
وسیم رضا ماتریدی
مذہبی و فکری مباحث میں بعض سوالات اپنی ظاہری سادگی کے باوجود غیر معمولی علمی پیچیدگی رکھتے ہیں۔ “کیا قرآن علم ہے؟” یہ اسی نوعیت کا ایک سوال ہے۔ یہ محض کسی لفظ کے اطلاق کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق علم کی ماہیت، اس کے مراتب، اس کے مصادر، اس کی اقسام، اور اس کے مختلف اطلاقات سے ہے۔ اس لیے اس سوال کا جواب دینے کے لیے ضروری تھا کہ پہلے “علم” کے مفہوم کو منضبط کیا جاتا، پھر اس کے درجات و اقسام واضح کیے جاتے، اس کے بعد قرآن کے ساتھ اس کی نسبت متعین کی جاتی۔ لیکن محمد دین جوہر کی صاحب حالیہ تحریر، جسے انہوں نے “قرآن مجید کے اسمائے مبارکہ اور تکفیری ذہن” کے عنوان سے لکھ کر اپنی وال پر شئیر کیا، اس علمی منہج کو اختیار کرنے کے بجائے ایک خطیبانہ، جذباتی، شخصی اور تحقیر آمیز اسلوب میں چلی جاتی ہے۔ نتیجتاً اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے اور گالم گلوچ کو علمیت کے پردے میں پیش کرنے کی کوشش نمایاں ہو جاتی ہے۔
جوہر صاحب اپنی تحریر کے آغاز ہی میں لکھتے ہیں:
“مائل بہ تکفیر متکلم عظیم جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد مغل نے قرآن مجید کے حوالے سے ایک سوال اٹھا رکھا ہے ‘کیا قرآن علم ہے؟’ اس سوال کے بوجھ سے ان کی کھوپڑی پچک گئی ہے…”
اس اقتباس سے ابتدا ہی میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں سوال کی علمی تحلیل مقصود نہیں، بلکہ سوال پوچھنے والے کو تمسخر اور تحقیر کا موضوع بنانا مقصود ہے۔ علمی روایت میں کسی سوال کا جواب اس کے پوچھنے والے کی ذہنی حالت یا اخلاقی محرکات پر حملہ کر کے نہیں دیا جاتا، بلکہ اس کے مفہوم، دلالت، اور علمی مقام کو واضح کر کے دیا جاتا ہے۔ یہاں پہلا انحراف یہی ہے کہ سوال کو سمجھنے کے بجائے سوال کرنے والے کو موضوعِ بحث بنا دیا گیا ہے۔ اس طرح گفتگو دلیل سے پہلے تاثر کی فضا میں داخل ہو جاتی ہے، اور یہی polemical اسلوب بعد کی پوری تحریر پر حاوی رہتا ہے۔
مزید آگے جوہر صاحب لکھتے ہیں:
“مثلاً قرآن مجید نے اپنا نام شفا بھی بتایا ہے… تو اگر پوچھا جائے کہ کیا قرآن میڈیکل سائنس ہے تو ہم کیا عرض کریں؟”
بظاہر یہ مثال بڑی چست اور قوی معلوم ہوتی ہے، مگر علمی اعتبار سے یہ ایک واضح مغالطے پر قائم ہے۔ “شفا” اور “علم” دو الگ نوعیت کے مفاہیم ہیں۔ “شفا” ایک وصفی اور فعلی نسبت ہے، جب کہ “علم” ایک معرفتی زمرہ ہے۔ اگر قرآن کو “شفا” کہنے کے باوجود اسے “میڈیکل سائنس” نہ مانا جائے، تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ “علم” کے باب میں بھی بعینہٖ یہی منطق درست ہو۔ یہاں دو مختلف النوع مفاہیم کو ایک ہی پیمانے پر رکھ کر ایک لفظی مغالطہ پیدا کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن اپنے مختلف اسماء و اوصاف کے ذریعے اپنی متعدد جہات سے تعارف کراتا ہے: وہ کتاب بھی ہے، ذکر بھی، نور بھی، فرقان بھی، ہدایت بھی، رحمت بھی، شفا بھی۔ ان اوصاف میں سے کسی ایک کو دوسرے کا سادہ متبادل سمجھنا خود قرآن کی داخلی معنوی وسعت کو محدود کر دینا ہے۔ اس لیے درست منہج یہ تھا کہ ان اوصاف کو ایک جامع افق میں سمجھا جاتا، نہ کہ ایک کو دوسرے کے رد کے لیے بطور طنزیہ مثال استعمال کیا جاتا۔
جوہر صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
“قرآن چونکہ علم ہے اور علم بس علم ہوتا ہے، سحر بھی علم ہے اور قرآن بھی علم ہے… تو کیا ان میں کوئی فرق نہیں؟”
یہاں بھی استدلال کی بنیاد ایک منطقی لغزش پر ہے۔ “علم” ایک عام اور مشترک عنوان ہے۔ یہ مختلف انواع، مراتب، موضوعات، اور مصادر پر بولا جا سکتا ہے۔ جیسے “وجود” کا اطلاق خدا، انسان، حیوان اور اشیاء سب پر ہوتا ہے، مگر ان سب کے وجود کو ایک درجہ، ایک حقیقت، یا ایک نوع کا نہیں کہا جا سکتا؛ بعینہٖ “علم” کا اطلاق بھی مختلف دائروں پر ہو سکتا ہے۔ طب علم ہے، فقہ علم ہے، منطق علم ہے، طبیعیات علم ہے، اور سحر بھی ایک خاص فنی معنی میں علم کہلا سکتا ہے، مگر یہ سب ایک درجے، ایک غایت، ایک حجیت، اور ایک ontological weight کے حامل نہیں ہیں۔ چنانچہ “علم” کے اشتراک سے “مساوات” لازم نہیں آتی۔ جوہر صاحب نے یہاں اشتراکِ لفظی یا اشتراکِ عنوان کو مماثلتِ معنوی اور مساواتِ مرتبہ پر محمول کیا، پھر اسی فرضی مساوات کو رد کر کے یہ تاثر دیا کہ گویا اصل سوال کا جواب دے دیا گیا یے۔ حالانکہ زیادہ دقیق اور علمی جواب یہ تھا کہ قرآن علم ہے، مگر اس کا علم ہونا وحیانی، ہدایتی، انکشافی، تشکیلی، اور وجودی نوعیت رکھتا ہے؛ جب کہ دیگر علوم اپنے اپنے دائروں میں فنی، تجربی، نظری یا عملی ہو سکتے ہیں۔ اس فرق کو واضح کر دینے سے نہ قرآن کا علمی وصف ساقط ہوتا ہے، نہ اس کی مخصوص عظمت اور حجیت مجروح ہوتی ہے۔
تحریر میں ایک اور نمایاں دعویٰ یہ ہے:
“یہ سوال استفہامی ہے، اور استفہامی سوال عموماً تفتیشی ہوتا ہے اور یہ تکفیر کا خاص منہج ہے…”
یہ دعویٰ بھی اپنی کلیت میں علمی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ سوال پوچھنا علمی روایت کی بنیاد ہے۔ اگر سوال ہی کو تفتیشی اور مشتبہ قرار دے دیا جائے تو پھر اجتہاد، علم الکلام، اصول الفقہ، فلسفہ، اور حتیٰ کہ خود تدبر و تفکر کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ اصل مسئلہ سوال کا استفہامی ہونا نہیں، بلکہ اس کی نوعیت، سیاق، اور مقصد ہے۔ ایک سوال وضاحتی بھی ہو سکتا ہے، تحلیلی بھی، مفہومی بھی، تنقیدی بھی، اور بعض صورتوں میں قضائی یا تکفیری بھی۔ یہ امتیاز قائم کیے بغیر سوال کو بطور سوال suspect قرار دینا دراصل علمی روایت کی جڑ کاٹنے کے مترادف ہے۔ درست منہج یہ تھا کہ یہ واضح کیا جاتا کہ “کیا قرآن علم ہے؟” یہ سوال کس معنی میں اٹھایا جا رہا ہے: کیا یہ مفہومی سوال ہے؟ کیا یہ معرفتی درجہ بندی کا سوال ہے؟ کیا یہ وحی کے علم ہونے کی نوعیت سے متعلق ہے؟ جب تک یہ وضاحت نہ کی جائے، استفہام کو بجائے خود مشتبہ قرار دینا ایک خطیبانہ حربہ تو ہو سکتا ہے، علمی جواب نہیں۔
جوہر صاحب ایک اور مقام پر “علم” کو “factive state” کہنے پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ تجزیاتی فلسفے کی لغویات کو اٹھا کر اسلامی علوم میں داخل کرنا ہے۔ یہاں بھی مسئلہ یہ نہیں کہ اعتراض کا حق نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اس اعتراض کو علمی طریقے سے پیش نہیں کیا گیا۔ اگر “ factive state” کا تصور ناقص یا ناموزوں ہے تو اس کی منطقی اور فلسفیانہ بنیادوں پر بحث ہونی چاہیے تھی۔ مثلاً یہ سوالات اٹھائے جا سکتے تھے: کیا علم صرف صدقِ خبر سے متعلق ہے؟ کیا علم میں یقین، حجیت، انکشاف، اور وجودی تحول بھی شامل ہیں؟ کیا وحیانی علم اور تجربی علم ایک ہی تعریف میں آ سکتے ہیں؟ کیا نبوی علم محض propositional knowledge ہے یا participatory اور trans formative knowledge بھی؟ ان سوالات کے بغیر محض طنز کے ذریعے کسی اصطلاح کو رد کر دینا استدلال نہیں، ردِعمل ہے۔
اسی طرح یہ عبارت بھی قابلِ توجہ ہے:
“اگر عامی اور نبی کو ایک ہی طرح علم حاصل ہوتا ہے تو پھر نبوت کی کیا معنویت باقی رہتی ہے؟”
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہو سکتا ہے، لیکن اسے اس طرح پیش کیا گیا ہے گویا مدِّ مقابل کا موقف یہ ہے کہ عامی اور نبی کا علم ایک ہی نوع کا ہے۔ حالانکہ اصل بحث “علم” کے اطلاق کی تھی، نہ کہ اس کے مراتب کے انکار کی۔ یہاں ایک واضح straw man fallacy پیدا کی گئی ہے؛ یعنی مخالف کے موقف کو اس سے زیادہ سادہ اور غلط بنا کر پیش کیا گیا ہے تاکہ اس کا رد آسان ہو جائے۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ پہلے واضح کیا جاتا کہ کیا واقعی کسی نے نبوی علم اور عام انسانی علم کو ایک ہی درجہ اور ایک ہی نوع کہا ہے، یا صرف اتنا کہا ہے کہ دونوں پر “علم” کا اطلاق ہو سکتا ہے، اگرچہ ان کے مراتب، مصادر، حجیت، اور دائرے مختلف ہیں۔ دونوں باتیں یکساں نہیں ہیں۔
اس پوری بحث میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ “علم” کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے ایک ایڈیالوجیکل اور شخصی معرکے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ “شیطانی فلسفہ”، “اٹھائی گیر”، “کھوپڑی پچک گئی”، “قادیانی کذاب” جیسی تعبیریں علمی بحث کو کمزور کرتی ہیں۔ اس طرح کا اسلوب قاری کو جذباتی طور پر متاثر تو کر سکتا ہے، لیکن اسے علمی طور پر مطمئن نہیں کرتا۔ علمی نقد کا تقاضا یہ ہے کہ دلیل کو دلیل سے، مفہوم کو مفہوم سے، اور دعویٰ کو تجزیے سے رد کیا جائے، نہ کہ مخالف کی نیت یا شخصیت کو نشانہ بنا کر اصل سوال سے توجہ ہٹا دی جائے۔
یہاں ایک زیادہ متوازن اور علمی موقف یہ ہے کہ قرآن یقیناً علم ہے، مگر اس کے علمی ہونے کا معنی یہ نہیں کہ وہ ہر فن کی تکنیکی تفصیل فراہم کرتا ہے۔ قرآن علم ہے اس معنی میں کہ وہ حقیقتِ الٰہیہ، حقیقتِ انسان، حقیقتِ کائنات، اخلاق، نجات، ہدایت، اور انسانی وجود کی غایت کے باب میں ایک وحیانی بصیرت فراہم کرتا ہے۔ اس کا علم محض معلوماتی نہیں، بلکہ ہدایتی، تشکیلی، انکشافی، اور وجودی نوعیت رکھتا ہے۔ وہ صرف خبر نہیں دیتا، بلکہ معنی بھی پیدا کرتا ہے؛ صرف بیان نہیں کرتا، بلکہ انسان کو بدلتا بھی ہے؛ صرف الفاظ نہیں دیتا، بلکہ وجودی سمت بھی عطا کرتا ہے۔ اس کے مقابل میں دیگر علوم—مثلاً طبیعیات، طب، منطق، یا حتیٰ کہ سحر—اپنے اپنے دائروں میں علم کہلا سکتے ہیں، مگر ان کے موضوع، منبع، غایت، حجیت، اور معرفتی مرتبے مختلف ہیں۔ اس لیے “علم” کا اشتراک ان کے درمیان مساوات یا مماثلت کو لازم نہیں کرتا۔
میرے نزدیک یہی وہ جہت ہے جہاں اصل مسئلہ واضح ہوتا ہے: قرآن کا سوال محض “کیا قرآن علم ہے؟” نہیں، بلکہ یہ ہے کہ قرآن کا علم ہونا کس نوعیت کا ہے؟ اگر اس کو محض informational facticity تک محدود کر دیا جائے تو قرآن کی ہدایتی اور وجودی جہت مجروح ہوتی ہے؛ اور اگر اسے ایسی مبہم تقدیس میں بدل دیا جائے کہ عقل، فہم، بیان، اور علم کے تمام سوالات مشتبہ ہو جائیں تو پھر قرآن کی تعقلی اور تعلیمی جہت ضائع ہوتی ہے۔ درست راستہ یہی ہے کہ قرآن کو وحیانی علم، حضوری علم، اور تشکیلی علم کے جامع افق میں سمجھا جائے۔
میرے نزدیک “علم” کے کم از کم تین بڑے پہلو اس بحث میں الگ الگ ملحوظ رہنے چاہییں۔ ایک معلوماتی یا تصدیقی علم ہے، جس میں حقائق، احکام، خبریں، اور تصورات شامل ہوتے ہیں۔ دوسرا حضوری یا وجودی علم ہے، جس میں انسان کسی حقیقت کو صرف جانتا نہیں بلکہ اسے جیتا اور محسوس کرتا ہے۔ تیسرا ہدایتی و تشکیلی علم ہے، جو انسان کو بدلتا ہے، اس کی اقدار، سمت، اور اخلاقی ساخت بناتا ہے۔ قرآن ان تینوں جہات سے متعلق ہے، مگر محض پہلی جہت میں محدود نہیں۔ اسی لیے قرآن کو صرف proposition-set یا data-bank میں گھٹا دینا بھی غلط ہے، اور اسے ایسی غیر معین روحانیت بنا دینا بھی غلط ہے جس میں تعلیم، عقل، تفہیم، استدلال، اور خطاب کا پہلو ہی ختم ہو جائے۔
میرے نزدیک محمد دین جوہر صاحب کی تحریر کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ علوم کے مراتب کے فرق کا اشارہ تو دیتے ہیں، مگر اسے ایک سنجیدہ اور منظم علمی نظام میں تبدیل نہیں کرتے۔ وہ یہ بتاتے ہیں کہ نبوی علم عامی کے علم جیسا نہیں، کہ قرآن کو کسی سادہ مساواتی منطق میں نہیں سمجھنا چاہیے، کہ وحی کو سحر یا فزکس کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جا سکتا؛ مگر ان درست اشارات کو علمی ترتیب دینے کے بجائے وہ شخصی تحقیر، تمثیلی مبالغہ، اور polemical rhetoric کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی تحریر جواب سے زیادہ ردِّعمل معلوم ہوتی ہے۔
میرے نزدیک اس مسئلے میں اصل ضرورت ایک ایسے فکری منہج کی ہے جو مذہب کو نہ تو محض نظریاتی معرکہ بنائے اور نہ محض جذباتی تقدیس۔ قرآن کے علم ہونے کی درست تعبیر وہی ہو سکتی ہے جو اسے معنی، ہدایت، انکشاف، اور وجودی تشکیل کے افق میں سمجھے۔ قرآن معلومات دیتا ہے، مگر محض معلومات نہیں؛ وہ تعلیم دیتا ہے، مگر محض technical instruction نہیں؛ وہ انسان کو خبر بھی دیتا ہے اور اسے باطن، اخلاق، اور خدا کے حضور کی طرف بھی بلاتا ہے۔ اس لیے قرآن کا علمی ہونا اس کی وحیانی حقیقت سے جڑا ہوا ہے، اور یہی وحیانی حقیقت اسے دیگر علوم سے ممتاز بھی کرتی ہے اور ان کے ساتھ ایک وسیع تر معرفتی ربط میں بھی رکھتی ہے۔
نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ محمد دین جوہر صاحب کی تحریر اپنے دعوے کے برخلاف اصل سوال کا متوازن علمی جواب فراہم نہیں کرتی۔ اس میں سوال کی مفہومی تحلیل کے بجائے شخصی حملے، استدلالی مغالطے، اور خطیبانہ اسلوب غالب ہے۔ یوں یہ تحریر ایک سنجیدہ علمی مکالمے کے بجائے ایک polemical بیانیہ بن جاتی ہے، جہاں جواب سے زیادہ ردِّعمل نمایاں ہوتا ہے۔ علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے سوالات کو واضح مفاہیم، منضبط اصطلاحات، اور متوازن استدلال کے ساتھ دیکھا جائے، ورنہ خطرہ یہی ہے کہ مذہبی فکر اپنے علمی جوہر سے دور ہو کر محض خطابت اور نظریاتی کشمکش کا حصہ بن جائے گی۔




کمنت کیجے