Home » علم اور ایمان کے شاعرانہ فرق پر تبصرہ
شخصیات وافکار کلام

علم اور ایمان کے شاعرانہ فرق پر تبصرہ

جناب جوہر صاحب چونکہ ذہنی اپچ کے اعتبار سے شاعر معلوم ہوتے ہیں اور شاعروں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ پچھلی نظم میں کیا کہا تھا، لہذا شعرا ہر قسم کی گپ بازی فرمایا کرتے ہیں۔ موصوف کا موقف یہ تھا کہ علم و ایمان الگ ہیں، اس پر ہم نے سوال کیا تھا کہ کیا قرآن علم ہے، کیا انسان کو اس سے کوئی علم میسر آتا ہے؟ اس سوال سے پریشان ہوکر اس کا جواب دیتے ہوئے موصوف نے یہ مان لیا ہے کہ قرآن علم ہے جسے نبی علیہ الصلوۃ و السلام نے انسانوں پر پیش کیا۔ لیکن موصوف ایک شدید قسم کے ذھنی مخمصے کا شکار ہیں: ایک طرف ان کا کہنا ہے کہ ایمان علم نہیں ہے اور دوسری طرف انہیں یہ مشکل بھی در پیش ہے کہ قرآن کو علم بھی بنانا ہے۔ تو ان دو متضاد سائیڈوں کو برابر کرنے کی کوشش میں کبھی یہ قرآن کو علم کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی علم پر ایسی شرطیں بھی عائد کرتے ہیں کہ قرآن علم نہیں رہتا۔ یوں موصوف ایک ہاتھ سے جو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں (قرآن علم ہے) دوسرے ہاتھ سے اسے چھوڑ بھی دیتے ہیں اور اب ان کا موقف یہ بن رہا ہے کہ قرآن علم ہونے کے باوجود بھی ایمان ہے اور یہ ایمان علم سے فرق ہے! ہم انہیں یہی مشورہ دیں گے کہ دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہوجا۔

جناب علم و ایمان کے فرق پر اصرار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرآن علم ہے لیکن بعض لوگ اسے مانتے ہیں اور بعض نہیں مانتے، لیکن فزکس کو سب مانتے ہیں۔ آخر اس بات کا کہ قرآن کو کچھ لوگ قبول نہیں کرتے، اس کے علم ہونے یا ایمان ہونے سے کیا لینا دینا؟

  • کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک علم وہ ہے جسے سب لوگ علم مانتے ہیں اور دوسرا وہ ہے جسے بعض مانتے ہیں، لہذا دوسرے کو وہ ایمان کہیں گے؟ اگر ہاں تو یہ محض اصطلاح سازی ہے، نیز اس صورت میں تقریباً ہر علم کا بڑا حصہ ایمان ہوگا اس لئے کہ ہر علم کے ماہرین میں اختلافات ہوتے ہیں۔
  • اور کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس فرق سے پہلے اور دوسرے کی علمی حیثیت و حقیقت میں فرق ہوجاتا ہے؟ اگر یہ کہنا چاہتے ہیں تو کیا موصوف نوع انسانی کی اجتماعی قبولیت کو کسی بات کے علم ہونے کی شرط سمجھتے ہیں نیز اگر کوئی شخص کسی حقیقت کا منکر ہے تو اس حقیقت کی تصدیق علم نہیں کہلاتی (ویسے اس شرط کے بعد فزکس کے بھی صرف وہی نظریات علم کہلائیں گے جن پر دنیا کے تمام ماہرین فزکس کا اجماع ہو)؟ اس صورت میں گویا ان کی بات کا مطلب یہ بنا کہ چونکہ کافر نبی کی بات کی تصدیق نہیں کررہا اس لئے نبی کی بات علم نہیں بلکہ علم سے باہر کی کوئی شے ہے جس کا نام یہ ایمان رکھتے ہیں! جناب کو کوئی بتائے کہ کسی بات کے علم ہونے کا معیار یہ نہیں کہ سب لوگ اسکی تصدیق کرتے ہیں یا نہیں (اس لئے کہ علم لوگوں کے اعتقاد یا belief کو نہیں کہتے) بلکہ یہ ہے کہ وہ حقیقت کے بارے میں یا اس کے مطابق و سچ ہے یا نہیں۔ چنانچہ جب انہوں نے کہا کہ قرآن علم ہے تو انہوں نے اس کے سوا کیا کہا کہ اس میں درج بیانات حقیقت کے مطابق و سچ ہیں؟ اگر یہی کہا تو بعض مقر و بعض منکر کی بات کے ذکر کا کیا لینا دینا؟

جوہر صاحب متعلقہ بحث میں فالسی فیکیشن کو گھسیٹ لاتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ فزکس میں نظریات کو فالسیفائی کرنے کی اجازت ہے، تو کیا تم محتویات نبوت اور ایمان میں بھی اپنی مرضی سے رد و بدل کرسکتے ہو؟ یہ محض شاعرانہ جذبات پر مبنی ایک دلیل ہے جس کے پش پشت ذہنیت کچھ یوں ہوتی ہے:

  • وحی سے ثابت ہر بات بلا دلیل قطعی ہے، یہ ماننا ایمان ہوتا ہے
  • اس کے علاوہ جو ہر بات قابل تجدید و تردید ہے، وہ علم ہوتا ہے
  • یوں علم و ایمان میں فرق ہوگیا، hurrah!

ہم اس کی غلطی کو چند نکات کی صورت کھولتے ہیں۔

پہلی بات تو جناب یہ واضح کریں کہ کیا ان کے نزدیک قابل تجدیدیت و تردیدیت ہونا (revisionability) علم کی شرط اور اس کی ماہیت ہے؟ اگر ہاں، تو وہ کھل کر اعلان کریں تاکہ ہم ان سے پوچھ لیں کہ مثلاً دو جمع دو چار کو وہ علم سمجھتے ہیں یا ایمان۔ ایسے اور کئی سوالات ہیں لیکن فی الوقت ہم انہیں موقوف رکھتے ہیں۔ اگر یہ پیمانہ واقعی علم کی شرط یا ماہیت میں شامل ہے تو پھر وہ ہمیں سمجھائیں کہ قرآن کو انہوں نے علم کس معنی میں قرار دیا ہے؟ درست بات یہ ہے کہ revisionability کسی دعوے کے علم ہونے کی کوئی شرط نہیں، ہاں یہ بات درست ہے کہ اگر کسی دعوے کا اثبات ظنی دلیل پر موقوف ہو تو میں اس میں نظرِ ثانی کے امکان کو تسلیم کروں گا، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر قضیہ ظنی اور قابلِ تردید ہو۔ پھر اگر ان کے اس پیمانے کو مان بھی لیں تو ان کے موقف کا حاصل بس یہ ہے کہ نبی کی اخبار بھی علم ہیں لیکن وہ قابل تردید نہیں، لیکن بہرحال علم ہیں۔ اس سب اصطلاح سازی کا حاصل جمع اس سے زیادہ کیا ہے؟

دوسری بات ان کا یہ مفروضہ ہے کہ وحی کے محتویات کا غیر قابلِ تردید یا غلطی سے مبرا ہونے کا دعوی کوئی بنیادی (primitive or primary) و اندھا ایمان قسم کا ڈاگما ہے، جبکہ درست بات یہ ہے کہ یہ ایک استدلالی (reflective) علم ہے جو چند مقدمات پر مبنی ہے:

الف)      خدا کے لئے اختیاری افعال کرنا ممکن ہے

ب)         وحی خدا کا کلام ہے جو اس کے اختیاری افعال میں سے ایک فعل ہے

ج)          خدا کے کلام میں کذب و غلطی محال ہے اس لئے کہ خدا علیم ہے

د)            فلاں شخص مدعی نبوت (یعنی حصول وحی کا مدعی) ہے اور وہ اپنے دعوی نبوت میں فلاں دلیل کی بنا پر سچا ہے

ھ)          لہذا اس فلاں شخص نے جو خبر دی وہ خطا و تردید سے مبرا ہے

یہاں قضیہ (ھ) کی صداقت مقدمات (الف) تا (د) کی صداقت پر موقوف ہے۔ اگر یہ ماقبل مقدمات غیر ثابت، محل نظر یا قابل تردید ہوں تو نتیجہ بھی غیر ثابت، محل نظر و قابل تردید ہوگا۔ اور اگر نتیجہ (ھ) واقعی ناقابل تردید ہے تو جوہر صاحب کو ماننا ہوگا کہ یہ چند ماقبل ناقابل تردید علمی مقدمات پر قائم ہے، بصورت دیگر قضیہ (ھ) محض ڈاگما ہے اور انہیں اعلان کردینا چاہئے کہ آدم علیہ السلام سے دنیا کی تاریخ میں جس بھی شخص نے جہاں بھی دعوی نبوت کیا اس کی بات نہ صرف قبول کی جانی چاہئے بلکہ ناقابل تردید بھی مان لینی چاہئے کیونکہ یہ محض ڈاگما ہے جسے کسی دلیل کے بغیر مانا جاتا ہے۔ الغرض جوہر صاحب نے یہ فرض کر رکھا ہے کہ “وحی کی اخبار خطا سے مبرا ہیں” یہ گویا علم سے ماورا ایک non reducible and primitive دعوی ہے اور اس شاعرانہ دعوے کو وہ علم کلام سے ناواقف جدید اذھان کے سامنے “ایمان” کے نام پر چلا سکتے ہیں، جبکہ یہ نفس مسئلہ کی ساخت سے ناواقفیت ہے۔ چنانچہ وحی کی اخبار سے ثابت قطعی امور کو ہم اس لئے ناقابل تجدید و تردید نہیں کہتے کہ ان کا نام ایمان ہے، بلکہ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ قطعی دلیل پر مبنی ہیں اور اس لئے یہ قطعی علم (یعنی یقین و ایمان) ہیں۔

تیسری بات یہ کہ کسی قضئے کی تردیدیت و تجدیدیت (revisionability) کے امکان کا تعلق انسانی فہم اور تطبیق سے ہے نیز اس بات سے کہ حقیقت تک رسائی کرانے والی میری دلیل نامکمل و ظن کی حامل ہے، اس لئے مزید غور و فکر (reflection) سے بہتری کا امکان موجود ہے۔ جوہر صاحب نے فرض کرلیا ہے کہ اس قسم کا ظن شاید صرف فزکس وغیرہ کو لاحق ہے جبکہ معاملہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے الفاظ سے اخذ ہونے والے جن محتویات کی نسبت متکلم کے ارادے کی جانب کی جاتی ہے، اس کے ایک حصے کے بارے میں بھی اصولیین کا یہی موقف ہے کہ متکلم کی مراد سمجھنے میں مجھے غلطی لگ سکتی ہے نیز مزید غور و فکر سے ایسی دلیل سامنے آنا ممکن ہے جو رائے کو بدل دے۔ الغرض یہ مفروضہ کہ دلائل نقلیہ سے ثابت امور کسی درجے میں علمی تجدید کو قبول نہیں کرتے، یہ شاعرانہ سادہ نگاری ہے جس کا اسلامی علوم سے دور کا بھی وابستہ نہیں۔ اگر ایسا ہوتا، تو شرعی دائرہ جواز کے اندر متعدد فقہی مکاتب فکر نہ ہوتے۔

اگر جوہر صاحب اپنی اصطلاحات درست کرلیں تو شاید ان کی آدھی سے زیادہ غلط فہمی دور ہوسکتی ہے۔ جس دعوے میں خطا کا امکان ہو لیکن ایک جانب بوجہ دلیل راجح ہو اسے اصطلاحاً علم نہیں ظن یا گمان غالب کہتے ہیں۔ تو جن دعووں کی صحت میں revisionability کو قبول کیا جاتا ہے وہ اصطلاحی طور پر علم نہیں ظن ہیں۔ علم یا یقین ان قضایا کو کہا جاتا ہے جو قطعی ہوں، جیسے اولیات، حسیات، خبر متواتر، وہ استدلالی نتائج جو قطعی مقدمات سے حاصل ہوں وغیرہ۔ تو مثلاً مروجہ علم فزکس سے متعلق اکثر نظریات اصطلاحی طور پر مفید علم نہیں ظن ہیں، اسی طرح جیسے مثلاً اخبار احاد یا قرآن مجید کی وہ نصوص جنکی دلالت ظنی ہو مفید ظن ہوتی ہیں۔ چنانچہ اصطلاحی زبان میں بات کی جائے تو یوں ہے کہ دلائل نقلیہ سے ثابت تمام قضایا نہ قطعی ہیں اور نہ علم، بلکہ بعض علم ہیں اور بعض ظن۔ اصطلاحی زبان کی رو سے حقیقت کے مطابق وہ قضیہ علم نہیں ہوتا جو تردید و تجدید کو قبول کرے بلکہ وہ ہوتا ہے جو اسے قبول نہ کرے، فافھم۔

چوتھی بات یہ کہ جوہر صاحب نے حسب عادت اپنے شاعرانہ ذوق کی تسکین کے لئے فرمایا کہ

“اگر ایمان اور علم میں کوئی فرق نہیں ہے تو جناب متکلم عظیم کو یہ خوشخبری عام کر دینی چاہیے کہ آدمی ایمان میں اپنی مرضی سے رد و بدل کرسکتا ہے”

پہلے تو یہ نوٹ کرلیجئے کہ جناب علم و ایمان کے اس فرق پر یہ اصرار قرآن کو علم مان چکنے کے بعد کررہے (اسی کو ہم نے اوپر کہا تھا کہ شدید ذہنی مخمصے کی بنا پر جس بات کو یہ ایک ہاتھ سے لیتے ہیں دوسرے ہاتھ سے اسے چھوڑ دیتے ہیں)! اب ذرا اس جملے میں لفظ “مرضی سے” پر توجہ چاہئے۔ گویا ان کے خیال میں فزکس یا میڈیکل سائنس کے ماہرین لوگوں کو اپنی “مرضی سے” تبدیلیاں کرنے کا اختیار دے چکے ہیں! جناب کو کوئی بتائے کہ ان علوم میں بھی نظریاتی تبدیلیاں “مرضی سے” نہیں دلیل کی بنیاد پر قبول کی جاتی ہیں۔ اسی طرح فقہی امور میں تعبیر، تطبیق اور استنباط کا اختلاف رائے دلیل کی بنا پر روا رکھا جاتا ہے نہ کہ مجتہد کی مرضی پر۔ پس “مرضی سے تبدیلی” کو علم کی خصوصیت قرار دینا خود علم کی حقیقت سے ناواقفیت کا اظہار ہے۔ جو علمی امور قطعی دلیل سے ثابت ہوں، وہ کسی کی مرضی سے تبدیل نہیں کئے جاسکتے، انہیں ناقابل تبدیل علم ہی کی وجہ سے مانا جاتا ہے نہ یہ کہ ان کی ناقابل تبدیلی کی وجہ ان کا “نام” ایمان ہونا ہے۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں