Home » سیاست کے شورائی اصول (3)
تاریخ / جغرافیہ تفسیر وحدیث سیاست واقتصاد

سیاست کے شورائی اصول (3)

اہل اسلام کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اسلام کا نام لینے والا ہر طالع آزما (adventurer) اسلام کا نمائندہ نہیں ہے۔ پاکستان کا مرد آہن ضیاء الحق ہو یا سوڈان کا جنرل عمر حسن احمد البشیر اسلام کے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے لوگ تھے۔ جو عوام کی مرضی کے خلاف ان کی قسمتوں کے مالک بن گئے تھے۔ چونکہ ان کے پاس توپ تھی وہ اسلام کو اپنی حکومت کے استحکام کے لیے استعمال کرتے رہے۔ یہ اہل اسلام کی نفسیاتی بے بسی ہے کہ کوئی بھی مہم جو جب بھی اسلام کا نام لیتا ہے وہ اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انہیں اپنے اس رویے کو تبدیل کرنا چاہیے۔ انہیں اپنی بے بسی برداشت کرنی چاہیے اور اس بے بسی کو عوام کی حمایت سے طاقت میں بدلنا چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ کی براہ راست (directly) یا بالواسطہ (indirectly) حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ ان کی طاقت اور استحکام کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ اس کے برعکس ہر لمحے اور ہر فیصلے کے وقت عوام کو ترجیح دینی چاہیے۔ چاہے اس سے وقتی طور پر نقصان ہو۔ اس سے عوام کی نگاہ میں اہل اسلام کا اعتماد بڑھے گا جو بالآخر فائدہ مند ہو گا۔ ایران اور ترکی کی مثالیں ہمارے کے سامنے ہیں۔ جہاں اہل اسلام خالص عوام کے بل بوتے پر پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود اقتدار میں آئے ہیں۔

اس بات کا بھی دھیان رکھنا چاہیے کہ اقتدار میں آنے کے بعد حکومت عوام کی ہونی چاہیے کسی خاص گروہ کی اجارہ داری (monopoly) نہیں ہونی چاہیے بلکہ عام مسلمانوں کی حکومت ہونی چاہیے۔ افغانستان اس ضمن میں مکمل طور پر ناکام ہوا ہے اور اسلام کی جگ ہنسائی کا سبب بنا ہے۔ اس لیے کہ وہاں سیاسی فکر خالصتاً ملوکیت والی تھی کہ ایک فرد یا ایک ٹولہ عوام کی قسمتوں کا مالک ہے۔ وہ فرد چاہے خلیفہ ہو یا امیر المومنین، مسٹر ہو یا مولوی۔ کچھ حد تک یہی صورت حال ایران میں ہے۔ اگر علماء نے ایران میں اقتدار عوام کے سپرد نہ کیا تو آپ چند سالوں میں ایک اور انقلاب دیکھیں گے جو ولایت فقیہ کے تصور کے خلاف ہو گا۔ پھر شاید وہاں عوامی بادشاہت قائم ہو جائے اور اچھا ہے کہ ایران اصلاح کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عرب ممالک کو دیکھیں وہاں اسلام کی ابتدا ہوئی۔ ہمارے مقدس ترین مقامات وہاں ہیں۔ وہاں خالص خاندانی ملوکیت ہے۔ عوام کی حاکمیت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہاں کے اکثر علماء اس ملوکیت کے محافظ ہیں۔ ملوکیت کے مخالفوں کے سر علماء کے فتوئوں کے بعد تن سے جدا کیے جاتے ہیں۔ اس ساری بحث کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اگر ہم کسی مسلمان بادشاہ کی ملوکیت کے خلاف بات کریں تو ہمیں اسلام کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان صاحب نے الشہادۃ العالمیہ کی تعلیم وفاق المدارس العربیہ سے حاصل کی ۔ بعد ازاں مقامی اور بین الاقوامی اداروں سے بین الاقوامی تعلقات اور قانون کی تعلیم حاصل کی ۔ آپ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی رہنے کے ساتھ ساتھ مختلف وزارتوں کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں ۔
آپ کئی کتب کے مصنف ہیں جن کے موضوعات اسلام ،قانون اور حقوقِ انسانی ہیں ۔

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں