Home » آدابِ مکالمہ : بزبان غزالیؒ، رازیؒ ، ابن تیمیہؒ
تعلیم و تعلم سماجیات / فنون وثقافت شخصیات وافکار

آدابِ مکالمہ : بزبان غزالیؒ، رازیؒ ، ابن تیمیہؒ

یہ تین اقتباس (تحریر کےآخر میں لگائے گئے ) غزالی کی ’’المنقذ’’، رازی کی ’نھایۃ العقول’’ اور ابن تیمیہ کی ’’الرد علی المنطقیین’’ سے ہیں۔ عقلی مباحث میں شریک ہونے کا اصول کیا ہے اور مخالف عقلی مواقف کے ساتھ تعامل میں علمی رویہ کیا ہونا چاہیے؟ اس حوالے سے ان تین نکات کو متکلمین کے بنیادی انداز فکر کا نمائندہ قرار دیا جا سکتا ہے اور ہمارے معاصر ماحول میں کلام یا عقلی بحث کے عنوان سے جاری دنگلوں کے تقابل میں ان کی اہمیت زیادہ سمجھی جا سکتی ہے۔
۱۔ رازیؒ یہ نکتہ واضح کر رہے ہیں کہ عقلی بحث ومباحثہ میں مخالف کے موقف اور استدلال کو اس کی بہترین شکل میں سمجھنا بلکہ خود مخالف سے بھی بڑھ کر اس کو پیش کرنے کے قابل ہونا کتنا اہم ہے۔ یہ نکتہ عقلی بحث کو مناظرے سے الگ کرتا ہے۔ مناظرے میں strawm       an argument کی بہت اہمیت ہوتی ہے، کیونکہ مناظرے کا مقصد مخالف فریق کو دفاع پر مجبور کرنا اور ناظرین کی نگاہ میں اسے لاجواب دکھانا ہوتا ہے۔ کلامی یا عقلی بحث کا بنیادی محرک یہ نہیں ہوتا، بلکہ مخالف کو شریک گفتگو کرتے ہوئے یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ کہاں اور کس جگہ سے اسے غلطی لگ رہی ہے۔ اس لیے رازی کہتے ہیں کہ اگر کسی مسئلے میں مخالف کی اپنی بیان کردہ ترتیب مقدمات میں کوئی کمزوری ہو تو ہم اس کو بھی دور کر کے ایسی شکل میں اس کے موقف کو بیان کریں گے جس سے بہتر ممکن نہ ہو۔
۲۔ غزالیؒ کہتے ہیں کہ مخالف کے ساتھ بحث میں اس کے مقدمات میں سے ایک ایک مقدمے کو جھٹلانا اور نفی کرنا مطلوب نہیں ہوتا۔ اپنی برتری جتانے یا مخالف کو بالکل دیوار سے لگانے کا جذبہ اس کا محرک بن سکتا ہے کہ اس کے پیش کردہ ہر نکتے کی تغلیط کی جائے، لیکن یہ طریقہ اختیار کرنے سے مخالف کو اس کی غلطی کا احساس دلانے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مخالف کے بیان کردہ مقدمات میں سے کئی، درست اور وزنی بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کو بھی جھٹلا دینے سے خود صائب موقف کو نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ عقلی صحت رکھنے والی بات کا جزوی انکار بھی مآلاً‌ صحیح موقف کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ غزالی کی تنقید میں مضمر دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جب آپ مخالف کی، جزوی طور پر وزن رکھنے والی بات کو بھی رد کرتے ہیں تو یہ چیز اس پر اس کی غلطی واضح کرنے میں مانع بن جاتی ہے اور نتیجتاً‌ اس کے موقف کو ناظرین کی نگاہ میں بھی قوت پہنچانے کا سبب بن جاتی ہے۔
۳۔ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ ایسی عقلی روایتیں جو انبیاء کی ہدایت سے محروم رہیں اور انھوں نے محض عقل کے بل بوتے پر فکری مسائل کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی، ان کی دیانت داری یا عقلی حاصلات کی نفی کرنے اور خاص طور پر ان پر اخروی نجات یا عدم نجات کے احکام صادر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اخروی مواخذے کا حکم ایسے لوگوں کے لیے ہے جو انبیاء کی لائی ہوئی ہدایت سے واقف ہونے کے بعد اس سے روگردانی کریں۔ جن تک یہ ہدایت نہیں پہنچی، ان کے اخروی انجام کا فیصلہ بھی ہمیں نہیں کرنا چاہیے اور دنیا میں عقلی غور وفکر کے اعتبار سے ان کا جو مقام یا اہمیت بنتی ہے، اس کا بھی اعتراف کرنے میں بخل نہیں کرنا چاہیے۔
ابن تیمیہ کے اس نکتے سے یہ راہنمائی ملتی ہے کہ مذہبی ہدایت پر مبنی اور اس پر قائم عقلی نتائج ومباحث کو اور خالص عقلی سرگرمی کے دائرے میں پیدا ہونے والے مباحث کو باہمی تقابل میں کھڑا کر کے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اہل ایمان کو انبیاء کے ذریعے سے جو راہنمائی اور ہدایت ملی ہے، وہ ایک زائد ماخذ ہے جو اہل عقل کو میسر نہیں۔ عقلی دائرے میں اہل عقل کے ساتھ گفتگو اور ان کی تصحیح یا تغلیط اسی حد تک محدود رکھنی چاہیے جو عقل کی رسائی کی حد ہے۔ ان دونوں دائروں کو خلط ملط کر دینے سے عقلی گفتگو اور مذہبی بحث، دونوں کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں