
سید اسد مشہدی
شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی حجۃ اللہ البالغہ اُن کی نمایاں اور شہرۂ آفاق تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے دینِ متین کے اسرار و حِکَم کو نہایت منضبط، مربوط اور استدلالی انداز میں پیش کیا ہے، اور احکامِ شریعت کے پس منظر میں کارفرما مصالح و مقاصد کو ایک واضح فکری نظام کے تحت مرتب کیا ہے۔
اگرچہ اس تصور کی جڑیں اس سے قبل امام شاطبیؒ اور امام غزالیؒ کے مباحث میں اپنی مخصوص ہیئت کے ساتھ موجود تھیں، تاہم شاہ ولی اللہؒ کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے ان منتشر مباحث کو یکجا کر کے انہیں ایک مستقل اور جامع علمی فن کی صورت دے دی۔ شاہ صاحب کے ہاں پہنچ کر یہ بحث ایک نظریاتی قالب میں ڈھلتی نظر آتی ہے ۔
شاہ ولی اللہؒ کا اسلوب نہایت دقیق اور علمی ہے، اور حجۃ اللہ البالغہ اپنے موضوع اور منہج کے اعتبار سے عام ذہن کے لیے سہل الفہم کتاب نہیں۔ یہ تصنیف گہرے فکری پس منظر، شاہ صاحب کی اصطلاحات سے آشنائی ، مزاج سے واقفیت اور خود قاری کے علمی مزاج کا تقاضا کرتی ہے۔
افسوس کہ آج کل شاہ صاحب کے نام پر گفتگو تو بہت ہو جاتی ہے، اور بعض اوقات معانی سے خالی رمز آفرینی بھی دکھائی دیتی ہے، مگر اسے سنجیدہ علمی اور اکیڈمک اسلوب میں زیرِ مطالعہ لانے کی بنیادی استعداد کم ہی نظر آتی ہے۔
حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تصانیف بالخصوص حجۃ اللہ البالغہ، دین کی روایتی تعبیر کو اس کے نقطۂ عروج تک پہنچا دیتی ہے۔ اس میں روایت کا تصور محض نقل فہم کا نہیں رہتا بلکہ ایک باقاعدہ فکری نظام اور حکمتِ تشریع کی مربوط تعبیر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
خیر، آج برادرِ عزیز جناب شبیر اللہ سے حجۃ اللہ البالغہ کے بعض مباحث پر گفتگو ہو رہی تھی۔ وہ ان دنوں کچھ لیکچرز اور دروس کی مدد سے اس کا باقاعدہ مطالعہ کر رہے ہیں، تاہم بعض مقامات پر دقت اور ابہام کا سامنا بھی ہے،جو اس کتاب کے مزاج اور اسلوب کو دیکھتے ہوئے ایک فطری امر محسوس ہوتا ہے۔
اسی پس منظر میں مناسب محسوس ہوا کہ یہاں مولانا سعید احمد پالن پوریؒ کی شرح رحمۃ اللہ الواسعہ کے حوالے سے حجۃ اللہ البالغہ کے مضامین کا ایک اجمالی اور منظم جائزہ پیش کر دیا جائے۔
مقصود یہ ہے کہ مطالعے کی راہ قدرے ہموار ہو، مباحث کا بنیادی خاکہ سامنے آ جائے اور ذہن انتشار و الجھن کے بجائے ایک مربوط ترتیب کے ساتھ نکات کو محفوظ کر سکے۔ تاکہ معلومات محض متفرق اشارات یا ذہنی عیاشی نہ رہیں بلکہ ایک مفید اور بامعنی علمی تشکیل کا ذریعہ بن سکیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
پہلے حصے میں وہ ایسے عمومی قواعد اور اصول بیان کرتے ہیں جنہیں سامنے رکھا جائے تو شریعت کے اسرار و حِکم کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ حصہ سات مباحث پر مشتمل ہے۔ ان میں سے پانچ مباحث مولانا سعید احمد پالن پوریؒ کی شرح رحمۃ اللہ الواسعہ کی پہلی جلد میں آتے ہیں، جبکہ آخری دو مباحث دوسری جلد میں شامل ہیں۔
ابتدائی دو مباحث میں کچھ باتیں وجدانی نوعیت کی ہیں۔ یعنی ایسی باتیں جو دل کی سطح پر محسوس کی جاتی ہیں۔ اگر کسی کے ذوق اور وجدان سے ہم آہنگ ہو جائیں تو ٹھیک، ورنہ ان کے ماننے پر کوئی جبر نہیں۔ کیونکہ وجدانیات صاحب وجدان پر ہی حجت ہوتے ہیں ۔ جیسے مجتہد کے لیے اس کے اپنے اجتہاد پر عمل واجب ہوتا ہے ۔
تیسرا مبحث “ارتفاقات” کے بارے میں ہے۔ اس میں بعض باتیں تجربے سے متعلق ہیں۔ ہر شخص اپنے مشاہدے اور سماجی تجربے کی روشنی میں ان کا اندازہ کر سکتا ہے۔
چوتھا اور پانچواں مبحث خالص شرعی نوعیت کے ہیں، اور ان میں پیش کی گئی ہر بات قرآن و حدیث سے مدلل ہے۔ یہاں پہلی جلد مکمل ہو جاتی ہے۔
دوسری جلد میں چھٹا اور ساتواں مبحث شامل ہیں، اور دونوں نہایت اہم ہیں۔
چھٹے مبحث میں “سیاستِ ملیہ” پر تفصیلی گفتگو ہے۔ یہ سب سے طویل بحث ہے اور اکیس ابواب پر مشتمل ہے۔ اس میں ایسے قیمتی اور منفرد مضامین ہیں کہ واقعی اسے علوم کا خزانہ کہا جا سکتا ہے۔ اس حصے کو خاص توجہ سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔
ساتویں مبحث میں یہ بتایا گیا ہے کہ امت نے احکامِ شرعیہ کو کس طرح اخذ کیا، اور جہاں صریح نص موجود نہ ہو وہاں نصوص سے مسائل کیسے مستنبط کیے گئے۔ اس میں اصولِ فقہ اور اصولِ حدیث کے اہم نکات بھی آ جاتے ہیں۔ اگرچہ ابواب کے لحاظ سے یہ مبحث مختصر ہے، مگر اس کی تمہید خاصی مفصل ہے۔ اس تمہید میں فقہی مذاہب کے وجود میں آنے کا تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے، اور آخر میں چند اہم اور معرکۃ الآراء مسائل پر نہایت سنجیدہ گفتگو کی گئی ہے۔
دوسرے حصے میں شاہ صاحبؒ نے احادیثِ احکام کی شرح کی ہے۔ یہ حصہ دراصل ان اصولوں کا عملی اظہار ہے جو
پہلے بیان ہوئے۔ یہ مباحث قدرے دقیق ہیں اور سنجیدہ مزاج اور بالغ نظر اہلِ علم کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ اس لیے انہیں جلدی میں نہیں بلکہ ٹھہر کر اور تدبر کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ حجۃ اللہ البالغہ بلند علمی ذوق اور گہری ذہنی صلاحیت کا تقاضا کرتی ہے۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اک لکھتے ہیں کہ کتاب کے بعض مختصر مباحث کو انہوں نے بیس بیس بار پڑھ کر ہی سمجھا۔
قارئینِ کرام کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بارے میں دو اہم باتیں ذہن میں رہنی چاہئیں:
پہلی بات: شاہ صاحبؒ حنفی ضرور ہیں، مگر جامد مقلد نہیں بلکہ محقق اور مجتہد حنفی ہیں۔ بالکل ایسے جیسے علامہ کمال الدین ابن الہمامؒ (صاحب فتح القدیر) مجتہد حنفی تھے۔ بڑے عالم ہمیشہ کچھ تفردات اپنے پاس رکھتے ہیں، چاہے وہ مسائلِ فرعیہ ہوں یا اصولِ فقہ۔
اہلِ مذہب ہر تفرد کو قبول کریں یا نہ کریں، یہ الگ معاملہ ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن الہمامؒ کے تفردات کو ان کے شاگرد علامہ قاسم بن قطلوبغا نے قبول نہیں کیا۔
بالکل اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہؒ کے اصولِ فقہ یا مسائلِ فقہیہ میں جو تفردات ہیں، انہیں اہلِ علم اور اربابِ فتاوی ہر جگہ قبول نہیں کرتے، مگر وہ اپنے مخصوص منطق اور دلائل کے اعتبار سے حجت شمار ہوتے ہیں۔
مثلاً مفہومِ مخالف کے مسئلے پر، سرخسیؒ نے شرح السیر الکبیر میں ذکر کیا کہ بعض اوقات مفہوم مخالف کو حجت مانا گیا، مگر عمومی طور پر احناف نصوص میں مفہوم مخالف کی حجیت کے قائل نہیں ہیں۔
اسی طرح خبر واحد کے معاملے میں، ائمہ ثلاثہ بعض اوقات قرآن پر زیادتی کو جائز کہتے ہیں، مگر احناف کی متفقہ رائے ہے کہ یہ جائز نہیں، البتہ خبر واحد پر عمل کرنا لازم ہے۔ چنانچہ احناف نماز میں قراءت کو رکن اور فاتحہ کو واجب قرار دیتے ہیں۔
قارئین کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بارے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ آپ نے حرمین شریفین کے سفر کے دوران شیخ ابو طاہر مدنی شافعی رحمہ اللہ کی شاگردی اختیار کی اور ان سے حدیث شریف پڑھی۔ اس دوران آپ نے حضرت امام شافعیؒ اور دیگر اکابر شافعیہ کی کتب، خاص طور پر شیخ ابو طاہر کے والد شیخ ابراہیم کردی رحمہ اللہ کی تصانیف کا مطالعہ کیا، جو اپنے زمانے میں شافعی صغیر کے نام سے مشہور اور بڑے محقق تھے۔
حضرت شاہ صاحب اس علمی اثر سے بہت متاثر ہوئے، اور اپنی شاگردی کی محبت و عقیدت کو وداعی ملاقات میں ایک شعر کے ذریعے ظاہر کیا:
نسيت كل طريق كنت أعرفه
إلا طريقا يوديني لربعكم
میں ہر اس راہ کو بھول چکا ہوں جس کو جانتا تھا،بس وہ راہ یاد رہ گئی ہے جو آپ کے گھر تک پہنچاتی ہے۔
یہ شعر آپ کی استاذ سے گہری اثر پذیری اور علمی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔ شاہ صاحب نے خود لکھا کہ وہ تدریس میں حنفی شافعی ہیں، اور تصنیف بھی ایک طرح کی تدریس ہے۔
اسی تعلق اور اجتہادی بصیرت کی بنیاد پر انہوں نے اپنی کتب میں بعض جگہ اصول و فروع میں حضرت امام شافعیؒ کے قول کو اختیار کیا، اور جہاں مناسب سمجھا، شاہ صاحب کے شارحین بالخصوص حضرت پالن پوری صاحب نے احترام کے ساتھ درست تبدیلی بھی کی ہے ۔
شاہ ولی اللہؒ کے حوالے سے مولانا عبیداللہ سندھیؒ، جو ان کے عظیم شارح اور مفسر ہیں، ایک مضمون میں،غالباً الفرقان کے شاہ ولی اللہ نمبر کے لیے لکھے گئے، اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ولی اللہی تحریک کے لیے حنفی ہونا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک غیر حنفی اس تحریک کا حصہ نہیں بن سکتا، کیونکہ اس تحریک کا بنیادی نقطۂ آغاز اور فکری ڈھانچہ حنفی اجتہاد اور اصول پر استوار ہے۔




کمنت کیجے