Home » دو قومی نظریہ اور وہابی خارجیت
تاریخ / جغرافیہ سیاست واقتصاد شخصیات وافکار

دو قومی نظریہ اور وہابی خارجیت

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر قیام پاکستان کی شدت سے مخالفت کی تھی۔ برصغیر کے مسلم معاشرے کی مذہبی بنیادوں پر سیاسی پولرائزیشن ہماری جدید تاریخ کے مہمات واقعات میں سے ہے۔ ان سیاسی جماعتوں میں جمیعت علمائے ہند، جماعت اسلامی، مجلس احرار، اور خاکسار تحریک وغیرہ نے قیامِ پاکستان کی مخالفت میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں اور آخر الامر شکست فاش سے دوچار ہوئیں۔ قیام پاکستان کے بعد، مجلس احرار کا فیصلہ نہایت دانشمندانہ تھا کہ احرار نے سیاست ترک کر کے خود کو دفاع ختم نبوت کے لیے وقف کر دیا جو اصل کام تھا اور جس کا سیاست سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ یہ مذہبی سیاسی جماعتیں سلباً، یعنی پاکستان کی مخالفت پر متفق تھیں، لیکن ایجاباً ان میں سیاسی اختلافات ضرور موجود رہے۔ ان تمام مذہبی جماعتوں کا سیاسی نظریہ اور سیاسی عمل تاریخی طور پر تحریک مجاہدین کے سیاسی نظریے اور سیاسی عمل سے مستعار اور اس کا تسلسل تھا اور ہے۔ تحریک مجاہدین بنیادی طور پر دو چیزوں کی علمبردار تھی:

(۱) توحید کا نیا نظریہ

(۲) جہاد، یعنی سیاسی عمل کا نیا تصور

تحریک مجاہدین نے اپنے تصور اور عمل سے سیاستِ شرعیہ کی جگہ سیاستِ عقیدہ (جسے وہابی خوارج کے اساسی مفکر شاہ اسماعیل دہلوی ”سیاست ایمانی“ قرار دیتے ہیں) کو متعارف کرایا۔ سیاست عقیدہ نے برصغیر کے مسلم معاشرے کا تاروپود بکھیر دیا اور استعمار و جدیدیت کی پیدا کردہ دنیا میں مسلمانوں کے طاقت کے بننے والے نئے نظام پر کاری ضرب لگائی۔

حالیہ عرصے میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگی جھڑپوں میں دو قومی نظریے اور اس کے مخالف نظریات کا تعامل جو ہمیشہ سیاسی نوعیت کا رہا ہے اب ایک عسکری جہت بھی اختیار کر چکا ہے۔ یہ امر پاکستان کے سیاسی مستقل کے حوالے سے گہرے مضمرات کا حامل ہے۔ مستقبل کی طرف پرامن پیشرفت کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان دشمن اور عوام دشمن سیاسی تصورات اور ان کی مذہبی اساس کا گہرا جائزہ لیا جائے اور ان کو عقلی علوم کا موضوع بنایا جائے۔ وقت کی یہی وہ ضرورت ہے جس میں تحریک مجاہدین کے پیشوا، اس کے ideologue اور نظریاتی مفکر مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کی دو کتابوں یعنی ”منصب امامت“ اور ”عبقات“ کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ وہابی خوارج سے بھی مسلم معاشرے کو اتنا ہی فائدہ پہنچا ہے جتنا کہ مشاجراتی خوارج سے پہنچا تھا۔ وہابی خوارج مذہب کو کردار کشی، تکفیر، مسلکی نفرت، معاشرے میں تشدد، اور ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے جس طرح استعمال کرتے ہیں اس سے اسلامی معاشرے کے قیام کا خواب مکمل طور پر بکھر سکتا ہے۔

”عبقات“ دراصل مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے ان علمی نظریات کا بیان ہے جو ان کے نئے عقیدۂ توحید کی بنیاد بنے، جبکہ ”منصب امامت“ ان کے سیاسی نظریے کا بیان ہے۔ ”عبقات“ ایک نئے عقیدے کی فکری مابعدالطبیعات ہے جبکہ ”منصب امامت“ میں سیاسی طاقت کی مابعدالطبیعات تشکیل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ”عبقات“ کا اصول دین یا اصول فقہ کی کلامی روایت سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ یہ افلاطونی مابعدالطبیعات کا تسلسل ہے، اور نہ متصوفانہ عرفان کی روایت سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ یہ کلام، فلسفیانہ مابعدالطبیعات اور عرفان کا ملغوبہ ہے جس کو مکشوفات و الہام کے شعبدوں سے جوڑا گیا ہے۔ بعینہٖ ”منصب امامت“ کا احکام دین اور فقہ کی روایت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ شاہ صاحب کے زرخیز مکشوفاتی ذہن کی الل ٹپ اختراعات پر مبنی ایک اہم اور نتیجہ خیز دستاویز ہے۔

مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے توحیدی اور سیاسی نظریات اس وقت افغانستان میں اپنی تہذیبی منزل مراد کو پہنچ چکے ہیں، اور آنے والے دنوں میں وہ ڈیورنڈ لائن کے آر پار مسلم معاشرے پر گہرے طور پر اثرانداز ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔ جس طرح کمیونزم پر کوئی گفتگو کمیونسٹ مینی فیسٹو کے مطالعے کے بغیر غیر اہم ہے، اسی طرح وہابی خارجیت کے نظریۂ توحید اور پولیٹیکل تھیوری کو سمجھنے کے ان دو حیرت انگیز کتابوں کو بنیادی حوالہ بنانا ضروری ہے۔ دو قومی نظریے کے فکری اضمحلال کی صورت حال میں اس امر کا اندیشہ ہے کہ وہابی خارجیت پاکستانی معاشرے میں لہو رنگ مستقبل کو ایک واقعہ نہ بنا دے۔ یہی وہ حالیہ تناظر ہے جس میں وہابی خارجیت کی درست تفہیم کے لیے شاہ اسماعیل دہلوی کی کتابوں کے ہم عصر مطالعے کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

محمد دین جوہر

محمد دین جوہر، ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم ہیں اور صادق آباد میں مدرسۃ البنات اسکول سسٹمز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
mdjauhar.mdj@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں