کہانی کار (Story Teller) جب حقائق پر تبصرہ کرتا یا کوئی تحقیقی کام کرتا ہے تو اسے بھی افسانہ بنا دیتا ہے۔ تحقیق کی کمی اور اس سے پیدا ہونے والی خامیوں کو وہ تخیل کی کارفرمائی سے رفو کر دیتا ہے۔ حقائق کی پڑھت میں وہ اپنے خیالات کی بنت دیکھتا اور اسے ہی بیان کرتا ہے۔ ایسے کہانی کار محققین کی تحقیقی کتب بیسٹ سیلر بنتی ہیں، کیونکہ لوگ ہمیشہ کہانی سننا پسند کرتے ہیں۔کہانی کار اپنے زور بیان سے قاری کے ذہن کو اغوا کر لیتا ہے اور پھر اس میں جو وہ چاہتا ہے ڈال دیتا ہے۔ رومان اور تحقیق میں منافرت ہے۔ جہاں رومان ہوگا وہ تحقیق نہیں ہو سکتی۔ ایسی “تحقیقی کہانیاں” پڑھنے والے اپنے علمی قدمیں اضافہ محسوس کرتے ہیں، حالانکہ وہ محض ایک افسانے کے قاری ہوتے ہیں۔
علی دشتی، کیرن آرم سٹرانگ اور ہیزلٹن ایسے ہی کہانی کار، تخیل پسند، رومان پسند محققین ہیں۔
علی دشتی کہنے کو تو قرآن کو پڑھ کر اپنا تبصرہ لکھتا ہے، مگر اس کے ذہن میں رسول کی سیرت اور تاریخی واقعات چل رہے ہوتے ہیں۔ جہاں اسے رسول ایک نفیس طبیت بے ضرر مبلغ کی حیثیت سے نظر آتے ہیں۔ جنھیں وہ پسند کرتا ہے مگر مدینے میں وہ فوجوں کی قیادت کرتے ایک جنجگو دکھائی دیتے ہیں اور جو لوگوں کو کی گردنیں اور ان کے پور پور پر مارنے کے احکام جاری کرتے ہیں۔
علی دشتی مکی دور کا قرآن پڑھتا ہے مگر اس کا دماغ یہ رجسٹر نہیں کرتا ہے کہ وہاں قرآن ہر ہر قدم پر اپنے سننے والوں کو رسول کی تبلیغ کے عقب میں امنڈتے عذاب سے ڈراتا ہے۔ پھر اسی عذاب کا کوڑا ہے جو ان پر بدر و حنین میں برستا ہے۔ رسول کے قول و فعل میں یہ مطابقت علی دشتی کو تضاد دکھائی دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ مدینے میں طاقت کے حصول کے بعد محمد بدل گئے۔ علی دشتی کو چونکہ قتل و غارت گری پسند نہیں، اس لیے وہ اسے محض طاقت کی نفسیات کے تحت دیکھتا ہے۔ علی دشتی کے سارے نتائج میں یہ یہ چیز نمایاں ہے۔ وہ حقائق کو پڑھ کر بھی نہیں سمجھتا اور اپنے تخیل کو حقیقت بنا کر پیش کرتا ہے۔ اچھا کہانی کار ہے اس لیے قصہ خواں بازار میں اس کی مانگ ہے۔
کیرن کے ہاں بھی یہی مسئلہ ہے۔ وہ کچھ محرکات فرض کر تی ہے اور تاریخ کو اس کے مطابق بیان کرنے لگتی ہے۔ جو حقائق اس کے مفروضے کے مطابق نہیں بیٹھتے وہ انھیں ذکر نہیں کرتی یا ایسے ذکر کرتی ہے کہ وہ اس کی کہانی کو بگاڑے بغیر بیان ہو جاتے ہیں۔
ہیزلٹن شدید رومانویت پسند بلکہ رومانویت زدہ ہے۔ اسے حقائق سے غرض ہی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پیغام کے بارے میں ایک جگہ وہ لکھتی ہے:
His message was a radic al one, a imed above all at the inequalities of urban life.
یعنی رسول اللہ کی دعوت کا سب سے اہم پہلو شہری زندگی کی ناہمواریاں کو ہدف بنانا تھا!
یہ ہیزلٹن کی تمنا ہے کہ رسول کو ایسا کرنا چاہیے۔ چناں چہ وہ سیرت کے مطالعہ میں اپنا یہی تخیل پڑھتی ہے۔ مگر رسول کا پیغام توحید جو ان کے پیغام اور کام کی اصل بنیادہ ے، اس پر اس کی نطر نہیں پڑتی کیونکہ وہ اس کی دل چسپی کی چیز نہیں۔ پھر اس سے کون واقف نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دور کی معاشرتی بنت کو نہیں چھیڑا تھا۔ اشراف اور عوام، غلام اور آقا کے طبقات ویسے ہی موجود تھے۔ آپ نے البتہ انھیں اخلاقی لحاظ سے حساس بنایا تھا۔
ہیزلٹن ایک جگہ ایک فاش تاریخی غلطی کا شکار ہوئی ہے۔ لکھتی ہے کہ واقعہ افک کے بعد نبی کی بیویوں پر اپنے گھروں سے باہر نکلنے اور حجاب اختیار کرنے کی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اس پابندی کی وجہ وہ حضرت عائشہ کے اس ایڈونچر کو قرار دیتی ہے کہ وہ جنگ کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہم راہ گئی تھیں۔
ہیزلٹن نے یہ تحقیق کرنے کی زحمت نہیں کی کہ ازواج مطہرات کے گھروں میں رہنے اور حجاب اختیار کرنے کا حکم واقعہ افک سے پہلے آ چکا تھا۔ افک کی روایت ہی میں اس کا ذکر ہے۔ حضرت عائشہ، اس انتظار میں کہ لوگ ان کی غیر موجودگی پر مطلع ہوتے ہی ان کی تلاش میں آئیں گے، ایک جگہ انتظار کرتے کرتے سو گئی تھیں۔ صفوان بن معطل نے جب ان کے پاس آئے تو “انا اللہ” پڑھ کر انھیں متنبہ کیا، حضرت عائشہ نے فورا اپنا چہرہ ڈھانپا۔ وہ بیان کرتی ہیں۔ صفوان نے انھیں دیکھا تو پہچان لیا کیوں کہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے انھوں نے حضرت عائشہ کو دیکھا ہوا تھا۔ مگر ہیزلٹن کا کا دماغ اس نکتے کو رجسٹر نہیں کرتا۔ وہ اپنی کہانی میں بہے جاتی ہے اور قاری کو بھی بہا لے جاتی ہے۔
ایک جگہ اور وہ ایک غلط نتیجہ نکالتی ہے۔ حضرت عائشہ پر لگی تہمت کا فیصلہ اللہ نے خود کیا تو اس سے تمام عورتوں پر لگی تہمتوں اور ریپ کی شکار ہونے والی خواتین کی داد رسی کا دروازہ بند ہو گیا کہ اب عورت کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے عینی چار گواہ پیش کرنے ہوں گے، ورنہ الزام ثابت نہ ہونے کی صورت میں تہمت کی سزا 80 کوڑوں خود اس کی پیٹھ پر برسیں گے۔ وہ لکھتی ہے:
Aisha’s ex oneration was destined to become the basis for the silencing, humiliation, and even execution of countless women after her.
یہاں اس نے قرآن اور فقہی آرا کو خلط کرکے نتیجہ نکالا ہے اور یہ نہیں دیکھا کہ لوگوں کی عزت کو تہمت سے بچانے کے لیے تہمت کی سزا بیان ہوئی ہے۔ اور اس کی وجہ حضرت عائشہ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے۔ پھر اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ خود رسول اللہ ﷺ ریپ کے مقدمات میں کیا کرتے تھے۔ وہ ایک اکیلی عورت کی گواہی پر اطمینان ہو جانے کے بعد مجرم کو سنگسار کرا دیتے تھے۔
ہیزلٹن کو حضرت عائشہ سے بیر ہے کہ وہ اس کے ممدوح حضرت علی کے خلاف کیوں لڑی تھیں، چنانچہ ہر الزام وہ حضرت عائشہ کے سر ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ حضرت عائشہ کو ایک (نعوذ باللہ ) شریر mischievous لڑکی بنا کر پیش کرتی ہے، مگر اسے سمجھ نہیں آتی کہ رسول اللہ ﷺ کی ان سے محبت میں کمی کیوں نہیں آتی تھی۔
ہیزلٹن کی رومان پسند طبیعت حضرت علی کا وہ حلیہ بھی قبول نہیں کرتی جو تاریخ میں نقل ہوا ہے کہ ان کا قد چھوٹا تھا، پیٹ نکلا ہوا تھا اور سر پر بال نہیں تھے۔ اس کے برعکس وہ اس تصوراتی تصویر کو ان کی اصل تصویر سمجھنا چاہتی ہے جو اس نے کہیں دیکھی تھی۔
نسیم حجازی اس لحاظ سے بہتر تھا کہ وہ تاریخی حقائق اور حقیقی کرداروں کو من پسند روپ دینے کی بجائے اپنے افسانوی کرداروں سے کام لیتا تھا۔ مگر یہ کہانی محققین اور مورخین حقیقی کرداروں اور حقیقی واقعات ہی کو افسانہ بنا دیتے ہیں۔




کمنت کیجے