Home » علم کے انقطاع اور علم کے انتقال کا سوال
فلسفہ کلام

علم کے انقطاع اور علم کے انتقال کا سوال

 

وسیم رضا ماتریدی

جدید مسلم ذہن کو سمجھنے کے لیے “علم” کے سوال سے زیادہ بنیادی شاید ہی کوئی اور سوال ہو، کیونکہ تہذیبیں صرف طاقت سے نہیں، اپنے نظامِ علم سے زندہ رہتی ہیں۔ جس تہذیب کے پاس یہ وضاحت نہ رہے کہ علم کیا ہے، اس کی اقسام کیا ہیں، اس کا مرجع کیا ہے، اس کی غایت کیا ہے، اور انسان کے ساتھ اس کا تعلق کس نوع کا ہے، وہاں فکری انتشار ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے جدید مسلم دنیا کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس نے کچھ علوم کھو دیے اور کچھ نئے علوم حاصل کر لیے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ علم کی درجہ بندی، علم کی مرجعیت، اور علم کی غایت بدل گئی۔ یعنی سوال صرف        quantity        of knowledge کا نہیں، بلکہ architecture        of         knowledge کا ہے۔ اواخرِ عثمانیہ کے فکری مطالعے نے اسی نکتے کو نمایاں کیا ہے کہ جدید اسلامی فکر کی تشکیل کو “روایت بمقابلہ جدیدیت” کے سادہ تضاد سے نہیں سمجھا جا سکتا؛ وہاں اسلام خود ایک نئے اجتماعی و سیاسی category کے طور پر problematize ہو رہا تھا، اور اس کے ساتھ اسلامی علم کی پرانی ترتیب بھی disruption کا شکار تھی۔

روایتی اسلامی فضا میں “علم” محض معلومات کا انبار نہ تھا اور نہ ہی صرف کسی ایک شعبے، مثلاً فقہ یا کلام، کا نام تھا۔ اس کے اندر ایک نسبتِ کلّی پائی جاتی تھی۔ دینی علم، عقلی علم، لسانی علم، اخلاقی علم، اور تہذیبی علم ایک وسیع تر افق میں ایک دوسرے سے مربوط تھے، اگرچہ ان کے مراتب و حدود الگ الگ سمجھے جاتے تھے۔ برٹانیکا کے مطابق تاریخی مدرسہ صرف قرآن، حدیث، فقہ، اور تفسیر تک محدود نہ تھا؛ اس میں عربی ادب، منطق، ریاضی، اور بعض صورتوں میں natural        science بھی پڑھائی جاتی تھیں، جبکہ اسلامی فلسفہ اور علمِ کلام دونوں rational         inquiry کی روایت سے متعلق تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایتی مسلم ذہن میں “دینی” اور “عقلی” کی تفریق موجود ضرور تھی، مگر وہ ایسی عداوت آمیز تفریق نہ تھی جس میں ایک کو اختیار کرنے کے لیے دوسرے کو فنا کرنا لازم ہو۔

یہی وہ مقام ہے جہاں”علم کے انقطاع” کا مطلب واضح ہوتا ہے۔ انقطاع سے مراد صرف یہ نہیں کہ کچھ نصوص کم پڑھی جانے لگیں یا کچھ کتابیں متروک ہو گئیں؛ بلکہ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ علم کا باہمی ربط ٹوٹ گیا۔ جب ایک تہذیب میں یہ احساس کمزور ہو جائے کہ فقہ کا رشتہ اخلاق سے ہے، اخلاق کا رشتہ روح سے ہے، روح کا رشتہ حقیقت سے ہے، اور حقیقت کی جستجو میں عقل، نقل، تجربہ، اور تہذیبی حافظہ سب کسی نہ کسی درجے میں شریک ہیں، تو علم کی وحدت بکھرنے لگتی ہے۔ پھر علم اپنے اصل وجودی افق سے کٹ کر الگ الگ compartment میں تقسیم ہو جاتا ہے: یہاں      “        religious studies”، وہاں “social        sciences”، کہیں “policy         expertise”، کہیں “technology”، اور کہیں محض identity        discourse۔ اس طرح علم اپنی تکوینی مرکزیت کھو دیتا ہے اور انسان بھی اپنے آپ کو ایک مربوط ہستی کے طور پر نہیں بلکہ الگ الگ ذہنی خانوں میں تقسیم کر کے دیکھنے لگتا ہے۔ اس نکتے کی تاریخی جڑ Late         Ottoman          disruption میں ملتی ہے، جہاں علم کی روایت اپنی داخلی وحدت کے ساتھ جدید دنیا کے نئے intellectual         pressures کا سامنا کر رہی تھی۔

اس انقطاع کے مقابل”علم کے انتقال” کا سوال سامنے آتا ہے۔ انتقال سے مراد یہاں صرف transmission نہیں، بلکہ علم کی ایک تہذیبی جگہ سے دوسری تہذیبی جگہ کی طرف نقل و حرکت ہے۔ روایت سے جدیدیت تک علم جس صورت میں منتقل ہوا، اس نے اپنی بہت سی معنوی جہتیں پیچھے چھوڑ دیں اور بہت سی نئی فنی و ادارہ جاتی صلاحیتیں حاصل کر لیں۔ Tanzimat        reforms اس معاملے میں ایک روشن مثال ہیں۔ برٹانیکا کے مطابق 1846 سے ریاستی تعلیم کا جامع منصوبہ بنایا گیا، پھر 1869 میں free        and        compulsory         primary         education کی طرف قدم بڑھا، اور ساتھ ہی ایک نیا secular         school         system اور یورپی طرز کے قانونی ضوابط سامنے آئے؛ مزید یہ کہ نئے state courts علما کے دائرۂ اختیار سے آزاد ہو کر وجود میں آئے۔ اس عمل نے صرف ادارے نہیں بدلے، بلکہ اس نے یہ بھی بدل دیا کہ “معتبر علم” کون سا ہے، “مفید علم” کسے سمجھا جائے گا، اور “ریاست کے لیے ضروری علم” کس کو مانا جائے گا۔

یہیں سے جدید مسلم ذہن میں علم کی نئی درجہ بندی وجود میں آتی ہے۔ دینی علم اب increasingly مذہبی تشخص، ritual        continuity، اور normativity کے دائرے میں بند ہونے لگتا ہے؛ عقلی علم یا تو مغربی فلسفے اور جدید سائنسی منہج کے سامنے دفاعی صورت اختیار کرتا ہے یا ایک محدود apologetic        function میں آ جاتا ہے؛ سائنسی علم utility,      administration,      production,      and control کے ساتھ جڑ جاتا ہے؛ اور تہذیبی علم، یعنی وہ شعور جو کسی قوم کو اپنے تاریخی حافظے، اپنے ادبی سرمائے، اپنے اخلاقی تخیل، اور اپنی اجتماعی self-understanding سے جوڑتا ہے، رفتہ رفتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ یوں علم کی وہ کثیرسطحی دنیا، جس میں انسان truth-seeking        subject بھی تھا اور moral-spiritual        being بھی، سکڑ کر professional        expertise اور ideological        positioning کی دنیا میں بدلنے لگتی ہے۔ جدید مسلم دنیا کے بہت سے بحران اسی نئی تقسیم کی پیداوار ہیں۔

اس تبدیلی کو اگر اور زیادہ باریکی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف دینی اور سائنسی علم کے درمیان کشمکش نہیں، بلکہ ہدایت اور اقتدار کے درمیان کشمکش بھی ہے۔ روایتی دینی افق میں علم کی ایک بڑی غایت “ہدایت” تھی: انسان کو اس کے رب، اس کی ذمہ داری، اس کے اخلاقی مقام، اور اس کی نجات کے راستے سے آشنا کرنا۔ اس کے برعکس جدید ریاستی و تکنیکی افق میں علم کی بڑی غایت “control” اور “management” بننے لگتی ہے: معاشرہ کیسے منظم ہو، قانون کیسے چلے، معیشت کیسے بڑھے، آبادی کیسے regulate ہو، جنگ کیسے جیتی جائے، communication کیسے optimize ہو۔ اس سے علم کا مقام بدل جاتا ہے۔ وہ دل و ضمیر کی تشکیل کے بجائے increasingly        systems کی efficiency کا آلہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم اپنے ہدائیتی معنی سے سرک کر اقتداری معنی اختیار کرتا ہے۔ Late        Ottoman اور بعد از نوآبادیاتی دنیا میں “اسلام” کے اجتماعی و سیاسی category میں problematize ہونے کا مطلب بھی یہی تھا کہ مذہبی علم اب صرف حقیقت کی جستجو یا روحانی رشد کا نام نہ رہا، بلکہ identity,      order     , and        politics سے بھی جڑنے لگا۔

مگر علم کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، کیونکہ جدید دنیا نے اسے صرف اقتدار سے نہیں جوڑا بلکہ utility سے بھی باندھ دیا۔ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ کون سا علم انسان کو اچھا بناتا ہے، بلکہ یہ کہ کون سا علم اسے employable،      productive،        competitive، یا administratively        useful بناتا ہے۔ اس ذہنیت میں علم کی قدر اس کے existential        truth سے نہیں بلکہ اس کے measurable        outcomes سے طے ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دینی علم کو اکثر “غیر مفید” اور انسانیاتی علم کو “کم کارآمد” سمجھا جاتا ہے، جبکہ فنی اور تکنیکی علوم کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ پڑھنے اور سمجھنے کے بارے میں ایک معاصر کتاب واضح طور پر یہ اصرار کرتی ہے کہ reading        well صرف information حاصل کرنے کا عمل نہیں بلکہ observation،      thinking،      imagination،      and         living کو گہرا بنانے کا ذریعہ ہے؛ یعنی علم زندگی کے ساتھ entwined ہے، نہ کہ صرف career utility کے ساتھ۔ یہ اشارہ نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر علم کو محض utility تک محدود کر دیا جائے تو انسان خود بھی utilitarian        being میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔

یہاں سے “علم بطور معنویت” کا سوال سامنے آتا ہے، اور یہی اس پوری بحث کا سب سے باریک اور شاید سب سے فیصلہ کن حصہ ہے۔ انسان صرف جاننا نہیں چاہتا؛ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ جو کچھ وہ جانتا ہے، اس سے اس کی زندگی کی معنویت واضح ہو۔ اگر علم انسان کو کائنات کے facts تو دے مگر اس کے وجود کی جگہ نہ بتائے، اگر وہ اسے mechanisms سمجھا دے مگر مقصد نہ دے، اگر وہ اس کے لیے دنیا کو intelligible بنا دے مگر زندگی کو bearable نہ بنا سکے، تو پھر علم میں اضافہ ہونے کے باوجود روحانی و وجودی خلا باقی رہتا ہے۔ معاصر فکری تنقید میں technological        age کے بارے میں یہ بات زور سے کہی گئی ہے کہ مشین کے زمانے میں truly         human رہنے کے لیے انسان کو matters         of        the        spirit پر گہری توجہ درکار ہے؛ یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ technology ہے، بلکہ یہ کہ technology کے زیرِ اثر علم اور انسان دونوں کی تعریف بدل رہی ہے۔ یہاں علم اگر معنویت سے کٹ جائے تو انسان بھی اندر سے hollow ہونے لگتا ہے۔

اسی پس منظر میں دینی علم، عقلی علم، سائنسی علم، اور تہذیبی علم کے تعلق کو نئے سرے سے سوچنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ دینی علم اگر ہدایت دیتا ہے مگر دنیا کی پیچیدگی کو نہیں سمجھتا تو وہ دفاعی اور سطحی ہو سکتا ہے۔ عقلی علم اگر تحلیل کرتا ہے مگر روحانی افق سے کٹا ہوا ہو تو وہ nihilism یا sterile abstraction میں گر سکتا ہے۔ سائنسی علم اگر discovery اور innovation دیتا ہے مگر اخلاقی تحدید سے خالی ہو تو وہ domination کا آلہ بن سکتا ہے۔ تہذیبی علم اگر historical        memory اور collective         selfhood کو محفوظ رکھتا ہے مگر تنقیدی بصیرت سے محروم ہو تو وہ محض nostalgia میں بدل سکتا ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ کسی ایک علم کے انتخاب کا نہیں، بلکہ ان علوم کے درمیان نسبتِ صحیح قائم کرنے کا ہے۔ روایتی اسلامی دنیا کی قوت اس میں تھی کہ وہ کم از کم اصولی طور پر علم کی مراتب اور حدود کو ایک وسیع metaphysical        horizon میں سمجھتی تھی؛ جدید دنیا کی قوت اس میں ہے کہ اس نے empirical inquiry،      specialization، اور institutional        rigor کو وسعت دی۔ آج کی ضرورت ان دونوں کے درمیان جنگ کو بڑھانا نہیں، بلکہ ایسا epistemic        synthesis تلاش کرنا ہے جس میں ہدایت اور تحقیق، عقل اور تجربہ، اخلاق اور قانون، روایت اور innovation، سب اپنی اپنی جگہ محفوظ رہ سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ علم کے انقطاع اور انتقال کا سوال محض educational        reform یا curriculum        design کا سوال نہیں رہتا؛ یہ دراصل انسانی خودفہمی کا سوال بن جاتا ہے۔ ایک ایسا ذہن جس نے علم کو صرف اقتدار، utility، اور specialization کے پیمانوں سے سمجھنا شروع کر دیا ہو، وہ آہستہ آہستہ انسان کو بھی انہی پیمانوں سے دیکھنے لگتا ہے۔ پھر انسان seeker        of         truth نہیں رہتا، performer بن جاتا ہے؛ moral        subject نہیں رہتا، administrable         profile بن جاتا ہے؛ حاملِ روح نہیں رہتا، cognitive machine بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں “مشین” محض بیرونی technology نہیں رہتی بلکہ ایک epistemic        logic بن جاتی ہے: یعنی جاننے کا ایسا طریقہ جو ہر چیز کو قابلِ حساب، قابلِ انتظام، اور قابلِ optimization شے میں بدل دینا چاہتا ہے۔ اور جب یہی منطق غالب آتی ہے تو دینی علم بھی یا تو reaction میں سخت ہو جاتا ہے یا relevance ثابت کرنے کی دوڑ میں خود utilitarian بننے لگتا ہے۔

پس اس پوری بحث کا مرکزی حاصل یہ ہے کہ جدید مسلم ذہن کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس نے کچھ پرانے علوم کھو دیے یا کچھ نئے علوم اپنا لیے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ علم کا مقام بدل گیا۔ پہلے وہ زیادہ تر ہدایت، حکمت، اور meaning کے افق میں سمجھا جاتا تھا؛ پھر وہ increasingly اقتدار، نظم، اور utility کے افق میں پڑھا جانے لگا؛ اور اب مشینی تہذیب کے دباؤ میں وہ speed,      data,       performance,       and         optimization کے افق میں ڈھل رہا ہے۔ اگر اس تبدیلی کی تشخیص نہ کی جائے تو نہ دینی تجدید کا منصوبہ واضح ہوگا، نہ تہذیبی احیا کا، نہ اخلاقی بازیافت کا، اور نہ ہی انسان کے وجودی بحران کا حل۔ اس لیے علم کے انقطاع اور انتقال کا سوال اس پورے پروجیکٹ میں محض ایک باب نہیں، بلکہ ایک مرکزی دروازہ ہے: اسی سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جدید مسلم دنیا کا بحران آخر کیوں صرف سیاسی یا قانونی نہیں، بلکہ epistemic اور existential بھی ہے۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں