہٰذا وہ کسی خارجی عامل کی وجہ سے اس حالت میں پائی جاتی ہیں۔ پھر جب استدلال سے یہ ثابت کرلیا کہ متنوع و متغیر اوصاف کی حامل اشیاء کے اس عالم کے وجود کا آغاز ہے، تو پھر اس کے بعد یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا کائنات نے خود اپنے آپ کو وجود دیا؟ کیا وہ کسی سبب کے بغیر ہی ایک نکتے پر از خود وجود میں آگئی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں امکان (احتیاج) کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اشیاء جب تغیر کا شکار ہیں تو کوئی ایک حالت بالذات انہیں لازم یا ضروری نہیں۔ چنانچہ ایسی شے کے لیے ایک حالت (یعنی اس کے وجود) کو عدم کے مقابلے میں ترجیح دینا، جبکہ دونوں مابعد الطبعیاتی طور پر یکساں ممکن ہیں، تناقض کو لازم ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس کا مطلب یہ کہنا ہے کہ دونوں حالتیں بیک وقت مساوی بھی ہیں اور غیر مساوی بھی، دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شے کے لیے وجود بیک وقت ضروری بھی ہو اور غیر ضروری بھی۔ لہٰذا واحد معقول بات یہی رہ جاتی ہے کہ وہ کسی فاعل کی وجہ سے وجود میں آئی جس نے ترجیح قائم کی۔
یہاں کہنا یہ مقصود ہے کہ یہ گفتگو خود اشیاء کے بارے میں ہو رہی ہے۔ ندوی صاحب کا یہ بے بنیاد دعوی کہ “وجوب” اور “امکان” محض ذہنی تصورات ہیں یا بعد از وقوع (post-facto) تجزیات ہیں، کوئی وزن نہیں رکھتا۔ انہوں نے اس کی کوئی ادنی سی بھی دلیل پیش نہیں کی کہ یہ احکام خارجی واقعیت پر منطبق نہیں ہوتے یا نہیں ہوسکتے۔ خلاصہ یہ کہ ندوی صاحب امکان ذھنی اور خارجی کے فرق کو اگنور کرگئے ہیں۔ لہذا ان کا یہ اعتراض وزن نہیں رکھتا کہ “خارج میں تو ہمیں ہمیشہ متعین موجود ملتا ہے نہ کہ متردد وجود، جو چیز بالفعل موجود ہے وہ بالفعل موجود ہے؛ اس میں وجود اور عدم کی مساوات ایک فرضی تحلیل ہے جو ذہن نے بعد میں کی ہے۔ اس فرضی تساوی سے ایک حقیقی مرجح کا مطالبہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے نقشے کی لکیر سے پہاڑ کا وزن ثابت کیا جائے۔”
4) اسی سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ ندوی صاحب “عدمِ وجود” اور “عدمِ صدق” کو خلط ملط کرتے رہے ہیں، یعنی وہ اس بات کو اگنور کرتے ہیں کہ کسی چیز کا خارجی عالم میں موجود نہ ہونا اس بات کو لازم نہیں کہ وہ حکم خارجی حقیقت کے بارے میں درست بھی نہ ہو۔ مثلا یہ کہنا فی الواقع درست ہے کہ “فرعون موجود نہیں” اور یہ بھی کہ “فرعون کی قوم اسے معبود مان کر اس کی پوجا کرتی تھی “، حالانکہ “موجود نہ ہونا” اور “معبود ہونا” بذاتِ خود کوئی خارجی وجود نہیں۔ نکتہ یہ ہے کہ حکم کا صدق اس بات پر موقوف نہیں کہ وہ کسی خارجی وصف کے طور پر موجود ہو بلکہ اس پر موقوف ہے کہ وہ کسی خارجی واقعے یا شے کے مطابق ہو۔ ندوی صاحب اپنی بحث میں اس نکتے کو نظر انداز کر گئے، وہ غلط طور پر محض یہ دعوی کرتے رہے کہ متکلمین نے “امکان” کو ایک حقیقی صفت قرار دیا ہے۔
پھر اگر ان کے اس غلط دعوے کو مان بھی لیا جائے تو بھی وہ یہ دکھانے میں ناکام رہے ہیں کہ اس سے مثلاً یہ نتیجہ کیسے لازم آتا ہے کہ عالم ممکن نہیں یا یہ کہ خدا واجب نہیں؟ باالفاظ دیگر ندوی صاحب سرے سے کوئی دلیل کھڑی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
5) ندوی صاحب نے متکلمین پر خلق مستمر، علت و معلول کے تعلق اور معجزے کے تناظر میں بھی بے بنیاد نقد کیا ہے جو الگ موضوع ہے۔ تاہم یہاں اس بات کا ذکر مفید ہوگا کہ متکلمین پر نقد کے شوق میں وہ بے ساختہ اشیاء میں تاثیر کو قبول کرکے عالم کو ایک سیلف گورننگ سسٹم مان لیتے ہیں۔ انہیں بتانا چاہئے کہ کیا شے میں تاثیر ان کے نزدیک خارج میں موجود شے کی صفت ہے؟ اگر ہاں تو یہ انہیں کس مشاہدے سے معلوم ہوئی؟ خارج میں تو ہم صرف تعاقب، تقارن اور ترتیب دیکھتے ہیں، تاثیر بطورِ تاثیر کہیں مشہود نہیں ہوتی۔ چنانچہ انہیں چاہئے کہ مزید آگے بڑھ کر کانٹ کے سفسطے کو پوری طرح قبول کرتے ہوئے ان امور کو بھی احکام عقلیہ قرار دیں۔
6ٰ) ندوی صاحب کی تحریر کا سب سے مایوس کن پہلو یہ تاثر قائم کرانے کی کوشش کرنا ہے کہ جمع بین النقیضین جیسے احکام، جو لازما حقیقت و موجود سے متعلق ہیں، وہ وجود نہیں محض ذھنی ساخت سے متعلق تفسیری اصول ہیں۔ یہ دعوی از خود متناقض ہے اور اسی فاسد خیال کے تحت انہوں نے حوادث لا اول لھا جیسے متناقض نظرئیے کا خارجی جواز گھڑنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے تناقض کی ایک دلچسپ مثال خود ان کی تحریر ہی میں موجود ہے کہ موصوف مسلم فلاسفہ کے نظرئیے میں پیوست تضاد (کہ یہ لوگ عالم کو ممکن بھی کہتے ہیں اور قدیم بھی) کو اجاگر کرکے ان کے نظرئیے کے فی الواقع غلط ہونے کی دلیل کھڑی کرتے رہے ہیں۔ اگر تناقض محض ذھن کی ساخت کی حد اور ہماری کم علمی کا مظہر ہے نہ کہ خارجی حقیقت کا، تو آپ کو مسلم فلاسفہ کے نظرئیے پر اعتراض کیوں ہے؟ اگر تناقض محال ہونا محض عقلی حد کا نام ہے، تو پھر ندوی صاحب کو ماننا چاہئے کہ ایک شخص کا نفس الامر میں بیک وقت نبی ہونا اور نبی نہ ہونا دونوں درست ہوسکتا ہے۔ پھر اگر اس اصول کو قبول کرلیا جائے تو کیا وہ یہ مانتے ہیں کہ ممکن ہے خارج میں حوادث لا اول لھا جاری بھی ہو اور نہیں بھی جاری ہو؟
الغرض ان کا یہ دعوی انتہائی گمراہ کن و لغو ہے، جمع بین النقیضین کا مطلب یہ حکم ہے کہ شے یا ہوتی ہے اور یا نہیں ہوتی، اور یہ “پائے جانے” اور “نہ پائے جانے” کے مفہوم سے متعلق حکم ہے جو ہر پائی جانے والی شے پر صادق ہے۔ جب مثلا یہ کہا جاتا ہے کہ “زید کا بیک وقت پایا جانا اور نہ پایا جانا محال ہے”، تو یہ زید کے بارے میں ہے۔
7) آخر میں ہم ندوی صاحب کے لئے ایک سوال چھوڑتے ہیں۔ قرآن مجید کی آیت وَاللَّهُ الْغَنِيُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَاءُ میں “فقر” کا کیا معنی ہے (قرآن یہاں جسے فقر کہتا ہے، اسے اصطلاحی زبان میں احتیاج و امکان کہا جاتا ہے)؟ کیا یہ فقر محض ایک ذہنی نسبت ہے، یا انسان کے وجودِ خارجی کے ساتھ قائم ایک حقیقی وصفی نسبت؟ آخر ندوی صاحب کی طرز پر کوئی یہ کیوں نہیں کہہ سکتا کہ فقیر ہونا تو صرف ایک conceptual یا ذہنی اعتبار ہے، خارج میں انسان کے وجود کے ساتھ اس کا کوئی واقعی تعلق نہیں؟ اگر فقر جیسی نسبت حقیقت پر دلالت کرتی ہے، اور اسے محض “ذہنی” کہہ کر خارج سے منقطع نہیں کیا جاسکتا، تو پھر امکان و احتیاج کو محض post-facto ذہنی تحلیل کہہ کر غیر حقیقی قرار دینا کس اصول پر درست ہوا؟ بینوا وتوجروا۔
خلاصہ یہ کہ ندوی صاحب کا پورا نقد ایک غیر مدلل epistemic        reduction پر کھڑا ہے، جو نہ فلاسفہ و متکلمین کے فریم ورک سے ہم آہنگ ہے اور نہ خود اپنے دعووں کو منطقی انجام تک پہنچاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ندوی صاحب یہ کہنے کا جواز پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ نبی کی وحی میں ایسے امور کا بیان ہونا جائز ہے جنہیں محال کہا جاتا ہے اور اس کاوش میں ندوی صاحب بے عقلی کی کسی بھی حد پھلانگ جانے کو روا رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ناپسندیدہ نظرئیے کے خلاف دلیل دینے کے بجائے انسان کی اس صلاحیت ہی کو ناکارہ ثابت کرنا شروع کردیتے ہیں کہ وہ حقائق کا ادراک کرسکتا ہے۔ ندوی صاحب کا نقد اسی حکمت عملی پر مبنی ہے۔
(اس تحریر میں ایک فاضل دوست جناب عبد الرحمان صاحب کا ان پٹ بھی شامل ہے)

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں