معتزلہ نے کہا خدا کا بصری ادراک محال ہے اسلئے کہ خدا کے لئے جہت محال ہے اور بصری ادراک مدرَک کے لئے مکانی جہت کو لازم ہے۔ شیخ ابن تیمیہ اور ان کے پیروکاروں نے کہا کہ خدا کا بصری ادراک ممکن ہے اور بصری ادراک چونکہ مدرَک کے لئے جہت کو لازم ہے لہذا خدا کے لئے مکانی جہت ہے۔ اہل سنت نے کہا کہ خدا کا بصری ادراک بھی ممکن ہے اور اس کے لئے جہت بھی نہیں۔
معتزلہ و شیخ ابن تیمیہ کو ادراک کی بحث میں جو بنیادی شبہ لاحق ہوا وہ یکساں ہے اور اس کا خلاصہ ایک سطر میں یہ ہے: مدرَک (object of perception) کی صفات کو ادراک کی صفات سے خلط ملط کردینا۔ یہ سمجھنا چاہئے کہ سفید و کالا، چھوٹا و بڑا، حرکت و سکون، زمانی و مکانی وغیرہ ہونا ان اشیاء کی صفات ہیں جن کا ادراک ہوتا ہے نہ کہ ادراک کی۔ ادراک نہ کالا و سفید ہے اور نہ زمانی و مکانی اور نہ ہی میرے ادراک کی یہ صفات اشیاء کو کالی سفید یا زمانی و مکانی بناتی ہیں۔ ہم اس دنیا میں “مکانی جہت والی اشیاء” دیکھتے ہیں (we have vision of dimensional objects) نہ کہ ہم “جہت میں یا جہت سے” دیکھتے ہیں، ڈائمنشنل ہونا بصری ادراک کی نہیں بلکہ دیکھی جانے والی شے کی صفت ہے جس کا مجھے ادراک ہوتا ہے۔ عالم کی اشیاء چونکہ ڈائمنشنل ہیں، لہذا ہمیں ان کے ڈائمنشنل ہونے کا ادراک ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ان کے کالے و سفید وغیرہ ہونے کا ادراک ہوتا ہے۔ پھر اس دنیا میں چونکہ اشیاء ڈائمنشنل ہیں، تو ڈائمنشنل اشیاء دیکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دیکھے جاسکنے والا (perceivable) جہت ہی میں ہوگا، اس قیاس و دعوے کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ اسی طرح کا استدلال ہے جیسے کوئی کہے کہ دنیا کی ہر شے کا کوئی نہ کوئی رنگ یا سائز وغیرہ ہوتا ہے لہذا ہر موجود کا کوئی رنگ و سائز ہونا لازم ہے۔ الغرض ادراک کے لئے مکانی جہت کو شرط قرار دینا مدرَک کی صفت کو ادراک کی صفت بنا دینا ہے جو کیٹیگری مسٹیک ہے جسے ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ نے معتزلہ کے ساتھ بحث میں پہچان لیا تھا۔ ادراک شے کے کشف و ظہور سے عبارت ہے اور اس کی شرط شے کا موجود ہونا ہے نہ کہ جسم ہونا، شے جیسی ہوگی اس کا کشف ویسا ہوگا۔ جہت ہونا جسم کو لاحق ہے، لہذا جو موجود جسم ہوگا اس کی جہت کا ادراک ہوگا، لیکن جو وجود جسم نہیں اس کے وجود کا ادراک بھی جہت سے خالی ہوگا۔ پس خدا کے ادراک کے امکان سے اس کے لئے جہت لازم قرار دینا اور یہ کہنا کہ ادراک تو جہت والی شے یا جہت کے ساتھ یا جہت ہی میں ہوتا ہے، یہ سب خلط مبحث ہے۔
اس پر ایک صاحب نے یہ نقد کرنے کی کوشش کی کہ جہت ایک نسبت ہے اور نسبت تب متحقق ہوتی ہے جب دو طرف کچھ ہو۔ اسے سمجھانے کے لئے وہ باپ و بیٹے کی مثال لے آئے ہیں۔ یہ ساری گفتگو حسب توفیق خلط مبحث اور محل نزاع سے خارج ہے۔ مختصر جواب یہ کہ ادراک کی بحث میں مکانی جہت کوئی نسبت نہیں: نہ یہ ادراک و مدرَک کے مابین نسبت ہے اور نہ ہی یہ ادراک کی حقیقت کا کوئی جزو یا شرط ہے۔ یہ نسبت مدرِک و مدرَک کے مابین قائم ہوتی ہے جبکہ دونوں مکانی (متحیز) ہوں اور یہ نسبت قائم ہونا ادراک کے مفہوم میں شامل نہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جہت مکانی امتداد سے جنم لیتی ہے۔ اگر مدرَک اور مدرِک دونوں مکانی امتداد کے حامل ہوں تو دونوں کے مابین یہ نسبت ہوگی، لیکن یہ نسبت ادراک ہونے کے ہم معنی نہیں (الا یہ کہ کوئی خبط کا شکار ہوکر دیدار کی حقیقت “مکانی طور پر آمنے سامنے ہونا” مقرر کرلے)۔ اور جہاں مدرَک مکان سے ماورا ہو اور مدرِک مکان میں ہو (یا بالعکس) تو دونوں میں سرے سے مکانی جہت کی نسبت نہیں ہوگی، لیکن بصری ادراک اب بھی ممکن ہے اس لئے کہ بصری ادراک خاص طرح کے کشف حقیقت سے عبارت ہے نہ کہ مدرِک و مدرَک کے جہت میں ہونے سے۔ سمپل۔ چنانچہ جب مدرَک مکان سے ماورا ہو تو اس کے بصری ادراک میں جہت کا کوئی ادراک نہیں ہوگا، اس بحث میں جہت کو نسبت بنا کر باپ بیٹے کی مثال لے آنا غیر متعلق ہے۔ اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ ادراک ہوسکنے (perceivability) کی بنیاد شے کا موجود ہونا ہے نہ کہ جسم (مکانی) ہونا۔
ان امور کے لئے علمائے کلام کہا کرتے ہیں: فتأمل فإنه دقيق، هذه مزَلّة الأقدام (یعنی یہ باریک بات ہے اس پر غور کرو، یہ قدم پھسلنے کی جا ہے)۔




کمنت کیجے