ان دو الفاظ کے مفاہیم مقرر کرنے اور انہیں سمجھنے میں مشکلات کے باعث کئی خلط مبحث جنم لیتے ہیں۔ یہاں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اسلامی علوم کی تاریخ میں لفظ فلسفہ کس مفہوم میں بولا جاتا تھا نیز یہ استعمال لفظ فلسفہ کے جدید مفہوم سے کس طرح مختلف تھا۔
مرور زمانہ کے ساتھ اہل علم کی اصطلاحات میں بسا اوقات تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔ اسلامی علوم کی روایت میں لفظ فلسفہ اس مفہوم سے قدرے مختلف معنی میں استعمال ہوتا تھا جس مفہوم میں یہ اب مستعمل ہے۔ موجودہ مفہوم میں جسے فلسفہ کہتے ہیں، اس کے تحت آنے والے بعض مباحث اسلامی روایت میں کلام و فلسفہ میں زیر بحث آتے تھے اور بعض دیگر علوم میں۔ مثلاً وجودیات و علمیات و نبوات کے مسائل اسلامی روایت میں کلام و فلسفہ کے خصوصی موضوعات ہوا کرتے تھے تاہم جنہیں اب لسانیاتی فلسفہ کہہ کر فلسفہ کہا جاتا ہے یہ امور کلام و فلسفہ نہیں بلکہ اصول فقہ، علم بدیع و بلاغت وغیرہ کا موضوع ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح اخلاقیات و نفسیات سے متعلق ابحاث تصوف کا موضوع تھے۔ جدید دور میں سماجی علوم سے متعلق کئی ابحاث اب فلسفے کا موضوع ہیں، اسلامی روایت میں اس سے متعلق بعض مباحث اصول فقہ میں ملیں گی (مثلاً مقاصد شریعت)، انہیں آگے بڑھا کر علامہ ابن خلدون نے “علم عمران” کی بنیاد رکھی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو آج جسے فلسفہ کہا جاتا ہے، اسلامی علوم کی روایت میں کلام و فلسفہ کہا جانے والا علم موجودہ استعمال سے خاص (یعنی اس کا sub set) تھا۔
جدید دور کے اس عمومی مفہوم کے برعکس اسلامی علمی روایت میں لفظ فلسفہ الگ مفہوم کا حامل تھا۔ جب یہ لفظ کلام و متکلمین کے مدمقابل بولا جاتا تھا تو اس سے مراد علامہ ابونصر فارابی (م 339 ھ) و علامہ ابن سینا (م 429 ھ) کی ارسطوی و نو افلاطونی الہیاتی روایت کا عقلی طریقہ بحث ہوا کرتا تھا۔ اس مفہوم میں جو مسائل محل نزاع بنتے تھے وہ یہ تھے کہ عالم قدیم ہے یا حادث، خدا و عالم کے ربط کی توجیہہ کا طریقہ نظریہ فیض (emanationism) ہے یا اختیاری خلق، خدا کی صفات ذات کا عین ہیں یا نہیں؟ تاثیر کی حقیقت کیا ہے؟ وغیرہ۔ جنہوں نے ان سوالات پر نیو افلاطونی ماڈل کا طریقہ بحث اپنایا، ان کے اس خاص عقلی طریقہ بحث کو فلسفہ نیز “علم الہی” کہتے ہیں اور اس فکر کے حاملین کو “حکماء” و حکمائے مشائین (peripatetics) بھی کہا جاتا ہے جبکہ کائنات کو حادث اور خدا کو فاعل مختار کہنے والوں کو متکلمین اور ان کے عقلی طریقے کو کلام کہا جاتا ہے جن میں سرفہرست اشاعرہ، ماتریدیہ و معتزلہ تھے۔ اس مفہوم میں کلام اور فلسفہ خاص عقلی طریقہ بحث اور نتائج کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ انہی مسائل کے ضمن میں یہ سوالات زیر بحث آتے تھے کہ وجود و ماہیت میں سے اصل کیا ہے؟ کیا وجود ماہیت کا عین ہے یا اس پر زائد؟ کیا کلیات کا خارجی وجود متحقق ہے؟ کیا وجود ذہنی بھی حقیقی وجود کی کوئی صورت ہے؟ کیا ماہیات جعل جاعل (یعنی کسی بنانے والے کے فعل) سے ہیں یا از خود؟ کیا عدم و وجود کے مابین کوئی واسطہ ہے؟ (انہی مسائل کے بیچ و بیچ “وجودی فکر” نے اپنا مخصوص موقف اپنایا اور اسی طرح “اشراقیین” نے، انہیں بھی بعض اوقات حکما اور بعض کو “اہل تحقیق” کہہ دیا جاتا ہے)۔ چنانچہ جب متکلمین فلسفے و اہل فلسفہ کی مذمت کرتے ہیں تو وہاں یہ خاص مفہوم والا فلسفہ و حکمت مراد ہوتی ہے نہ کہ اس عمومی مفہوم والا فلسفہ جسے آج فلسفہ کہا جاتا ہے۔
اس خاص و محدود مفہوم کے سوا لفظ حکمت و فلسفہ ایک وسیع معنی میں بھی استعمال ہوتا تھا جس کی دو اقسام کی جاتی تھیں: علمی و نظری۔ پھر ان دو میں سے ہر ایک کی ذیلی اقسام کی جاتی تھیں۔ درج بالا محدود مفہوم والا فلسفہ و حکمت اس عمومی مفہوم والی اصطلاح کی علمی قسم کی ایک ذیلی شاخ ہوا کرتا تھی۔ فلسفہ و حکمت سیکھنے کے شرعی حکم سے متعلق شیخ الازھر علامہ العطار الازھری (م 1250 ھ) کا درج ذیل اقتباس اس بات کو واضح کرنے والا ہے:
إن أردت تحرير محل النزاع فاصغ لما يلقى إليك، وهو أن القول بتحريم علم الحكمة على الإطلاق مجاوزة في الحد ومجازفة، وذلك لأن الحكمة تنقسم أولا وبالذات إلى علمية وعملية، والثانية تنقسم إلى علم تدبير المنزل وعلم السياسة وعلم الأخلاق، وهذه الأقسام الثلاثة لم يشتغل بها أحد من أهل الإسلام إذ مرجعها الأحكام عملية وقد أغنت الشر يعة الغراء عنها. وأما العلمية فهي أقسام ثلاثة: الهيئات ورياضيات وطبيعيات، وكل من هذه الأقسام الثلاثة له أصول وفروع، فيندرج في الرياضيات علم الحساب بسائر أقسامه وعلم الهندسة والمساحة وغيرها، وأي عاقل يقول بحرمة هذه العلوم مع توقف كثير من الأحكام الشرعية عليها توقفا ظاهرا واحتياج الناس إليها في أمور معاشهم كعلم الأبنية واستخراج المياه والمناظر وغيرها من فروع العلم الرياضي. وأما الطبيعيات فمنها الطب والتشريح وغيرهما، وهما من أنفع العلوم التي لا يستغني عنها أحد، فهذه العلوم كلها من فروض الـكفاية. فثبت أن قسمين من الحكمة وهما الطبيعيات والرياضيات لا يخرجان عن فرض الـكفاية أو الإباحة في البعض فعم السم النافع والضرر الصرف في الإلهيات فإنها محل دسائس القوم وحصن كفر ياتهم ومحل مخبئاتهم. والقول بأن الخوض فيها حرام على الإطلاق مجازفة أيضا، بل الحق التفصيل وهو أنه إن كان الخائض فيها متضلعا من الكتاب والسنة ذكي الفطنة و قصد بالنظر فيها التقوى على رد شبه المبطلين وإدخاض عقائد الزائغين ومعرفة الاصطلاحات التي استحدثها المتأخرون من علماء الكلام فهذا مما لا يقول بتحريمه أحد بل ربما كان من الفروض الـكفائية. وليس علم العروض الذي قد ادعى بعضهم أنه فرض كفاية معللا له بأوهي علة هي الفرق بين الشعر والكلام المعجز بأولى من هذا العلم الذي يكتسب به الإنسان قوة على رد الشبه ونصر العقائد الحقة. وعلى هذا يحمل خوض العلماء المتقدمين کالفخر الرازي وحجة الإسلام الغزالي وغيرهما ممن لا يحصى من جهابذة العلماء وأفاضل العظماء، فأما إن كان غبي الذهن بليد الفكر ساذج الطبع ليس عنده من العلوم الشرعية ما يهتدى به عند الخوض في ظلم المشتبه. فهذا وأمثاله يحرم عليه النظر فيها. فعم السم النافع والضرر الصرف في الإلهيات فإنها محل دسائس القوم وحصن كفر ياتهم ومحل مخبئاتهم. والقول بأن الخوض فيها حرام على الإطلاق مجازفة أيضا، بل الحق التفصيل وهو أنه إن كان الخائض فيها متضلعا من الكتاب والسنة ذكي الفطنة و قصد بالنظر فيها التقوى على رد شبه المبطلين وإدخاض عقائد الزائغين ومعرفة الاصطلاحات التي استحدثها المتأخرون من علماء الكلام فهذا مما لا يقول بتحريمه أحد بل ربما كان من الفروض الـكفائية. وليس علم العروض الذي قد ادعى بعضهم أنه فرض كفاية معللا له بأوهي علة هي الفرق بين الشعر والكلام المعجز بأولى من هذا العلم الذي يكتسب به الإنسان قوة على رد الشبه ونصر العقائد الحقة. وعلى هذا يحمل خوض العلماء المتقدمين کالفخر الرازي وحجة الإسلام الغزالي وغيرهما ممن لا يحصى من جهابذة العلماء وأفاضل العظماء، فأما إن كان غبي الذهن بليد الفكر ساذج الطبع ليس عنده من العلوم الشرعية ما يهتدى به عند الخوض في ظلم المشتبه. فهذا وأمثاله يحرم عليه النظر فيها
مفہوم: اگر تم محلِ نزاع کو ٹھیک سے سمجھنا چاہتے ہو تو جو کہا جارہا ہے اسے غور سے سنو۔ یہ کہنا کہ حکمت (یا فلسفے) کا مطالعہ مطلقاً حرام ہے، یہ حد سے تجاوز اور غیر محتاط بات ہے کیونکہ حکمت بنیادی طور پر دو حصوں میں منقسم ہے: ایک علمی یا نظری اور دوسری عملی۔ دوسری قسم مزید تین اقسام پر مشتمل ہے: تدبیرِ منزل، علمِ سیاست اور علمِ اخلاق۔ ان علوم میں مسلمانوں نے زیادہ اشتغال نہیں رکھا اس لئے کہ ان کا تعلق عملی احکام سے ہے اور شریعتِ ان پہلوؤں میں انسان کی راہنمائی کے لیے کافی ہے [ان کی اس بات میں کچھ زیادہ عموم ہوگیا ہے کہ مسلمانوں نے ان علوم سے اشتغال نہ رکھا، تاہم یہ یہاں ضمنی موضوع ہے، ممکن ہے مراد یہ ہو کہ کلام، اصول فقہ، فقہ، تصوف وغیرہ ان کی کفایت کرتے ہیں]۔ جہاں تک نظری یا علمی حکمت کا تعلق ہے تو وہ بھی تین اقسام میں تقسیم ہوتی ہے: ہیئت (فلکیات و کائناتی امور)، ریاضیات اور طبیعیات۔ ان میں سے ہر ایک علم کے کئی ذیلی شعبے ہیں۔ ریاضیات میں حساب کے مختلف شعبے، ہندسہ، مساحت (زمین کی پیمائش) اور دیگر علوم شامل ہیں۔ بھلا کوئی عقل مند انسان یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ علوم حرام ہیں جبکہ بہت سے شرعی احکام کی بنیاد انہی پر ہوتی ہے اور لوگ اپنی دنیاوی ضروریات میں ان پر انحصار کرتے ہیں، جیسے عمارت سازی، پانی کے چشمے تلاش کرنا، بصری آلات کا استعمال وغیرہ۔ لہٰذا یہ تمام علوم یا تو فرضِ کفایہ کے درجے میں ہیں یا کم از کم مباح ضرور ہیں۔ رہی بات طبیعیات کی، تو اس میں طب، سرجری وغیرہ دیگر مفید علوم شامل ہیں جن سے کوئی بھی بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ یہ تمام علوم بھی فرضِ کفایہ میں داخل ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ حکمت کے یہ دو بڑے شعبے یعنی ریاضیات اور طبیعیات فرضِ کفایہ یا بعض صورتوں میں کم از کم مباح ہیں۔ اب رہ گئی بات الٰہیات کی تو یہی وہ میدان ہے (جو محل نزاع و مسائل کا باعث ہے) جسے گمراہ فرقوں نے اپنی خفیہ سازشوں، کفریہ نظریات اور گمراہیوں کا محور بنایا۔ البتہ اس کے باوجود بھی ان علوم کو مطلقاً حرام کہنا درست نہیں بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ اس میں تفصیل کی جائے۔ اگر کوئی شخص کتاب و سنت کا گہرا علم رکھتا ہو، ذہانت و فطانت سے بہرہ مند ہو اور اس کا مقصد ان علوم میں غور و فکر کے ذریعے باطل پرستوں کے شبہات کا رد کرنا، گمراہ فرقوں کے عقائد کو باطل ثابت کرنا اور متاخرین کے کلامی اصطلاحات کو سمجھنا ہو، تو اسے کوئی بھی حرام نہیں کہہ سکتا بلکہ بعض اوقات ایسا کرنا فرضِ کفایہ ہوتا ہے۔ (غور کرو کہ) جب بعض لوگوں نے علمِ عروض کو صرف اس وجہ سے فرضِ کفایہ کہا کہ اس سے شعر اور معجز کلام (قرآن) میں فرق کیا جا سکتا ہے تو پھر اس کو بطریق اولی فرض کفایہ ہونا چاہئے جس سے انسان کو شبہات کا رد کرنے اور حق عقائد کی نصرت کا ہنر حاصل ہوتا ہے۔ اسی اصول کے تحت فخر الدین رازی حجۃ الاسلام غزالی اور ان جیسے بے شمار جلیل القدر علماء نے ان علوم میں اشتغال کیا۔ البتہ اگر کوئی شخص کند ذہن، سادہ طبع اور فکر و فہم سے کمزور ہو، اور اس کے پاس شرعی علوم کی روشنی بھی نہ ہو کہ وہ ان شبہات کی تاریکی میں بصیرت کے ساتھ چل سکے، تو ایسے شخص کے لیے ان علوم میں داخل ہونا حرام ہے۔
اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی علوم میں لفظ فلسفہ و حکمت ایک وسیع المفہوم اصطلاح کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا جہاں نیو افلاطونی روایت سے برآمد ہونے والا علم الہی اس کی ایک ذیلی شاخ تھی اور فلسفے و حکمت کی صرف یہی وہ شاخ تھی جس کی مذمت کی جاتی تھی اس لئے کہ اس کا براست تعلق بعض بنیادی عقائد سے تھا۔ اسی قبیل کی بات علامہ تفتازانی (م 793 ھ) “شرح المقاصد” میں علم کلام کا تعارف کرواتے ہوئے فرماتے ہیں:
كما دونت حكماء الفلسفة الحكمة النظرية والعملية إعانة للعامة على تحصيل الكمالات المتعلقة بالقوتين دونت عظماء الملة وعلماء الأمة علم الكلام وعلم الشرايع والأحكام فوقع الكلام للملة بإزاء الحكمة النظرية للفلسفة
مفہوم: جس طرح حکمائے فلاسفہ نے نظری اور عملی حکمت کو عام لوگوں کی (عقلی و عملی) دو قوتوں کے کمال کے حصول میں مدد دینے کے لیے مدون کیا، اسی طرح امت کے جلیل القدر پیشواؤں اور علماء نے علمِ کلام اور علمِ شریعت و احکام کو مدوّن کیا۔ چنانچہ فلسفہ کی نظری حکمت کے مقابلے میں ملت اسلامیہ کے لیے علمِ کلام قرار پایا۔
معلوم ہوا کہ کلام ایک خاص مفہوم والے نظری فلسفے کا اس معنی میں مترادف تھا کہ یہ الگ فریم ورک کے ذریعے وہی کام کرتا تھا جو نظری فلسفے (یا اس کی ایک شاخ) کے ذمے تھا۔
اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ بعض متکلمین کی ایسی عبارات جن میں فلسفے کی مذمت بیان ہوئی ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ فلسفے کی اس عمومی مفہوم یا آج کے کسی مفہوم والے فلسفے کی مذمت کے قائل تھے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں مثلاً نیو افلاطونی فلسفیانہ روایت کے زوال کا مطلب از خود فلسفہ عمومی مفہوم یا جدید دور کے مفہوم کے زوال کے ہم معنی نہیں۔ ایسا استدلال کرنے میں احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اسلامی علوم کی تاریخ و اصطلاحات سے ناواقفیت کا مظہر ہے۔ اصطلاحات کے استعمال کا یہ فرق پیش نظر ہو تو کلام و فلسفہ میں تعلق سمجھنا بھی آسان رہتا ہے۔




کمنت کیجے